Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 14

0
ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 14

–**–**–

پارسا تھوڑا سا مسکراو تو سہی!ماہا جو پارسا اور ریان کے تصویر کھینچ رہی تھی، پارسا سے بولی۔
پارسا بمشکل مسکرائی۔
نکاح کی تقریب ہوچکی تھی سب لوگ لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے۔پہلے پارسا اور ریان کو اکٹھا بیٹھایا گیا تھا ماہا کے تصویر کھینچنے کے بعد وہ پاکیزہ اور ماہا کے پاس آبیٹھی۔
تمہاری وہ بیسٹ فرینڈ کیوں نہیں آئی؟ماہا نے پوچھا۔
کون؟جولیا؟پارسا نے پوچھا۔
ہاں وہی۔ماہا بولی۔
اسے چھٹی نہیں ملی! پارسا نے کہا۔
پارسا نے ایک چور نگاہ ریان پر ڈالی۔
پانچ سالوں میں وہ مکمل بدل چکا تھا۔پہلے پارسا اسے کیوٹ کہتی تھی، سفید شلوار قمیص میں ملبوس وہ بےحد ہینڈسم لگ رہا تھا۔چہرہ جو پہلے کلین شیو تھا اب اس پر سیاہ ہلکی داڑھی آچکی تھی جو اس کے چہرے کو مزید وجیہہ بنا رہی تھی۔
وہ اسکی طرف متوجہ نہیں تھا بلکہ صارم (ماہا کے منگیتر)سے باتوں میں مصروف تھا۔
مجھے کمرے میں چھوڑ آو۔پارسا نے گردن گھما کر پاکیزہ کو کہا۔
اوکے آجاو۔پارسا اپنا غرارہ سنبھالتی ہوئی اٹھی۔
تم چلی جاو۔پارسا نے پاکیزہ کو کہا۔
جاو بیٹھ جاو سب کے ساتھ میں اکیلی بیٹھوں گی کچھ دیر۔۔۔پارسا نے مسکرا کر کہا تو پاکیزہ چلی گئی اور وہ کھڑکی کے نزدیک کھڑی ہوگئی۔
کافی دیر وہ یوں ہی کھڑی رہی، پھر آئینے کے سامنے آکر احتیاط سے اپنا دوپٹہ اتارا۔
اس نے ایک نظر بغور اپنے سراپے پر ڈالی۔
وہ گرے کلر کے کامدار غرارے اور کرتی میں ملبوس تھی۔سیاہ بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا۔ہاتھوں پر مہندی بھی سادہ سی لگائی تھی،ہاتھوں میں سرخ گلاب کے گجرے پہنے ہوئے تھے۔
ماتھے پر ٹیکہ اور جھومر لگایا ہوا تھا۔گلے میں نیک لیس پہنا ہوا تھا۔
بلاشبہ وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی۔سب نے اسکی تعریف بھی بہت کی تھی۔
ریان نے تو ایک نظر بھی نہیں دیکھا میری طرف،بہت بدل گیا ہے وہ۔پارسا نے سوچا۔
تبھی ایک دم دروازہ کھلا۔
ماہا تم۔۔۔۔۔ریان اپنے بے دھیانی سے بولتا ہوا اندر آیا پارسا پر نظر پڑتے ہی جیسے الفاظ گم ہوگئے۔
پارسا نے پلٹ کر ریان کی طرف دیکھا۔لمحے بھر کو دونوں کی نظریں ملیں، پھر پارسا خلافِ توقع نجانے کس احساس کے تحت نظریں جھکا گئی۔ریان کی نظریں اسی پر ہی جمی ہوئیں تھیں۔
کیا جھگڑا سُود خسارے کا
یہ کاج نہیں بنجارے کا
سب سونا رُوپ لے جائے
سب دُنیا، دُنیا لے جائے
تم ایک مجھے بہتیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
ابنِ انشاء
ایک خاموشی تھی جو دونوں کے درمیان حائل تھی،جسے توڑنے کی ہمت دونوں میں سے کوئی بھی نہیں کرپارہا تھا۔
پارسا یہ جوس پی۔۔۔۔۔ماہا ہاتھ جوس کا گلاس لئے مگن انداز میں بولتی ہوئی اندر داخل ہوئی جبھی ریان پر نظر پڑنے پر وہی جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
اہم اہم۔۔۔۔۔۔۔ماہا شرارت سے کھنکھاری تو پارسا خلافِ توقع سٹپٹا گئی،اور رخ موڑ گئی۔
میں تمہیں ہی ڈھونڈ رہا تھا۔ریان نے پرسکون لہجے میں کہا۔
جی جی!ماہا نے طنز سے کہا۔
بات سنو میری! تمہاری ساس بلارہی ہے تمہیں!یہی بتانے آیا ہوں۔ریان نے شانے اچکا کر کہا۔
کیا!!! تم مجھے اب بتا رہے ہو! ماہا جلدی سے گلاس رکھ کر باہر کی طرف بھاگی۔ریان بھی مسکراہٹ دباتا ایک نظر پارسا پر ڈالتا ہوا ماہا کے پیچھے چلا گیا۔
جبکہ پارسا، پارسا یہی سوچتی رہ گئی کہ کتنا بدل گیا ہے ریان، ایک وہ وقت بھی تھا جب وہ صرف تعریف کرنے پر سرخ ہوجاتا تھا۔
پارسا کے لبوں پر دھیمی مسکراہٹ رینگ گئی۔
***
اسلام آباد صبح کا اجالا ابھی مکمل پھیلا نہیں تھا۔آسمان نہ زیادہ سیاہ تھا نہ ہی سفید، بلکہ دونوں رنگوں کو امتراج تھا سرمئی۔
صبح کے اس پہر نیند سے محبت کرنے والوں ہر نیند مہربان تھی، اور اللہ سے محبت کرنے والے لوگ جو اس یخ بستہ صبح میں اپنے گرم بستروں کو چھوڑ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے انکا رب ان پر خوب مہربان تھا۔
ایسے میں وہ اپنا کمرہ چھوڑے سفید راہداری خے اختتام پر بنی سیڑھیوں ہر اکڑوں بیٹھی تھی۔چہرہ دونوں گھٹنوں پر ٹکایا ہوا تھا۔بھورے گھنگریالے بال کھلے ہوئے تھے جو ہوا نم ہوا سے مسلسل اڑ رہے تھے۔
سنہری خوبصورت آنکھیں اسکے رتجگے کی عکاسی کر رہیں تھیں۔
مجھے کس چیز کا ڈر ہے آخر!اس نے خود سے سوال کیا۔
میں کسی سے نہیں ڈرتی، میں وہی کروں گی جو مجھے بہتر لگے گا،میں اپنی ایمانداری سے مسلمانوں کے عقائد کو جانچوں گی۔جولیا نے دل ہی دل میں پختہ عزم کیا۔
وہ اپنے اندر کی مسلسل جنگ سے تنگ آچکی تھی۔
اور اگر تمہیں اسلام ٹھیک لگا تو؟اس کے اندر سے خدشوں نے سر اٹھانا شروع کردیا۔
جولیا بے چینی سے انگلیاں چٹخانے لگی۔
جولیا تم ان عظیم لوگوں کے ساتھ رہ کر آئی ہو جو ایک غیرمذہب لڑکی کو اپنے دلوں اور گھر میں پناہ دیے ہوئے ہیں،کیا تم نے ان سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔تمہیں اس راستے پر چلنا ہے جو تمہیں درست لگے، تمہیں اپنے لئے درست سمت کا تعین کرنا ہی ہوگا۔دو کشتیوں کے سوار کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔اس کے اندر سے ایک آواز آئی۔
مجھے سب سے پہلے کیا کرنا چاہیے۔اس نے ہونقوں کی طرح سوچا۔
اللہ نے اگر مجھے چن لیا ہے تو وہ یقینا مجھے آگے بھی گائیڈ کریں گے۔اس سوچ نے جولیا کو مطمئن کردیا۔
اس نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔سفیدی اب سیاہی پر غالب آنا شروع ہوگئی تھی۔ہر طرف اجالے کے آثار نظر آنے لگے تھے بالکل جولیا کی ذات کی طرح۔
وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آئی۔اسکی روم میٹ جو غالباً نماز کیلئے اٹھی تھی اب اپنے فون پر تلاوت سن رہی تھی۔
جولیا خاموشی سے اپنی الماری کی طرف گئی اور اپنے کپڑے لیکر فریش ہونے چلی گئی۔
وہ واپس آئی تو اسکی روم میٹ ابھی بھی تلاوت ہی سن رہی تھی۔
جولیا نے ایک نظر اسکے چہرے پر ڈالی وہ آنکھیں بند کرکے محویت سے سننے میں مصروف تھی۔
وہ سکون سے بیٹھی تو خوبصورت قرات اسکے کانوں میں گونجنے لگی۔وہ اٹھ کر اپنے کپڑے سمیٹنے لگی۔
اور بے شک ہم نے قرآن کو نصیحت کیلئے آسان کردیا ہے، تو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہے۔
(سورة القمر آیت 17)
اپنے کپڑے سمیٹتی جولیا کے ہاتھ ساکت ہوگئے۔
میں چن لی گئی ہوں!اسکے ہاتھ کانپنے لگے۔
یعنی واقعی۔۔۔۔۔۔۔
یہ کوئی۔اتفاق نہیں ہے میں چن لی گئی ہوں۔
اللہ جسے چاہتا ہے اپنے لئے چن لیتا ہے۔وہ زیر لب بڑبڑائی۔
***
بابا ماہا یہ کیا کہہ رہی تھی!پارسا نے عزیز سے پوچھا۔
کیا کہہ رہی تھی؟انہوں نے بھی جواباً سوال ہی کیا۔
وہ بول رہی تھی کہ پاکیزہ کی شادی کے چند ماہ بعد میری رخصتی بھی ہے! پارسا نے صدمے سے کہا۔
ٹھیک کہہ رہی ہے!عزیز نے مسکرا کر کہا۔
بابا اٹس ناٹ فیئر!
بیٹا ہم اکیلے رہ جائیں پاکیزہ کے جانے کے بعد! اسلئے ہم چاہتے ہیں کہ آپ یہاں ہی رہو، جب اس بات کا ذکر عتیق (ریان کے بابا)کے سامنے ہوا تو اس نے کہا کہ رخصتی بھی کرلیتے ہیں۔
اپنے والدین کے اکیلے ہونے کی بات سن کر پارسا ڈھیلی پڑ گئی۔
پر مجھے جاب کرنی ہے!وہ منمنائی۔
تو بیٹا آپ اپنے آفس جایا کرنا آرام سے۔بزنس کی ڈگری لی ہے تو اسے استعمال میں لاو،بلکہ۔ایسا کرو آج آفس وزٹ کرلو۔عزیز نے کہا تو پارسا آفس جانے کے خیال سے پرجوش ہوگئی۔
ریان بیٹا آج پارسا کو آفس لے جاو۔عزیز نے لاؤنج میں داخل ہوتے ریان سے کہا۔
اوکے تایا ابو!آدھے گھنٹے میں نکلنا ہے۔ریان نے کہا۔
میں اسکے ساتھ جاؤں گی!!پارسا نے آنکھیں پھیلا کر تصدیق کی۔
یس!کوئی اعتراض ہے؟عزیز نے پوچھا۔
نن۔۔۔۔نہیں تو۔پارسا نے گڑبڑا کر کہا۔
ایکچولی میں آج جانے نہیں والا آفس!اور آپکے چاچو پہکے ہی جاچکے ہیں۔ویسے بھی اب آفس ریان ہی سنبھالتا ہے زیادہ تر ہم گھر سے ہی دیکھ لیتے ہیں کام۔عزیز نے مسکرا کر کہا۔ان سب کے لہجوں میں ریان کیلئے فخر محسوس کیا جاسکتا تھا۔
جاو تیار ہوجاؤ۔عزیز نے کہا تو پارسا مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
وہ گاڑی کے پاس کھڑا پچھلےدس منٹ سے اسکا انتظار کررہا تھا۔بار بار نظر ہاتھ پر بندھی ریسٹ واچ پر ڈال رہا تھا۔
آج اسکی بہت اہم میٹنگ تھی۔اپنے نکاح کی وجہ سے وہ پہلے ہی اس میٹنگ کو کافی ڈیلے کرچکا تھا، اسلئے وہ کلائنٹس کو انتظار نہیں کروانا چاہتا تھا۔
مگر پارسا کی وجہ سے اسے دیر ہورہی تھی۔اکتاہٹ اسکے چہرے پر واضح دیکھی جاسکتی تھی۔
چلیں۔پارسا تیزی سے آئی اور فرنٹ ڈور کھول کر بولی۔
ریان اسکی بےنیازی دیکھتا رہ گیا،پھر سر جٹھکتا ہوا گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ گیا۔
سارا راستہ دونوں نے ایک دوسرے کو مخاطب نہیں کیا۔
میری ایک امپورٹنٹ میٹنگ ہے،میری سیکٹری آفس وزٹ کروا دے گی آپکو!ریان نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا۔
ہونہہ میں تو جیسے مری جا رہی ہوں اسکے ساتھ گھومنے کیلئے۔پارسا نے دل میں کہا۔اور اسکے پیچھے چلنے لگی۔
بیٹھو۔ریان نے اپنے آفس میں آکر اسے کہا تو پارسا ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔
سر آپ نے بلایا مجھے۔ایک لڑکی ناک کرکے اندر داخل ہوئی۔
وہ لڑکی بلیو جینز اور آف وائٹ کرتی میں ملبوس تھی دوپٹہ گکے میں مفلر کے انداز میں جھول رہا تھا۔سیاہ بالوں کی اونچی پونی بنائی ہوئی تھی۔پارسا بغور اسکا جائزہ لیا۔
پارسا یہ میری سیکٹری ہے مس رَمشہ!
مس رَمشہ یہ پارسا عزیز ہیں!
عزیز سر کی بیٹی؟رمشہ نے ریان کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔
ریان نے اثبات میں سر ہلایا۔
سر کلائنٹس آپکا انتظار کررہے ہیں۔ایک لڑکے نے آفس میں داخل ہوکر کہا۔
رمشہ، پارسا کو آفس وزٹ کروا دیں، اور انکا خیال رکھیے گا۔پارسا میں میٹنگ اٹینڈ کرلوں۔ریان پہلا جملہ رمشہ اور دوسرا پارسا کو بول کر تیزی سے باہر چکا گیا۔
ہونہہ ایک میٹنگ بھی کینسل کرسکتا،اور اپنی سیکٹری کو بتا کر بھی نہیں گیا کہ میں اسکی بیوی ہوں۔پارسا نے منہ بنا کر سوچا۔
سفید ٹراؤزر اور اورنج پرنٹڈ شرٹ میں ملبوس سفید دوپٹہ کندھے پر ڈالے سیاہ بالوں کی فرنچ ناٹ بنائے،پارسا رمشہ کو بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔
ہیلو میڈم! رمشہ نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
دروازہ ناک ہونے ہر دونوں نے پلٹ کر دیکھا۔
پیون جوس لیکر آیا تھا۔
یہ کس نے منگوایا؟پارسا نے پیون سے ہوچھا۔
ریان سر نے آپ کیلئے بھجوایا ہے۔
ریان سر اپنی کزن کا اتنا خیال کررہے ہیں!رمشہ نے چہرہ نیچا کرکے مسکراہٹ چھپائی۔
چلیں!پارسا نے ایک سانس میں ہی جوس ختم کیا اور بولی۔
چلیے میڈم!رمشہ نے کہا۔
پارسا نے آفس کا وزٹ بہت دلچسپی سے کیا۔مختلف سے سوال کیے ڈسکشن کی۔
ویسے مجھے لگتا تھا کہ ریان سر بیسٹ بزنس مین ہیں!مگر آپ سے مل کر پتہ چلا کہ آپ لوگ خاندانی ذہین ہو!
آپکی ڈسکشن دیکھ کر تو لگ ہی نہیں رہا تھا کہ آپ کا تجربہ نہیں ہے۔رمشہ نے بےتکلفی سے کہا تو پارسا مسکرا دی۔
تھینک یو!پارسا نے مسکرا کر کہا۔
مجھے بہت شدید ترین بھوک لگی ہے کچھ منگوا!پارسا ریان کی چئیر پر بیٹھ کر ٹیبل ہاتھ سے ہلکا ہلکا بجاتے ہوئے بولی۔
اوکے!بلکہ ایسا ہے کہ ریان سر کی میٹنگ بس آدھے گھنٹے میں ختم ہوجایے گی وہ آتے ہیں تو پھر کچھ منگواتے ہیں۔رمشہ نے کہا تو ہارسا نے حامی بھر لی۔
میں کچھ کام وغیرہ دیکھ لوں! کسی اور کو بھیج دیتی ہوں آپکے پاس۔رمشہ نے کہا۔
نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے میں اکیلی بور نہیں ہوتی!آپ جاو۔
پارسا کے کہنے پر رمشہ شانے اچکا کر چلی گئی۔
پارسا نے اپنے فون مووی لگا لی،اور دیکھنے میں مصروف ہوگئی۔
***
ریان نے ایک نگاہ اپنی گھڑی پر ڈالی۔گھڑی ساڑھے تین بجا رہی تھی،اس نے گہرا سانس لےکر سر پر ہاتھ پھیرا۔
وہ صبح سے اب فارغ ہوا تھا۔
مس رمشہ! پارسا کہاں ہے؟ریان نے رمشہ کو کیبن میں اکیکے بیٹھے دیکھا تو کہا۔
سر اپکے روم میں ہے!
ریان سر ہلاتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا۔
پارسا ایک صرف پڑے صوفے پر دونوں پاؤں اوپر کرکے بہٹھی ہوئی تھی،ہاتھ میں پکڑے ہوئے مؤبائل میں مصروف تھی۔
السلام علیکم!ریان نے کہا۔
پارسا نے سلام کا جواب دیا ایک نظر اس پر ڈالی اور پیر بیچے کرکے جوتا پہننے لگی۔
فارغ ہو تم؟پارسا نے پوچھا۔
ہاں!
گھر چلیں؟پارسا نے کہا۔
اوکے!ریان حیران ہوا مگر نارمل انداز میں بولا۔
پارسا باہر کی طرف چل دی۔
گاڑی میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ریان ڈرائیو کرتے ہوئے گاہے بگاہے اس پر بھی نظر ڈال لیتا۔پارسا سیٹ سے ٹیک لگاکر آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔
خاموشی سے اکتا کر ریان نے کچھ کہنے کیلئے ہونٹ کھولے مگر کچھ سوچ کر ہونٹ بھینچ گیا۔
ہونہہ! آیا بڑا!صبح سے بھوکی ہوں میں ایک بار بھی نہیں پوچھا مجھ سے ناشتہ بھی نہیں کیا۔ایسے دکھا رہا تھا جیسے بڑا مصروف ہو۔پارسا نے جل کر سوچا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: