Qudsiyy Arain Urdu Novels

Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 15

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر
Written by Peerzada M Mohin

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 15

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 15

–**–**–

وہ ڈیوٹی سے فری ہوکر اپنے کمرے میں آئی۔اسکی روم میٹ کی نائٹ شفٹ تھی۔وہ تیار کھڑی تھی جانے کیلئے۔
اسکے جانے کے بعد جولیا تیزی سے واشروم کی طرف بڑھی۔
جب واپس آئی تو اسکا چہرہ گیلا تھا،بازو اور ہاتھ بھی گیلے تھے۔
آستین جو فولڈ کی ہوئی تھی،انہیں گیلے ہاتھوں سے سیدھا کر رہی تھی۔
وہ الماری کی طرف بڑھی پہلے ایک بڑی سی شال نکال کر اس طرح اوڑھی کہ کوئی بال نظر نہ آئے پھر احتیاط سے ایک کتاب نکال کر بستر پر آگئی اور اسے پڑھنے لگی۔
کتاب کا کور سیاہ رنگ کا تھا درمیان میں سنہرے رنگ سے لکھا عربی میں لکھا ہوا تھا:القرآن الكريم.
اسکے عین نیچے انگریزی میں لکھا تھا۔
The Holy Qur’an
English Translation.
وہ بڑی محویت سے پڑھنے میں مصروف تھی۔دروازہ پر ناک ہونے پر وہ چونک اٹھی برق رفتاری سے کتاب کو الماری میں رکھا اور دروازہ کھولا۔
وہ آنیہ تھی،ساتھ والے روم سے۔
تم نے اتنی کَس کر شال لی ہے؟سلام دعا کے بعد آنیہ نے حیرت کا اظہار کیا۔
سردی لگ رہی تھی۔جولیا نے بےربط انداز میں کہا۔
آنیہ اسکی بےربطگی محسوس کیے بغیر باتوں میں مصروف ہوگئی تھی، جبکہ جولیا چور نگاہ بار بار الماری پر ڈال رہی تھی۔
***
وہ لاؤنج کے صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی۔ریان اپنے کمرے میں چینچ کرنے چلا گیا تھا۔
پاکیزہ جو کچن میں کھڑی تھی اسے دیکھ کر باہر آگئی۔
تھک گئی ہو؟پاکیزہ کے پوچھنے پر اس نے سر اثبات میں ہلا دیا۔
کیسا لگا آفس؟پاکیزہ نے پوچھا۔
ٹھیک ہے لیکن ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے!پارسا نے ریان کو آتے دیکھ لیا تھا اسلئے وہ جان بوجھ کر بولی۔
آپ نے جوائن کر ہی لینا ہے شادی کے بعد ایک دو مہینوں میں پھر جس محنت کی ضرورت ہے وہ آپ خود کروا لیجئے گا!ریان نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اور کچن کی طرف چلا گیا۔
ہونہہ آیا بڑا!!!شادی کے بعد!!وہ منہ بگاڑ کر بولی۔ اس نے ریان کو تپانے کیلئے کہا تھا مگر اسکی بےنیازی دیکھ کر وہ خود سُلگ اُٹھی۔
وہ چند منٹ یونہی بیٹھی رہی پھر اٹھ کر کچن کی طرف گئی۔
ریان وہیں کھڑا پانی پی رہا تھا،پارسا اسے نظرانداز کرتے ہوئے فریج کی طرف بڑھی۔
سوری پارسا!ریان کی آواز پر وہ چونک کر مڑی اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
کس لئے؟پارسا نے پوچھا۔
تمہیں آفس وزٹ نہیں کروا سکا! ایکچولی واقعی میں بہت امپورٹنٹ میٹنگ تھی میں مس نہیں کرسکتا تھا۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میٹنگ اتنی لمبی ہوجائے گی ورنہ میں تمہیں کل آفس لیجانے کا کہہ دیتا۔ریان نے نرم لہجے میں وضاحت دی۔
اٹس اوکے!پارسا کے لبوں سےنجانے کیوں یہی الفاظ نکلے حالانکہ چند منٹ پہلے وہ ریان سے ٹھیک ٹھاک خفا تھی۔
ریان مسکرا کر چلا گیا۔
اس کے لئے کسی سے بھی معذرت کرنا اتنا آسان ہے!پارسا نے حیرت سے سوچا۔
میں کبھی بھی کسی سے اتنی آرام سے معذرت نہ کروں۔
***
کسی جنت سی سرسبز
حسین سی وہ جگہ
تھی کھڑی وہاں وہ
جامنی رنگ کے لبادے میں
تھا رنگ اسکا سانولا
مگر نین نقش تھے پر کشش
تھی عاری وہ کسی قسم کے سنگھار سے
مگر پہنا تھا اک تاج
بنا تھا وہ گلابی سرخ اور سفید پھولوں کا
مگر نظر آرہے تھے سبز پتے بھی کہیں کہیں
لہرا تھے ہوا سے
بھورے گھنگھریالے بال
تھا کھڑا اک لڑکا بھی قریب ہی اُسکے
مگر نہ تھا واضح چہرہ اسکا
ملبوس تھا وہ بھی جامنی شرٹ میں
اک چمک تھی اس لڑکی کی آنکھوں میں
جو ستاروں کو بھی مات دے رہی تھی۔
ایک جھٹکے سے اسکی آنکھ کھلی۔چادر جو اس نے سر پر لے رکھی تھی ڈھلک گئی تھی۔تکیے پر قرآن پڑا تھا جسے وہ پڑھتے پڑھتے سو گئی تھی۔کھڑکی کے کھلے ہونے کی وجہ سے قرآن کے اوراق خودبخود پلٹ رہے تھے۔
وہ میں تھی۔جولیا نے سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپکو یقین دلایا۔
وہ لڑکا کون تھا۔وہ الجھی۔
میں کتنی خوش تھی۔وہ بڑبڑائی۔
میں خوش بھی ہوسکتی ہوں!وہ عجیب سے انداز سے مسکرائی۔
چند لمحے ساکت بیٹھنے بعد اسکی نظر قرآن پر پڑی،اسے دعا کا خیال آیا۔اس نے دھیرے سے آنکھیں بند کیں اور بڑبڑائی۔
اے اللہ! میں جانتی ہوں کہ میں مسلم نہیں ہوں! لیکن میں پھر آپ سے دعا مانگ رہی ہوں! آپ نے مجھے چن لیا ہے، دیکھیں نہ میں بھی تو آپکی ہولی بک کی ٹرانسلیشن لے آئی ہوں اور پڑھ بھی رہی ہوں۔پلیز میری ریکویسٹ سن لیں میں بہت خوش تھی خواب میں مجھے رئیل لائف میں بھی خوش کردیجئے۔مجھے نارمل لائف دے دیجئے۔پلیز۔
اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔
کیا اللہ میری دعا سنیں گے۔اس نے دل میں سوچا۔
اس نے قرآن بند کرنے کی نیت سے ہاتھ بڑھایا۔
جبھی اسکی نظر قرآن کے صفحے پر پڑی، جس پر یہ الفاظ جگمگا رہے تھے۔
میں قبول کرتا ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ پکارے۔
(البقرہ)
اسکی آنکھوں سے بےرنگ پانی بہنے لگا۔
اتنا جلدی تو کوئی اسے جواب نہیں دیتا دنیا میں جتنا اللہ۔۔۔۔۔۔
اسکی زبان گنگ ہوگئی تھی۔اسکی سوچیں منجمد ہوگئیں تھیں۔
وہ اس لمحے کچھ بولنے یا سوچنے کے قابل نہیں رہی تھی۔
اللہ۔۔۔۔۔۔وہ بےآواز آنکھیں میچ کر بولی۔
اسکے آنسوؤں میں روانی آگئی۔
میں تو وہ لڑکی ہوں جسکے ماں باپ بھی اس بات کرنا گوارا نہیں کرتے مجھے اتنی اہمیت بھی مل سکتی ہے۔اس نے سوچا۔
***
حسبِ معمول وہ دسمبر کی اداس شام تھی۔یخ بستہ ہوا سب کو بے اختیار کپکپانے پر مجبور کررہی تھی۔
ایسے میں وہ اپنا کمرہ چھوڑے بالکونی کی ریلنگ پر دونوں بازو جمائے گھڑی تھی۔کانوں میں ہیڈ فون لگائے ہوئے تھے۔
مولانا طارق جمیل اپنے مخصوص خوبصورت انداز میں نماز کی اہمیت پر روشنی ڈال رہے تھے۔
وہ بڑی محویت سے سن رہی تھی۔
بیان ختم ہونے پر اس نے ہیڈ فون اتارے۔
وہ گہری سوچ میں گھری ہوئی تھی۔
مجھے نماز پڑھنی چاہیے۔اس نے خود سے کہا۔
تم نماز نہیں پڑھ سکتی جولیا! اسے اپنی ہی آواز سنائی دی۔
کیوں نہیں پڑھ سکتی!اس کے ماتھے پر بل آگئے۔
کیوں کہ تم مسلمان نہیں ہو!اسکے اندر سے آواز آئی۔
تم قرآن کا ترجمہ تو پڑھ سکتی ہو نماز نہیں!!!!
جولیا کی پیشانی سے بل غائب ہوگئے۔
کیا مجھے مسلمان ہوجانا چاہیے!وہ خود سے الجھی۔
قرآن!!! مجھے اس سے دیکھنا چاہیے۔مجھے اللہ بتائیں گے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔
جولیا بڑبڑائی اور اپنے تیزی سے اپنے کمرے میں گئی۔
احتیاط سے الماری کھول کر قرآن نکالا اور جہاں پر اس نے چھوڑا تھا وہی صفحہ کھول لیا۔
نئی سورة شروع کرلی۔
اللہ جو رحمت (کا دروازہ) کھول دے مخلوق کیلئے تو اسے کوئی نہیں بند کرنے والا۔
(سورة فاطر)
ابھی اس نے ایک ہی آیت پڑھی تھی کہ دوسری آیت میں اسے پیغام دے دیا گیا تھا۔
اوہ!میرے رب!!! تو قرآن رحمت ہے میرے لئے،اللہ رحمت ہیں میرے لئے،اسلام رحمت ہے میرے لئے۔اس نے گہرا سانس لیا اور قرآن بند کردیا۔
اسکا دل ودماغ خالی ہوگئے تھے یاد تھا تو بس یہ کہ اسکے رحمت کا دروازہ کھول دیا کیا تھا۔
تم اس کتاب پر بھروسہ کر رہی ہو جولیا! ہو سکتا ہے کہ یہ آیات محض ایک اتفاق ہوں جن ہر تم انحصار کرنے لگی ہو!اسکے اندر سے آواز ائی۔
نن نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا!یہ اتفاق نہیں ہے۔جولیا مدہم آواز میں بولی۔چند آنسو اسکے گالوں پر لڑھک گئے۔
میں پاگل۔ہوجاؤں گی اگر ایسا ہوا تو۔۔۔۔ جولیا نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔
اس نے دوبارہ قرآن کھولا خودبخود جو صفحہ کھلا وہ اسے ہی پڑھنے لگی۔
آپ اللہ پر ہی بھروسہ رکھیں۔
(سورة الأحزاب)
اس دفعہ اسے دو تین آیات نہیں پڑھنی پڑی۔جس آیت پر نظر پڑی وہی اسکے لئے پیغام تھا۔وہ آیت پوری بھی نہیں پڑھ سکی بس یہی الفاظ کافی تھے اسکے لئے۔
اسکا دل بھر آیا اس نے قرآن الماری میں احتیاط سے رکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
***
رحمت بوا! رحمت بوا! پارسا بلند آواز میں پکارتی ہوئی اپنے کمرے سے نکلی۔
رحمت بوا لاؤنج میں بیٹھی مٹر چھیل رہیں تھی۔
پارسا انکے سرہانے کھڑی ہوئی تو وہ سوالیہ انداز میں دیکھنے لگیں۔
سب لوگ کہاں ہیں؟پارسا نے پوچھا۔
پاکیزہ بِٹیا اسپتال گئی ہے،ماہا بٹیا، تمہاری اماں اور چچی بازار گئی ہیں۔عتیق اور عزیز آج دفتر گئے ہیں۔رحمت بوا نے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔
اچھا ہاں ماہا جگا رہی تھی مجھے میری آنکھ ہی نہیں کھلی۔پارسا نے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
ناشتہ بنادوں بِٹیا؟رحمت بوا نے پوچھا۔
نہیں بوا ابھی بھوک نہیں ہے!میں لان میں جارہی ہوں کچھ دیر دھوپ میں بیٹھوں گی۔پارسا ان سے یہ کہہ کر لان میں آگئی۔
بابا اور تایا کے آفس جانے کی وجہ سے اس نے آج آفس سے آف لے لیا تھا۔وہ لمبی تان کر سویا ہوا تھا جب فون کے مسلسل چنگھاڑنے پر آنکھ مَلتا ہوا اُٹھا۔
اس نے بغیر دیکھے فون اٹینڈ کرکے کان کو لگا لیا۔
معزز صارف!! اتنا سنتے ہی اس نے کال کاٹ دی۔
افف یہ کمپنی والوں کو بھی تبھی کال کرنا ہوتی ہے جب انسان سورہا ہو!وہ کوفت سے بڑبڑایا۔
وہ کچھ دیر یونہی ساکت لیٹا رہا!
پھر اٹھ کر واشروم کی طرف بڑھا کیونکہ اب نیند آنا ناممکن تھا۔
چند لمحوں کے بعد وہ تولیے سے منہ صاف کرتا ہوا باہر نکلا۔
اس نے فون اُٹھا کر جیب میں ڈالا اور کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔
پورے گھر میں سناٹے کا راج تھا۔پرسکون خاموشی چھائی ہوئی تھی۔وہ لاؤنج میں آیا تو ٹیبل پر پڑے چھلکوں پر نظر پڑی، مگر لاؤنج میں بھی کوئی نہیں تھا۔
سب لوگ کدھر گئے! ریان بڑبڑایا۔
وہ چند منٹ وہاں کھڑے رہنے کے بعد لان میں آگیا۔
جبھی اسکی نظر پارسا پر پڑی۔
سیاہ کھلے ٹراوزر اور سی گرین شرٹ میں ملبوس سیاہ بالوں کی ڈھیلی سی چٹیا بنائے اور سیاہ دوپٹہ لاپرواہی سے کندھے پر لئے ہوئے پارسا سیدھی دل میں اتر رہی تھی۔
سنہری دھوپ کی تمازت سے اسکی بےداغ سفید چہرہ دمک رہا تھا۔
وہ لان میں رکھی کرسیوں میں سے ایک کرسی پر بیٹھی تھی، پیر لاپرواہی سے سامنے رکھے ٹیبل رکھے ہوئے تھے۔نظر ہاتھ میں پکڑی کتاب پر جمی ہوئی تھی۔
ریان اسکےقریب جاکر کھنکھارا۔
پارسا نے کتاب سے نظریں ہٹا کر ریان کی طرف دیکھا۔
وہ سیاہ رف ٹراؤزر اور سیاہ شرٹ میں ملبوس تھا۔سیاہ بال ہلکے ہلکے نم محسوس ہورہے تھے۔اسکی بھوری آنکھیں پارسا پر ہی جمی تھیں۔پارسا نے اس پر سے نظر ہٹا لی۔نجانے کیوں پارسا کو اسکی بھوری آنکھیں ان کہی کہانیاں کہتی محسوس ہوتیں تھیں۔
کیا حال ہے؟ریان نے اسے کتاب میں گم ہوتے دیکھا تو بولا۔
ہونہہ بڑی جلدی خیال آگیا!!!!پارسا نے دل میں سوچا۔
پارسا نے ایک پُرشکوہ نظر اس پر ڈالی۔اور پھر کتاب بند کرکے اٹھنے لگی۔
انسان کم از کم سامنے والے کو جواب ہی دے دیتا ہے۔ریان اسکا ارادہ دیکھ کر جلدی سے بولا۔
جواب اسکو دیا جاتا ہے جس سے بات کرنی ہو!پارسا نے منہ بنا کر کہا۔
تو آپ کو مجھ سے کیوں بات نہیں کرنی پارسا؟ریان نے پوچھا۔
مجھے آپ سے کیوں بات کرنی چاہیے؟پارسا نے بھی جواباً سوال کیا۔
کیا مطلب اسکا۔ریان نے الجھ کر کہا۔
ہم کزنز ہیں اور اب تو نکاح بھی ہوچکا ہے ہمارا۔۔۔ منکوحہ ہو آپ میری۔ ریان نے نرمی سے کہا۔
ہونہہ منکوحہ۔۔۔۔۔بتا تو سکتے نہیں ہیں کسی کو کہ منکوحہ ہوں! پارسا مدھم سا بڑبڑائی مگر ریان کے کانوں میں اسکی بڑابڑاہٹ واضح پہنچ گئی۔
اوہ گاڈ! پلیز پارسا اب یہ نہ کہیے گا کہ آپ رمشہ کو نہ بتانے والی بات پر ناراض ہیں! میں بتانے والا تھا لیکن ایمرجنسی تھی میٹنگ کی!ریان نے جھلا کر کہا۔
پارسا کم از کم مجھے آپ سے یہ توقع نہیں تھی آپ اتنی چھوٹی سی بات کا ایشو بنائیں گی۔ریان نے کہا۔
انسان بہت گہرا ہوتا ہے ریان،ہم جو نظر آتے ہیں نہ وہ ہوتے نہیں ہیں دراصل۔
وہی چھوٹی چھوٹی چیزیں جنکی عام طور پر ہمیں پرواہ نہیں ہوتی، جب ہم کسی اپنے کے ساتھ ہوں تب وہی چھوٹی چھوٹی باتیں اہم ہوجاتیں ہیں۔
تمہیں پتہ ہے ریان انسان کا اپنا کون ہوتا ہے؟پارسا نے سوال کیا پھر جواب کا انتظار کیے بغیر خود ہی بول پڑی۔
انسان کا اپنا وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ ہمیں فارمیلٹیز نبھانی نہ پڑے،جسکے سامنے اپنا آپ بہت مضبوط ظاہر نہ کرنا پڑے۔جس کے ساتھ آپ چھوٹے چھوٹے اور بچگانہ لمحات بھی آزادی سے جی سکیں۔جسکی چھوٹی چھوٹی باتیں آپکو گھنٹوں تک خوشی سے سرشار کردیں۔جسکی چھوٹی چھوٹی باتیں آپکو گھنٹوں تک رلاتی ہوں۔جس پر آپکو مان ہو کہ وہ آپکا اپنا ہے۔پارسا نے سنجدگی سے کہا۔
اوکے آئی ایم سوری۔ریان نے دونوں کان پکڑ کر کہا۔
اور کوئی شکایت ہے تو وہ بھی کردو ابھی۔ریان نے سنجیدگی سے کہا۔
تم نے مجھ سے کھانے کا بھی نہیں پوچھا۔ریان کا دماغ بھک سے اُڑ گیا۔
رمشہ نے مجھے کہا تھا کہ آپ کھانا کھا چکیں ہیں!ریان نے کہا۔
میں تمہارا انتظار کر رہی تھی اور وہ بار بار پوچھ رہی تھی تو میں نے جھوٹ بول دیا۔منہ بسور کر کہتی پارسا ریان کو چھوٹی بچی لگی۔
اففف! ریان کرسی پر بیٹھ گیا اور اپنے بال دونوں مٹھیوں میں قید کرلئے۔
پارسا میں آپکو ریسٹورینٹ لیجانے والا تھا کھانے کیلئے! رمشہ کے کہنے پر میں مطمئن ہوگیا کہ آپ کھانا کھاچکی ہیں اور دوسرا آپکا موڈ اتنا خراب تھا کہ میں نے نہیں پوچھا،ورنہ نیت میری پوچھنے کی ہی تھی۔ریان نے کہا۔
ہونہہ!پارسا بھی اسکے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
اور کوئی شکایت؟ریان نے بےچارگی سے کہا۔
سب نے نکاح والے دن میری اتنی تعریفیں کیں مگر تم۔۔۔۔۔
تم چپ چاپ مجھے نظرانداز کرکے چلے گئے!پارسا نے منہ بنا کر کہا۔
بندہ جھوٹے منہ ہی تعریف کردیتا ہے!پارسا مزید بولی۔
اوکے سوری!فار ایوری تھینگ!آئیندہ دھیان رکھو گا میڈم!ریان سینے پر ہاتھ رکھ کر تنظیم دینے کے انداز میں جھکا تو پارسا کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔
اور رہی بات تعریف کی تو مجھے لگا تھا کہ شاید تمہیں میرے زبان سے کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہوگی، میرے خیال میں میرا چہرہ میری خوشی کو بیان کررہا تھا اور میری آنکھیں تمہارے لئے میرے جذبات کو۔
مگر اب میں تمہیں کہنا چاہوں گا پارسا۔
تم اس دن بہت پیاری لگ رہی تھی۔مگر صرف اس دن نہیں،جب جب میں تمہیں دیکھتا ہوں تم مجھے پہلے سے زیادہ اچھی لگتی ہو!
وہ جو بچپن میں پریوں کی کہانیاں سنا کرتے تھے نہ ان کہانیوں کی بھٹکی ہوئی کوئی حسین پری لگتی ہو۔ریان کے اس طرح کہنے پر پارسا کی آنکھیں چمک اُٹھیں،چہرہ جگمگا اُٹھا۔
کسی روایتی کہانی کی لڑکیوں کی طرح اس نے سر نہیں جھکایا نہ ہی مارے شرم کے اسکے گال لال ہوئے۔
بلکہ وہ خوشی سے چلائی۔سچی؟
خود ہی بول رہی تھی کہ انسان جھوٹے منہ ہی تعریف کردیتا ہے۔ریان نے اسے تپانے کیلئے کہا۔
ہونہہ آئے بڑے!!پارسا بلند آواز میں بڑبڑاتے ہوئے کھڑی ہوگئی تو ریان کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔
میں سوچ رہی تھی میں تم جیسے بددماغ اور مغرور انسان کے ساتھ کیسے رہوں گی،مگر اب دیکھنا میں تم سے سارے بدلے لینے کیلئے تمہارے ساتھ رہوں گی،جینا حرام کردوں گی تمہارا۔پارسا یہ کہہ کر پیر پٹختی ہوئی اندر چلی گئی۔
ریان کے بلند قہقے نے اسکا تعاقب کیا۔
***
اسلام آباد میں شام کے سائے گہرے ہورہے تھے۔اس نے گاڑی پورچ میں کھڑی کی اور اپنا اوورآل بازو پر ڈال کر اندر داخل ہوا۔
سب لوگ لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے۔
السلام علیکم!اس نے سب کو مشترکہ سلام کیا۔
جبھی اسکی نظر جولیا پر پڑی، جو صبوحی کی کسی بات پر بےتحاشہ ہنس رہی تھی۔
نیلی کرتی اور نیلے ٹراؤزر میں ملبوس بھورے بالوں کی فرنچ ناٹ بنائےکندھوں پر کشمیری شال اچھے سے پھیلا کر لئے ہوئے جولیا بہت مختلف لگ رہی تھی۔اسکی سانولی رنگت بھی کھلی کھلی لگ رہی تھی۔نقاش نے اپنی لمبی دوستی کے دوران جولیا کو اس قدر مطمئن نہیں دیکھا تھا۔نقاش کی نظر اسکے سر سے ہوتی ہوئی پیروں پر گئی تو وہ چونک گیا،جولیا نے اپنے ٹخنے ڈھکے ہوئے تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: