Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 2

0
ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 2

–**–**–

ہی از کیوٹ!!!پارسا نے لاپرواہی سے کہا جبکہ ریان کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
ریان نے نیپکن سے ہونٹ تھپتھپائے اور کرسی گھسیٹ کر کھڑا ہوا۔
تینوں اسکی طرف متوجہ ہوئیں۔وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔
اسے کیا ہوا؟پارسا نے بھویں اچکا کر کہا۔
شرما گیا لڑکا۔ماہا نے شرارت سے ایک آنکھ میچ کر کہا۔
او مائے گاڈ۔پارسا نے چہرے کے زاویے بگاڑے اور دوبارہ کھانے میں مصروف ہوگئی۔
***
وہ لاونج میں داخل ہوا تو سامنے پڑے صوفوں میں سے ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔سامنے والے صوفے ہر اسکی مما اور پارسا بیٹھی کچھ بات کر رہیں تھیں اسکے آتے ہی مما بولی
لو ریان آگیا!!!!ریان تم پارسا کو کچھ کمپنی دو یہ بور ہو رہی میں ذرا کچن دیکھ لوں۔وہ پہلا جملہ پارسا اور دوسرا ریان سے بولیں اور اٹھ کر چلی گئیں۔
باقی سب کہاں ہیں؟ریان نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد (خود کو کمپوز کرکے) پارسا سے پوچھا (اب کچھ تو پوچھنا ہی تھا آخر مما اب کمپنی دینے کا بول کر گئی تھیں)۔
پاکیزہ کی دوست کی انگیجمینٹ تھی وہیں گئیں ہیں دونوں۔پارسا نے مختصر جواب دیا۔
آپ بور ہورہیں تھیں؟ریان کے معصوم لہجے اور اس میں اپنے لیے اتنا ادب دیکھ کر پارسا کا قہقہ لگانے کا دل چاہا، مگر وہ کنڑول کر گئی۔
ہاں کوئی ہے ہی نہیں جو مجھے کمپنی دے کسی کو خوشی ہی نہیں ہے میرے آنے کی۔پارسا نے معصومیت سے کہا۔
ارے نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے آئیں ہم پارک چلتے ہیں تھوڑی واک کرلیجئے گا اور آپکی بوریت بھی دور ہوجائے گی۔
پارسا نے ریان کو بغور دیکھا۔دراز قد! سیاہ بال سفید رنگت بھوری آنکھیں کھڑا ناک گلابی ہونٹ کلین شیو۔بلاشبہ وہ بےحد پیارا تھا مگر جو چیز اسے سب سے منفرد بناتی تھی وہ حسن نہیں اسکی معصومیت تھی جو اسکے چہرے سے بھی چھلکتی تھی اور اسکے انداز و اطوار سے بھی۔
یور آر سو کیوٹ!پارسا کے لبوں سے بلاارادہ پھسلا مگر یہ دیکھ کر پارسا بہت حیران ہوئی کہ ریان کا چہرہ کل کی طرف سرخ ہوا۔
تم ہر تعریف پر اسی طرح بلش کرتے ہو؟پارسا اور وہ خاموشی سے چل رہے تھے جبھی پارسا نے کہا۔
ریان نے پارسا کے چہرے کی طرف دیکھا جسکی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔
ریان کی آنکھوں میں خفگی در آئی۔
اوکے اوکے!پارسا نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا۔
وہ کیا ہے نہ تمہارے فیس ایکسپریشن اتنے کیوٹ لگتے ہیں اور تمہیں تنگ کرنے میں مزہ بھی آتا ہے۔پارسا نے بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
پلیز!!!!!!!ریان نے منہ بنا کر کہا۔
اچھا تمہیں پتا ہے میرے کالج میں۔۔۔۔۔۔۔۔ پارسا اب شروع ہوچکی تھی اسے باتیں کرنے کا خبط تھا اور ریان سدا کا کم بولنے والا بیچارا دلچسی سے پارسا کی باتیں سن رہا تھا۔اور پارسا کی زبان کو پارک میں جاکر بھی بریک نہیں لگی۔
ریان مجھے جھولے پر بیٹھنا ہے۔پارسا بچوں کے انداز میں بولی آگے بڑھ کر پینگ پر بیٹھی ایک بچی کو مخاطب کیا بچی جھولا روک کر بولی۔
مجھے بیٹھنے دو جھولے پر تھوڑی دیر۔پلیز!!!!!
پارسا نے چہرے پر اتنی مسکینیت طاری کی کہ وہ بچی مان گئی۔
ریان سامنے بنے بینچ ہر بیٹھ کر اپنا فون استعمال کرنے لگا چند منٹوں کے بعد یونہی اسکی نظر سامنے گئی جہاں پارسا مہارت سے جھولا جھول رہی تھی۔سفید اسٹائلش ٹراؤزر اور گلابی گھٹنوں کو چھوتی کرتی میں ملبوس سیاہ لمبے بالوں کو ترچھی مانگ نکال کر کھلا چھوڑے (پیچھے کی طرف معمولی سا کیچر لگایا ہوا تھا)چہرے پر ایک چمک لئے پارسا اسے وہ پری لگی جسکی کہانیاں وہ بچپن میں بڑے شوق سے سنا کرتا تھا۔
ہوا اسکے بالوں کیساتھ چھیڑخانیاں کر رہی تھی،چھوٹی بڑی لٹیں اب اسکے چہرے کے اطراف بکھر چکیں تھیں۔وہ بڑی محویت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کافی دیر بعد پارسا نے جھولا روک لیا اور اسکی طرف آنے لگی ریان نے گڑبڑا کر اپنی نظریں ہٹائیں۔
افف! بہت ٹائم بعد میں جھولے پر بیٹھی ہوں پتہ ہے میں بچپن میں یہ جھولا بہت شوق سے جھولا کرتی تھی۔پارسا بے تکلفی سے بولی اور دونوں باہر کی طرف چل دیئے۔
شام کے سائے گہرے ہورہے تھے۔پارسا کے سیاہ بال سرخی مائل لگ رہے تھے۔ہوا سے بال ہلکے ہلکے اڑ کر ریان کے کندھے پر جارہے تھے پارسا انہیں سمیٹنے کا تکلف نہیں کر رہی تھی بلکہ ریان کے کان کھانے میں مصروف تھی۔ریان کسی اجنبی کیساتھ اتنی جلدی کمفرٹیبل نہیں ہوتا تھا لیکن نجانے کیوں اسکے ساتھ یوں گھومنا اچھا لگ رہا تھا، اسکی باتیں سننا اچھا لگ رہا تھا،اسکی حرکتیں اچھی لگ رہیں تھیں۔
ہمیں کس انسان کی کوئی بھی بات بری نہیں لگتی؟ریان نے خود سوال کیا۔
جس سے محبت ہو۔کسی نے گویا اسکے کان میں سرگوشی کی اور وہ ساکت ہوگیا۔
ریان!!پارسا نے اسکا بازو زور سے ہلایا۔
ہاں!وہ ہڑبڑا کر بولا۔
رک کیوں گئے تم؟کب سے آواز دے رہی ہو تم کو! کیا ہو تمہیں؟
کک کچھ نہیں!! چلو!!! ریان بولا اور چلنے لگا پارسا بھی خاموشی سے اسکے ساتھ چلنے لگی۔
***
وہ بیڈ پر اوندھا لیٹا ہوا تھا۔پیر ابھی بھی جاگرز میں ہی مقید تھے۔وہ ایک ٹانگ مسلسل ہلا رہا تھا۔
ریان کیا کر رہے ہو تم یہ! اس نے خود کو مخاطب کیا۔
ریان تم کچھ بھی غلط نہیں کررہے!اسکے اندر سے ایک آواز آئی۔
مگر!!!
محبت میں کوئی اگر مگر نہیں ہوتی اور جہاں اگر مگر ہوتی ہے وہاں محبت نہیں ہوتی۔اسکے اندر سے آواز آئی اس بار وہ کوئی مزاحمت نہیں کرسکا۔اسکے چہرے پر گہری مسکراہٹ آگئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: