Qudsiyy Arain Urdu Novels

Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 3

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر
Written by Peerzada M Mohin

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 3

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 3

–**–**–

وہ کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا پاکیزہ اور ماہا بیڈ پر بیٹھی لیپ ٹاپ پر کوئی مووی دیکھ رہیں تھیں۔جبکہ وہ نیچے کارپٹ پر بیٹھی اپنی کتابوں سے الجھ رہی تھی ماتھے پر بل پڑے ہوئے تھے۔
بالوں کا گول مول جوڑا بنایا ہوا تھا جو کہ گردن پر جھول رہا تھا۔
کیا ہورہا ہے؟ریان نے سب کو ایک ساتھ مخاطب کیا۔
بزنس سمجھنے کی کوشش جاری ہے!ماہا نے پارسا کو چڑاتے ہوئے کہا۔
ہاں تو تمہیں کیا تکلیف ہے تم رہو مصروف درزن بننے میں۔پارسا جو پہلے ہی تپی بیٹھی تھی ماہا کے چڑانے کے چڑانے پہ بولی۔
ارے میں تو کہہ رہی تھی کہ تم ریان کی مدد لے لو نا یہ بھی بزنس کا ہی اسٹوڈنٹ ہے۔ماہا نے گڑبڑا کر کہا۔
یہ کرے گا میری مدد!!! پارسا نے پہلے ریان کو گھورا اور پھر ماہا سے مخاطب ہوئی۔
ہاں ریان ٹاپر ہے تم اس سے ہر طرح کی مدد لے سکتی ہو۔پاکیزہ نے کہا۔
پارسا نے حیرانگی سے ریان کو دیکھا ایسا نہیں تھا کہ وہ نالائق اسٹوڈنٹس تھی وہ خود ٹاپر تھی مگر اسکے ٹاپر ہونے میں بڑا ہاتھ اسکے نانا کا تھا جو ٹیچر تھے۔وہ یونیورسٹی سے آکر پہلےٹیوٹر سے پڑھتی جو نانا نے اسکے لئے رکھا ہوا تھا پھر ایک سیشن نانا سے لیتی۔مگر ریان کو دیکھ کر اسے نہیں لگا کہ وہ ذہین بھی ہوسکتا ہے ریان میں اسے معصومیت کے علاوہ کچھ بھی محسوس نہیں ہوا۔
یہ دیکھو اگر ٹاپک سمجھ آئے تو۔۔۔۔۔اس نے ریان کے آگے بک کر دی۔
یہ تو آسان ہے دیکھو یہ ایسے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ریان نے اسے سمجھانا شروع کیا۔
پارسا کا کانسیپٹ بہت آسانی سے کلیئر ہوگیا ڈیڑھ دو گھنٹے وہ مختلف ٹاپک ڈسکس کرتے رہے۔
تھینک یو سو مچ ریان۔پارسا نے کہا۔
یور آلویز ویلیکم!ریان نے مسکرا کر کہا۔اگر تمہیں کچھ بھی پوچھنا یا سمجھنا ہو تو بلاجھجھک آجانا۔ریان نے کہا۔
شیور تمہارا ہی دماغ کھاوں گی اب۔پارسا مسکرا کر بولی۔
***
وہ ایک چھوٹا سا خوبصورت اپارٹمنٹ ہے جسکا دروازہ کھول کر اندر جاو تو بائیں جانب ایک لاونج نما کمرہ ہے۔اس کمرہ میں جانے کے بجائے سیدھا چلو تو سامنے ایک ہال نما لاونج ہے جسکے صوفوں پر وہ دونوں میاں بیوی اپنی بیٹے کے ساتھ براجمان ہیں۔
بس نقاش کا آخری سال ہے اسپیشلائزیشن کا نہ اسکے بعد ہم پاکستان چلے جائیں گے۔راحیل صاحب نے کہا۔
سامنے بیٹھے لڑکے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی،وہ اپنے متعلق اپنے ماں باپ کی پلانگز سننے کا عادی تھا اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے وہی اپنے ماں باپ کی زندگی کا واحد محور تھا۔
پاکستان جاتے ہی نقاش کی شادی کردینی ہے۔نقاش نے گہرا سانس لے کر سر پر ہاتھ پھیرا اور زیرلب کچھ بڑبڑایا۔
لگتا ہے ڈیڈ آپکی بھانجی آپکو آجکل خاص لفٹ نہیں کروا رہی!نقاش نے ٹاپک بدلتے ہوئے کہا۔
ہاں وہ کراچی گئی ہوئی ہے۔راحیل بولے۔
میں سمجھ رہی ہوں نقاش آپ بات کو کس کی طرف لیجارہے ہیں۔صبیحہ (اسکی مما) نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔
مام دس از ناٹ فیئر! میں نے بس پارسا کا پوچھا تھا اور کچھ نہیں!!!!وہ منہ بنا کر بولتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا کیونکہ مما اب اسے چڑانے کے موڈ میں تھی
جی جی!صبیحہ زور سے کہا تاکہ اسکے کانوں میں آواز لازمی جائے۔
***
آج ماہا کے سسرالیوں نے آنا ہے نہ دیکھو اسکی تو تیاریاں ہی ختم نہیں رہیں!!پارسا نے منہ بنا کر کہا تو پاکیزہ کی ہنسی چھوٹ گئی اور ریان جو کہ انکے کمرے میں داخل ہورہا تھا اسکا قہقہ بلند ہوگیا۔
ماہا جو پچھلے ایک گھنٹے سے تیار ہورہی تھی،اسکے تو سر پہ لگی تلوں پر بجھی۔
بہن تم مجھے چھوڑو اپنا خیال کرو کہیں ایسا نہ ہو وہ تمہارے بھی سسرالی بن جائیں ویسے بھی وہ لوگ اپنے صارم(ماہا کے منگیتر کا چھوٹا بھائی)کا رشتہ ڈھونڈ رہے ہیں اور وہ تو ملنے بھی تم سے ہی آرہے ہیں۔ماہا نے منہ بنا کر کہا اور دوبارہ آئینے کی طرف مڑ گئی پارسا سے بحث کے چکر میں وقت ضائع ہوجانا تھا۔
پارسا اسکی باتکا اثر لئے بغیر ڈھٹائی سے مسکرا رہی تھی۔جبھی اسکا فون بجا۔
راحیل ماموں کا فون ہے!فون پاکیزہ کے قریب پڑا تھا پاکیزہ نے اسکی جانب بڑھایا۔
پارسا سلام دعا کہ بعد جوش سے کراچی کا احوال سنانے لگی جبکہ ریان اور پاکیزہ کبھی ماہا کی تیاریاں دیکھتے کبھی پارسا کو جو فون پر مصروف ہوچکی تھی۔
مہمان آگئے ہیں چلو آجائو تم سب بھی۔آدھے گھنٹے بعد ریان کی امی نے آکر ان سب کو کہا تو پارسا نے فون بند کیا اور سب باہر کی طرف بڑھے۔
***
یہ امریکہ کی ایک مشہور میڈیکل یونیورسٹی کا منظر ہے۔
نقاش!!!! وہ اپنی کلاس لے کر باہر بکلتا ہے تبھی ایک نسوانی آواز پر پلٹتا ہے۔سیاہ گھٹنوں سے تھوڑی نیچے تک آتی اسکرٹ اور کچے پیلے رنگ کے بلاوز میں ملبوس،سفید اوورآل پہنے وہ تقریبا بھاگتی ہوئی آرہی تھی۔اسکی سانس پھولی ہوئی تھی۔
اسکی رنگت ذرا سانولی تھی مگر نین نقش تیکھے اور پرکشش تھے۔
نقاش اسکے لئے رکا۔وہ اسکے قریب آئی اور دونوں ہم قدم ہوگئے۔
ہائے نقاش!وہ چہکی۔
ہیلو جولیا!کیسی ہو تم؟
میں ٹھیک ہوں!تم کدھر ہو آجکل لفٹ ہی نہیں کرواتے!جولیا نے منہ بنا کر شکوہ کیا تو نقاش ہنس پڑا۔
جولیا نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ بلیو جینز (جسکے پائنچے اس نے ٹخنوں سے ذرا واپر موڑ رکھے تھے اور کچے پیلے رنگ کی ٹی شرٹ میں ملبوس تھا یہ رنگ اسکی گوری رنگت پر جچ رہا تھا۔
سیاہ بال، بھوری آنکھیں اور چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی تھی۔
دانت نکالتے رہو بس!جولیا نے خفگی سے کہا۔
پھر کیا کروں تم بتا دو یار!نقاش نے کہا۔
کینٹین چلو فلحال تو مجھے بھوک لگی ہے۔جولیا نے منہ بنا کر کہا تو دونوں کینٹین کی طرف چل دیے۔
آنٹی کیسی ہیں؟جولیا نے برگر کھاتے ہوئے پوچھا۔
شی از فائن!پوچھ رہیں تھیں کہ جولیا نظر نہیں ائی کافی دن سے!
میں نے کہا کہ بزی ہے اسٹڈی میں!
چچ نقاش تم کتنے بدتمیز ہو لفٹ خود نہیں کرواتے اور الزام مجھ پر ڈال دیتے ہو! جولیا نے صدمے سے کہا
اچھا چلو آج تم ہمارے گھر آجاو،شام کو واپس چھوڑ دوں کا ہاسٹل تم کو۔نقاش نے خوش دلی سے آفر کی۔
اوکے چلو!جولیا یونی بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے کھڑی ہوگئی تو نقاش اسکی پھرتی پر مسکرا دیا۔
***
السلام علیکم ڈیئر قارئین!
حاضر ہوں نئی قسط کے ساتھ!
میں اس بار لمبی قسط دینا چاہتی تھی مگر گھریلو مصروفیت کی وجہ سے پائی لمبی لکھ نہیں پائی! معذرت خواہ ہوں نیکسٹ ٹائم ٹرائے کروں گی انشااللہ۔
آپ سب کا بہت شکریہ پچھلی قسط کے کمینٹس کیلئے بہت مزہ آیا کمینٹس پڑھ کر امید کرتی ہوں اس بار بھی آپ سب اتنے اچھے ہی کمینٹس دیں گے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: