Qudsiyy Arain Urdu Novels

Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 4

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر
Written by Peerzada M Mohin

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 4

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 4

–**–**–

آنٹی آپکو پتا ہے میں آپکے گھر کو ہمیشہ مس کرتی ہوں۔جولیا نے کہا۔
بیٹا آتی جاتی رہا کرو نہ پھر آپ!! ہر بار کہہ کر بلانا لازم تھوڑا ہوتا ہے۔صبیحہ نے پیار سے کہا۔
اور کیا یہاں گرمی میں بیٹھی ہو چلو شاباش باہر چلی جاو۔
جولیا ان کے پیار بھرے انداز پر مسکراتی ہوئی باہر ہال نما لاؤنج میں آگئی۔اسکی نظر نقاش پر پڑی جو کہ اپنے کمرے میں جائے نماز پر بیٹھا دعا مانگ رہا تھا۔سر پر سفید ٹوپی لی ہوئی تھی۔جولیا بڑی محویت سے اسے دیکھ رہی تھی۔اس نے دعا مکمل کرنے کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرے اور اٹھ کر جائے نماز اکھٹا کیا۔اور پھر باہر لاؤنج میں ہی آگیا۔
تم یہاں بیٹھی ہو؟نقاش نے ٹی وی آن کرتے ہوئے کہا۔
کچن میں گرمی تھی آنٹی نے باہر بھیج دیا!جولیا نے مسکرا کر کہا۔
تم بیٹھو بس پانچ منٹ میں آیا۔نقاش اسے کہہ کر کیچن کی طرف بڑھ گیا۔جولیا مسکرا دی اسکی یہی عادتیں کسی کو بھی اسکا گرویدہ کر دیتی تھیں۔وہ بہت ٹھنڈے مزاج کا کاپریٹو انسان تھا۔اب بھی اس نے جولیا کو نہیں بتایا لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ اپنی مما کی ہیلپ کرنے گیا ہے۔وہ اپنے اردگرد رہنے والوں کا خیال اسی طرح رکھنے کا عادی تھا۔جولیا بھی پچھلے پانچ سال سے انہی لوگوں میں سے ایک تھی۔
***
ادھر یہ دو مجھے!پارسا سپرائٹ کے بوتل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔مہمانوں کے جانے کے بعد پارسا اور ماہا کیچن کے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی کھانے پر تقریبا ٹوٹ پڑی تھیں۔ریان اور پاکیزہ انہیں دیکھ کر تقریبا سر پیٹ چکے تھے۔
ادھر دو کرو میں نے کھیر نہیں کھایا ابھی۔ماہا نے پارسا کو اکیلے کھیر کھاتے دیکھ کر کہا۔پارسا جس نے کھیر کو پلیٹ مین ڈالنے کی زحمت نہیں کی تھی اس نے ڈونگا شرافت سے اپنے اور ماہا کے درمیان میں رکھ لیا۔دونوں چھلکتے ہوئے چمچ منہ میں برق رفتاری سے ڈال رہیں تھیں۔
بس کرو ندیدیو!! پاکیزہ نے اکتا کر کہا۔
اوکے بس کرنے ہی لگے ہیں۔ماہا نے کہا۔
تقریبا پندرہ منٹ بعد وہ دونوں فارغ ہوئیں۔
جی فرمائیے! پارسا نے معصومیت سے آنکھیں پٹ پٹاتے ہوئے کہا۔
بڑی جلدی خیال آگیا۔پاکیزہ نے طنز سے کہا۔
اب بول بھی چلو یار پہلے ہمارے کھانے کو نظر لگانے لگی ہوئی تھی!ماہا نے طنز سے پاکیزہ کہا۔
چچ چچ!پاکیزہ ابھی کچھ کہنے ہی لگی تھی جب ریان بیچ میں بول پڑا۔
ہم واک پر جانے والے تھے۔چلو اٹھ جاو اب!!
اوکے مسٹر کیوٹ!! پارسا نے شرارت سے کہا اور وہ سب اٹھ کھڑی ہوئیں۔
ریان نے خفگی سے پارسا کی طرف دیکھا جو ڈھیٹوں کی طرح مسکرا رہی تھی۔
***
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو!
ہیپی برتھ ڈے ٹو پو!
ہیپی برتھ ڈے ڈیئر جولیا!
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو!
جولیا جو راحیل انکل (نقاش کے والد) سے باتوں میں مصروف تھی نقاش اور صبیحہ کی آواز پر چونکی نقاش کے ہاتھ میں پکڑی ٹرے میں چاکلیٹ کیک رکھا ہوا تھا اور موم بتیاں جل رہیں تھیں۔
اسکے لب حیرت سے نیم وا ہوگئے۔آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے پھیل گئیں۔
آپکو سب کو یاد تھا!! وہ نم لہجے میں بولی تو راحیل نے اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور صبیحہ نے اسے آگے بڑھ کر گلے لگا لیا۔
جولیا نے آنکھیں بند کرکے نمی اندر اتاری۔
نقاش نے مسکراتے ہوئے کیک ٹیبل پر رکھ دیا۔
آجاو جولیا کیک کاٹو!!نقاش نے بڑی محنت سے بیک کیا ہے۔صبیحہ بولیں۔
جولیا نم آنکھوں سے مسکرا دی۔
تھینک یو سو مچ نقاش!نقاش جو ڈرائیو کررہا تھا فرنٹ سیٹ پر بیٹھی جولیا کی بات پر بولا۔
کس لئے بھئی؟
فار ایوری تھینگ!!!!
اسکی ضرورت نہیں ہے!نقاش نے مسکرا کر کہا۔
ارے ہاں تم نے مجھے گفٹ کیا دیا ہے؟ جولیا نے یاد آنے پر کہا۔راحیل اور صبیحہ کے گفٹس تو وہ وہیں کھول چکی تھی۔
دیکھ لو خود!!!نقاش نے کہا۔
نہیں اب ہاسٹل میں ہی دیکھوں گی۔جولیا نے مسکرا کر کہا۔
اوکے گڈ نائٹ!!جولیا کا ہاسٹل آگیا تھا وہ گاڑی سے اترتے ہوئے بولی۔اور اندر چلی گئی وہ جانتی تھی کہ جب تک وہ اندر نہیں جائے گی تب تک نقاش کھڑا رہے گا۔
***
وہ چاروں لاؤنج میں بیٹھے لڈو کھیل رہے تھے۔ماہا اور پاکیزہ دونوں ساتھی بنے تھے اور ریان اور پارسا۔رحمت بوا جو کہ انکی خاندانی ملازمہ تھیں انکے پاس بیٹھی ہوئیں تھیں۔انہیں بچوں کی یہ رونق بہت اچھی لگ رہی تھی۔
ابھی گیم شروع ہی ہوئی تھی کہ عتیق (ماہا اور ریان کے والد) عزیز (پارسا اور پاکیزہ کے والد) آگے۔
کیا ہورہا ہے بچو! عزیز نے کہا۔
لڈو چل رہی ہے۔ریان نے کہا۔
ہم تو سوچ رہے تھے کہ بچوں کے ساتھ آئسکریم کھانے چلتے ہیں لیکن یہاں تو سب مصروف ہیں!!!!عتیق بولے۔
ارے نہیں نہیں۔تینوں لڑکیاں ایک آواز میں بولی پاکیزہ نے تو باقاعدہ لڈو الٹی کر دی۔چلیں!!!! پارسا دانت چمکاتے ہوئے بولی۔
گھر ہی لے آئیں آئسکریم رات کے وقت کیا باہر جانا ہے۔رحمت بوا (انکی خاندانی ملازمہ) نے کہا۔
نو۔وہ چاروں یک زبان بولے تو عتیق اور عزیز ہنسنے لگے۔
چلیں بھئی چلیں۔عتیق بولے۔
ہاں بھئی رونی! کیا چل رہا آجکل! عزیز بولے۔
انکی آوازیں اب آہستہ ہوتی جارہیں تھیں رحمت بوا بڑبڑاتی ہوئی اٹھ کر اندر چلی گئیں۔
***
وہ ساکت بیٹھی ہوئی تھی گود میں نقاش کا دیا ہوا (گفٹ)سوٹ رکھا ہوا تھا۔وہ پیچ رنگ کا بےحد خوبصورت سوٹ تھا۔
نقاش ہر بار اسے نئے سرے سے کیرئنگ لگتا تھا۔
دو تین سال پہلے نقاش پاکستان گیا تھا واپسی پر اس نے اپنی کزنز کی تصویریں دیکھائی تھی جولیا کو انکے ڈریس بہت پسند آئے تھے اس نے نقاش سے سرسری سا ذکر کیا تھا۔
ایک طرف نقاش کی فیملی ہے اتنی کیرئنگ اس سے کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود اسکا اتنا خیال رکھتی ہے حالانکہ وہ تو ہم مذہب بھی نہیں انکی اور دوسری طرف اسکے پیرینٹس۔۔۔۔۔۔
جنہیں یاد بھی نہیں کہ انکی کوئی جولیا نامی اولاد بھی ہے۔
ڈائیورس کے بعد دونوں اپنی زندگی میں مگن ہیں۔ ہر ماہ اسکے بینک اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کروا کر سمجھتے ہیں کہ ہر فرض ادا ہوگیا۔جولیانے تلخی سے سوچا۔
***
ہیلو نقاش!جولیا ایک دم سے اسکے سامنے آئی۔نقاش اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ وہ اسی کے دیے ہوئے سوٹ میں ملبوس تھی پیچ رنگ کی کیپری جو ٹخنوں سے تھوڑی اوپر آرہی تھی اور پیچ کلر کی گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک شرٹ جس پر گولڈن پرنٹ تھا۔پیر گولڈن کھسے میں مقید تھے (کھسہ بھی اسی نے دیا تھا) اور وائٹ اوورآل بازو پر ڈالا ہوا تھا۔بھورے گھنگھریالے بال جو کندھوں سے تھوڑا نیچے آتے تھے اسٹریٹ کیے ہوئے تھے۔
تم نے آج ہی پہن لیا یہ ڈریس؟نقاش نے ابرو اچکا کر پوچھا۔
ہاں۔مجھے پسند آیا بہت۔جولیا خوشگوار موڈ میں بولی۔
کیسی لگ رہی ہوں میں؟جولیا نے پوچھا۔
تھوڑی عجیب لگ رہی ہو!نقاش کے منہ سے روانی سے نکلا۔اور ساتھ ہی نقاش کو احساس ہوا کہ جولیا کا موڈ آف ہوجانا ہے۔
اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو حسبِ توقع جولیا کا منہ پھول چکا تھا۔وہ تیزی سے کلاس میں جاکر ایک ایسے بینچ پربیٹھ گئی جس پر ایک فرد پہلے ہی موجود تھا مجوراً نقاش کو دوسری بینچ پر بیٹھنا پڑا۔
جولیا نے گردن موڑ کر دیکھا نقاش اسکی طرف متوجہ نہیں تھا لیکن اسکے لبوں پر دبی دبی مسکراہٹ تھی۔سیاہ جینز کے اوپر سیاہ شرٹ اور وائٹ اوورآل پہنے وہ ایشائی نقوش والا لڑکا نقاش بےحد ہینڈسم لگ رہا تھا۔اس نے جینز ٹخنوں سے کچھ اوپر موڑ رکھی تھی۔
جولیا جانتی تھی کہ کلاس ختم ہونے کے بعد وہ آئے گا اور سوری نہیں کہے گا بلکہ اس سے ایسے بات کرے گا جسے جولیا ناراض ہی نہیں ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: