Qudsiyy Arain Urdu Novels

Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 5

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر
Written by Peerzada M Mohin

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 5

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 5

–**–**–

یہ تم کیا بنی ہوئی ہو جولی؟مونیکا نے جولیا کےڈریس کی طرف اشارہ کرکے کہا۔
مونیکا جولیا کی بیسٹ فرینڈ ہے۔دونوں کالج ٹائم سے ساتھ ہیں۔اب دونوں ہاسٹل میں روم میٹ ہیں۔
مونیکا پی ایج ڈی کر رہی ہے۔وہ اپنے گھر گئی ہوئی تھی۔جولیا کے یونی جانے کے بعد ہی واپس آئی ہے۔
کیسی لگ رہی ہوں تم یہ بتاو!!!
پیاری لگ رہی ہو لیکن یہ آیا کہاں سے؟
نقاش نے گفٹ دیا ہے!جولیا مسکرا کر بولی۔
اوہ!!!!مونیکا چھیڑنے کے انداز میں بولی۔
تو میڈم مشرقی ہونے کی پوری پوری تیاری میں ہیں!!!!مونیکا نے آنکھیں گھما کر کہا۔
ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو!!جولیا کی مسکراہٹ غائب ہوئی اور چہرے پر سنجیدگی چھا گئی۔
نقاش نے برتھ ڈے گفٹ دیا ہے مجھے اسکی کزنز کے ڈریس پسند آئے تھے اسلئے اس نے مجھے یہی دے دیا۔جولیا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
سوری!!!میں سمجھی کہ۔۔۔۔۔مونیکا سے شرمندگی کے مارے جملہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔
ایسا کچھ نہیں ہے۔جولیا نے آہستگی سے کہا۔
اور نہ ہی ایسا ہوسکتا ہے وہ مسلم ہے اور میں کرسچن۔۔۔۔۔۔
کم آن یار مذہب کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔بہت سے لڑکے یہاں پڑھنے آتے ہیں اور ایسے ہی شادی کرلیتے ہیں،وہ تو پھر یہیں کا رہنے والا ہے اسکی فیملی بھی تم کو اچھے سے جانتی ہے۔مونیکا نے جوش سے کہا۔
میں ان سب لڑکوں میں سے کسی کو نہیں جانتی مگر میں نقاش کو ضرور جانتی ہوں۔وہ ایسا نہیں کرسکتا۔
وہ ایک باعمل مسلم ہے!باوجود اسکے کہ وہ میرے سامنے یہ شو نہیں کرتا لیکن میں یہ محسوس کرسکتی ہوں۔
اتنے ٹائم سے میں اسکی فرینڈ ہوں میں نے جانتی ہوں اب اسے۔
تمہیں پتا ہے وہ ہمیشہ اپنی جینز کو ٹخنوں سے اونچا کیوں رکھتا ہے!!! کیونکہ یہ اسکے مذہب میں ہے۔اسکے مذہب میں مردوں کا ٹخنے ڈھکنا ممنون ہے لیکن آجکل کے مسلمز میں بہت کم لوگ اس چیز کو فالو کرتے ہیں کہ اپنے ٹخنے ننگے رکھیں۔ایون مسلم ممالک میں بھی یہ چیز بہت کم دیکھنے میں آتی ہے مگر نقاش کے ٹخنے میں نے کبھی بھی ڈھکے ہوئے نہیں دیکھے۔اس بات کا یہ مقصد ہے کہ وہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی خاموشی سے فالو کرتا ہے۔
اور بہت بار میں نے اسے اپنے فون میں مصروف دیکھا ہے ایک دفعہ میری نظر اسکے فون پر پڑی وہ اپنی ہولی بک پڑھ رہا تھا یعنی وہ اپنی ہولی بک چلتےپھرتے عام روٹین میں پڑھتا رہتا ہے۔
ہر بار اپنی اسٹڈی سے پہلے یا کلاس میں لیکچر سے پہلے وہ کچھ پڑھتا ہے میں نے ایک بار اس سے پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ میں دعا کرتا ہوں کہ یااللہ میرے علم میں اضافہ فرما۔
ہماری کلاس کا سب سے زیادہ برائٹ مائیکل ہے لیکن ٹیچرز کا فیورٹ نقاش ہے کیونکہ وہ اتنی ریسپکٹ دیتا ہے ہر ٹیچر کو۔
اور جب وارڈ میں ڈیوٹی ہو اسکی تو وہ کسی بھی پیشنٹ کو چیک کرنے سے پہلے بھی کچھ لازمی پڑھتا ہے۔وہ کہتاہے کہ جس کام کا آغاز اللہ کے نام سے کیا جائے اس میں برکت ہوتی ہے اس لئے میں پیشنٹ چیک کرتے ہوئے لازمی کچھ پڑھتا ہے۔
وہ جو اتنا باعمل ہے وہ بھلا کیوں ایک غیر مذہب لڑکی سے شادی کرے گا!!!!!! جولیا سنجیدگی سے بولتی گئی۔
یہ تم سے اس نے کہا ہے؟مونیکا نے کہا۔
نہیں وہ اتنا بدلحاظ نہیں ہے کہ مجھے یہ سب کہے۔
پھر تم کیوں ایسا سوچ رہی ہو!
تم اہنا مذہب چینج کیوں نہیں کرلیتی؟مونیکا نے اسے خاموش دیکھ کر کہا۔
تم پاگل ہوگئی ہو مونیکا!یا تم نے ڈرنک کر رکھی ہے!!!جولیا چیخی۔
نہیں ڈئیر میں پورے ہوش و حواس میں ہوں!!اور بہت سوچ سمجھ کر بول رہی ہوں۔تم اپنے مذہب سے بھی دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے چرچ کبھی بھول کر بھی نہیں گئی تم۔پھر تمہارے لئے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔
وہ سب ایک الگ بات ہے لیکن میں کرسچن ہوں یہی سچ ہے اور اپنامذہب چھوڑنا آسان نہیں ہوتا۔بھلے میں مسلمز کی روایات کو اور لائف اسٹائل کو پسند کرتی ہوں لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں نکلتا کہ میں مذہب بدل لوں۔
اور آخر میں کیوں بدلوں اپنا مذہب؟جولیا سوالیہ انداز میں بولی۔
نقاش سے شادی کیلئے!مونیکا نے کندھے اچکا کر کہا۔
واٹ؟؟؟ تم واقع پاگل ہوچکی ہو میں بھلا کیوں کروں گی شادی اس سے؟
اینڈ بائے دا وے نقاش یہ کبھی برداشت نہیں کرے گا کہ میں صرف اسکے لئے مذہب بدل لوں۔
کیونکہ تم نقاش سے محبت کرتی ہو!!مونیکا اسکے قریب آکر اسکا ہاتھ ملائمت سے تھپتھپا کر بولی۔
ایسا کچھ نہیں ہے میں نقاش کو پسند کرتی ہوں محبت وحبت نہیں۔۔۔۔۔
کیا فرق پڑتا ہے ایک ہی بات ہے یار۔مونیکا اکتا کر بولی۔
نو یہ بالکل بھی ایک بات نہیں ہے محبت اور چیز ہے اور پسند کرنا اور میں نقاش کو اسکی اچھی عادتوں کی وجہ سے پسند کرتی ہوں وہ بہت اچھا ہے اس کے ساتھ رہ کر مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے وہ سب چیزیں جن کو فالو کرتا ہے اور اپنے مذہب سے ریلیٹ کرتا ہے ان سب چیزوں میں سیکھنے کیلئے بہت کچھ ہوتا ہے۔وہ بہت کیئرینگ ہے۔میں ہر بار اسکو ایک بلند مقام پر محسوس کرتی ہوں اور یہ مقام کم از کم محبت نہیں ہے۔جولیا جو کہ بول رہی تھی اپنی تیسری روم میٹ کے آنے پر آخر بات سرگوشی میں بول کر بات سمیٹ گئی اور اٹھ کر بالکونی میں آگئی۔
تیز ہوا چل رہی تھی جوکہ اسکے اسٹریٹ کیے ہوئے بھورے بالوں کو بکھیر رہی تھی۔جولیا آنکھین بند کرکے ہوا کو محسوس کررہی تھی ایک بےنام سی اداسی اسکے دل میں اتر رہی۔
نقاش میں جانتی ہوں کہ میں اگر تم سے شادی کا بولوں گی تو تم کبھی بھی انکار نہیں کرو گے۔محبت کا کیا ہے وہ تو ہم دونوں کو شادی کہ بعد ہوسکتی ہے ایک دوسرے سے۔مجھے تمہارے اچھے ہونے پر کوئی شک نہیں ہے مگر میں نہیں چاہتی کہ جو کچھ میرے پیرینٹس کی زندگی میں ہوا وہ تمہارے اور میرے ساتھ بھی ہو اور اسکی وجہ مذہب ہو۔اس نے تصور میں نقاش کو محسوس کرکے زیرلب کہا۔
میں تمہیں یا خود کو کسی امتحان میں نہیں ڈالوں گی۔جولیا بڑبڑائی۔
***
جب سے ماہا بھابھی کے گھر سے آئے ہو بڑے دانت نکل رہے ہیں تمہارے!ماہیر نے اپنے کزن صارم کو چھڑتے ہوئے کہا۔
بس کردو یار راحم(صارم کا چھوٹا بھائی)اور تو نے میرے بہت ریکارڈ لگائے ہیں باری آنے دو ذرا اپنی تم دونوں گن گن کر بدلے لوں گا۔صارم نے داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وارننگ دی۔
ہماری باری جب آئے گی تب کی تب دیکھیں گے فلحال تو اپنی خیر منا۔۔۔۔۔۔ماہیر نے ایک آنکھ میچ کر کہا۔
اچھا سن مخھے یاد آیا ہے پھر میں بھول جاؤں گا۔۔۔۔
ہاں بول۔ماہیر نے سنجیدہ ہوکر کہا۔
چچی کا کہنا ہے کہ کیونکہ تیری گرل فرینڈ میں ہوں تو میں ہی تجھ سے پوچھوں!!!صارم نے ڈرامائی انداز میں کہا تو ماہیر نے منہ بگاڑا۔
پارسا کیسی لگی تجھے؟
کیا مطلب کیسی لگی؟ماہیر نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔
وہی مطلب جو تو سمجھ رہا ہے۔صارم نے سنجیدگی کہا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ ذرا سا غیر سنجیدہ ہوتا تو ماہیر نے بات ہوا میں اڑا دینی ہے۔
ایسا بالکل نہیں ہوسکتا۔ماہیر بولا۔
کیوں تم کسی اور کو پسند کرتے ہو؟اگر ایسا ہے تو بتا دو چچی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
یار ایسا کچھ نہیں ہے۔ماہیر جھلا کر بولا۔
پھر پارسا کے بارے میں کیا خیال ہے۔
یار بہت ایک تو وہ بہت چھوٹی ہے مجھ سے دوسرا امیچیور ہے کافی۔مجھے ایسی لائف پارٹنر چاہیے جو میچیور ہو سلجھی ہوئی،پارسا بالکل ڈفرنٹ ہے۔
اوکے فائن!صارم بولا۔
ویسے بڑی تو پاکیزہ نہیں ہے؟پھر پارسا کا ذکر کیسے؟ماہیر نے سرسری انداز میں کہا۔
خیریت؟؟صارم نے چونک کر کہا۔
ہاں ویسے ہی پوچھ رہا ہوں!ڈونٹ وری انٹرسٹڈ نہیں ہوں میں اس میں بلکہ فلحال میں یہ سب بکھیڑے نہیں ڈالنا چاہتا۔
یو نو نہ کہ پارسا کتنی سویٹ اور باتونی ہے چچی لوگوں کو اسلئے وہ زیادہ پسند آئی تھی۔
اوکے!ماہیر نے لاپرواہی سے کہا تو صارم نے بھی مزید اس موضوع پر بات نہیں کی۔
***
السلام علیکم ڈئیر قارئین!
حاضر ہے نئی قسط
پلیز آپ لوگ پڑھیں اور اچھے اچھے کمینٹ دیں
آپکی رائے کا انتظار رہے گا۔
کیو بی آرئیں

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: