Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 6

0
ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 6

–**–**–

ریان صبح ناشتہ کیے بغیر ہی اپنے دوست کے ساتھ آوٹنگ پر چلا گیا تھا۔تقریبا گیارہ بجے واپس آیا تو ماہا اور پاکیزہ لاؤنج میں بیٹھیں تھیں۔
خیریت ہے آپ دونوں بہت سکون سے بیٹھی ہوئی ہیں؟ریاننے پوچھا۔
بڑی جلدی خیال آگیا ہے مسٹر ریان عتیق!ماہا جل کر بولی۔
ہماعا آج مووی کا پلین تھا لیکن پارسا کو بخار ہوا ہے اسلئے کینسل کردیا اسلئے ماہا کا موڈ آف ہے۔ریان کی سوالیہ نظریں دیکھ کر پاکیزہ نے مسکرا کر وضاحت دی۔
اوہ!!اب کہاں ہے پارسا؟
سو رہی ہے۔
اوکے۔ریان اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
میں ناراض ہوں۔ماہا نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا۔
بس کرو یار۔کمرے میں داخل ہوتی پاکیزہ نے ماہا کو ٹوکا۔
واہ واہ میری سگھٹر بہنا۔ماہا اپنی ناراضگی بھول کر پاکیزہ کے لائی ہوئی پلیٹوں (جو کہ فرنچ فرائز پکوڑوں اور ون بائٹ سموسوں سے بھری ہوئیں تھی) کو دیکھ کر جھوم اٹھی۔
چلو مووی دیکھتے ہیں ماہا لیپ ٹاپ آن کرتے ہوئے بولی۔
ڈورے مون کی کوئی مووی لگالو۔ریان ناشتہ کیے بغیر ہی اپنے دوست کے ساتھ آوٹنگ پر چلا گیا تھا تقریباً گیارہ بجے گھر لوٹا تو ماہا اور پاکیزہ لاؤنج میں بیٹھیں تھیں۔
خیریت ہے آپ دونوں بہت سکون سے بیٹھی ہیں؟ریان نے قریب رکھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
بڑی جلدی یاد آگئی آپکو ہماری مسٹر ریان عتیق!ماہا جل کر بولی۔
ریان نے سوالیہ نظروں سے ماہا کو دیکھا۔
پارسا کو ہلکا سا بخار ہوا ہے اور آج ہمارا مووی کیلئے باہر جانے کا پلین تھا کینسل ہوگیا اب اسلئے ماہا کو غصہ آرہا ہے۔پاکیزہ نرمی سے مسکرا بولی تو ریان کی الجھن دور ہوئی۔
کہاں ہے پارسا؟ریان نے پوچھا۔
روم میں ہے اپنے سو رہی ہے ڈسٹرب نہ ہو اسلئے ہم کمرے سے باہر آگئے۔
اوکے۔ریان اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
میں ناراض ہوں!ماہا نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اعلانیہ انداز میں کہا۔
بس کرو یار!!پاکیزہ جو کمرے میں داخل ہورہی تھی بولی۔
ریان کو بھی بلا لاو!پاکیزہ بولی۔
مجھ سے کوئی امید مت رکھو میں اتنی گرمی میں کچن سے آئی ہوں۔پارسا اور ماہا نے پاکیزہ کی طرف دیکھا تو وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا۔
اور میں مووی ڈھونڈ رہی ہوں۔ماہا نے نظریں سکرین پر جما کر کہا۔
مجال ہے ذرا سی محبت ہو تم دونوں کو چھوٹی بہن سے!پارسا منہ بنا کر بولتی ہوں اٹھ کھڑی ہوئی۔
اس نے ریان کے کمرے کے باہر کھٹے ہوکر دروازہ ناک کیا۔
اسے توقع تھی کہ ریان باہر آجائے گا۔
اندر آجائیں۔ریان کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تو مجبوراً دروازے کی ہینڈل آہستگی سے گھما کر وہ اندر داخل ہوئی۔اسے اپنے پیر نرم قالین میں دھستے ہوئے محسوس ہوئے۔یک اسے ٹھنڈ کا حساس ہوا ساتھ ہی ریان کے کلون کی خوشبو محسوس ہوئی۔اے سی فل آن تھا۔
کھڑکیوں پر بھاری پردے گرے ہوئے تھے جو کہ تپتی ہوئی دھوپ کی روشنی کو اندر آنے سے روک رہے تھے۔کمرے کی لائٹ بھی آف تھی صرف زیرو کا بلب چل رہا تھا۔
وہ کمرے کے وسط میں رکھے جہازی سائز بیڈ کے بیچ میں آنکھیں موندے چت لیٹا ہوا تھا سر بیڈ کی پائینتی کی طرف تھا۔اس نے آنکھیں کھول کر یہ دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی کہ کمرے میں کون آیا ہے۔
پارسا کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اسے کیسے مخاطب کرے وہ لاکھ لاپرواہ اور بےباک سہی مگر نجانے کیوں جھجھک محسوس کررہی تھی۔آخر اس نے ہمت کر کے بیڈ کی پائینتی کے قریب جاکر کھڑی ہوگئی۔
ریان!!اس نے پکارا۔
ریان نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں۔
ایک لمحے کو دونوں کی نظریں ملیں۔ریان کی بھوری آنکھوں میں اس ایک لمحے میں پارسا کو جذبات کا ایک سمندر محسوس ہوا۔
پارسا نے سٹپٹا کر نظریں ہٹائیں۔
کوئی کام تھا؟ریان نے پوچھا۔
ہاں وہ ہم مووی دیکھ رہے ہیں آجاو تم بھی۔پارسا نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہا۔
اوکے۔آپ جاو میں آتا ہوں۔ریان نے کہا تو پارسا تیزی سے کمرے سے جانے لگی۔
طبیعت کیسی ہے اب؟وہ ریان کی آواز پر رکی۔
ٹھیک ہوں۔پارسا نے زبردستی مسکرا کر کہا اور کمرے سے چلی گئی۔
کیا اسے کچھ محسوس ہوا ہے میری آنکھوں میں؟ریان نے گہرا سانس لے کر سوچا۔
یہ جو بھی ہورہا ہے ٹھیک نہیں ہورہا۔کم از کم فلحال تو یہ سب نہیں ہونا چاہیے۔ریان نے اپنے بال مھٹی میں قید کرتے ہوئے سوچا۔
ایک گہرا سانس لیا اور کمرے کا اےسی آف کرکے پاکیزہ اور ماہا کے کمرے کی جانب بڑھا۔
آجاو ریان!پاکیزہ نے اسے دروازے کھڑے دیکھا تو مسکرا کر بولی۔
انہوں نے بھی کمرے کی لائیٹس آف کردیں تھیں۔
ابھی مووی شروع ہوئی تھی جب پارسا کی نظر ریان پر گئی وہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔پارسا نے نظریں دوبارہ سکرین پر جما لیں لیکن وہ کافی ڈسٹرب ہوگئی تھی۔
***
جولی دیکھو میں تمہارے لئے کیا لائی ہوں۔مونیکا نے چہکتے ہوئے کہا۔
میرے لئے۔جولیا نے ابرو اچکا کر کہا۔
ہاں تمہارے لئے سب کالج فرینڈز پارٹی ارینج کر رہے ہیں اب یونی لائف میں سب اتنا مصروف ہیں تو ایک۔دوسرے سے مل ہوجائے گا پرانی یادیں تازہ ہوجائیں گی۔
تم اتنا خوش ہورہی ہو خیریت؟
ڈینی مجھے ڈیٹ کررہا ہے!مونیکا نے بلی تھیلے سے نکالی۔
جولیا کے تاثرات بگڑے لیکن لمحے کے ہزارویں حصے میں ہی وہ چھپا گئی۔وہ مونیکا پر اپنی ناگواری شو نہیں کرسکتی تھی۔یہ انکا کلچر تھا اور وہ کلچر سے سرعام انکاری نہیں ہوسکتی تھی۔
تمہیں بھی چلنا ہے ساتھ پارٹی میں۔مونیکا نے کہا۔
جولیا نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا ہی تھا کہ مونیکا پہلے ہی بول پڑی۔
میں کوئی اعتراض نہیں سنوں گی۔
یہ ڈریس پہن کر جانا ہے تمہیں۔مونیکا نے شاپر اسکی طرف بڑھایا تو جولیا نے جاموشی سے پکڑ لیا اور ڈریس نکال کر دیکھنے لگی۔
جولیا کا چہرہ سرخ ہوگیا اسے لگا جیسے کسی نے اسکے چہرے پر طمانچہ رسید کردیا ہو۔
وہ گھٹنوں سے بھی اونچی آنے والی اسکرٹ اور سکیولیس بیک لیس بے ہودہ بلاوز تھا۔
میں یہ نہیں پہن سکتی۔جولیا نے سنجیدگی سے کہا۔
مجھے گھٹن ہوتی ہے اسطرح کے ڈریسز میں۔مونیکا کی سوالیہ نظریں محسوس کرکے جولیا بولی۔
نقاش کی پچاس گز کی چادر نما ڈریس میں گھٹن نہیں ہوئی اس میں گھٹن ہوگی۔مونیکا نے منہ بگاڑ کر کہا۔
جولیا خاموش رہی۔
میں تم سے بات کررہی ہوں جولی۔مونیکا چٹخ کر بولی۔
مجھے بتا دو آخر تم کر کیا رہی ہو جولی۔
پہلے تو کبھی تم نے مجھ سے اس ٹاپک پر بات کی!جولیا بہت مدھم سے لہجے میں بولی۔
کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ تم نقاش کی وجہ سے اوائیڈ کر رہی ہو اس سب سے۔مونیکا نے سنجیدگی سے کہا۔
ہر کام کی وجہ نقاش نہیں ہے مونیکا۔مجھے خود یہ سب پسند نہیں ہے۔
واو میڈم کیا کہنے آپکے۔مونیکا غصے سے پھنکاری ارو تن فن کرتی واک آؤٹ کر گئی۔جبکہ جولیا صرف گہرا سانس لے کر رہ گئی۔
***
مما آپ کو کیا کام تھا مجھ سے؟پارسا جو کب سے اپنی مما کی گود میں سر رکھ کر لیٹی دنیا جہان کی باتیں سنانے میں مصروف تھی ایک دم خیال آنے پر بولی۔
بیٹا آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے!مما کی بات پر وہ سنجیدہ ہوئی۔
ریان اس گھر کا اکلوتا بیٹا ہے۔ہم سب کا بہت لاڈلا ہے۔آنسہ (اسکی مما) نے تہمید باندھی تو پارسا کے ماتھے پر بل پڑے۔
تمہارے بابا چاہتے ہیں کہ تمہاری شادی ریان سے کردی جائے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: