Qudsiyy Arain Urdu Novels

Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 7

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر
Written by Peerzada M Mohin

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 7

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 7

–**–**–

تمہارے بابا چاہتے ہیں کہ تمہاری شادی ریان سے کردی جائے۔
واٹ!!!!!پارسا دبا دبا سا چلائی۔
ماما کیا ہوگیا ہے آپکو؟
بیٹا میں نے آپ سے آپکی مرضی پوچھی ہے آپ ہاں یا ناں کا پورا اختیار رکھتی ہیں!!!
بس یہ بات ذہن میں رکھیے کہ میں اور آپکے بابا اسلئے ایسا چاہتے ہیں کہ آپ بچپن سے ہم سے دور رہی ہو اب مسقبل میں آپ ہمارے پاس رہو،باقی آپکی مرضی ہے!!!
آپ چاہو تو کچھ وقت لے کر سوچ سکتی ہو۔
مما اسکے لئے مجھے سوچنے کی ضرورت نہیں ہے میں آپکو ابھی بتا سکتی ہوں۔پارسا اتنا کہہ کر چندلمحے رکی۔
مجھے ریان سے شادی نہیں کرنی۔
چند لمحے آنسہ ساکت رہیں انہیں پارسا سے یہ توقع نہیں تھی۔
چکو جیسا میری بیٹی کی مرضی!وہ پارسا کا سر تھپتھپاتے ہوئے بولیں۔
مما مجھے نیند آرہی ہے میں جاوں؟پارسا نے پوچھا۔
ہاں چلی جاو۔آنسہ مسکرا کر بولیں۔
پارسا کمرے میں آئی تو ماہا اپنا فون یوز کر رہی تھی جبکہ پاکیزہ واڈروب سیٹ کر رہی تھی۔پارسا کمبل اوڑھ کر سو گئی۔
***
اسکی آنکھ کھلی تو کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔چند لمحے وہ۔ساکت لیٹی رہی پھر اٹھ کر واشروم کی طرف بڑھی۔
وہ تولیے سے منہ تھپتھپاتی باہر نکلی تو پاکیزہ بھی بیڈ پر بیٹھی تھی۔وہ تکیہ سیٹ کرکے دوبارہ نیم دراز ہوگئی۔
ماہا کہاں ہے؟پارسا نے پاکیزہ کو مسلسل خاموش دیکھ کر کہا۔
وہ اپنے ننھیال گئی ہے!
خیریت؟
اسکی کزنز بلارہیں تھی کافی دن سے۔
تمہیں کیا ہوا ہے؟پارسا نے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا۔
مما کے پاس سے آرہی ہوں۔پاکیزہ نے آنکھیں موندتے ہوئے کہا۔
پھر؟
تم نے ریان نے کیلئے انکار کردیا! پاکیزہ نے بظاہر سادگی سے کہا مگر اسکے لہجے میں کچھ تھا جو وہ ٹھٹھک گئی۔
ہمم۔پارسا مبہم انداز میں بولی۔
وجہ پوچھ سکتی ہوں!پاکیزہ سنجیدگی سے بولی تو پارسا کو عجیب سا محسوس ہوا پاکیزہ کبھی بھی اس سے اتنی سنجیدگی سے بات نہیں کرتی تھی بلکہ وہ اس سے تو کیا وہ ہر ایک سے نرم لہجے میں مسکرا کر ہی بات کرتی تھی۔
میں اس سے شادی کرنا نہیں چاہتی۔پارسا نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
کیوں؟وہ تو ماشااللہ اتنا ذہین ہے اور اسکی عادتیں بھی اچھی ہیں۔پاکیزہ نے کہا۔
پاکیزہ!!!پارسا اٹھی اور اسکے قریب بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے اسکا بازو پکڑ کر بولی۔
وہ بہت معصوم ہے۔پارسا گہرا سانس لے کر بولی۔
پاکیزہ مجھے شادی اس سے نہیں کرنی جو کہ میرا پابند ہو کر رہے
انسان کی اپنی بھی پسند ناپسند ہوتی ہے یار انسان کے اندر اپنے فیصلے خود کرنے کا کانفیڈینس ہونا چاہیے۔میں ریان کو جو بھی بولوں گی وہ کہے گا ہاں ٹھیک ہے ایسا ہی ہے یا ایسا ہی ہوگا۔
مجے کانفیڈینٹ لڑکے اچھے لگتے ہیں۔پارسا بے ربط انداز میں بولی جیسے اسے اپنی بات سمجھانےکیلئے الفاظ نہیں مل رہے ہوں اپنی بات سمجھانے کیلئے۔
میں سمجھ گئی ہوں تمہاری بات۔پاکیزہ ہلکا سا مسکرا اسکا گال تھپتھپاتے ہوئے بولی۔
تم ریان کو اچھے سے نہیں جانتی اسلئے ایسا بول رہی ہو۔وہ کانفیڈینٹ ہے تمہاری سوچ سے بھی زیادہ اکثر بابا اور چاچو کی اس جگہ پر بزنس میں مدد کرجاتا ہے جہاں بابا اور چاچو کو بھی سمجھ نہیں آرہی ہوتی۔
یہ بات سمجھ جاو تم پارسا!! سمندر اپنی وسعت کے باوجود شور نہیں مچاتا اسی طرح قابل لوگ اپنی قابلیت کا ڈھنڈھورا نہیں پیٹتے۔
اور رہی بات معصوم ہونے کی تو پارسا یہ دنیا بہت سیکھنے کی جگہ ہے اور وقت بہت ظالم ہے اچھے اچھوں کو سیدھا کردیتا ہے۔
باقی تمہاری مرضی ہے تم فیصلہ کرچکی ہو تو میں اختلاف نہیں کروں گی۔پاکیزہ نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا تو پارسا طمانیت سے مسکرائی۔
مما کے پاس اس وقت خیریت سے گئی تھی تم؟پارسا اپنی جگہ پر لیٹتےہوئے بولی۔
ہاں کچھ بات کرنی تھی۔پاکیزہ بولی۔
کون سی بات؟پارسا نے بات بڑھانے کیلئے یونہی سرسری سا پوچھا۔
کہہ رہیں تھیں کہ میں ریان سے شادی کر لوں!!!پاکیزہ نے اطمینان سے کہا۔
واٹ!!!!!!! جتنا اطمینان پاکیزہ کے لہجے میں تھا پارسا اتنی ہی زور سے اچھلی۔
تم نے کیا کہا پھر؟پارسا نے پاکیزہ کو جھنجھوڑ کر کہا۔
میں نے ہاں کردی!!پاکیزہ سکون سے بولی اور پارسا کے ہاتھ اپنے کندھوں سے ہٹائے۔
کیا ہوگیا ہے پارسا؟پاگل ہوگئی ہو؟پاکیزہ خفگی سے بولی اور کروٹ لے لیٹ گئی ہارسا نے نفی میں سر ہلایا۔
اسکے حلق میں نمکین پانیوں کا گولہ اٹک گیا۔
امپوسبل۔پارسا نے بےآواز لب ہلائے۔
***
ہائے نقاش!جولیا نے خوشگوار لہجے میں کہا۔
وہ لائبریری سے نکلا تو سامنے جولیا کھڑی تھی۔سیاہ ٹراؤزر اور پنک شرٹ میں ملبوس بھورے گھنگھریالے بالوں کی اونچی پونی بنائی ہوئی تھی۔ہاتھ میں دو تین کتابیں پکڑی ہوئیں تھیں۔
تم ہر جگہ ٹپک پڑتی ہو!نقاش مصنوعی خفگی سے بولا۔
ویری فنی!جولیا منہ بگاڑ کر بولی۔
اچھا سنو یہ ٹاپک سمجھ لو مجھ سے پھر بعد میں نہ کہنا کہ آفر نہیں کی تھی میں نے!!جولیا قریبی بینچ ہر بیٹھ کر کتاب کھولتے ہوئے بولی۔
تقریبا آدھا گھنٹہ وہ ڈسکس کرتے رہے۔جبھی نقاش کے فون کی ٹون بجی۔نقاش متوجہ ہوا۔
کب ملوا رہے ہو؟جولیا بینچ سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی تو نقاش نے ناسمجھی سے دیکھا۔
اس سے جس کے نام کا فرسٹ لیٹر “پی” تمہارے فون کا پیٹرن ہے۔جولیا اسکے فون کی طرف اشارہ کرکے بولی تو نقاش نے گہرا سانس لیا۔
جولیا پلیز میں اسے ڈسکس نہیں کرنا چاہتا کسی کے ساتھ بھی فلحال۔
میں کوئی لڑکا تھوڑی ہوں جس سے تم یہ ڈسکس نہیں کرسکتے۔
جولیا وہ بات نہیں ہے! وہ میری کزن ہے ابھی صرف کزن جب وہ میرے نکاح میں آجائے گی تب میرے پاس یہ اختیار ہوگا کہ میں اسکے بارے میں کچھ بھی بول سکوں بات کرسکوں اسکے اور اپنے متعلق۔عزت محبت کی پہلی کڑی ہے۔اور محبت کی پہلی شرط میری نظر میں یہ ہے کہ محبوب ملے یا نہ ملے مگر اسکی عزت پر آنچ نہیں آنی چاہیے۔میں اسکے اور اپنے درمیان موجود محبت کا ذکر کسی تیسرے کے سامنے نہیں کرسکتا بغیر کسی رشتے کے۔
نقاش اٹل لہجے میں بولا۔
تم اس دنیا کے تو نہیں لگتے نقاش!جولیا کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی۔
کیوں میرے سر پر سینگ ہیں کیا؟نقاش ابرو اچکا کر بولا تو جولیا ہنس دی۔
ایڈیٹ!!
تھینک یو!!!نقاش نے سر جھکا کر کہا۔
او نو!!!!نقاش ایک دم کراہا تو جولیا نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔
جولیا پھر ملیں گے مجھے بہت زیادہ امپورٹنٹ کام یاد آگیا ہے!!نقاش بولتا ہوا تیزی سے وہاں سے چلا گیا تو جولیا نے کندھے اچکا دیے۔
***
پارسا پارسا!!!!
کہیں دور سے اسے اپنے نام کی مدھم سی پکار سنائی دے رہی تھی۔اس نے بڑی مشکل سے اپنی آنکھیں کھولیں!
وہ ماہا تھی جو اسے پکار رہی تھی قریب ہی پاکیزہ بیٹھی تھی اسکے ہاتھ میں ایک باول تھا۔پارسا کو اپنا ماتھا نم محسوس ہوا اس نے اپنے ہاتھ سے ماتھا پونچھنا چاہا تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا اسکے ساتھ پر کنولا لگا ہوا تھا۔
اس نے تھوڑی ہمت کرکے نظر گمائی تو اسے مما بابا اور چچی بھی نظر آئے۔
آنسہ اسکے بال سہلانے لگیں۔
مما۔اسکے ہونٹ پھڑپھڑائے۔
مجھے کیا ہوا ہے؟پارسا نے معصومیت سے کہا تو پاکیزہ اسکے قریب آئی اور اسکا دوسرا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئےبولی۔
پری تمہیں کل صبح سے بخار ہے۔اب بہتر ہو تم۔فکر مت کرو۔پاکیزہ ملائمت سے بولی تو اسخے دماغ میں مما اور پاکیزہ سے ہونے والی گفتگو لہرا گئی۔
مما مجھے گھر جانا ہے۔پارسا نقاہت سے بولی۔
بیٹا گھر ہی ہو آپ۔آنسہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے بولیں۔
مجھے گرینڈپا کے پاس جانا ہے۔پارسا ضدی لہجے میں بولی۔
اچھا یہ تم جوس پیو۔ماہا نے اسکا دھیان دوسری طرف لگانے گی کوشش کی۔
***
وہ جہاز کھڑکی سے نیلے آسمان پر سفید بادلوں کو تیرتے ہوئے بڑی محویت سے دیکھ رہی تھی۔وہ بابا کے ساتھ اسلام آباد واپس جارہی تھی۔سب نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی مگر وہ اپنی ضد پر اڑی رہی۔
اسکے ساتھ والی سیٹ ہر ایک لڑکی بیٹھی اپنے آئی پوڈ میں گیم کھیلنے میں مصروف تھی۔
اس نے کھڑی سے سر ٹکاکر آہستگی سے آنکھیں موند لیں۔اسکی آنکھوں میں تمام مناظر لہرانے لگے۔
پارسا ہم دونوں سگی بہنیں ہیں پھر کیا ہوا ہم ساتھ نہیں رہتے مگر ہمارا خون تو ایک ہی ہے نہ۔یاد رکھنا پارسا جب بھی تم خود کو اکیلا محسوس کرو تو بس یہ یاد رکھنا کہ تمہارے پاس ایک بہن ہے جو ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے۔ اسکے کانوں میں پاکیزہ کی بچپن میں کہی ہوئی بات گونجی۔
آئی لو یو پارسا!!!
آئی لو یو پارسا!!!
آئی لو یو پارسا!!!
اسکے کانوں میں بار بار پاکیزہ کا جملہ گونج رہا تھا۔
ایک آنسو اسکی آنکھ سے نکل کر اسکے بالوں میں جذب ہوگیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: