Qudsiyy Arain Urdu Novels

Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 8

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر
Written by Peerzada M Mohin

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 8

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 8

–**–**–

ریان کیا کر رہے ہو؟ماہا اسکے کمرے میں بغیر ناک کیے بلاجھجھک داخل ہوئی۔
کل سے یونی اوپن ہورہی ہے نہ بس پیکنگ کررہا ہوں۔
ریان تم مت جاو ہاسٹل!!روز گھر سے ہی چلے جایا کرو!!
ماہا میں یونی کے پہلے دن سے ہی ہاسٹل رہ رہا ہوں۔میں کفرٹیبل فیل نہیں کروں گا۔
آئی نو بٹ پارسا کے جانے کے بعد بہت اداسی فیل ہورہی ہے اسی لئے بول رہی تھی!
ہمم!! نارمل ہوجائے گا آہستہ آہستہ!ریان نے زبردستی مسکرا کر کہا۔
اچھا چلو اچھی سی چائے بنا کر لاو پھر تمہیں شاپنگ کروا لاتا ہوں!ریان نے اسکا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے کہا۔
واو رونی!یور آر دا گریٹ!ماہا چہکتے ہوئے بولی۔میں پاکیزہ کو بھی بول کر آتی ہوں۔
***
کتنی کمزور ہو گئی ہو پارسا!!!صبوحی اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتی ہوئی بولیں۔
فیور کی وجہ سے!پارسا نے مدہم آواز میں کہا۔
اچھا ہوا تم آگئیں اداس ہوگئے تھے میں اور بابا!ویسے بھی نیکسٹ ویک سے تمہاری یونی اوپن ہوجانی ہے۔
پارسا!گرینڈپا انکے قریب آئے اور اسے مخاطب کیا۔
جی؟پارسا نے سر گھما کر دیکھا۔
گرینڈپا میں بیمار ہوں!پارسا نے گرینڈپا کے ہاتھ میں کتابیں پکڑی دیکھی تو منہ بنا کر بولی۔
کیا ہوا ہے آپکو بیٹا؟گرینڈپا نے طنز سے کہا۔
سر میں درد ہے!پارسا نے سب سے آسان بہانہ بنایا۔
اٹھ جائیں بیٹا جی پڑھائی سے بڑا کوئی سر درد نہیں!!!گرینڈپا نے کہا۔
پارسا مجبوراً اٹھ بیٹھی کیونکہ گرینڈپا کی وہ جتنی بھی لاڈلی تھی مگر اسٹڈی پر وہ کوئی کمپرمائیز نہیں کرتے تھے۔
***
زندگی ایک بار پھر اسی روٹین پر واپس آگئی تھی جس پر ہمیشہ سے تھی،بس اتنا فرق تھا کہ پہلے وہ یونی سے واپس آکر اسٹڈی کرکے فری ہوجاتا تھا مگر اب اس نے یہ مصروفیت بڑھا لی تھی اس نے کسی کو بتائے بغیر پارٹ ٹائم جاب اسٹارٹ کرلی تھی۔اسکے پاس اب بالکل بھی فارغ وقت نہیں ہوتا۔
پہلے وہ ہر ویک اینڈ پر گھر لازمی جاتا مگر اب دو ہفتے سے گھر بھی نہیں گیا۔مما اور تائی جان کی ڈانٹ سن کر اس دن وہ یونی۔سے گھر چلا گیا۔
وہ شام ڈھلنے تک سب کے ساتھ بیٹھا رہا پھر کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آیا۔
کیا ہورہا ہے؟ماہا نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
نتھنک!سونے لگا ہوں۔
اتنی جلدی!ماہا کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔
جلدی تو نہیں ہے نو تو بج گئے ہیں اور مجھے نیند بھی آرہی ہے شدید۔ریان سے سادگی سے کہا۔
تم ناراض ہو؟ماہا نے آنکھیں سکیڑ کر کہا۔
کیوں تم نے ایسا کیا کیا ہے؟ریان نے ابرو اچکا کر پوچھا۔
میں اپنی نہیں پاکیزہ کی بات کر رہی ہوں!اس سے ناراض ہو؟
نہیں تو تمہیں کس نے کہا اور میں کیوں ناراض ہونے لگا اس سے!ریان نے حیران ہوکر کہا۔
کسی نے نہیں بس مجھے فیل ہوا!!
اینی وے چھوڑو اس بات کو چکو آئسکریم کھانے چلتے ہیں!ماہا بولی۔
ابھی؟اس وقت؟ریان نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔
ہاں بھئی پرسوں پاکیزہ جارہی ہے لاہور اسکی لاسسز بھی اسٹارٹ ہونے والی ہیں۔ماہا نے کہا۔
اوکے تم بلاو پاکیزہ کو۔ریان نے ماہا کو کہا۔
اسکے دماغ میں ماہا کی بات اٹک گئی تھی۔وہ لاکھ نارمل بی ہیو کرنے کی کوشش کررہا تھا لیکن کر نہیں پارہا تھا۔
وہ ماہا کو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ اس نے آنسہ تائی کی بات سن لی تھی جب وہ پاکیزہ کو پارسا کے انکار کے متعلق بتا رہیں تھیں اور ساتھ میں پاکیزہ اور ریان کی شادی کی بات بھی کر رہی تھیں۔
اس نے جان لیا کہ جو بات وہ پارسا کیلئے سوچ رہا تھا وہ ان کے بڑے پہلے ہی سوچ چکے تھے۔
اور جو بات وہ ابھی پارسا کو کہنے کا سوچ رہا تھا وہ پہلے ہی انکار کرچکی ہے
***
وہ اپنے بستر پر لیٹا معمول کے مطابق ڈائری لکھ رہا تھا۔وہ روازنہ تو نہیں مگر کچھ نہ کچھ لکھتا ہی رہتا تھا۔
یک دم ایک خیال آنے پر وہ ڈائری شروع سے کھولنے لگا۔مطلوبہ صفحہ مل جانے پر اسکے چہرے پر چمک در آئی۔
اسے لگا کہ جیسے وہ ماضی میں واپس چلا گیا ہے۔
***
وہ سردیوں کے وہ دن تھے جن دنوں میں ہلکی سی دھوپ بھی کسی نعمت سے کم نہیں لگتی۔ایسی ہی ایک دوپہر پروفیسر صفدر کے لان میں بھی اتری ہوئی تھی۔ایسے میں وہ لان میں رکھے جھولے پر بیٹھی ہوئی تھی۔وہ سیاہ ٹراؤزر اور پنک شرٹ میں ملبوس تھی سیاہ بال بھالو والے ہیر بینڈ میں جکڑے ہوئے تھے۔
گود میں مونگ پھلی کی پلیٹ رکھی ہوئی تھی ساتھ میں بائیولوجی کی کتاب ہاتھ میں پکڑے رٹے مارنے میں مصروف تھی۔
نقاش لان میں آیا تو پارسا کو یوں کھاتے اور رٹے مارتے دیکھ کر اسکے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
ہیلو کزن!کیا ہورہا ہے؟نقاش نے دوستانہ انداز میں کہا۔
پارسا نے ایک طرف ہوکر اسے بیٹھنے کی جگہ دی۔
ٹیسٹ ہونے ہیں اسکولز اوپن ہونے کے بعد وہی یاد کررہی ہوں۔پارسا نے بائیولوجی کی بک بند کرتے ہوئے کہا۔
اوہ واو بائیولوجی!!نقاش نے اسکے ہاتھ سے کتاب پکڑتے ہوئے کہا۔
میڈیکل میں جاو گی؟نقاش نے ابرو اچکائے۔
جا تو میڈیکل میں بھی سکتی ہوں بٹ گرینڈپا چاہ رہے کہ بزنس پڑھوں!!!
جس میں انٹرسٹ ہے وہی کرو تم۔
یہ تو گرینڈپا ہی دیکھ سکتے کہ ان کا انٹرسٹ کس میں ہے آخر سر تو انہوں نے ہی کھپانا ہے!!!پارسا کے انداز پر نقاش مسکرا دیا۔
یہ لیں مونگ پھلی کھائیں!!پارسا نے پلیٹ نقاش کی طرف بڑھا کر کہا۔
تم ہر وقت یہی کھاتی رہتی ہو؟نقاش نے مصنوعی حیرت سے کہا۔
چچ چچ ڈاکٹر نقاش دیکھنے میں تو بڑے مہذب لگتے ہیں آپ، شرم نہیں آتی دوسروں کے کھانے پر نظر رکھتے ہوئے۔پارسا پہلا جملہ بڑے آرام سے اور دوسرا بڑے تیکھے اور تیز لہجے میں بولی اور اپنے پاوں چپل میں گھسیڑتے ہوئے اندر کی طرف چلی گئی۔
یہ میڑک کلاس کی اسٹوڈینٹ لگتی ہے کسی اینگل سے۔نقاش اسکی کتاب پر نظر ڈالتے ہوئے بڑبڑایا۔
***
وہ صبوحی پھوپھو اور آنسہ پھوپھو کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھا ہوا تھا۔اسکی مما اسکے ننھیال گئی ہوئیں تھی۔
تبھی پارسا آئی میں تیار ہوں!!اس نے گھوم کر اعلانیہ انداز میں کہا۔
وہ سیاہ پینٹ اور سیاہ سادہ ٹی شرٹ جس کے اوپر گھٹنوں تک آتے فراک نما گرے کلر کے کوٹ میں میں ملبوس تھی۔شرٹ کا صرف تھوڑا سا گلا نظر آرہا تھا۔ گردن سے بمشکل بالشت بھر نیچے تک آتے سیاہ بالوں کو سیاہ ہیربینڈ لگا کر کھلا چھوڑا ہوا تھا۔
اتنی دیر لگا دی؟گرینڈپا کو روکنا مشکل ہورہا ہے بابا کیلئے۔نقاش نے ابرو اچکاتے ہوئے پوچھا۔
وہ کیک بیک کر رہے تھے نہ صبح سے اسلئے تھوڑی دیر ہوگئی۔
میں مارکیٹ سے نیا کیک لے آتا ہوں!نقاش سنجیدگی سے بولا۔
کیا مطلب؟صبوحی نے نا سمجھی سے نقاش کی طرف دیکھا۔
آپ بچو میرے ہاتھ سے ڈاکٹر!پارسا نقاش کی طرف لپکی تو نقاش ہنسنے لگا۔
اچھا چلو اب اگر لڑنے میں وقت ضائع کرنا ہے تو مرضی ہے تمہاری،میں تو کہہ رہا تھا کہ ارینج مینٹس دیکھ لیں۔نقاش صلح جو انداز میں بولا تو پارسا نے منہ بنا کر اوکے کہا۔
پارسا دیکھو یہ ٹیبل ٹھیک لگ رہا ہے؟آج انکے گرینڈپا کی برتھ ڈے تھی اور وہ سب سرپرائز برتھ ڈے پاڑٹی ارینج کر رہے تھے۔
تمہاری بولتی بند ہوگئی ہے!خیریت۔۔۔۔۔نقاش نے ٹیبل سیٹ خرتے ہوئے حیران ہوکر بولا۔بولتے سر اٹھا کر دیکھا تو رک کیا۔
وہ پارسا نہیں پاکیزہ تھی۔پنک کلر کے ٹراؤزر اور کرتی میں ملبوس، سیاہ بالوں کو ایک کندھے پر ڈالے،اپنے بالوں کو سیدھا رکھنے اور کندھے پر ڈالا دوپٹہ کیری کرنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی۔نقاش کے لبوں پر مسکراہٹ مچلی۔وہ۔سر جھکا کر دوبارہ مصروف ہوگیا۔گاہے بگاہے اس پر نظر بھی ڈال لیتا۔
یہ تمہاری بہن کیا بنی ہوئی ہے؟پارسا نقاش کے قریب آئی تو نقاش نے پارسا سے سرگوشی میں پوچھا۔
دیکھ لیں غور سے! ایسا مشرقی پیس تو آجکل پاکستان میں بھی نایاب ہے امریکہ کی تو کیاہی باتیں ہیں۔پارسا نے شرارت سے آنکھیں گھما کر کہا اس انداز میں کہا کہ اسکے لئے اپنی ہنسی روکنا مشکل ہوگیا۔
ویسے اگر تمہاری بہن تمہارے یہ خیالات سن لے تو!!نقاش نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔
مجھے تو کچھ نہیں کہے گی آپ اپنی خیر منائیں!!پارسا نے چڑانے کے انداز میں کہا۔
پارسا! بابا آگئے ہیں۔صبوحی آواز پر پارسا اور نقاش دونوں متوجہ ہوئے۔
***
گائیز کیا ہورہا ہے؟پارسا لاؤنج میں آئی جہاں پاکیزہ اور نقاش بیٹھے تھے۔
سوچ رہے ہیں کہ کتنی بری میزبان کو تم مہمانوں کو کمپنی دینی بھی نہیں آتی۔نقاش نے تپانے والے مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
اوہ!!کمپنی کی بات تو نہ ہی کریں آپ ڈاکٹر نقاش راحیل۔آپکو میری کمپنی کی ضرورت نہیں ہے آپ تو کسی اور ہی چکر میں ہیں۔پارسا نے آنکھیں گھما کر کہا تو پاکیزہ۔سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔جبکہ نقاش سر پر ہاتھ پھیر کررہ گیا۔
لڑکی تم تو کسی جنگلی بلی سے کم نہیں ہو۔نقاش نے کہا۔
پیکنگ کرلی آپ نے؟پارسا نے پوچھا۔
ہاں تقریبا!!
پھر کب آئیں گے آپ؟پارسا نے پوچھا۔
بہت جلد۔نقاش نے پاکیزہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جبکہ پاکیزہ بوکھلا کر ادھر سے چلی گئی۔
نقاش اور پارسا کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ آگئی۔
یور آر رائٹ پارسا!یہ تو واقعی پیور مشرقی پیس ہے۔نقاش نے شرارت سے کہا۔
بس کریں اب آپ اسے تنگ کرنا۔پارسا نے اسے وارن کیا۔
اوکے باس۔نقاش نے فرمانبرداری سے کہا۔
نقاش بیٹا جاگ رہے ہیں؟صبیحہ کمرے میں آئیں تو وہ ان کی آواز پر چونک کر وہ حال میں واپس لوٹا۔
مما بس سونے لگا ہوں۔نقاش کی کہنے پر وہ لائٹ آف کرکے چلیں گئیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: