Qudsiyy Arain Urdu Novels

Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 9

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر
Written by Peerzada M Mohin

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 9

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 9

–**–**–

وقت کا کام گزرنا ہوتا ہے اور وہ گزرتا ہی ہے۔ہماری اس کہانی کے کرداروں کی زندگیوں میں بھی وقت گزر رہا تھا۔
پانچ سال بعد:
امریکہ کے شہر نیویارک میں ابھی صبح تازہ تھی۔ایسے میں سرمئی سڑک کے کنارے پر رکھے بینچ پر دو لڑکیاں بیٹھی ہوئیں تھی۔ایک کا رنگ سونولا تھا اور بال بھورے گنگھریالے، جبکہ دوسری کی رنگت بےحد سفید تھی اور بال بالکل سیدھے اور سیاہ تھے۔
دونوں کے نقوش میں واضح فرق تھا۔دیکھنے والا کوئی بھی شخص باآسانی بتا سکتا تھا کہ سیاہ بالوں والی لڑکی ایشائی ہے جبکہ دوسری امریکن۔
بھورے بالوں والی لڑکی سکون سے بیٹھی تھی جبکہ سیاہ بالوں والی لڑکی بے چینی سے کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کو دیکھتی تو کبھی اِدھر اُدھر سڑک پر نظریں دوڑاتی۔اسکی بے چینی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا تھا وہ یقیناً کسی کا انتظار کر رہی ہے۔
پارسا کیا ہوگیا ہے یار اتنی بے چین کیوں ہورہی ہو! بھورے بالوں والی لڑکی نے کہا تو پارسا کی آنکھوں میں خفگی در آئی۔
جولیا کتنی دیر ہوگئی ہے نقاش بھائی کا کوئی اتا پتا ہی نہیں ہے!پارسا جھلا کر بولی۔
اچھا بھلا گھر بیٹھے تھے تب بھی تمہیں ہی جلدی تھی اب انتظار کرلو تھوڑا سا۔جولیا نے کہا۔
یہ لو آگیا نقاش!!جولیا اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
کیا ڈاکٹر صاحب اتنی دیر کردی!پارسا نے خفگی سے کہا۔چلیں جولیا کو ہاسپٹل ڈراپ کریں پھر مارکیٹ چلتے ہیں!
جولیا کو نہیں بتائیں گے ہم؟پارسا جولیاکے جانے کے بعد فرنٹ سیٹ پر آبیٹھی اس سے پہکے وہ دونوں ہی پچھلی سیٹ پر بیٹھیں تھیں۔
کس بارے میں؟
یہی کہ ہم پاکستان جارہے ہیں!پارسا نے سنجیدگی سے کہا۔
نو! اسکی ضرورت نہیں ہے پارسا!وہ بہت اموشنل ہے عین ٹائم پر بتا دیں ورنہ وہ ابھی سے ڈسٹرب ہوجائے گی۔
وہ کیا کرے گی اکیلی یہاں!پارسا نے تشویش سے کہا۔
مجھے نہیں پتہ پارسا!
وہ ہمارے جانے سے بہت ڈسٹرب ہوجائے گی۔پارسا نے دکھ سے کہا۔
وہ ہمارے جانے سے زیادہ ماما پاپا کے جانے سے ڈسٹرب ہوگی۔میں اور تم اسکے دوست ہیں بس! مگر ماما پاپا کو وہ فیملی کی طرح ٹریٹ کرتی ہے!
ہم اسکے لئے کچھ کر نہیں سکتے؟پارسا نے امید سے نقاش کی طرف دیکھا۔
پارسا میں یا تم اسکے لئے کیا کرسکتے ہیں بھلا! ہمیں پاکستان جانا ہے اور ہر حال میں جانا ہے اسکی وجہ سے کینسل نہیں ہوسکتا یہ سب۔ماما پاپا میری اسٹڈی کی وجہ سے رکے ہوئے تھے پھر تمہاری وجہ سے، اب ہر وجہ ختم ہے۔گرینڈپا اکیلے ہیں اب،انکو ضرورت ہے بابا کی، رہی بات میری تو میں نے میڈیکل یہاں کیلئے نہیں کیا میں پہلے دن سے ہی پاکستان جاکر وہاں ہی رہنا چاہتا ہوں اور تم۔۔۔۔۔ تم بھی یہاں پڑھنے کیلئے ہی آئی تھی ہوگئی ہے پڑھائی پوری،بلکہ دو تین مہینے اوپر بھی ہوگئے ہیں تمہاری ڈگری کو۔
وہ سمجھدار ہے کوئی بچی نہیں ہے۔اسے سمجھنا ہوگا یہ سب پارسا۔نقاش سنجیدگی سے بولا۔
لیکن۔۔
پلیز پارسا لیو دس ٹاپک!نقاش نے پارسا کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔پہنچ گئے ہیں ہم چلو اترو شاباش!نقاش نے کہا۔
چلو پہلے تمہیں آئسکریم کھلاتا ہوں تاکہ موڈ فریش ہو جائے۔نقاش نے مسکرا کر کہا تو پارسا بھی مسکرا دی۔
***
ایسا لگتا ہے کہ ابھی کل کی بات ہے کہ ہم امریکہ آئے تھے۔راحیل مسکرا کر بولے۔وہ چاروں لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے۔
پتہ ہی نہیں چلا کہ کب نقاش بڑا ہوا ایم بی بی ایس کرلیا اسپیشلائزیشن بھی کرلی۔بھلا وقت کا بھی پتہ چلتا ہے۔صبیحہ مسکرا کر بولی۔
جی اور ان میڈم کو ہی دیکھ لیں دو سال تو انکو ہی ہوگئے ہیں ہمارے پاس آئے ہوئے۔نقاش نے پارسا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
بائے دا وے پارسا اگر تمہارا پی ایچ ڈی وغیرہکرنے کا ارادہ ہے تو پہلے ہی بتا دو ہمیں پھر پاکستان جاکر وہی ڈرامہ نہ کرنا۔راحیل اسے چڑاتے ہوئے بولے۔
ماموں!!!پارسا احتجاجاً چلائی۔
ویسے پارسا ضد بھی تو بہت کی تھی تم نے کہ جو بھی ہو ایم بی اے پاکستان سے نہیں کروں گی۔گرینڈپا بیچاروں کو ماننی ہی پڑی بات تمہاری۔
بھائی اب آپ بھی شروع ہوجائیں۔
اچھا بس کریں مت تنگ کریں میری بیٹی کو۔صبیحہ پیار سے بولی۔
لو یو مامی۔پارسا صبیحہ کے ساتھ لپٹ کر بولی۔
مسکے لگا رہی ہے ماما آپکو۔نقاش نے پارسا کو تپانے کیلئے کہا۔
دیکھنا نقاش تمہارے لئے ایسی خونخوار دلہن ڈھونڈ کر لاوں گی جو صبح شام تمہاری عقل ٹھکانے لگائے۔پارسا چڑ کر بولی۔
جتنی بھی خونخوار ڈھونڈ لو تم سے تو کم ہی ہو گی۔نقاش کے کہنے پر راحیل اور صبیحہ کے لبوں پر دبی دبی ہنسی آگئی،کیونکہ اس وقت وہ پارسا کے سامنے ہنسنے کا رسک نہیں لے سکتے تھے۔
میں خود ٹریننگ دوں گی اپنی بھابھی کو۔پارسا نے کہا۔
تمہارا تو سایہ بھی نہیں پڑنے دوں گا اس پر۔
ہاں ہاں ٹرنک میں بند کرکے رکھ لینا۔
پارسا اور نقاش دونوں شروع ہوچکے تھے۔
***
نومبر کے آخری دن تھے۔کراچی کی ہوا میں خنکی محسوس کی جاسکتی تھی۔
اس نے گاڑی پورچ میں روکی اور دروازہ کھول کر اتری۔
وہ نیلے ٹراوزر اور نیلی گھٹنوں سے تھوڑی نیچے تک آتی قمیض میں ملبوس تھی بازو پر سفید اوورآل ڈالا ہوا تھا۔کلائی پر گھڑی باندھی ہوئی تھی۔سیاہ سلکی بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا۔اس شخصیت میں ایک وقار سا چھلک رہا تھا۔
اسکے جاننے والے(جی آپ سب سمیت) اسے ڈاکٹر پاکیزہ کے نام سے جانتے ہیں۔
اس نے آنکھیں میچ کر گہرا سانس لے کر ہوا کو محسوس کیا۔اسکے چہرے کے اطراف چند لٹیں ہوا سے بکھر چکیں تھیں۔
وہ چینج کرکے کچن میں آگئی۔رحمت بوا نے اسے چائے کا کپ پکڑا دیا جسے لیکر وہ کچن سے نکلی تبھی اسکی نظر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ریان پر پڑی جو مسکرا کر ماہا سے کچھ کہہ رہا تھا۔وہ کم کم ہی گھر پر نظر آتا تھا جب سے اس نے اپنے بابا اور تایا کے ساتھ آفس جانا شروع کیا تھا ، وہ زیادہ تر وہ آفس میں ہی مصروف رہتا تھا۔
جبھی پاکیزہ کا فون بج اٹھا۔پاکیزہ نے مسکرا کر کال۔ریسیو کی اور اپنے کمرے میں آگئی۔دوسری طرف پارسا تھی جو پاکیزہ کو اب دنیا جہان کی باتیں سنا رہی تھی۔
ایک منٹ پاکیزہ دروازے پر بیل ہوئی ہے!پارسا بات کرتے کرتے بولی۔
میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں۔پارسا نے پاکیزہ سے کہا۔
ارے جولیا آو نہ!پارسا فون بند کرکے خوش دلی سے بولی۔
میں نے کیک بیک کیا تھا سوچا انکل آنٹی کیلئے لے جاوں۔جولیا مسکرا کر بولی۔
ماموں اور مامی اپنے کمرے ہیں وہیں چلی جاو میں چائے بنا لاتی ہوں۔پارسا یہ کہہ کر کچن کی جانب بڑھی۔
کوئی آیا ہے کیا؟نقاش جو کچن میں پانی پینے آیا تھا اس نے پوچھا۔
جولیا آئی ہے!ماموں کے روم میں ہے! آجائیں۔پارسا ٹرے اٹھاتے ہوئے بولی۔
نہیں تم جاو مجھے نیند آرہی ہے۔نقاش نے کہا۔
وہ کیک لائی ہے، دو منٹ کیلئے چلیں پھر ایکسکیوز کر لیجئے گا۔
اوکے۔نقاش بولا۔
وہ دونوں کمرے میں آئے تو حیران ہوگئے۔
جولیا رو رہی تھی۔نقاش اور پارسا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کندھے اچکا دیے۔نقاش نامحسوس انداز میں کمرے سے نکل گیا۔
پارسا نے ٹرے ٹیبل پہ رکھی اور وہ بھی چپ چاپ باہر چلی گئی۔
نقاش لاؤنج میں کھڑا تھا۔
بھائی مجھے لگتا ہے ماموں یا مامی نے جولیا سے پاکستان جانے کا ذکر کر دیا ہے۔پارسا نے کہا۔
ہاں ایسا ہی ہوگا۔نقاش نے کندھے اچکا کر کہا۔
خیر ماما پاپا اب خود دیکھ لیں گے۔تم ایسا کرو اپنا سامان وغیرہ دیکھ لو اگر فارغ ہو تو۔
پارسا اثبات میں سر ہلاتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
جولیا بیٹا بس کرو! ایسے نہیں روتے۔راحیل نے اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
انکل آنٹی میرا آپ لوگوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں ہے۔میں کیا کروں گی اکیلی۔جولیا اپنے سرخ ہوئے ناک کو ٹشو سے رگڑتے ہوئے بولی۔
بیٹا آپ اپنے ممی ڈیڈی سے رابطہ کرو۔خونی رشتوں میں بڑی تاثیر ہوتی ہے۔صبیحہ پرامید لہجے میں بولیں۔
آنٹی ان دونوں کو میری کوئی ضرورت نہیں ہے وہ اپنی اپنی فیملیز کے ساتھ مصروف ہیں۔
بیٹا ہم رک جاتے ہیں کچھ عرصہ آپ کیلئے کوئی اچھا لڑکا دیکھ کر شادی کردیتے ہیں آپکی یا اگر آپکو اگر کوئی پسند ہے تو آپ بتا دو۔راحیل سنجیدگی سے بولے۔
انکل مجھے کوئی نہیں پسند بلکہ میں یہاں کے کسی لڑکے سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔جولیا سنجیدگی سے بولی۔
تو بیٹا ہم کسی پاکستانی کرسچن لڑکے سے شادی کروا دیتے ہیں آپکی۔ہم جانتے ہیں کہ آپکو یہاں کے لڑکوں کی حرکتیں نہیں پسند لیکن پاکستان میں ماحول کا بہت فرق ہے۔راحیل کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولے۔
آپ کچھ بولیں نہ بیٹا!صبیحہ اسے خاموش دیکھ کر بولی۔
صبیحہ کی بات سن کر جولیا نے تھوک نگلا تو تھوڑی ہمت کرکے وہ کہا جو اسکے دل میں چل رہا تھا۔
جولیا کی بات سن کر راحیل اور صبیحہ دونوں حواس باختہ ہوگئے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: