Qudsiyy Arain Urdu Novels

Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Last Episode 16

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر
Written by Peerzada M Mohin

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – آخری قسط نمبر 16

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – آخری قسط نمبر 16

–**–**–

کیسی ہو جولیا؟نقاش نے سنبھل کر اسے مخاطب کیا۔
بالکل ٹھیک!جولیا نے مسکرا کر کہا۔
ارے نقاش تم آگئے!!صبیحہ کے آنے پر نقاش انکی طرف متوجہ ہو گیا۔
جولیا بیٹا!آپکو کچھ بات کرنی تھی نہ مجھ سے اسٹڈی میں آجائیے۔پروفیسر صفدر نے کہا۔
جولیا انکی تقلید کرتے ہوئے اسٹڈی میں آگئی۔
بابا مجھے آپکو کچھ بتانا تھا۔جولیا انگلیاں چٹخاتے ہوئے بولی۔
جی بولیے بیٹا!پروفیسر صفدر نے کہا۔
بابا میں نے بہت تفصیلی جائزہ لیا ہے اسلام کا، مختلف بیان سنے ہیں اور ٹرانسلیشن بھی پڑھ رہی ہوں قرآن کی۔اتنا کہہ کر جولیا نے سر اُٹھا کر دیکھا انکا چہرہ بے تاثر تھا۔
میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہوں!جولیا نے مضبوطی سے کہا۔
آپ کے اوپر کسی کا دباؤ ہے؟پروفیسر صفدر نے پوچھا۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
چلیں پھر پڑھیں کلمہ۔۔۔۔ پروفیسر صفدر نے کہا تو جولیا نے بےیقنی سے انہیں دیکھا اسے لگا تھا کہ وہ اسے سمجائیں گے سوچنے کا بولیں گے۔
کلمہ آتا ہے؟انہوں نے پوچھا۔
جولیا نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
پڑھو شاباش!انہوں نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔
نقاش جو انکے پاس بیٹھنے کیلئے آیا تھا ساکت ہوگیا۔
پڑھو بیٹا!!!ﻟَﺂ ﺍِﻟٰﻪَ
جولیا نے انکے پیچھے کلمات دہرائے۔اسکی آنکھوں سے آنسو بہت تیزی سے بہہ رہے تھے۔
ﺍِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠّٰﻪُ۔پروفیسر صفدر نے اگلے کلمات پڑھے،جولیا نے انہیں بھی دہرایا۔
ﻣُﺤَﻤَّﺪٌ ﺭَّﺳُﻮْﻝُ ﺍﻟﻠﻪِؕ۔پروفیسر صاحب نے آخری کلمات بھی ادا کیے۔
جولیا یہ لاکٹ کبھی نہیں اتارنا!
جولیا یہ لاکٹ کبھی نہیں اتارنا!اسکے کانوں میں اسکی ماں کی آواز گونجنے لگی جو اسکی ماں نے اسے صلیب کے نشان والا لاکٹ دیتے ہوئے کہا تھا۔
جولیا تم مجھے چھوڑ دو گی!اسکی ماں کی آواز آئی۔
تم اپنے آباوجدا کو چھوڑ دو گی!اسکی باپ کی دکھ بھری آواز اسے سنائی دی۔
اللہ جو رحمت (کا دروازہ) کھول دے مخلوق کیلئے تو اسے کوئی نہیں بند کرنے والا۔
اسکے کانوں میں مدھم سرگوشی ہوئی جسکے ساتھ سب آوازیں دم توڑ گئیں۔
ﻣُﺤَﻤَّﺪٌ ﺭَّﺳُﻮْﻝُ ﺍﻟﻠﻪِؕ۔اس نے آخری کلمات بھی اداکیے۔پھر آہستگی سے پورا کلمہ دہرایا۔
‎ ﻟَﺂ ﺍِﻟٰﻪَ ﺍِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠّٰﻪُ ﻣُﺤَﻤَّﺪٌ ﺭَّﺳُﻮْﻝُ ﺍﻟﻠﻪِؕ
اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں،محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
آنسو اسکے ہاتھوں پر متواتر گررہے تھے۔
مبارک ہو بیٹا۔اللہ تعالی آپکو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ان شاء اللہ آمین۔پروفیسر صاحب نے شفقت سے کہا۔
مبارک ہو بہت بہت۔نقاش جو دروازے پر ساکت کھڑا تھا سنبھل کر آگے آیا اور کہا۔
نقاش جاکر سب کو بتاؤ، بھئی ہماری بیٹی نے اسلام قبول کرلیا ہے۔
پروفیسر صفدر کے لہجے میں خوشی دیدنی تھی۔
***
گرینڈپا میں جولی کیلئے بہت خوش ہوں۔پارسا جو ایک گھنٹہ پہلے ہی لوٹی تھی جولیا کے مسلمان ہونے کا سن کر خوشی سے نہال ہوگئی تھی۔جسکا اظہار وہ بار بار کررہی تھی۔
جولیا کب اٹھے گی؟اس نے بےچینی سے پوچھا۔
پارسا میں بتا چکی ہوں آپکو کہ وہ رات دیر تک اپنے کمرے میں جاگتی رہی تھی۔اب دیکھو کب اُٹھتی ہے!صبیحہ نے کہا تو پارسا سرد سانس لے کر رہ گئی،اور پروفیسر صفدر سے باتوں میں مشغول ہوگئی۔
لو آگئی جولیا!!پارسا نے کہا تو سب اس طرف متوجہ ہوگئے۔
جولیا پارسا سے ملنےاور مبارکباد وصول کرنے کے بعد صوفے پر بیٹھ گئی۔
کیسی طبیعت ہے بیٹا؟پروفیسر صفدر نے پوچھا۔
ہمیشہ سے بہتر!جولیا مسکرا کر بولی۔
ہمیں ایک ہفتے کے اندر اندر ساری تیاری کرنی ہے!ایک ہفتے کے بعد مہندی ہے!پارسا نے جولیا کی توجہ پاکیزہ اور نقاش کی شادی کی طرف کروائی۔
جولیا نے اثبات میں سر ہلایا اور بولی۔
تم فکر مت کروہو جائے گا سب۔
جولیا!
اس نام سے مت پکارو اسے!پارسا جو کچھ بولنے والی تھی پروفیسر صفدر کے ٹوکنے پر خاموش ہوگئی،جبکہ جولیا نے الجھ کر پروفیسر صفدر کی طرف دیکھا۔
اب یہ ایک مسلمان لڑکی ہے اسے اس نام سے مت پکارا کیجئے۔پروفیسر صاحب بولے۔
مطلب مجھے اپنا نام چینج کرنا پڑے گا۔جولیا نے کہا۔
پروفیسر صفدر نے اثبات میں سر ہلایا۔
کیا نام رکھو گی پھر؟پارسا نے دلچسپی سے پوچھا۔
بابا رکھیں گے نام میرا۔جولیا نے مسکرا کر کہا۔
مومنہ!!! مومنہ نام ہے آج سے ہماری بیٹی کا۔پروفیسر صفدر نے چند لمحے سوچنے کے بعد کہا۔
کیا مطلب ہے اس نام کا؟مطلب مفہوم تو سمجھ آرہا ہے لیکن معنی کیا ہوگا گرینڈپا؟پارسا نے دلچسپی سے پوچھا۔
مومنہ کے معنی ہیں ایمان لانے والی!!پروفیسر صاحب کے کہنے پر مومنہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
***
دسمبر کی وہ چاندنی رات کراچی میں بہت سرد تھی۔
ایسے میں وہ خوبصورت ولا برقی قمقموں سے سجایا ہوا تھا۔
دور سے دیکھنے سے ہی پتا چلتا تھا کہ کوئی خاص تقریب ہے۔
اس خوبصورت ولا میں داخل ہو تو سامنے بڑے اور خوبصورت لان میں ہی تقریب کے انتظامات کیے گئے تھے۔ہر طرف رنگ و بو کا سیلاب آیا ہوا تھا۔زرق برق لباس میں ملبوس لوگوں کی گہما گہمی تھی سامنے اسٹیج پر مہندی کی دلہن کو بیٹھایا ہوا تھا۔پاکیزہ گلابی رنگ کے کامدار لہنگے، پیلی کرتی میں ملبوس تھی۔پیرٹ دوپٹہ سلیقے سے اوڑھے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔
خاندان کے تمام بڑے باری باری اسٹیج پر جاکر مہندی کی رسم کر رہے تھے۔
پارسا چلو اب تمہاری باری ہے! آنسہ (اسکی مما) اپنا دوپٹہ سنبھالتے ہوئے بولیں۔
چلو مومنہ!پارسا نے رخ موڑ کر کہا۔
مومنہ ماہا کے ساتھ جائے گی۔اس سے پہلے کہ مومنہ کچھ کہتی آنسہ بول پڑیں۔
تو میں کس کے ساتھ جاؤں گی!پارسا صدمے سے بولی۔
ریان کیساتھ!آنسہ نے کہا۔
واٹ!!!!مما کیا بول رہیں ہیں!
آجاؤ جلدی شاباش!آنسہ اسکا کندھا تھپتھپا کر چلی گئیں۔
افف!پارسا کوفت سے بڑبڑائی۔
ایک تو ضرورت سے زیادہ ہیوی ڈریس پہن کر وہ پھنس گئی تھی دوسرا پینسل ہیل اسے ٹھیک سے ٹکنے بھی نہیں دے رہی تھی اوپر سے مما کی فرمائشیں۔۔۔۔۔
ریان سیاہ کرتے پاجامے میں ملبوس تھا۔پارسا اسکے نزدیک آکر کھڑی ہوگئی۔
ریان نے ایک نظر اس پر ڈالی۔
وہ مہندی رنگ کی گھٹنوں تک آتی شرٹ میں ملبوس تھی جس پر گولڈن تلے کا کام تھا، ساتھ مین گولڈن شرارہ تھا اور گولڈن رنگ کا دوپٹہ کندھے پر لیا ہوا تھا۔سیاہ بال کھلے چھوڑے ہوئے تھے۔
چہرے پر نفاست سے میک اپ کیا ہوا تھا۔وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔
چلیں!ریان نے اسٹیج کی طرف اشارہ کیا۔
ریان مصنوعی سیڑھیوں پر قدم رکھ کر اسٹیج پر چڑھ گیا۔
پارسا بھی اسکی تقلید کرنے ہی والی تھی جب اسکی ہیل گھاس میں دھنس گئی۔
پارسا نے کوفت سے اسے نکالنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی سب لوگ اب اسی طرف متوجہ ہوگئے۔
ریان!پارسا مدہم سا بولی۔
ریان نے مڑ کر دیکھا۔
کیا ہوا؟ریان نے پوچھا۔
میری ہیل گھاس میں دھنس گئی ہے۔پارسا آہستگی سے بولی۔
میرا ہاتھ پکڑو اور جو پیر نہیں دھنسا اسے سیڑھی پر رکھو اور دوسرا پیر اٹھانے کی کوشش کرو۔ریان نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔
پارسا نے ریان کا ہاتھ تھام کر اسکی ہدایات پر عمل کیا۔
یہ خوبصورت منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہوگیا۔
واقعی اسکی ہیل نکل آئی گھاس اور مٹی سے! مگر ساتھ ہی ینگ پارٹی نے زور سے ہوٹنگ گی۔پارسا گڑبڑا گئی مگر ریان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی!اس نے مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھامے رکھا جو کہ اسکے اسٹیج پر ٹھیک سے کھڑے ہونے پر ہی چھوڑا۔
جب تک وہ اسٹیج پر بیٹھے رہے وقفے وقفے سے ہوٹنگ جاری رہی۔
ماہا!ماہیر نے قریب سے گزرتی ہوئی ماہا کو پکارا۔
جی ماہیر بھائی ماہا مسکرا کر بولی۔
وہ لڑکی کون ہے؟ماہیر نے اس طرف اشارہ کرکے پوچھا جہاں سے ماہا آئی تھی۔
کونسی والی؟ماہا نے الجھ کر کہا۔
وہ گرین گاؤن والی لڑکی جسکے بال بھورے اور گھنگھریالے ہیں۔ماہیر نے تفصیل سے بتایا۔
اچھا وہ!ماہا سر پر ہاتھ مار کر ہنسی۔وہ ماہیر سے بے فکر ہوکر بات کررہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ماہیر کوئی فلرٹ قسم کا لڑکا ہرگز نہیں ہے۔
آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ماہا نے ابرو اچکائے۔
میں تو بس جنرل نالج بڑھا رہا ہوں!ماہیر نے کندھے اچکا کر بظاہر لاپرواہی سے کہا۔
ماہا کو ہنسی آئی، مگر وہ دبا گئی۔
وہ مومنہ ہے نقاش بھائی اور پارسا کی فرینڈ! امریکہ سے آئی ہے اب پاکستان ہی ہوتی ہے۔ماہا نے تفصیل سے بتایا۔
اچھا اچھا!ماہیر نے لاپرواہی سے کہا۔
میں جاؤں؟ماہا نے پوچھا۔
ہاں!ماہیر نے کہا تو ماہا چلی گئی۔
صارم (ماہا کا منگیتر) جو کھڑا ان کی باتیں سن رہا تھا مشکوک نظروں سےاسے گھورنے لگا۔
کیوں پوچھ رہا تھا اس لڑکی کا؟صارم نے پوچھا۔
جنرل نالج بڑھانے کیلئے!ماہیر نے کندھے اچکا کر کہا۔
یہ ڈرامے بازی اور کسی کے ساتھ کرنا سچ سچ بتا کیا تھا یہ سب!
اچھی لگی ہے نہ تجھے وہ!جاکر بات کرنہ اس سے!صارم بےچینی سے بولا۔
ہاں اچھی ہے بہت سلجھی ہوئی سمجھدار لڑکی ہے، اور رہی بات اس سے بات کرنے کی تو وہ مما خود ہی کرلیں گئیں۔ماہیر نے مسکرا کر کہا۔
ایک نظر مومنہ پر ڈالی جو ہرے رنگ گے ٹخنوں کو چھوتے گاؤن میں ملبوس تھی۔گھنگھنریالے بھورے بالوں کا نفاست سے ہیئر اسٹائل بنایا ہوا تھا۔پارسا کی کسی بات پر مسکراتے ہوئے وہ بےحد پیاری لگ رہی تھی۔
***
نقاش اٹھ جاؤ! پاکیزہ اسے کب سے جگا رہی تھی جبکہ وہ ٹس سے مس نہیں ہورہا تھا۔
نقاش پلیز اٹھ جاؤ! سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پر ہمارا ویٹ کررہے ہیں! پاکیزہ اب روہانسی ہوکر بولی۔
نقاش جو اوندھا لیٹا ہو تھا، کہنوں کے بل تھوڑا اونچا ہوکر پاکیزہ کی طرف دیکھنے لگا۔
یار ایک تو پتہ نہیں کیسی لڑکی ہو ہر وقت دوسروں کی پڑی رہتی ہے تمہیں!نقاش نے ناک چڑھا کر کہا۔کچھ پارسا سے ہی سیکھو!
پارسا بےوقوف ہے میں نہیں ہوں!پاکیزہ منہ بناکر بولی۔
پارسا سن لے تو سر پھاڑ دے گی!اس سوچ کیساتھ نقاش کے لبوں پر مسکراہٹ مچل اٹھی۔
اوکے میری عقلمند مسز!میں فریش ہوجاؤں پھر چلتے ہیں ناشتے پر!نقاش شرارت سے اسکا ناک دبا کر بولا اور واشروم کی طرف بڑھ گیا۔
انہیں ساتھ آتا دیکھ پارسا اس انداز میں کھنکھاری کہ مومنہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔
ویسے میں سوچ رہی تھی!پارسا ان دونوں کو متوجہ دیکھ کر بولی۔
یا تو نقاش بھائی کی بہن ہونے کے ناتے پاکیزہ کو بھابھی بلاوں یا تو پاکیزہ کی بہن ہونے کے ناتے نقاش کو بہنوئی جی!!!!!!پارسا خوشی سے بولی۔
جبکہ پاکیزہ نے برا سا منہ بنایا۔
رہنے دو بہن!ہمیں جو کہہ کر پکارتی ہو وہی ٹھیک ہے ،دونوں رشتے نبھاؤ۔نقاش نے کہا۔
اب کس کس کو منہ دوں میں!پارسا نے آنکھیں گھما کر کہا۔
سب کو!بالکل اسی طرح جس طرح شادی پر مجھے دودھ پلائی اور جوتا چھپائی کے نام پر لوٹا تھا،اور پاکیزہ کو گھٹنا پکڑائی نام پر!نقاش نے جل کر کہا تو سب کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
گرینڈپا آپ نے پوچھا مومنہ سے؟نقاش پروفیسر صفدر کے قریب اسی صوفے پر بیٹھ گیا اور سرگوشی میں پوچھا۔
پوچھتا ہوں!پروفیسر صفدر نے کہا۔
صبیحہ اور صبوحی کے بلانے پر وہ سب ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھے۔
مومنہ بیٹی! بات سنیئے آپ!پروفیسر صاحب کے کہنے پر مومنہ وہیں بیٹھی رہی۔
بیٹا آپکے لئے ایک رشتہ آیا ہے!پروفیسر صاحب نے بلا تہمید کہا۔
مومنہ بغیر پلک جھپکے انکی طرف دیکھتی رہی۔
کیا خیال ہے پھر اس بارے میں؟انہوں نے پوچھا۔
بابا میں آپکی بیٹی ہوں جیسے باقی سب کے فیصلے آپ کرتے ہیں میرے لئے بھی کیجئے۔مومنہ نے کہا۔
بیٹا لڑکا ہمارے جاننے والا ہے!بہت اچھا لڑکا ہے ڈاکٹر ہے لاہور جاب کرتا ہے۔میرے خیال میں تو ہاں کردینی چاہیے۔
جیسا آپکو ٹھیک لگے!مومنہ نے مسکرا کر کہا۔
وہ لوگ ڈیڑھ ہفتے کے بعد سادگی سے نکاح کا بول رہے ہیں! ولیمہ وہ دھوم دھام سے کریں گے۔
میں آتی ہوں ابھی!وہ ناشتے کی ٹیبل پر جانے کے بجائے کمرے میں آئی اور قرآن کھول لیا۔
سورة رحمان کی آیات اسکے سامنے جگمگا رہیں تھیں۔
اور تم اپنے پروردگار کی کونسی کونسی نعمت جھٹلاو گے؟اسکی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
اس نے فون اٹھا کر اپنے ڈیڈی کو ملایا۔
خلافِ توقع آج فون اٹھا لیا گیا۔
کتنے پیسے چاہیے جولیا؟انہوں نے لائن پر آتے ہی پوچھا۔
مجھے پیسے نہیں چاہیے ڈیڈ۔مومنہ نے کہا۔
واپس آنا چاہتی ہو؟آجاؤ!بھلا دوں گا پچھلی سب باتیں!اسکے ڈیڈ کی تکان بھری آواز اسکے کانوں میں پڑی۔
نہیں ڈیڈ میں خوش ہو یہاں!مومنہ نے کہا۔
پھر کیوں فون کیا ہے؟انہوں نے حیرت سے پوچھا۔
آپ سے بات کرنے کیلئے۔مومنہ نے اطمینان سے کہا۔
کیسی ہو جولی؟انہوں نے ایک زمانے کے بعد اسے جولی کہا ورنہ وہ جولیا کہنے لگے تھے اسے ایک عرصے سے،ایک زمانے کے بعد اس سے یہ پوچھا تھا کہ کیسی ہو!!!!
میں مطمئن ہوں ڈیڈ!مومنہ نے کہا۔
ڈیڈ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے!مومنہ نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا۔
ڈیڈ آپ کچھ کہیں گے نہیں۔دوسری جانب کی گہری خاموشی سے گھبرا کر مومنہ نے کہا۔
تم نے مجھے کچھ کہنے کے قابل نہیں چھوڑا جولی!میں ہرگز بھی اچھا باپ نہیں ہوں مجھے کچھ کہنے کا حق بھی نہیں ہے۔
میں تم سے شکوہ تب کرتا جب مجھے لگتا کہ میں اسکا حق رکھتا ہوں!انہوں نے گہرے لہجے میں کہا۔
ڈیڈی میں شادی کر رہی ہوں ڈیڑھ ہفتے کے بعد۔پلیز آپ ضرور آئیے گا میں نے آپ سے نہ کبھی کچھ مانگا ہے نہ کبھی شکوہ کیا ہے مگر میں دل سے چاہتی ہوں کہ آپ آئیں میری شادی پر۔ممی نہیں تو آپ ہی سہی،خونی رشتوں کے نام پر کم از کم میرا باپ تو ہو میرے پاس!مومنہ نے نم لہجے میں کہا۔
میں کوشش کروں گا!ڈیڈی نے بے تاثر لہجے میں کہا اور فون بند کردیا۔
***
اس نے اپنی شادی کیلئے سفید لباس کا انتخاب کیا تھا، وجہ اسکے ماں باپ تھے۔تو کیا ہوا اگر وہ نہیں آرہے تھے اسکی شادی پر آخر وہ باغی ہوئی تھی ان دونوں سے اتنا تو حق بنتا تھا نہ انکا ناراضگی کا۔
وہ سفید شرارے اور سفید کامدار گھٹنوں تک آتی کرتی میں ملبوس تھی جس پر گولڈن رنگ کا کام ہوا تھا۔سر پر سرخ دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔پارسا نے اسکے ہاتھوں میں سرخ گلاب کے گجرے پہنا دیے تھے۔
یہ لباس اسکے ڈیڈی نے اسکے لئے بھجوایا تھا جب انہوں نے اس سے پوچھا کہ کس رنگ کا لباس ہونا چاہیے تو اس نے سفید رنگ کا انتخاب ہوا۔اسکے ڈیڈی نے شادی کی تیاریوں کیلئے ایک بڑی رقم اسکے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا دی تھی، مگر خود نہیں آئے تھے۔
یہ خیال اسے اداس کررہا تھا۔مگر وہ اپنی اداسی ظاہر نہیں ہونے دے رہی تھی۔
نیوی بلیو میکسی میں ملبوس پاکیزہ اسکے پاس کھڑی تھی۔تبھی نقاش کمرے میں آیا۔
مومنہ وہ۔۔۔۔
تم دونوں ساتھ میں بہت اچھے لگ رہے ہو ماشااللہ!مومنہ نقاش کی بات کاٹتے ہوئے بولی۔
شکریہ میڈم!نقاش نے کہا۔
مومنہ کوئی تم سے ملنا چاہتا ہے!نقاش کی بات پر مومنہ الجھی۔
نقاش نے پاکیزہ کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور خود بھی ساتھ ہی باہر چلا گیا۔
انکے جانے کے چند لمحے بعد کمرے میں دو افراد داخل ہوئے۔
مومنہ ساکت ہوگئی۔
ڈیڈی ممی!!مومنہ دھیرے سے بولی اور آگے بڑھ کر ان سے گرمجوشی سے ملی۔
آپ دونوں نے میرے تمام گلے شکوے دور کردیے ہیں!مومنہ نے کے لہجے سے خوشی چھلک رہی تھی۔
بہت پیاری لگ رہی ہے ہماری بیٹی!ڈیڈی نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
دروازے پر ناک ہوا تو تینوں نے ایک ساتھ مڑ کر دیکھا۔
انکل آنٹی! مولوی صاحب آگئے ہیں نکاح کیلئے!پارسا نے کہا۔
باہر لیجانا ہے جولی کو؟اسکی ممی نے پوچھا۔
نہیں یہیں پر رہے گی مومنہ!نکاح کے بعد باہر لیجائیں گے۔پارسا کے کہنے پر سب بے سر ہلا دیا۔
***
نیلی جینز اور ہلکے جامنی رنگ کی شرٹ میں ملبوس ماہیر بڑی مہارت سے جیب چلا رہا تھا۔
ہم کہاں جارہے ہیں!مومنہ نے کوئی دسویں بار پوچھا۔
تمہیں فکر کس چیز کی ہے،اپنے شوہر کے ساتھ ہو تم!ماہیر نے کہا۔
ماہیر ہماری شادی کا تیسرا دن ہے سب لوگ کیا سوچیں گے کہ کہاں چلے گئے ہیں ہم!مومنہ نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہا۔
کچھ نہیں سوچیں گے یار میں مما کو بتا کر آیا ہوں!ماہیر نے کہا۔
پر جا کہاں رہے ہیں ہم؟مومنہ نے وہی سوال دہرایا۔
تم نے کہا تھا نہ کہ تم نے خواب میں ہم دونوں کو ایک جگہ پر دیکھا تھا جو جنت جیسی حسین تھی۔اب تمہیں جنت میں لیجانے میں تو بہت وقت ہے سوچا عارضی جنت ہی دکھا لاؤں!ماہیر نے کہا۔
عارضی جنت؟وہ کہاں ہے؟
کشمیر۔۔۔۔۔ماہیر نے یک لفظی جواب دیا۔مومنہ کے لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ آگئی۔
کیا جھگڑا سُود خسارے کا
یہ کاج نہیں بنجارے کا
سب سونا رُوپ لے جائے
سب دُنیا، دُنیا لے جائے
تم ایک مجھے بہتیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
ابنِ انشاء
مومنہ!وہ جو بڑی محویت سے قدرتی خوبصورتی میں گم تھی، ماہیر کی آواز پر چونکی۔
یہ دیکھو میں کیا لایا ہوں میں!ماہیر نے ایک خوبصورت پھولوں کا بنا ہوا تاج اسکے آگے کیا۔اس میں سرخ گلابی اور سفید پھول تھے ہرے ہرے پتے بھی کہیں کہیں جھانک رہے تھے۔یہ بالکل ویسا ہی تاج تھا جیسا اس نے خواب میں پہنا ہوا تھا اگر اس نے اس تاج کا ماہیر کو بتایا ہوتا تب وہ سمجھتی کہ ماہیر جان بوجھ کر لایا ہے ایسا تاج۔۔۔۔۔
اس نے گردن جھکا کر اپنا لباس دیکھا وہ جامنی رنگ کی ٹخنوں کو چھوتی فراک میں ملبوس تھی۔ماہیر بھی جامنی شرٹ میں ملبوس تھا۔
ماہیر نے آگے بڑھ کر وہ تاج اسکے سر پر سجا دیا۔
مومنہ میں کچھ اور بھی لایا ہوں تمہارے لئے۔۔۔۔ماہیر نے کہا۔
مومنہ۔نے سوالیہ انداز میں اسکی طرف دیکھا۔
ہم پرسوں عمرے پر جارہے ہیں!ماہیر کے کہنے پر مومنہ نے گردن موڑ کر دیکھا۔
یعنی میرا دوسرا خواب بھی پورا ہوگا۔مومنہ کی آنکھوں میں چمک در آئی۔
جبکہ ماہیر نے اسے خوش دیکھ کر دل ہی دل میں اسکی نظر اتاری۔
***
ریان اٹھو!نماز نہیں پڑھو گے کیا!پارسا نے اسے جھنجھوڑا۔
ریان نے بمشکل آنکھیں کھولیں۔
کونسی نماز؟ریان وال کلاک پر نگاہ ڈالتے ہوئے حیرت سے کہا۔
تہجد کی نماز!پارسا نے کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
پارسا آپ کسی اینگل سے بھی ایک رات کی دلہن نہیں لگ رہیں!ریان اکتا کر کہا اور آنکھیں موند لیں۔
اٹھو!پارسا اسے دوبارہ سوتا دیکھ کر زور سے اسکے کان کے پاس چیخی۔
افف آرام سے بھی جگا سکتی ہیں آپ! ریان نے منہ بنا کر کہا۔
مسٹر ریان اٹھ جائیں تہجد کی نماز پڑھیں! اور اپنے رب کا شکر ادا کریں جس نے آپکو اتنی اتنی خوبصورت عقلمند اور نیک بیوی سے نوازا ہے!پارسا اس انداز میں بولی کہ ریان کی ہنسی چھوٹ گئی۔
تہجد کی نماز پڑھ کر دونوں اپنے اپنے جائے نماز پر ہی بیٹھے تھے۔
پارسا تم اس طرح دیکھ پر پتہ ہے میرے دل میں بےاختیار کیا آرہا ہے!ریان کے کہنے پر پارسا نے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔
اور تم اپنے پروردگار کی کونسی کونسی نعمت کو جھٹلاو گے۔
ریان کے آیت پڑھنے پر پارسا کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
جب ساون بادل چھائے ہوں
جب پھاگن پُول کِھلائے ہوں
جب چندا رُوپ لُٹا تا ہو
جب سُورج دُھوپ نہا تا ہو
یا شام نے بستی گھیری ہو
اِک بار کہو تم میری ہو
ابنِ انشاء

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: