Aik Qissa Gul e Gulab Ka Novel by Syeda Gul Bano – Episode 1

0

اک قصہ گل ِ گلاب از سیدہ گل بانو – قسط نمبر 1

–**–**–
تمہارے لئے لڑکیوں کی کمی نہیں ہے تو ان لڑکیوں کے لئے بھی مردوں کی کوئی کمی نہیں ہوگی‘ جن کے
پاس تم چہرے پہ شرافت سجا کر جاتے ہو‘ کتنی عجیب بات ہے تم نماز پنجگانہ ادا کرنے کے لئے اپنے رب
کے سامنے سجدے کے لئے سرجھکاتے ہو اور پھر وہی سر ان نامحرم عورتوں کے سامنے بھی جھکاتے ہو جو
اپنی ادائوں سے تمہارا دل لبھانے‘ تمہاری روح کو للچانے کے لئے تمہارے قریب آتی ہیں‘باحیا‘ باکردار
باوقار بیوی کی خواہش ہر شریف مرد کو ہوتی ہے مگر یار تمہارا طریقہ غلط ہے‘ سنو ہر لڑکی تمہارے
ساتھ آزادانہ طور پر آنے والی تمہاری گرل فرینڈز کی طرح نہیں ہوتی‘ تم ہر لڑکی کو اپنی باتوں یا اپنی
آنکھوں کے جادو سے بے بس کرکے نہیں خرید سکتے اور وہ شاذیلا… وہ بہت مختلف لڑکی ہے۔ تمہاری
زندگی میں آنے والی ان تمام لڑکیوں سے جن کے ساتھ تمہاری دوستی رہی ہے‘ جن سے آج تک تمہارا
واسطہ پڑتا رہا ہے‘ جن کے ساتھ کمپیوٹر پر چیٹنگ‘ وائس چیٹنگ کے دوران تم شب وروز گھنٹوں مصروف
رہتے ہو‘ یا جن کے ساتھ اکثر رات رات بھر پرلطف گپ شپ میں تمہارا موبائل بیلنس ختم ہوجاتا ہے۔
اورہوٹلنگ‘ آئوٹنگ کے دوران آزادانہ ملتے جلتے وقت جن کی قربت سے تم سرشار رہتے ہو‘ مگر شاذیلا ان
تمام لڑکیوں سے مختلف ہے‘ ساری لڑکیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں‘ یہ وقت تم پر ثابت کرے گا۔
ساری لڑکیاں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں‘ یہ میں تم پر ثابت کرسکتا ہوں۔
مگر شاذیلا کے لئے تو اب تک تم یہ ثابت نہیں کرسکے ہو اور آئندہ کی کیا خبر کہ آنے والے وقت میں تو
کسی پل کا پتہ نہ کل کاپتہ۔
پر میں یہ آنے والے وقت میں بھی ثابت کرسکتا ہوں اورتم دیکھوگے میں یہ ثابت کردکھائوں گا۔
شاید تم یہ ثابت کردکھائو مگر شاذیلا کی ذات کو اپنے تجربے کی بھٹی میں ڈال کر تو کبھی نہیں۔
اور اگر میں یہ کہوں کہ شاذیلا کی ذات کو بھی اپنے تجربے کی بھٹی میں ڈال کریہ ثابت کرسکتا ہوں
توپھر؟
تو پھر یہ کہ تم کو اس میں ناکامی ہوگی تم مجھے اس کے بارے میں اب تک اتنا کچھ بتاچکے ہو کہ میں بنا
دیکھے اس کی فطرت سے متعلق رائے دے سکتا ہوں کہ وہ ایک بہت مضبوط لڑکی ہے۔
مجھے اس میں ناکامی نہیں ہوگی۔ میں نے ناکام ہونا نہیں سیکھا‘ میں نے شکست کھانا نہیں سیکھا۔
مجھے میری حیات میں نہ پہلے کبھی اس معاملے میں مات ہوئی ہے اور نہ آئندہ کبھی ہوسکتی ہے‘ میں
نے بہت سی ایسی لڑکیاں‘ بہت سی ایسی عورتیں دیکھی ہیں جو اپنی ذات پر معصومیت‘ پاکیزگی‘
شرافت کا دلکش ٹھپہ لگا کر اپنی شخصیت کو پارسائی کے مضبوط خول میں بند کئے ہوئے ہوتی ہیں‘ پراس چھاپ کے نیچے اس خودساختہ خول کے اندر کیا ہے میں نے اپنی زندگی میں قدم قدم پر بغور اس کا
مشاہدہ کیا ہے‘ وہ شادی شدہ عورتیں جو اپنے شوہر کے سامنے وفا‘ حیا‘ پارسائی کا سمبل بنی پھرتی ہیں
ان کے اس ناٹک‘ اس ڈھونگ کے پیچھے کیسے کیسے گل کھل رہے ہوتے ہیں‘ میں اچھی طرح باخبر ہوں اور
آج کا دور تو ایسا نہیں ہے کہ کوئی شرافت اور پارسائی ثابت توکیا اس کا دعوی بھی کرے تو ایسے دعوے
پرہنسی آتی ہے۔ ایسے کسی دعو ے کو دل نہیں مانتا۔ ایسے کسی دعوے پریقین نہیں آتا تو پھر ایسے
کسی دعوے کو سچ بھلا کیسے اور کیونکر سمجھا جاسکتا ہے‘ عشق‘ محبت‘ پیار‘چاہت‘ اسکینڈلز‘ آئیڈیلز‘
رومانس‘ افیئر جیسی وباء سے آج کے زمانے میں جب کوئی مرد نہیں بچا تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی
دلدار کی نظروں کی تپش سے کسی نامحرم کی چاہت کی آنچ میں کسی عورت کا دل نہ پگھل رہا ہو‘ میں
نے تو یہاں اس دنیا میں یہ بھی دیکھا ہے کہ زندگی کسی اور کے نام پر گزاری جاتی ہے‘ اور وقت کسی اور
کی قربت میں کسی اور کے ساتھ گزارا جاتا ہے‘ اگر ایک آزاد وبے باک عورت کھلم کھلا ایسی ہائی فائی
قسم کی عیاشی کو اپنا حق سمجھ کر اپنی زندگی میں دور دور تک پھیلادیتی ہے تو چار دیواری کے اندر
زندگی گزارنے والی عورت بھی اپنے لئے کہیں نہ کہیں سے اس قسم کے شوق پالنے کی کچھ نہ کچھ
گنجائش نکال ہی لیتی ہے‘ بھول ہے یہ تمہاری کہ آج کے زمانے میں کوئی دل‘ کوئی نگاہ‘ کسی نامحرم کے
احساس‘ یاچاہت کے اثر سے خالی ہے‘ زمانہ اب بڑی مختلف ڈگر پہ گامزن ہے‘ صبر‘ برداشت‘ استقلال‘
استقامت‘ مصلحت‘ قناعت اور سمجھوتے کادور گزرگیا‘ اب ان سب جذبوں کا ذکر بھی افسانوی سالگتا
ہے‘ اب ان سب جذبوںکی کسی کو ضرورت نہیں ہے اور محبت تو آج کل فیشن کا حصہ بن چکی ہے‘ ایک
ضرورت‘ایک عادت‘وقت گزاری کا ایک پرلطف بہانہ بن چکی ہے اور مرد ہو یا عورت اپنی زندگی میں زیادہ
نہ سہی دوچار بار تو محبت کرنا خود کو دنیا میں اپ ٹوڈیٹ رکھنے کے لئے بڑا ضروری ہوچکا ہے‘ بالکل
ویسے ہی جیسے آج کل فیشن ضرورت بن چکا ہے ایک ایسا ٹرینڈ جس کے بغیر خود کو کمتر اور بے وقعت
محسوس کیا جاتا ہے۔
میں پھر کہوں گا کہ ہر انسان کی اپنی سوچ‘ اپنے تخیلات ہوتے ہیں‘ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔
اور میں پھر کہوں گا کہ عورت شرم وحیا‘ غیرت و ایمان کی پٹری سے ایک پل میں اتر کر بہک جانے کی
بھول میں بصد شوق مبتلا ہوجانے والی ناقابل اعتبار اور ناقص العقل مخلوق ہے۔
تمہارے نقطہ نظر سے حقائق کا جو بھی رخ اصل سہی پر میں تم کو یہی کہوں گا تیمور کہ تم ایک
انتہائی تنگ ذہن‘ تنگ نظر اور شقی القلب انسان ہو‘ تم عورت ذات کے لئے بلکہ ہر انسان کے لئے اعتبار
سے خالی دل رکھنے والے آدمی ہو‘ بہرحال اس کی منگنی ہوچکی ہے۔ اور ٹھیک ایک ہفتے بعد اسے مایوں
بیٹھنا ہے‘ جلد ہی اس کی شادی ہونے والی ہے۔ کھیل کھیل کی حد تک تو تمہارا انجوائے منٹ کے لئے
لڑکیوں کو اپنی طرف مائل کرنا ایک طرف مگر میں پریشان ہوں کہ تم تو ہاتھ دھوکے اس بے چاری کےپیچھے پڑگئے ہو یار‘ محبت جیسی چیز پر تو تمہارا ایمان ہی نہیں ہے اس لئے میں یہ تو نہیں سوچ سکتا
کہ تم اس کی محبت میں مجبور ہو کر اس کو نہ پاسکنے پر کسی شدید قسم کے صدمے یا اشتعال
…کاشکار ہو‘ مگر پھر بھی اگر وہ تمہیں اچھی لگتی ہے تو تم خود اس سے بات
ایسا کچھ نہیں ہے۔ تیمور کی تیوریوں پرناگواری شدت سے پھیلی۔
ٹھیک ہے میں مان لیتا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہے… لیکن اگر کچھ ہے تو پھر تمہارے پاس دوہی راستے ہیں
ایک تویہ کہ اس کے ساتھ تم خود بات کرو‘ دوسرا یہ کہ تمہیں اس کا خیال اپنے دل سے نکال دینا چاہئے‘
تمہیں اسے بھلا دینا چاہئے اور تمہیں اس بات کی بھی کوئی پروا نہیں ہونی چاہئے کہ وہ کس قسم کی
لڑکی ہے۔
میں اس کی محبت کے بخار میں مبتلا نہیں ہوں‘ اس لئے وہ میری چاہت بھی نہیں ہے‘ وہ میری خواہش
بھی نہیں ہے‘ میں اسے یاد نہیں کرتاہوں‘ میں اس کے خواب بھی نہیں دیکھتا ہوں‘اس لئے مجھے اس
سے کوئی اعتراف محبت کرنے کی تڑپ نہیں ہے‘ مجھے اس کی کچھ پروا نہیں ہے کہ اس کی منگنی ہوئی
ہے یانہیں‘ اور مجھے اس بات کی بھی پریشانی نہیں ہے کہ اس کی ٹھیک دو ہفتے بعد شادی ہونے والی
ہے‘ رہ گئی اس کے بارے میں‘ میرے پروا کرنے کی بات تو مجھے بھلا اس کی پروا کیوں ہوگی‘ وہ کتنی
صالحہ اور نیک پروین ہے یہ تو اس حقیقت سے ظاہر ہے کہ جس لڑکے کا پروپوزل اس نے میرے پروپوزل کو
رد کرکے منظور کیا وہ اس کا یونیورسٹی فیلو رہ چکا ہے۔
یہاں میں تم سے اتفاق نہیں کروں گا کہ اس نے تمہارے پروپوزل کو ریجیکٹ کرکے اپنے یونیورسٹی فیلو
اظفر کے پروپوزل کے لئے رضامندی ظاہر کی‘ تم جانتے ہو کہ اظفر سے اس کی بات تمہارا پروپوزل جانے
سے قبل ہی طے ہوچکی تھی‘منگنی کی تاریخ مقرر ہوگئی تھی‘ تمہارا پروپوزل جانے میں کچھ دیر ہوگئی‘
مگر پھر بھی تم ان کے اپنے خاندان سے ہو‘شاذیلا تمہاری چچازاد ہے اس کے والدین نے پھر بھی تمہارے
پروپوزل کو اہمیت دی اور فیصلہ شاذیلا پر چھوڑ دیا۔
اور اس نے میرے پروپوزل پر اپنے اس یونیورسٹی فیلو کے پروپوزل کو ترجیح دی اسی لئے ناں کہ اس کی
اس کے ساتھ یقینا بہت اچھی انڈراسٹینڈنگ رہی ہوگی۔
یہ محض تمہاری خام خیالی ہے‘ ایک ہی درس گاہ میں اکھٹے تعلیم حاصل کرنے کے دوران ایک دوسرے
کو فیس کرنے کا کیا ایک یہی مطلب نکلتا ہے۔
توپھر دوسرا کوئی مطلب تم نکال دو‘ شاید تم کچھ بہتر رائے پیش کرسکو۔میں دوسرا کوئی مطلب یہی پیش کروں گا کہ ضروری نہیں کہ شاذیلا نے کسی پسندیدگی یاچاہت کے
جذبے کی ان دونوں کے بیچ موجودگی کے سبب ہی اس کے پروپوزل کو قبول کیاہو‘ ہوسکتا ہے اسے اس
میں کچھ ایسی خوبیاں یا اچھائیاں نظر آئی ہوں جو اسے تمہاری ذات میں نہ نظر آئی ہوں جووہ اپنے لائف
پارٹنر میں چاہتی ہو‘ ویسے بھی تمہارے انداز میں عورت ذات کے لئے کچھ ایسی گرم جوشی‘ تپاک اور
ستائش کے تاثرات نہیں ہوتے‘ تمہارے تیور ہمیشہ تحکمانہ ہوتے ہیں‘ جبکہ عورت اپنے لئے ستائش گرم
جوشی اور نرمی وگداز کے جذبات محسوس کرنے کے بعد ہی کسی کی طرف مائل ہوتی ہے۔تسخیر کرنا
صرف مرد کی ہی خواہش نہیں ہوتی بلکہ عورت بھی مدمقابل کوتسخیر کرنے کی آرزومند اور خواہاں ہوتی
ہے‘ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ عورت کے وجود کو تخلیق ہی مرد کو تسخیر کرنے کے لئے کیا
گیا ہے۔
بکواس… میں ایسی کسی چیز پر ایمان نہیں رکھتا۔
تمہارے ایمان لانے یانہ لانے سے اس حقیقت کی سچائی بدل سکتی ہے نہ ختم ہوسکتی ہے‘ قانون فطرت
کو نہ کوئی آج تک جھٹلا سکا ہے نہ تبدیل کرسکا ہے‘ وقت گواہ رہا ہے کہ جب بھی کسی نے قانو ِن فطرت
کے کسی بھی اصول کو جھٹلاتے یا توڑتے ہوئے اس کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی‘ وہ فنا ہوا یوں کہ
اس کا نام ونشان تک باقی نہ بچا‘ اس حقیقت کی شدتوں کے آگے بڑے بڑے طرم خان گھٹنے ٹیکنے پر
مجبور ہوگئے‘ کیسی کیسی ہستیاں تاراج ہوئیں تاریخ میں جھانک کر دیکھوگے تو تمہیں اپنے اٹل ارادوں‘
سنگلاخ اقوال اور اپنے ان مفروضوں اور بلند وبانگ دعوئوں کا شیش محل پلک جھپکتے میں زمین بوس
ہوتا‘ مسمار ہوتا دکھائی دے گا۔ عورت کہنے کو‘ سمجھنے سوچنے کو ایک بڑی نازک اور معمولی مخلوق
لگتی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے سورمائوں نے اس کی خاطر جوگ لیا ہے۔
لیکن ان بڑے بڑے سورمائوں‘ ان بڑے بڑے طرم خانوں میں کبھی بھی کسی کا نام تیمور خان ہرگز نہیں
ہوگا اگر ہواتووہ میں ہرگز نہیں ہوں گا۔
تم سے تو کوئی جیت نہیں سکتا۔ پچھلے گھنٹے بھرسے ہونے والی اس نان اسٹاپ بحث کااختتام عدیم کے
اس بے حد کمزور سے فقرے پہ ہواتھا۔ تیمور نے دیکھا وہ ہمیشہ کی طرح اب بھی خاصا چڑ گیا تھا۔ اس
کی باتوں سے‘تیمور کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آخر وہ اس کی سچی کھری باتوں سے اس قدر چڑ
کیوں جاتاتھا؟ حالانکہ وہ تو جوبھی سمجھاتا یا کہتاتھا اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر ہی ایسا سمجھتا
یاکہتا تھا۔

Read More:  Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 13

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: