Aik Qissa Gul e Gulab Ka Novel by Syeda Gul Bano – Episode 2

0

اک قصہ گل ِ گلاب از سیدہ گل بانو – قسط نمبر 2

–**–**–

جب آپ کسی سے ہارنانہ چاہیں تو کوئی آپ کو کیسے شکست دے سکتا ہے۔ تیمور نے اس کے چڑکر کہنے
پر جواباً شانے اچکاتے ہوئے اطمینان سے کہا تھا۔ اسی دم باہردروازے پر کسی نے بیل دی تھی۔کیا شکست انسان اپنی مرضی سے کھاتا ہے۔ عدیم کا دل اس کی عقل پر ماتم کرنے کو چاہا اس نے اسی
چڑے چڑے سے انداز میں کہا مگر کال بیل کی صدا پر اٹھنے والا تیمور سنی ان سنی کرتا بیرونی دروازے
کی جانب بڑھ گیا تھا اورعدیم سوچ رہاتھا وہ کیسا انسان تھا تیمور خان‘ ایک ایسا انسان جسے عرف عام
میں خودغرض انسان کہنا درست ہوگا‘ جو دنیا میں‘ یا جو اپنی زندگی میں کسی شے سے سب سے زیادہ
پیار کرتا ہے توعموماً وہ دوسرا اور کوئی نہیں بلکہ زیادہ تر ان کی اپنی ذات ہوتی ہے۔ ان کی اپنی خوشی‘
اپناسکون‘ اپنا دل‘ اپنی روح‘ اپنا جسم ہوتا ہے جس کے لئے وہ ہر راحت‘ہرآسانی‘ ہرکوشش کی چاہت
رکھتے ہیں۔ جو اپنے آپ سے بہت پیار کرتے ہیں‘ اپنے آپ سے محبت تو ایک فطری جذبہ ہے جو قدرت نے
تمام ہی انسانوں کو بخشا اور یقینا برابر بخشا اب اس میں کمی بیشی کا معاملہ خود انسان کے اپنے ذمے
اس کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کی خوشی دوسروں کی خوشی میں پوشیدہ ہوتی ہے کچھ
لوگوں کی خوشی صرف اپنی خوشی اپنے سکون‘ اپنی خواہشات کی تکمیل میں ہوتی ہے۔ تیمور خان
کاشمار دوسری قسم کے لوگوں میں ہوتا تھا۔ وہ ہر دم اپنی ذات میں مست ومگن رہنے والا انسان تھا اور
ایساانسان چاہے وہ عورت ہو یا مرد خطرناک ہوتا ہے اور یہ خطرناکی کسی اور کے لئے تو اتنی باعث ضرر
نہیں ہوتی جتنی کہ خود اس کے لئے۔ کیونکہ جو فقط اپنے لئے خوش رہنا چاہتے ہیں وہ دوسروں کی
خوشی کو بھی اس وقت تک برداشت کرسکتے ہیں جب تک کہ وہ خود سرشار اور خوش رہتے ہیں اور جب
وہ آپ خوش نہیں ہوتے تودوسروں کی خوشی ان کے نزدیک کوئی اہمیت‘ کوئی قدروقیمت یا کوئی مثبت
جذبہ نہیں رکھتی‘ ان کو ساری دنیا بری اور غیر اہم محسوس ہوتی ہے‘ بس اسے ہرحال میں کسی بھی
صورت اپنی کامیابی‘ اپنی خوشی اپنا سکون‘ مقصود تھا‘ اسے خوش ہونے کے لئے بہت زیادہ بڑی بڑی
کامیابیوں کی بہت بڑی بڑی خوشیوں کی ضرورت بھی نہیں تھی‘ بس وہ اپنی زندگی میں کسی بھی موڑ
پر‘ کسی بھی مرحلے کسی بھی قدم پر کوئی ٹھوکر‘ کوئی دشواری یا کوئی ناکامی برداشت ہی نہیں
کرسکتا تھا بلکہ برداشت کرنا ہی نہیں چاہتا تھا اور اپنی ذات کی ناکامی اور اپنی ذات کے لئے کسی کی
نظر اندازی اس کے لئے اپنی شہ رگ کے پاس کسی تیز دھار بلکہ دودھاری خنجر کی موجودگی کی طرح
ہوتی‘ اور نظر اندازی اگر صنف مخالف کی طرف سے ہو تووہ جیسے جلے پائوں کی بلی کی طرح چکراتا
پھرتا ہے‘ اس کا چین بھسم ہوجاتا ہے‘ وہ پل پل انگاروں پر لوٹتا‘ اس کی نیندیں اڑجاتیں ہیں اور وہ اس رات
سکون کی میٹھی نیند سوتا ہے جب اس نظراندازی کو وہ بے تابی و بے قراری میں بدل ڈالتا‘ وہ بے تابی
جو صرف اس کے لئے ہوتی‘وہ بے قراری جو اس کی ذات کے لئے ہوتی‘ وہ بہت زیادہ حسن کی دولت سے
مالامال نہ تھا‘ مگر قدوقامت‘آواز‘ نقوش پرکشش تھے۔ تعلیم یافتہ تھا‘ اچھے خاندان سے تعلق تھا‘
کروڑپتی تو نہ تھا مگر ایک امیر گھرانے کاسپوت تھا‘ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بزنس میں چچا اور باپ کا
ہاتھ بٹانا شروع کردیا۔ ڈیڑھ سال کے عرصے میں وہ بہت کچھ سیکھ چکاتھا‘ اس کی وجہ سے بزنس کو
کافی کامیابی ملی تھی۔ وہ ایک اچھا بزنس مین بن سکتا تھا۔ اس میںایک کامیاب بزنس مین بننے کیصلاحیت موجود تھی۔ اس کے بابا کی خواہش تھی کہ وہ جاب کرے مگر وہ جاب نہیں کرسکتا تھا۔ وجہ
یہی تھی کہ وہ کسی کے ماتحت رہ کرکام نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے پاس بہت پرکشش جابز کی آفرز
موجود تھیں مگر اس نے جاب کے لئے کبھی سوچا ہی نہیں تھا تواس طرف دھیان کیسے دیتا۔ وہ اپنے
اندرحکمرانی کا جذبہ رکھتا تھا‘ خود کو کسی کی حکمرانی میں کیسے اور کیونکر دے دیتا‘ یہ اس کے لئے
ناممکن ومشکل ہی نہیں تکلیف دہ بھی تھا اور تکلیف برداشت کرنا بھلا اس نے کب سیکھاتھا‘ اس
کابچپن دو بڑے بھائیوں اور ناز اٹھانے والے والدین کے بیچ‘ کسی بھی محرومی‘ کسی بھی پریشانی سے بے
نیاز و قابل رشک گزراتھا۔ اچھا بچپن اچھی تعلیم اچھا ماحول کسی بھی انسان کے روشن مستقبل کی
ضمانت ہوتے ہیں اور اس کامستقبل روشن تھا‘ قسمت نے قدم قدم پر اس کے لئے سکون اور آسانیوں والے
راستے ہموار کئے تھے پھر بھلا وہ خود کو قسمت کا دھنی کیوں نہ سمجھتا‘ نوعمری کے زمانے کو پیچھے
چھوڑ کر جوانی سے ہاتھ ملاتے ہی اسے صنف مخالف کی طرف سے بھرپور توجہ اور ستائشی نظروں کا
جوشیلااحساس ملا‘ اس نے کسی نگاہ کو اپنی سمت اٹھتے پاکر کسی ناگواری کا تاثر نہ لوٹایا اور اس نگاہ
سے آگے نگاہوں کی خواہش اس کے اندر جاگتی چلی گئی۔ جسے اس نے تھپک تھپک کر سلانے کی کوئی
کوشش کبھی نہ کی تھی۔
لڑکیاں تو معصوم ہوتی ہیں‘ وہ تو زندہ ہی محبت کے لئے ہوتی ہیں‘ تم ہی ذرا خود پر قابو پاکر اپنے جذبوں
پربندباندھنے کی کوشش کیا کرو۔ عدیم اسے سرزنش کرتا رہتا۔ جواباً وہ بے نیازی سے شانے اچکادیتا۔
ا ن معصوموں کو خود چھری تلے اپنی گردن رکھنے کا شوق ہے تو میں کیا کروں‘ وہ اپنی مرضی سے میری
طرف آتی ہیں‘میں جبر سے تو ان کو پاس نہیں بلاتا‘ نہ ہی میں ان کے پاس جاتا ہوں‘ وہ خود میرے پاس
آتی ہیں‘وہ خود مجھے پاس بلاتی ہیں‘ ان کو خود اپنی عزت‘ اپنے وقار کا خیال نہیں میرا اس میں بھلا کیا
دوش؟
شادی کرلو۔ کسی لڑکی کے لئے اس کی ضرورت سے زیادہ بڑھنے والی توجہ دیکھ کر عدیم مخلصانہ
مشورہ دیتا تووہ بدک جاتا۔
کیا…شادی… کیا دنیا میں میرے لئے نیک‘ صالحہ‘باحیا‘باوقار اور شریف عورتوں کا کال پڑگیا ہے جو میں
ایسی کسی گمراہ عورت کو عمر بھر کا عذاب بنالوں‘ ایسی لڑکیاں‘ ایسی عورتیں صرف چند گھنٹوں کے
لئے‘ وقت گزاری کے لئے‘ موڈ کو فریش کرنے کی حد تک قابل برداشت ہوتی ہیں‘ اس حد سے آگے ان پر
زمانے‘ زمانے والوں‘ دنیا والوں اور دنیا بنانے والے کی لعنت اور پھٹکار ہے۔ دھتکار ہے اور دنیا وآخرت دونوں
میں ان کی ذلت کنفرم ہے اور تم مجھے شادی کرنے کامشورہ دیتے ہو کسی ایسی لڑکی سے جو اپنے
مذہب‘ اپنے خاندان اور اپنے وقار کو گمراہی کی سیاہی سے داغدار کرکے ایک نامحرم سے تعلق استوار
کرلیتی ہے۔ چاہے وہ تعلق دوستی‘ محبت یامنگنی سے بعد کاہی کیوں نہ ہو‘ ہوگا تو ناجائز تعلق ہی‘ میںکسی ایسی عورت سے شادی کیوں کرلوں جو شادی سے پہلے کسی غیر سے کسی بھی قسم کا کوئی
تعلق رکھے ہوئے ہو‘ کیا گارنٹی ہے کہ وہ میری بیوی بننے کے بعد کسی اور کی طرف کبھی مائل نہ ہوگی
جبکہ مائل ہونا اور مائل کرنا اس کی عادت میں شامل ہوگا۔
لیکن تم دونوں ایک دوسرے کو پسند تو کرتے ہوگے ناں‘ میرامطلب ہے کہ کل کو اگر تمہاری کسی ایسی
لڑکی سے شادی ہوجائے جو تمہیں پسند نہ کرتی ہو تو۔
تومیں اسے چھوڑ دوں گا‘ میں اسے طلاق دے دوں گا‘ اور کسی دوسری عورت سے شادی کرلوں گا‘ اور اب
تم یہ نہ کہنا کہ وہ بھی مجھے پسند نہ کرتی ہو تو پھرمیں کیا کروں گا تم جانتے ہو میں یہی کروں گا۔
میں تم سے یہ نہیں کہنا چاہتا میں توتمہیں صرف یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ جب تمہیں معلوم ہے کہ
بھلائی کس میں ہے اور بدی کیا ہے تو پھر تم ان لڑکیوں سے دو ر کیوں نہیں ہوجاتے؟ جب تمہیں معلوم ہے
کہ یہ گمراہی کا راستہ ہے تو پھر تم ان عورتوں سے خود کو بچا کر راستہ کیوں نہیں بدل لیتے؟ تم کیوں
بہک جاتے ہو؟
میں کب بہکا ہوں‘ میں کبھی نہیں بہک سکتا‘ میں اس وقت بہکوں گا جب ایسی کسی عورت کو اپنی
بیوی بنالوں گا اور میں کسی ایسی عورت کو بیوی نہیں بناسکتا جس کا شادی سے پہلے ہی‘شادی کے
بغیر ہی کسی مرد سے تعلق ہو‘ کسی نامحرم سے مراسم ہوں‘ چاہے وہ مرد کوئی بھی ہو‘چاہے وہ مرد میں
ہی کیوں نہ ہوں‘جوعورتیں شادی سے پہلے شادی کے بغیر ہی اپنی مرضی اور آسانی سے مل رہی ہوں‘
ان سے شادی کرنے کی اور ان کو بیوی بنا کر زندگی بھر کا عذاب بنالینے کی کیاضرورت ہے؟ میں کسی
ایسی عورت سے شادی کیوں کرلوں جوبغیر نکاح کے‘ بغیر جائز تعلق کے کسی نامحرم مرد کو اپنی
مسکراہٹ اپنی ہنسی‘ اپنی ادا اپنے جلوئوں‘ اپنی قربت سے نہال اور سرشار کئے رکھتی ہو‘ میں ایسی
عورت سے شادی کروں تو کیوں کروں کیا بس اس لئے کہ وہ نامحرم غیر مرد میں خود ہوں‘ نہیں اگر وہ
غیر مرد میں خود بھی ہوں تو بھی میں اسے اپنے نکاح میں نہیں لے سکتا‘ میں توکیا کوئی بھی مسلم
باضمیر‘ شریف اور غیرت مند آدمی شریک حیات کے معاملے میں ایسی گھٹیا چوائس نہیں رکھتا ہوگا‘ آج
میں کسی ایسی عورت کو اپنے گھر میں لابسائوں تو کل میری نسل کی سلامتی اور بقا کی کیا گارنٹی ہے
کیا جواب دوں گا میں روز حشر اپنے آقاؐ اپنے پروردگار کو کہ میں نے صراط مستقیم سے بھٹکی ہوئی
نفس کی اندھی غلام‘بے راہ رو اور ان کی نافرمانی کرنے والی عورت کو اپنے نکاح میں لے کر اس کی ناجائز
زندگی کو اپنے لئے جائز کیوں کیا اس لئے کہ وہ مجھ پر فدا تھی‘ اور میرے اشاروں پر‘بے حیائی‘ گمراہی‘
آزادی و بے پردگی کا کوئی بھی شیطانی رقص پیش کرنے کے لئے ہردم تیار رہتی تھی‘ جو عورت اپنے رب
کی نافرمانی کرنے والی ہوجومعاملات ومعمولات زندگی میں اپنے مذہب سے وفانہ کرتی ہو وہ بھلا اپنے
شوہر کی فرماں بردار اور وفادار کیسے ہوسکتی ہے؟کیا تمہیں ان سب لڑکیوں میں سے کسی ایک بھی لڑکی سے محبت نہیں ہوئی؟ کبھی بھی نہیں؟ تھوڑی
سی محبت بھی نہیں؟
نہیں‘ کبھی بھی نہیں‘ تھوڑی سی محبت بھی نہیں‘ ہاں مگر ہوسکتی تھی اور ہوسکتی ہے اس لڑکی سے
یا اس عورت سے جس کے بارے میں مجھے پتہ چلے کہ وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے اور؟
…اور اگر وہ بھی ان لڑکیوں کی طرح تم سے اظہار محبت کرے تو پھر کیا تم
توپھر میں اس کی محبت پر ایمان لے آئوں گا تو پھر میں اسے اپنی محبت کا مستحق سمجھوں گا کیونکہ
وہ ان لڑکیوں جیسی لڑکی نہیں ہوگی‘ وہ میرے لئے مجھ سے پسندیدگی ظاہر کرسکتی ہے وہ مجھے
پروپوز بھی کرسکتی ہے اور میں اسے اپنے نکاح میں لیتے ہوئے ہرگز نہیں ہچکچائوں گا بشرطیکہ یہ سب
مکمل شرافت کے دائرے میں حیا اوروقار کے ساتھ پردے میں طے پائے‘ ہمارا مذہب محبت سے نہیں روکتا
وہ ناجائز محبت کے گمراہ کن راستوں پہ چلنے سے روکتا ہے‘ کسی مرد کو کسی عورت سے محبت ہے یا
کسی عورت کو کسی مرد سے محبت ہے تو اسلام ان کومشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنے لئے اس محبت کے لئے
اسلام میں گنجائش دیکھے اگر وہ جائز ہے تو ان کواپنے سرپرستوں کی مدد لینی چاہئے اور بالغ ہونے کی
صورت میں وہ اسلام کے اس معاملے میں استوار کئے گئے سیدھے شفاف پاکیزہ اور حیا ووقار والے راستے
پر چل کر ایک دوسرے کو پاسکتے ہیں مگر صرف نکاح کے ذریعے مکمل شرافت اور پردے کے ساتھ۔
لیکن تمہارے پاس اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ تم کسی ایسی عورت کے ساتھ مطمئن رہوگے۔
میں مطمئن رہوں گا‘ میرے اطمینان کے لئے یہ پاکیزہ حقیقت کافی ہوگی کہ اس نے مجھے پردے میں
پاکیزگی سے چاہا‘ محبت کوپانے کے لئے ا س نے اپنی مسکراہٹ‘اپنی ہنسی‘ اپنی ادائوں‘ اپنی قربت‘ اپنے
جلوئوں‘ اپنے جذبات کی نمائش نہیں کی‘ میں اسے آزمائوں گا بھی‘ میں اس سے اس کی قربت بھی
مانگوں گا‘ میں اس سے اس کے جذبات کی نمائش‘ اس کی ہنسی‘ اس کی مسکراہٹوں اس کے جلوئوں
کی نمائش کی فرمائش بھی کروں گا اگر اس نے میری اس فرمائش کو پورا کردیا تو میں اس پر بھی لعنت
بھیج دوں گا اور جو عورت بغیر مجھ سے جائز تعلق کے مجھے یہ سب نہیں دے گی وہی میری چاہت
ہوگی‘ میں اسے اپنانے میں کوئی شبہ‘ کوئی جھجک‘کوئی نفرت محسوس نہیں کروں گا۔
بہت عجیب سوچ ہے تمہاری۔ عدیم کو اس کے نظریات اکثر زچ کردیتے وہ نظریات جو عورت نامی مخلوق
کی مخالفت سے شروع ہو کر عورت ذات سے بے اعتباری اختیار کرنے پر ختم ہوتے تھے یا پھر عدیم کو اس
کے نظریات‘ اس کی باتیں اندر سے ایک احساس کمتری کا شکار بنا دیتی تھیں۔ عدیم کی شادی ایک َلو
میرج تھی‘ دونوں کی شادی سے پہلے تین برس تک منگنی رہی تھی اور ان دونوں کا ایک دوسرے سے
آزادانہ ملنا جلنا تھا جسے شادی سے پہلے کی انڈراسٹینڈنگ کا نام دیا جاتا ہے اور اس انڈراسٹینڈنگ کےپروان چڑھنے کے دوران نکاح کے بغیر شادی سے پہلے عدیم کے اپنی محبت یا اپنی منگیتر سے آئوٹنگ
ہوٹلنگ کے علاوہ ٹیلی فونک روابط‘ قربتوں اور بے تکلفی سے بھرپور سلسلوں کے کئی مرحلے آتے رہے تھے
آزاد خیال عدیم کے نزدیک یہ کوئی معیوب بات نہ تھی۔ تبھی وہ تیمور کی باتیں سن کر زچ ہوجاتاتھا اور
چڑنے سے زیادہ وہ تیمور کی باتوں پر حیران ہوتاتھا کہ شرافت‘ پارسائی‘ حیا‘ وفا داری اور مذہب وغیرت کو
بھلا کر لڑکیوں سے دوستیاں گانٹھتے ہوئے اور اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ آزادانہ روابط قائم کرتے ہوئے بھی
وہ اپنے لئے مذہبی‘ نیک‘ شریف اور غیرت مند ہونے کاثبوت پیش کرنے کے لئے کہیں نہ کہیں سے کوئی نہ
کوئی گنجائش نکال ہی لاتاتھا‘ اس کی اس بہروپیت اور دوغلے پن پر عدیم اس کو ایک ترحم بھری
تمسخرانہ نگاہ سے دیکھتا اور سوچتا کہ آخر وہ کیسا انسان ہے؟

Read More:  Ar-Raheeq Al-Makhtum by Safiur Rahman Mubarakpuri – Episode 4

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: