Aik Qissa Gul e Gulab Ka Novel by Syeda Gul Bano – Episode 3

0

اک قصہ گل ِ گلاب از سیدہ گل بانو – قسط نمبر 3

–**–**–
تم اس سے خوفزدہ ہو شاذیلا؟ بینش بہت حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پہ واقعی
گھبراہٹ اور پریشانی جھلک رہی تھی وہ اس کی بات پر گڑبڑا کر سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولی۔
میں…خوفزدہ اس سے…نہیں تو…میں بھلا اس سے خوفزدہ کیوں ہوں گی؟
تمہاری شکل سے اور تمہاری باتوں سے تو مجھے ایسا ہی لگ رہا ہے۔
نہیں مگر ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔
پھر تم مجھے اتنی پریشان اور ہراساں کیوں لگ رہی ہو۔
دیکھو شاذیلا…تمہیں اگر اس کے ساتھ جانا مشکل لگ رہا ہے‘ میرا مطلب ہے کہ تمہیں اس کے ساتھ جانا
اچھا نہیں لگ رہا ہے‘ تمہارے خیال میں تمہیں اس کے ساتھ جانا نہیں چاہئے تو مت جائو‘ تم انکار بھی تو
کرسکتی ہو۔
میں اس کے ساتھ جانے سے کیسے انکار کرسکتی ہوں‘امی کا حکم ہے یہ‘ جب امی جی نے بھی کوئی
اعتراض نہیں کیا تو میں کیسے انکار کردوں۔
ہاں یہ تو تم نے ٹھیک کہا‘ انکل اور آنٹی کوہی اس بات کا خیال کرنا چاہئے تھا۔
یہاں تو کسی کو کچھ پرواہی نہیں ہے‘ سب جیسے سب کچھ بھول چکے ہیں‘ جیسے کچھ ہواہی نہ ہو یا یہ
کوئی بڑی بات ہی نہیں۔
ویسے تمہیں بھی اس بات کو بھلا دینا چاہئے‘ اور یہ اب اتنی بڑی بات تھی بھی نہیں‘ جب ان لوگوں کا
رسپانس نارمل ہے تو اسی لئے انکل اور آنٹی کااعتماد بھی ان پر پہلے کی طرح ہی بحال ہے‘ بہتر ہے تمبھی سب بھولنے کی کوشش کرو شاذیلا‘ خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کرو‘ خوامخواہ اس ٹینشن کو
سر پر سوار نہ کر‘ اور اب تم دونوں ایک دوسرے کے لئے غیر اور اجنبی تو ہونہیں‘ وہ تمہارے لئے پرایا تو
نہیں ہے‘ تم دونوں ایک ہی خاندان سے ہو‘ آئندہ زندگی میں جب تم کو اسے قدم قدم پرفیس کرنا ہی ہے تو
پھراس گریز کا کیا فائدہ‘ تم کب تک یوں خود کو اس سے چھپاتی پھروگی بھئی ختم کرو یہ بے وجہ کی
چھپن چھپائی۔
تم خود کو میری جگہ رکھ کرسوچو‘ اگر تمہاری سوچ‘ تمہارے تخیلات تمہاری فطرت میری سوچ‘ میرے
تخیلات میری فطرت جیسی ہوتی تو کیا یہ تمہارے لئے اتنا ہی آسان اور غیر اہم ہوتا کیا تم اتنی آسانی
اور اتنی جلدی یہ سب کچھ بھلا دینے کی کوشش کرسکتی تھی‘ کیا اس کوشش میں تمہاری کامیابی
اتنی ہی متوقع تھی جتنی تمہیں مجھے یہ مشورہ دیتے ہوئے لگ رہی ہے۔
اوہو بھئی… توپھراس کے علاوہ اب اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے‘ اس کا سامنا کرنا تم نہیں چاہتیں‘ انکل کو
انکار تم نہیں کرسکتیں‘ ہاں مگر آنٹی کی حمایت و ہمنوائی تمہیں حاصل ہوجائے تو شاید تمہارااس کے
ساتھ جانا ملتوی ہوجائے۔
میں نے سرسری طور پر امی جی کے سامنے انکار کیاتو تھا۔ جواب میں انہوں نے ڈانٹ دیا‘ پچھلے دوسال
سے نانوجانی مجھے اپنے پاس بلارہی ہیں‘ میں ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے جانہیں سکی ہوں سب ہی
باری باری جاکرمل آئے ہیں ان کی آنکھوں کے آپریشن کے بعد‘ایک میں ہی رہ گئی ہوں ان کے پاس جانے
سے‘ یا دوسرے وہ موصوف‘ واپسی میں وہ لوگ بھی شادی میں شرکت کے لئے ساتھ ہوں گے۔
تم اس کا سامنا کرنے سے کیوں اتنا ہچکچارہی ہو حالانکہ مجھے اس کی شکل سے تو ایسا نہیں لگتا کہ
اس نے اس بات کا ذراسا بھی اثر لیا ہو۔ بینش اسے شاذیلا کے گھر آتے جاتے اکثر دیکھتی تھی جو اس
وقت زیربحث تھا۔
اورپتہ نہیں مجھے ایساکیوں لگ رہا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں ایک اسی بات کااثر لیا ہے۔
وہم ہے تمہارا یہ۔
وہم نہیں ہے میرا یہ‘ میں اسے اتنا تو جانتی ہوں کہ اس کی آنکھوں کے بدلتے رنگ پہچان سکوں۔
پرتم تو یہ بھی کہتی ہو کہ وہ بہت مختلف آدمی ہے۔
ہاں وہ بہت مختلف آدمی ہے‘ اس کی سوچ عام انسانوں سے بہت ہٹ کر ہے‘ اسی لئے تو مجھے یہ
محسوس ہوتا ہے کہ عام انسان کی طرح وہ اس بات کو جلدی بھول نہیں پائے گا۔ یہ میرا وہم ہوتو کیا ہی
اچھا ہو پر مجھے لگ رہا ہے بینش کہ یہ بات اس کے دل میں پھانس کی طرح چبھ گئی ہے۔تم تو واقعی بہت الجھن میں ہو اورتم کہہ رہی تھی کہ تم پریشان‘ ہراساں یا گھبرائی ہوئی نہیں ہو۔
ہاں شاید میں واقعی پریشان ہوں۔
مجھے کس لئے بلایا ہے؟
ہاں…وہ میں نے تمہیں اس لئے بلایا تھا کہ آپانے بھی انکار کردیا ہے وہ اور جوا د بھائی چار دن بعد آئیں گے
اور بھیا لوگ تو ظاہر ہے جانہیں پارہے تبھی اس کی مدد لی جارہی ہے‘تو میں نے یہ سوچا تھا کہ اگر تم
ہمارے ساتھ چلنے کی اجازت لے لیتیں تو… شاذیلا نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہنا چاہا تو اس نے یک دم
ہاتھ جوڑے۔
پلیز مجھے تو تم معاف ہی کرو شاذیلا‘تمہیں پتہ ہے پھوپی جان تشریف لاچکی ہیں‘ ان کی موجودگی میں
میرے لئے بہت مشکل ہے یہ‘ وہ بہت سخت قسم کی عورت ہیں‘ ہماری اگر کسی قسم کی رشتے داری
ہوتی تو پھر تو مسئلہ ہی کوئی نہیں تھا۔ مجھے چٹکی بجاتے ہی اس کی اجازت مل جانی تھی‘ پاپا ان کی
مرضی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتے‘ نہ اپنی اولاد کو ایسا کرنے دیتے ہیں۔ رہ گئیں بے چاری ماما تو وہ
شوہر کی حکم عدولی نہ خود کرسکتی ہیں نہ ایسے کسی معاملے میں اولاد کا ساتھ دینے کے حق میں
ہیں۔
تو تم بھی میرے ساتھ نہیں جاسکتیں۔ شاذیلا کے لہجے میں مایوسی تھی۔
سوری… مگر کاش کہ میں تمہارا ساتھ دے سکتی‘ ویسے تمہیں خوامخواہ اتنا کنفیوز ہونے کی ضرورت
کیا ہے شاذیلا تمہارا تو کوئی قصور نہیں‘ تم نے جو کیا اپنے والدین کی مرضی سے ان کے حکم پر کیا
تمہارا تو کوئی قصور نہیں پھر تمہیں اتنا شرمسار ہونے کی کیا ضرورت ہے بھئی۔
کاش یہ میں ان لوگوں کو بھی بتاسکتی کہ میں نے یہ جو کچھ بھی کیا اپنے والدین کے حکم پر ان کی
خوشی کے لئے کیا کیونکہ ان کی خوشی میں ہی میری خوشی ہے۔ میں ان کی حکم عدولی نہیں
کرسکتی۔ کبھی بھی نہیں۔
تم خوش تو ہونا شاذیلا؟
میں نے کہاناں میرے والدین کی خوشی میں ہی میری خوشی ہے‘ بیٹیاں بھلا ماں باپ کو ناراض کرکے
خوش رہ سکتی ہیں؟
کیا تم چاہتی ہو کہ تم ان لوگوں کے سامنے اپنی پوزیشن کلیئر کرو۔ہاں… میں ان لوگوں کے سامنے اپنی پوزیشن کلیئر کرنا چاہتی ہوں‘ پرمیں ایسا نہیں کرسکتی‘ کاش
بینش! کاش میں ایسا کرسکتی۔
ویسے انکل نے تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا‘ انہیں اپنی خوشی حاصل کرنے کے لئے یوں بندوق تمہارے
کاندھے پر رکھ کر تو نہیں چلانی چاہئے تھی‘ ان کو سوچنا چاہئے تھا کہ اس طرح وہ خود تو ان کے سامنے
بری الذمہ ہوجائیں گے پر تمہارے لئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
اور میرے لئے مشکل پیدا ہوچکی ہے۔ شاذیلا نے ایک گہری سانس بھرکے کہا۔
ویسے شاذیلا…فرض کرو کہ اس سب میں واقعی تمہاری مرضی‘ تمہاری خوشی ہوتی کہ تمہیں زندگی
میں اپنے لئے صرف اور صرف اظفر کو ہی حاصل کرنا ہے‘ اس کے علاوہ کسی اور کونہیں چاہنا تو پھر
بھی…کیا پھر بھی اسے ٹھکرانے کے بعد…یعنی اپنی خوشی‘ اپنی مرضی سے ٹھکرانے کے بعد تم یوںہی
ندامت محسوس کررہی ہوتیں‘ نہیں میرے خیال میں اس وقت تو تمہیں اپنے اردگرد کا‘ کسی بھی بات کا
احساس تک نہ ہوتا۔
ہاں شاید ایسی صورت حال میں مجھے اسے ٹھکرانے کا اتنا افسوس نہ ہوتا‘ پراسے ٹھکرانے کے افسوس کا
اب یہ مطلب بھی نہیں کہ میں پاپاجی کے فیصلے پر سرجھکانے کے بعد پچھتا رہی ہوں‘ اظفر ایک اچھا
انسان ہے‘ پاپاجی کاانتخاب براتو نہیں بس مجھے ایک الجھن ستارہی ہے کہ کاش مجھے کسی کوٹھکراکر
اظفر کے لئے ہامی نہ بھرناپڑتی۔
اوراگر بیچ میں اظفر نہ آجاتاتو پھرتمہارا اس کے لئے کیا فیصلہ ہوتا؟ بینش کچھ معنی خیزی سے
مسکرائی‘ شاذیلا نے چونک کر اسے دیکھا پھر ایک تھکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے مدھم ادھوری
سانس بھرتے ہوئے شانے اچکائے اور بولی۔
ظاہر ہے تب بھی جومیرے پیرنٹس کا فیصلہ ہوتا وہی میرا ہوتا اور مجھے نہیں لگتاکہ پاپاجی اس کے لئے
مان جاتے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ ہنسی خوشی میرا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھمانے کوتیار ہوجاتے۔
اس لئے کہ انکل کو اس کے کریکٹر پہ ہمیشہ شبہ رہا ہے۔کیاوہ اسے کردار کااچھا آدمی نہیں سمجھتے؟
…شاید
…کیا وہ واقعی لوز کریکٹر ہے۔ آئی مین… اس کا کردار
…مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کردار کیسا ہے مگر اس کی آنکھیں
اس کی آنکھیں… کیا ہوا اس کی آنکھوں کو‘تم یہ بات کرتے کرتے اچانک چپ کیوں ہوگئیں شاذیلا؟کیا یہ بات سچ ہے بینش کہ آنکھیں انسان کے باطن کی آئینہ دار ہوتی ہیں جن میں اس کے اندر کاانسان
جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔
شاید یہ بات سچ ہو مگر کچھ لوگ خود کو اپنی اصلیت کو‘ اپنی فطرت کو چھپا کر رکھنے میں اتنی احتیاط
اور مہارت سے کام لیتے ہیں کہ ان کے لئے یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ ان کی آنکھیں ان کے اندر چھپے انسان
کا آئینہ ہوتی ہیں‘ کیا تمہیں ایسا لگتا ہے کہ اس کی آنکھیں اس کے اندر چھپے ہوئے انسان کا آئینہ ہیں۔
پتہ نہیں‘ پربینش وہ مدمقابل کو اس آئینے میں اتار لینے کی مہارت ضرور رکھتا ہے‘ بعد میں چاہے وہ اس
ہنر یا اس فن پر اپنے عبور حاصل ہونے کی حقیقت سے منکرہی کیوں نہ ہوجائے۔ معلوم نہیں وہ کون سا
احساس شاذیلا کی گم صم آنکھوں کی شفاف جھیلوں میں اپنا عکس بکھیرنے لگاتھا۔
بعد میں…؟ بینش نے کچھ الجھ کر اس کی سوچتی آنکھوں کو بغور دیکھا۔
ہا ں بعد میں…یعنی اس وقت کہ جب وہ محض کسی شغل‘ کسی شوق یا کسی تسکین کی خاطر
مدمقابل کی ذات کو اپنے سامنے جھکانے کے بعد ادنی وحقیر سمجھ کر جھٹلا دینا چاہے۔
تمہارا مطلب ہے کہ…وہ خودغرض ہے… بینش کی آنکھوں میں یک دم ایک ناپسندیدہ احساس امنڈ آیا پھر
شانے اچکاتے ہوئے ایک ادھوری سانس کے ساتھ مسکرادی۔
شاید۔ اس کا جواب بے حد مختصر تھا۔
پھر تو تم بہت برا پھنستیں اگر وہ تمہارے پلے پڑجاتا‘ انکل کا فیصلہ پھر تو سو فیصد تمہارے حق میں
ہی ہواناں‘ تمہیں اس سے یوں چھپنا نہیں چاہئے‘ تمہیں تو اس کے سامنے سر اٹھا کر چلنا چاہئے شاذیلا۔
نہیں…میں ا س لئے نہیں گھبرارہی بلکہ میں تو اس لئے اس کا سامنا کرنے سے گھبرا رہی ہوں کہ وہ بھی
اپنے گھر والوں کی طرح یہ سمجھ رہا ہوگا کہ میں نے اظفر کو اپنی پسندیدگی کی وجہ سے اہمیت دی‘
حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ میں نے پاپاجی کی وجہ سے ان کے حکم پر ایسا کیا‘ یونیورسٹی میں جب میں نے
قدم رکھا اظفر کا فائنل ایئر تھا‘ تب تک مجھے یہ بھی علم نہ تھا کہ اس کے بڑے بھائی اور پاپاجی کی
دوستی کو تین سال ہوچکے ہیں‘ یہ تو جب اظفر کا پروپوزل آیا ہے تو مجھے پتہ چلا کہ یہ وہی اظفر ہے
جومیرا یونیورسٹی فیلوبھی تھا۔ تم جانتی ہو تمہارے علاوہ اور یونیورسٹی میں تحسین کے علاوہ میری
کوئی اور دوست نہیں ہے‘ کسی لڑکے سے دوستی یاانڈراسٹینڈنگ کاتو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ تم
جانتی ہو میں اس معاملے میں کتنی محتاط اور بقول تحسین دقیانوسی سو چ کی مالک ہوں‘ پاپاجی نے
واقعی میرے ساتھ یہ ٹھیک نہیں کیا‘ مجھے ان سے تاحیات اس بات کا گلہ رہے گا۔ وہ سردونوں ہاتھوںمیں تھامے بے بس لہجے میں بول رہی تھی اس کی آنکھیں اس کے اندر کی الجھن وخلفشار کی ترجمانی
کررہی تھیں۔

Read More:  Qatal Mohabbat Ka Anjam Novel By Maria Awan – Episode 1

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: