Aik Qissa Gul e Gulab Ka Novel by Syeda Gul Bano – Episode 4

0

اک قصہ گل ِ گلاب از سیدہ گل بانو – قسط نمبر 4

–**–**–
آخر یہ سب کب تک چلے گا تیمور؟
جب تک تم میری فکر میں دبلے ہونا چھوڑ نہیں دوگے۔
آنٹی آئے دن مجھے ڈانٹ ڈپٹ کرتی رہتی ہیں کہ میں آخر تمہیں سمجھاتا کیوں نہیں۔ عدیم آج حد سے
زیاہ چڑا ہوا تھا۔ تیمور چپ رہا۔
صاحبہ سے تمہاری جھڑپ ہوئی ہے…آنٹی بتارہی تھیں وہ خاصی فکرمند تھیں‘صاحبہ کے لئے وہ خاصی
ُپرامید تھیں کہ شاید وہی ان کے لال کی‘چاند سی دلہن بننے والی ہے۔ عدیم کہہ رہا تھا۔
ان کے لال کاابھی ایک لمبے عرصے تک شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘ چاند سی دلہن کا خواب تو وہ نہ ہی
دیکھیں تو اچھا ہے۔چاند داغدار ہوتا ہے۔ میں اپنی ذات کی تقسیم کسی داغدار شخصیت کے ساتھ نہیں
کرسکتا۔
صاحبہ سے جھڑپ کیوں ہوئی ہے؟ عدیم نے اکتاکر پوچھا۔
بس میرا دل جب فرسٹریشن سے بھ ّنا جاتا ہے تو ایسی چھوٹی موٹی جھڑپیں متوقع ہوتی ہیں‘ جانتے تو ہو
تم۔
کوئی اور شکار تمہارے جال میں پھنسنے چلا آیا ہوگا۔
میں کب پھانستا ہوں کوئی شکار‘ یہ تم آج کون سی زبان بول رہے ہو میرے ساتھ۔
صاحبہ اچھی لڑکی تھی۔ عدیم نے کہا۔
صاحبہ اچھی لڑکی تھی‘ اب نہیں ہے‘ جوبھی لڑکی میرے قریب آتی ہے وہ اچھی بن کر آتی ہے‘ واپس اپنی
اصلیت کے ساتھ جاتی ہے۔
ختم کرو یار یہ آناجانا‘ زندگی کوئی کھیل تماشہ نہیں ہے‘ ان لڑکیوں کے آنچل کے داغ گنتے گنتے خود
تمہارے دامن پر کتنے دھبے لگ گئے ہیں‘ کچھ احساس ہے تمہیں‘ کچھ پروا ہے اس بات کی کہ ان کی وجہ
سے تمہار اکردار بھی کس قدر مشکوک ہوتا جارہا ہے دن بہ دن۔ یہ بھی سوچا ہے کبھی تم نے۔ عدیم آج پھر
اس کے گھر اس کی لمبی کلاس لینے آیا تھا۔فکرمت کرو‘ مرد کا دامن کسی الہڑ دوشیزہ کے کورے دل کی طرح نہیں ہوتا کہ منٹ سیکنڈ میں کسی
کی یادوں کے داغ پڑ جائیں‘ ویسے بھی ان لڑکیوں میں سے زیادہ تر بغیر آنچل کے میرے ساتھ ہوتی ہیں‘ نہ
ہی مجھے کسی کے آنچل کے داغ گننے کا کوئی ایسا خبط ہے‘ زندگی واقعی کوئی کھیل تماشہ نہیں ہے کہ
ان گرگٹ کی طرح رنگت بدلتی‘ آتی جاتی ہوائوں جیسی‘وقت کی طرح بے اعتبار لڑکیوں میں سے کسی
کے نام لگادی جائے۔ تیمور نے لاپرواہی سے کہا۔
جیسے تم انوکھے نرالے ہو‘ ویسی ہی تمہاری بیوی انوکھی نرالی ہوگی۔ کوئی ایسی انقلابی شخصیت
نہیں ہوگی وہ‘ یاد رکھو وقت بار بار کسی کا ساتھ دیتا ہے نہ قسمت کی دیوی بار بارمہربان ہوتی ہے‘
جیسے تمہاری بیوی کو تمہاری ذات کے عیب برداشت کرنا پڑیں گے‘ ویسے ہی تمہیں بھی اس کی کچھ
خامیاں نظر انداز کرنی ہوں گی‘ آج تم اپنے لئے تقدیر کی رضا جانے بغیر جو دل میں آتا ہے فیصلہ کرگزرتے
ہو مگر یہ بھی تم نے کبھی سوچا ہے تقدیر کل تم سے کیا چاہنے والی ہے‘ کیا وہ تم سے پوچھ کر یا تم کوبتا
کر تمہارے لئے کوئی فیصلہ کرے گی‘ تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ کسی کا دل دکھانے کی یا اپنے کئے کی سزا
بھی مل سکتی ہے۔تقدیر ہربار ہمارا ساتھ ہرگز نہیں دیتی‘ تمہیں جیسی بھی بیوی چاہئے تم اس کے لئے
دعا کرو‘ کوشش کرو مگر دعوے مت کرو کہ تم جوچاہوگے وہی پابھی لوگے‘ برائی کے ساتھ رہ رہ کر برائی
کو برائی کہہ کر خود کو اچھا کہلوانا کمال نہیں‘برائی سے دور رہنا شرافت ہے‘ برائی سے دور نہیں رہ
سکتے تو اسے چھوڑ دو‘ برائی کوچھوڑنے کی طاقت نہیں تو برائی سے دور رہو‘ مت اپنائو برائی کو‘ یہ تو
طے ہے کہ جو ہم قدرت کے آگے رکھتے ہیں قدرت اسے دگنا کرکے ہمیں لوٹاتی ہے چاہے وہ نیکی ہو یا گناہ‘
اعتبار انسان کو اپنے اندر سے پیدا کرناپڑتا ہے‘ اگر تم وہ نہیں کرسکتے تو پھر مان لو کہ تم بے بس ہو‘ جب
تم نے خود ہی یہ طے کررکھا ہے اور اسی پرکاربند ہو کہ تمہیں کوئی لڑکی پسند کرے یا تم جس لڑکی کو
پسند کرو اس کی تم نے بہرصورت آزمائش ہی کرنی ہے تو ضروری نہیں کہ قسمت تمہیں مطمئن ہی
کرے‘ قسمت تمہارا ساتھ ہی دے‘ اور مجھے نہیں لگتا کہ قسمت تمہارا ساتھ ہربار دے گی۔
قسمت نے ایک بار بھی میرا ساتھ نہیں دیا اس معاملے میں قسمت خود میری آزمائش کرنا چاہتی ہے‘
ورنہ جن لڑکیوں سے میری دوستی تھی یا ہے وہ کسی بھی لحاظ سے معمولی یا کم ترلڑکیاں نہیں‘ انہیں
…معمولی اور کم تر ان کی عادات‘ مزاج واطوار نے ان کی فطرت نے
گولی مارو ان کی فطرت کو‘ مزاج اپنائے جاسکتے ہیں عادات ترک کی جاسکتی ہیں‘ شوہر باکمال ہو تو
بیوی اس کے بنائے گئے سانچے میں ڈھل سکتی ہے۔
کیسے ڈھل سکتی ہے یار‘ جب میرے پاس اس قسم کی عورتوں کے لئے کوئی سانچہ ہی نہیں ہے‘ ایسی
عورتوں کو اپنانے کے لئے ایک مسلمان کو اپنی انسانیت‘ مسلمانیت اورغیرت کو بے غیرتی کی نیند
سلاناپڑے گا اور میرا دل میری روح ابھی میرے عقیدے سے منکر نہیں ہوئی کہ میںخود کو اتنا گمراہکرلوں‘ میرا ضمیر مجھے عمر بھر سکون کی نیند نہ سونے دے گا۔ مرد ہوں‘ دنیا کا نیچ سے نیچ سوچ
رکھنے والا گھٹیا آدمی بھی اپنی اور اپنی نسل کی بقا و سلامتی کے لئے ایک پاک دامن اور غیرت مند
عورت کاانتخاب کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ کیا میں اس نیچ سے نیچ سوچ رکھنے والے گھٹیا آدمی سے
بھی نیچ اور گھٹیا بن جائوں‘ خود اپنے ہاتھوں سے اپنی مردانگی پہ خباثت‘ بے ایمانی اور بے غیرتی کی
تہمت لگا کر مشرکین اور نامردوں کی قطار میں کھڑا ہوجائوں جو صرف عورت کی بے پردگی‘ بے حیائی
سے متاثر ہو کر خود کو عورت کی ادائوں کے جال میں ہنسی خوشی پھنسا کر اپنے آپ کو عورت کی غلامی
میں دے دیں۔ ایسے مسلمان مرد پر آقاؐ اورملک الملوک دونوں کی دھتکار ہے تو سوچو ایسی عورتوں
پرکیا لعنت اور غضب نہ ہوگا‘ ملک الملوک شہنشاہ عالمین کے مقابل سرکشی دکھانے والے اور مذہب
سے بے وفائی کرنے والے‘ اور آقاؐ کی حکم عدولی کرکے ان کا دل دکھانے والے کی دنیا اور آخرت میں نجات
اور خیر کی کوئی گنجائش‘ کوئی راہ مجھے تو کلام پاک نے کسی آیت‘ کسی سورہ‘ کسی رکوع میں نہیں
دکھلائی‘ پھر میں کیوں اس خوش فہمی کوپال لوں کہ ایسی کسی عورت کی سنگت میں میری بخشش
کے لئے کوئی نہ کوئی راہ‘کوئی نہ کوئی گنجائش نکل ہی آئے گی‘ دانستہ یا نادانستہ جو گناہ مجھ سے
سرزد ہوئے ان میں مزید میں اس گناہ کا اضافہ جانتے بوجھتے ہر گز نہ کرنا چاہوں گا‘ پانچوں انگلیاں برابر
نہیں ہوتیں یا ساری لڑکیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں‘ مجھے اس حقیقت سے انکار ہے‘ نہ میں تمہاری
ایسی کسی رائے پہ معترض ہوں‘ بس مجھے لگن اس بات کی ہے‘ مجھے جستجو اس سچائی کی ہے کہ
میری زندگی میں آنے والی لڑکی نہ کسی غیر مرد کو بغیر جائز تعلق کے متاثر کرنے والی ہو نہ غیر مرد سے
متاثر ہونے والی ہو‘ جستجو میں ثابت قدم اور مستحکم رہنا انسان کاعزم ہوناچاہئے لگن میں ایمان داری
اور صاف نیتی اختیار کئے رکھنا انسان کا کام ہے باقی یہ تو رب کی رضا‘ ہمیں جیسے چاہے نوازے‘ زندگی
گزارنے کے لئے میری بڑی شفاف پالیسی ہے‘ رب سے چاہو‘ رب سے مانگو‘ رب کی مانو‘ قدم توبہک بھی
سکتے ہیں‘ خطا تو ہوبھی سکتی ہے‘ قلب میں کوئی کھوٹ کوئی غلاظت نہیں رکھنی چاہئے‘ واپسی کے
راستے کب گم ہوجائیں؟ توبہ کے دروازے کب بند ہوجائیں؟ انسان کو اس بات کی کیا خبر؟بہتر ہے خود کو
رب کی پناہ میں رکھیں‘ حرس وہوس کے دیوتا شیطان کے سپرد نہ کریں‘ وہ شیطان جس نے ہمیں آخر تک
خوارکرنے کی قسم کھائی ہے۔
صاحبہ سے جھڑپ اس لئے ہوئی ہے کہ اس کو اپنی حیثیت‘ اپنے مقام اپنی ذہانت یا دوسرے لفظوں میں
اپنی فطرت کی تیزی اور چالاکی پر بڑ امان ہے‘ میری زندگی میں آنے والی لڑکیوں میں ایک واحد وہ لڑکی
ہے کہ جس کی طبیعت‘جس کی فطرت صرف میری توجہ اور قیمتی تحائف کے لین دین سے ہی سیر
نہیں ہوتی تھی‘ وہ مرد کے اعتماد‘مرد کی مضبوطی‘ مرد کی ذہانت‘ حیثیت اور طاقت کو کسی خاطر میں
نہیں لاتی‘ وہ صرف ایسے مرد کو پسند کرتی ہے جو معاشرے میں لوگوں میں ہر دم اس کی ذہانت اور
قابلیت کے گن گاتا رہے‘ وہ چاہتی تھی کہ تیمور خان‘ صاحبہ کے ساتھ چلے تو کسی تیسرے دیکھنے والےکو تیمور خان‘ صاحبہ کے ایک اشارے پر دم ہلاتا ہوا نظر آئے‘وہ مجھ سے میرا تشخص‘ میرا اعتماد چھین
کر مجھ سے محبت کرنے پر تیار تھی‘ بصورت دیگر مجھ سے کنارہ کشی کے بعد دنیا میں اس کے لئے
مردوں کی کوئی کمی نہیں‘ جانتے ہو وہ مجھ سے کیا چاہتی تھی؟وہ مجھ سے یہ چاہتی تھی کہ میں
ساری دنیا کے سامنے خود کو اس کے عشق میں پاگل ہونے والا احمق اور بدھو ظاہر کروں اور یہ اعلان کروں
کہ میں اس کی محبت میں ہنسی خوشی اس کے نام پرمرجانا بھی پسند کروں گا‘ وہ چاہتی تھی میں اس
کے آگے پیچھے پھروں اس کی ذہانت‘امیری‘ طراری کا ڈنکا بجادوں‘ پرمیں اس کی غلامی کاڈنکا کیوں
بجائوں؟ میں اس کی قدرت کاملہ کا بول بالا کیوں نہ کروں جس نے مجھے مرد بنایا اور مسلم پیدا کیا اپنی
عاجزی اسلام کی قدروخدمت کے لئے ہے کسی عورت کے اشاروں پہ ناچنے کے لئے نہیں‘ کسی ایسی
عورت کی چاہت کے لئے نہیں جسے اپنے وقار‘ اپنی نسوانیت اور اپنے مذہب کے تقدس کی رتی بھر پروا نہ
ہو۔
او رتم نے یہ سب صاحبہ سے بھی کہا؟ عدیم کا ماتھا ٹھنکا۔
ہاں میں نے یہ سب صاحبہ سے بھی کہا۔ تیمور کا اطمینان قابل دید تھا۔
اور پھر اس کے بعد تم دونوں میں جھڑپ ہوئی؟
ہاں پھر اس کے بعد ہم دونوں میں جھڑپ ہوئی۔
لیکن وہ تو پردہ اپنانے کے لئے تیار تھی تمہارے کہنے پر‘ وہ تو چادر لپیٹ کر تم سے ملنے آتی تھی‘
تمہاری خواہش پر‘ پھر بھی تم نے یقینا اسے بھی ٹھکرادیا‘ہے ناں؟
ہاں‘ میں نے اس کی اصلیت بتانے کے بعد اس سے چھٹکارا حاصل کرلیا ہے‘ کیونکہ وہ میرے کہنے پر خود
کو چادر میں چھپا کرمجھ سے ملنے آتی تھی اور پھرمیرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بڑے نازبھرے انداز
میں کہتی تھی کہ میں شادی کے بعد اسے کسی بات کے لئے پابند نہیں کروں گا۔
تو تم ملتے ہی کیوں رہے اتنا عرصہ صاحبہ سے‘ تم کم از کم یہ وعظ سنانے کے لئے تو اس سے ملاقاتوں کی
ہامی نہیں بھرتے ہوگے‘ یا تم اسے صراط مستقیم پر چلنا سکھانا بھی نہیں چاہتے ہوگے۔ عدیم کو گھوم پھر
کے اس پر غصہ ہی آنا ہوتا تھا اب بھی آگیا۔ تیمور کے لبوں پر ایک تمسخرانہ مسکراہٹ اجاگر ہوئی۔
جب کوئی لڑکی میری زندگی میں چاہے تھوڑے سے دنوں کے لئے ہی آئے اور پھر میری زندگی سے چلی
جائے تو جانتے ہو کہ اس کے میری زندگی میں آنے اور چلے جانے کے اس بیچ کے عرصے میں کیا ہوتا ہے‘ ہم
دونوں ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو اہمیت اور توجہ دے رہے ہوتے
ہیں‘تعریف‘تحائف‘ستائش کے پردے میں ایک دوسرے کو بے وقوف بنارہے ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ میںنے تمہارے جیسامکمل اور بھرپور آدمی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا میں کہتا ہوں میں نے بھی
اس جیسی مکمل اور بھرپور لڑکی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھی‘ ہم دونوں ایک دوسرے پر داد
وتحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہوتے ہیں۔ خوشامد اور جھوٹ کی رنگین جھالروں سے سجا سجا کر‘ میں
اسے جھوٹ ہی کہوں گا کیونکہ مجھے نہیں پتہ اس نے زندگی میں میرے جیسا آدمی دیکھا ہوگا یانہیں پر
میں نے اس جیسی بہت لڑکیاں دیکھی ہوتی ہیں‘ نہ وہ دنیا کی کوئی پہلی یا آخری بہت حسین ترین
لڑکی ہے‘ نہ میں ہی اپنے وقت کا کوئی اپالو ہوں‘ پرہم دونوں ایک دوسرے کے منہ سے اپنی تعریفیں سن
سن کر خود کو ایک دوسرے کے سامنے بہت شانت بڑ امطمئن ظاہر کررہے ہوتے ہیں اور بن بلائے مہمان
کی طرح بغیر کسی بلاوے کے ہماری تنہائی میں شریک ہونے والا شیطان ڈھیروں تسکین پاکر ہماری پیٹھ
تھپک رہا ہوتا ہے۔ ’شاباشی کے طور پر۔
تم ایک انتہائی مشکل آدمی ہو۔ بڑے ہی مشکل آدمی‘بلکہ مشکل ترین آدمی۔ عدیم نے ہمیشہ کی طرح
اکتا کر ہارمان لی۔ تیمور نے اک تفاخرانہ قہقہہ لگایا جو عدیم کوپتہ نہیں کیوں کچھ کھوکھلا محسوس
ہوا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: