Aik Qissa Gul e Gulab Ka Novel by Syeda Gul Bano – Episode 5

0

اک قصہ گل ِ گلاب از سیدہ گل بانو – قسط نمبر 5

–**–**–
مشکلات سے کھیلنا بھی ایک فن ہے‘ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہاتھا عدیم
نے ایک گہری سانس بھرتے ہوئے اسے بغو دیکھا۔
اور اب کسے تختہ مشق بنانے کی باری ہے‘ اب کون بے چاری تمہاری آزمائش کے چرخے کے چکروں کو
بھگتنے تمہاری زندگی میں آنے والی ہے؟ عدیم کا سوال ہلکا سا طنز لئے ہوئے تھا۔ اور پھر عدیم کو چونکنا
پڑا‘ تیمور کے چہرے پر پھیلا مسکراہٹوں کا اجالا یک دم ہی سنجیدگی کے دھندلکے میں ڈھل گیا‘ اس نے
دونوں بازو سر کی جانب سیدھے کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کرنے
کے بعد ہتھیلیوں کے تکئے پر سرٹکاتے ہوئے آہستگی سے پلکیں موند لیں اور دھیمے لہجے میں سرسری
انداز میں بولا۔
فی الحال تو کوئی نہیں‘ اور اب شاید ایک لمبے عرصے تک کوئی نہیں‘ یار عدیم میں بہت تھک گیا ہوں‘
میں اب لمبا ریسٹ لینا چاہتا ہوں۔ اس کے جواب نے عدیم کو کچھ حیران کیا وہ تو سوچ رہاتھا ہمیشہ کی
طرح کسی اور لڑکی کی اپنی زندگی میں اچانک آمد پر ہی اپنی موجودہ گرل فرینڈ کو فارغ کیا ہوگا اس
نے‘ مگر تیمور کا جواب تھا کہ کوئی نہیں‘ بلکہ ایک لمبے عرصے تک کوئی نہیں‘ اپنی اپنی سوچ کی بات
تھی۔ عدیم سوچ رہاتھا کہ کیا واقعی وہ اپنے کہے پرعمل درآمد کا بھی ارادہ رکھتا ہے‘ تیمور سوچ رہاتھا
اب وہ واقعی بہت تھک چکا ہے۔ ایک لمبے عرصے تک اسے مزید کسی لڑکی کو اپنی زندگی‘ اپنی
تنہائیوں میں مخل ہونے کی‘ اجازت یا موقع ہرگز نہیں دینا چاہئے۔ عدیم سوچ رہاتھا کہ کیا واقعی وہ اپنا
یہ قول نبھائے گا بھی۔تیمور سوچ رہاتھا کہ اسے اب اپنی تمام تر توجہ اپنا پورا دھیان بزنس اور عبادت کی طرف مرکوز رکھنا ہے۔
اس کے جذبات معلوم نہیں کیوں روح کی گہرائی تک سرد ہوچکے تھے۔ احساسات کی گرمی‘ جستجو کے
جوش اور بدن میں لہو کا ابال تک ٹھنڈا پڑگیاتھا۔ کچھ بھی تھا یہ اس کی ایک پاک شفاف‘ اجلی ستھری
نیک سوچ تھی اور نیک سوچوں کی مضبوط ڈور کا دوسر اسرا کہیں بھی پہنچا دیا جائے‘ پہنچ جاتا ہے۔
کیونکہ یہ انسان کے ہاتھوں میں دے دیا جاتا ہے لیکن اس ڈور کا پہلا سرا اپنے مقام سے کبھی نہیں ہٹتا
کیونکہ وہ قدرت کے اختیار میں ہوتا ہے۔ تیمور نے اس ڈور کے دوسرے سرے کو کچھ دیر سے اپنی گرفت
میں لیا تھا اور وہ یقینا اپنی گرفت مضبوط بھی کرنا چاہتا تھا‘ مگر جب دیر ہوجائے تو کچھ خبر نہیں ہوتی
کہ اس ڈور کو پہلے سرے سے ملنے والی جنبش سے اس ڈور کے دوسرے سرے پر کی جانے والی گرفت
کی مٹھی میں یہ سرا آتا بھی ہے یا پھر مٹھی خالی رہ جاتی ہے‘ اور تیمور کی گرفت مضبوط ہونا چاہتی
تھی کہ اس کی جانب سے عرصے سے بے نیاز قدرت نے نظر بھر کے اسے دیکھا‘ ڈور کادوسرا سرا اس کی
مٹھی میں اب تھمانا چاہئے یا کچھ کفارے‘ ازالے کے بعد؟ مقدر کے خالق نے اس کی قسمت کی ریکھائوں
کوٹٹولا وہ قسمت جو قدرت کے ایک ہلکے سے اشارے پر اس کی زندگی کے آنے والے کل میں اس کی
زندگی کا فیصلہ کرنے کے لئے بڑی پھرتی سے حرکت میں آئی تھی۔
…٭٭٭…
سفر کے راستے نئے ہوں یا پرانے دلچسپ ہوتے ہیں‘ مگر ہمسفر نیا ہوتوتوجہ کا رخ سفر کی دلچسپی سے
چھوٹ کر ہمسفر کے گرد ہی گھومتا رہتا ہے‘ وہ بھی ان ہی چک پھیریوں کی زد پہ تھی اس وقت کہ جب
سفر کا آغاز ہوچکاتھا۔ اور ہمسفر نہ ہونے کے برابر‘ گم صم‘لاتعلق‘ بے نیاز‘ خیر یہاں تک تو بات قابل
برداشت تھی مگر اس کے سپاٹ چہرے کے پتھریلے تاثرات اکھڑے اکھڑے تنے تنے تیورشاذیلا کو خوامخواہ
بے سکون کر ر ہے تھے‘ وہ عدم اعتمادی کی کیفیت میں گرفتار پچھلی سیٹ پر دبکی بیٹھی تھی‘کار ہوا
سے باتیں کر رہی تھی بلکہ الجھ رہی تھی‘اور کار کو ڈرائیو کرنے والے کے ماتھے کے بل گنتے گنتے پتہ نہیں
کتنا سفر طے ہوا تھا اور کتنا ابھی باقی تھا‘اچانک اسے کار کی رفتار دھیمی پڑتی محسوس ہوئی‘ شاذیلا
جوپہلے اس کی جانب متوجہ تھی اور اب شیشے کے پار دوڑتے بھاگتے مناظر میں کھوئی ہوئی تھی یک دم
چونکی‘ کار کی رفتار ضرورت سے زیادہ دھیمی پڑگئی تھی‘ اس نے دیکھا ویومرر میں دکھائی دیتی تیمور
کی آنکھوں میں سخت بے چینی تھی‘ کار کی رفتار بدستور دھیمی تھی اور اچانک یوٹرن لیتے ہوئے اس نے
کار سڑک سے اتار کر کچے پہ لانے کے بعد اس سڑک سے ملحقہ کچھ ہی آگے سے نکلتی دوسری سڑک پہ
کار چڑھائی‘ اسٹیئرنگ سرعت سے کلائیوں کے دائرے میں گھمانے کے ساتھ ساتھ وہ ویومرر سے پیچھے
دیکھ رہا تھا‘ شاذیلا نے اسی کی تقلید میں مڑکے پیچھے دیکھا پیچھے سڑک دور دور تک سنسان پڑی تھی‘وہ دوبارہ سامنے متوجہ ہوئی اور اسے اپنا دم شہ رگ کے پاس اٹکتا محسوس ہوا۔ دھڑکنیں اچھل کر حلق
میں آن پھنسیں۔
بیٹا‘خیال رہے جنگل کے راستے کی طرف سے مت جانا‘ وہ راستہ کٹھن اور طویل بھی ہے اور پرخطر بھی۔
شاذیلا کو باپ کی نصیحت یاد آئی‘جوان دونوں کے سفر پر نکلتے وقت انہوں نے تیمور کو کی تھی اور
شاذیلا دیکھ رہی تھی گاڑی کا رخ جنگل کی جانب جھکی ڈھلوان کی سمت تھا‘ اسے یقین نہ آیا کہ وہ
گاڑی جنگل میں اتار رہا ہے‘ اسے یقین نہ آیا کہ وہ جو دیکھ رہی ہے وہی ہو رہا ہے‘ یہ سب خواب تھا کہ
حقیقت‘وہ ابھی یہ فیصلہ نہ کرپائی تھی‘ ڈھلوان اترنے کے بعد گاڑی کی رفتار ایک بار پھر بڑھادی گئی
تھی۔ آگے کچھ پتھریلا میدان تھا اور چند گز کے بعد آسمان سے باتیں کرتے اونچے اونچے دیوقامت درختوں
سے اٹا گھنا جنگل‘ وہ اب اپنی جانب اور فرنٹ ڈور کا شیشہ چڑھا رہا تھا۔
تت… تیمور…؟ وہ بے اختیار ہی گھبرا کے اسے پکار اٹھی‘ مگر آواز اتنی ہلکی اور پھنسی پھنسی سی تھی
کہ خود اس کی سماعتیں بھی ٹھیک سے نہ سن پائی تھیں۔ وہ کیسے سنتا؟ گاڑی کے اردگرد آگے پیچھے
دھول مٹی کا غبار سا اڑ رہاتھا ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالے گاڑی چلانے کے ساتھ ساتھ وہ دونوں
سمت کے شیشے چڑھانے کے بعد کلچ دبا کر گیئر بدل رہا تھا۔ گاڑی نے آگے ایک چھوٹے مگر گہرے گڑھے
میں پھنس کر جھٹکا کھایا اور پھر رک گئی۔ چند سیکنڈ گاڑی کے پہیوں کے شور میں گاڑی آگے پیچھے
ہچکولے کھاتی رہی پھر اچھل کر پیچھے گئی اور پہلے سے کچھ زیادہ قوت کے ساتھ اچھل کر اسی گڑھے
کو پار کرکے ایک زوردار جھٹکے سے آگے نکل گئی۔ شاذیلا نے اپنے آگے کی سیٹ کو مضبوطی سے نہ پکڑ
رکھا ہوتا تو وہ بھی یقینا اسی طرح اچھل کر اگلی سیٹوں کے درمیان الٹ چکی ہوتی‘ جنگل کی شروعات
ہوچکی تھیں‘ شاذیلا نے دہل کر تیمور کے گھنے بالوں والے سر کو گھورا۔
یہ…یہ ہم کہاں…جارہے ہیں تیمور؟ شاذیلا نے ایک بار پھر بولنے کی ہمت کی اور کامیاب رہی اس کی آواز
اب بھی پھنسی پھنسی تھی مگر اتنی بلند ضرور تھی کہ وہ بھی سن لیتا‘ اور یقینا اس نے سن لی تھی‘
ایکسیلیٹر پر پیروں کا دبائو ڈالتے ہوئے وہ اس کی آواز پر متوجہ ہوا۔
میری اطلاع کے مطابق اسے جنگل کہتے ہیں۔بھاری لہجہ بگڑابگڑاتھا۔
جنگل…ہاں یہ جنگل ہے میں جانتی ہوں‘ پرہم اس جنگل میں کیا کرنے جارہے ہیں؟ گاڑی درختوں کے بیچ
سے راستے نکالتی آڑھے ترچھے سفر پردائیں بائیں لڑھکتی آگے پیچھے ڈولتی جنگل میں داخل ہو رہی
تھی۔ اس نے شاذیلا کے اگلے سوال کو دانستہ نظر انداز کردیا۔گاڑی روکئے…تیمور گاڑی روکئے۔ ذہن میں ایک عجیب سے خدشے کو جاگتا محسوس کرکے وہ یک دم ہی
بے چینی سے مچلی‘ تیمور نے گاڑی روکے بغیر کن انکھیوں سے اس کی پریشان رنگت والے خائف چہرے
کو دیکھا پھر دوبارہ ونڈاسکرین پر توجہ مرکوز کرلی۔
میں نے کسی تفریح کے لئے گاڑی جنگل میں نہیں اتاری ہے‘ میں نے کوئی پرابلم محسوس کرنے کے بعد
کچھ دیر کے لئے سفر کوملتوی کیا ہے۔ وہ قدرے رسان سے بولا۔ شاذیلا اور بھی گھبرا گئی۔
سفر ملتوی؟پرابلم…مگر کیسی پرابلم؟ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں تیمور؟
مجھے شک ہے کہ کوئی مسلسل ہمارا تعاقب کررہا ہے۔ میں نے پچھلے پندرہ منٹ تک کسی گاڑی کو پیچھا
کرتے محسوس کیا ہے‘ ایک مخصوص فاصلہ رکھنے کے بعد میں نے اس گاڑی کی اوورٹیک کرنے کی
کوشش کوناکام بنایا ہے۔ وہ کچھ متفکر انداز میں بتارہاتھا۔ شاذیلا کے دل میں خوف کی لہریں پھیل گئیں‘
اتنا کچھ ہوا اور وہ کتنی بے خبر ہوکے اپنے آپ میں گم بیٹھی تھی‘ کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟ اچانک شاذیلا نے
اسے مشکوک انداز میں بغور دیکھا اور یہ اتفاق تھا کہ وہ ویومرر سے اسی کے تاثرات کو دیکھ رہا تھا۔ وہ
یک دم ہی نظریں چرا کر اردگرد پھیلے جنگل کو دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں پریشانی تھی‘ اس جنگل
تک پہنچنے کامطلب تھا کہ وہ ۲۵منٹ کا سفر طے کرآئے تھے‘ اور ڈھائی گھنٹے کا سفر ابھی باقی
تھا۔شاذیلا نے منتشر سوچوں کے درمیان اندازہ لگایا‘ اسی پل وہ چونکی‘ گاڑی رک گئی تھی‘ تیمور اپنی
طرف کے دروازے کو دھکیل کرسر قدرے جھکا کر گاڑی سے اترا‘ دروازہ بند کرنے کے بعد اس نے گاڑی کے
ٹائروں کا جائزہ لیا۔ شاذیلا الجھی نظروں سے چپ چاپ اس کی سرگرمیوں کو دیکھ رہی تھی۔ وہ اب گھوم
کر اس کی جانب آرہا تھا۔ وہ اس کے سامنے آکر رکا اور اب وہ شہادت کی انگلی کی پشت سے اس کی
جانب کے شیشے کو بجارہاتھا۔ شاذیلا نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے شیشہ نیچے کیا تووہ ادھ
کھلے شیشے پر جھک آیا اور بولا۔
اترو۔ شاذیلا کو جنگل کے پراسرار ماحول میں اس کی آواز بھی بے حد پراسرار لگی۔
پر کیوں؟ شاذیلا کی دھڑکنیں ڈانواں ڈول ہوئیں۔
یہ سوال جواب کا وقت نہیں ہے ہمیں یقینا کسی پناہ کی ضرورت ہے۔ میں بتاچکاہوں کہ کوئی گاڑی ہمیں
فالو کرتے ہوئے ہمارا تعاقب کررہی ہے۔
پرمیں نے تو کسی گاڑی کو فالو کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ وہ بولی تو تیمور نے جھنجلا کر لب بھینچے۔
تمہارا مطلب ہے کہ میں کوئی بکواس کررہا ہوں‘ جھوٹ بک رہا ہوں۔
جب میں نے کچھ ایسا نہ دیکھانہ محسوس کیا تو میں کیسے یقین کرلوں آپ کی بات کا۔میں تمہیں بتارہا ہوں کیا یہ کافی نہیں ہے‘ میرا خطرے کومحسوس کرنایادیکھنا کافی نہیں ہے۔
پرآپ مجھے یہ سب اسی وقت بھی توبتاسکتے تھے‘ پھر مجھے کیوں یقین نہیں آتا۔ وہ کمزور سے لہجے
میں بولی تو تیمور زچ ہوا۔
حماقت کی جوتمہیں اسی وقت نہ بتادیا؟ بھول ہوگئی مجھ سے…تم…تم مجھ پر شک کررہی ہو؟ بات
کرتے کرتے وہ یکلخت ٹھٹکا۔ شاذیلا بے ساختہ نظر چراگئی۔ اس کی جانب جھکے تیمور نے ہاتھ بڑھا کر اندر
سے دروازے کا لاک ہٹایا‘ اب وہ دروازہ کھولنے کے بعد سیدھا کھڑا تھا۔ شاذیلاخاموشی سے اسے دیکھتی
رہی۔
ابھی جنگل کی شروعات ہوئی ہیں ہم اتنی دور نہیں پہنچے کہ ہمارے تعاقب میں آنے والے ہمیں تلاش نہ
کرسکیں۔ وہ اس سڑک پراگلے پندرہ بیس منٹ تک پہنچ چکے ہوں گے‘ ہوسکتا ہے وہ ہمارے تعاقب میں
جنگل تک نہ بھی آئیں پر آگے سڑک کی حالت ایسی ہے کہ کوئی بھی گاڑی آدھے گھنٹے سے پہلے اس
علاقے سے نہیں نکل سکتی۔ وہ باآسانی اندازہ لگالیں گے کہ ہماری گاڑی اتنی جلدی کہاں غائب ہوسکتی
ہے۔
لیکن ہم اس دوسری سڑک سے بھی تو اپنا سفر جاری رکھ سکتے تھے۔
رکھ سکتے تھے پر یہ سڑک ہماری منزل کی سمت نہیں جاتی۔ ہم دوسرے شہر جاپہنچیں گے اور وہ بھی
صبح تک‘ رات یقینا ہم سفر میں ہی بھٹک کر گزارتے۔
مگر ان لوگوں سے تو بچ نکلتے۔
کیسے بچ نکلتے؟میں نے پیچھے کے تمام سفر میں اب تک تین راستے بدلے ہیں اور ہر راستے پر اس گاڑی
کو تعاقب میں دیکھا ہے۔
تو…توپھر تووہ یہاں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ شاذیلا یک دم ہی گھبرا گئی۔
ہاں وہ یہاں تک بھی پہنچ سکتے ہیں کیونکہ ان کچے پکے راستوں اور ٹوٹی پھوٹی سڑک پہ گاڑی کے ٹائرز
کے نشان وہ آسانی سے شناخت کرلیں گے۔ اسی لئے میں نے یہاں گاڑی روکی ہے۔ اسی لئے تمہیں گاڑی
سے اترنے کے لئے کہہ رہا ہوں۔
پر ہم پیدل کیسے سفر کرسکتے ہیں؟ شاذیلا کو یہ سوچ کر ہی غش آنے لگا کہ باقی کاسفر پیدل طے
کرناپڑا تو…؟ہم پیدل سفر نہیں کریں گے‘ آگے گاڑی کے لئے کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے‘ ہمیں گاڑی کے لئے
مناسب راستہ تلاش کرنا ہے تاکہ ہم اس جنگل کے کسی دوسرے حصے سے نکل سکیں۔ تیمور نے کہا توہ
کچھ سوچ کر بولی۔
…کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ یہ کام تنہا کریں… میرامطلب ہے کہ…میں یہاں گاڑی میں ہی آپ کاانتظار
ہاں تاکہ وہ لوگ یہاں آئیں اور بنا کسی مشقت اور مشکل کے تمہیں گاڑی سمیت اپنے ساتھ لے جائیں اور
میں ادھر جنگل میں بھٹکتا چکراتا پھروں۔ تیمور نے جھنجلا کر اس کی بات کاٹی تو شاذیلا کچھ دھیمی
پڑگئی۔

Read More:  Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 45

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: