Aik Qissa Gul e Gulab Ka Novel by Syeda Gul Bano – Episode 6

0

اک قصہ گل ِ گلاب از سیدہ گل بانو – قسط نمبر 6

–**–**–

آپ مجھ پہ غصہ کیوں ہو رہے ہیں تیمور…یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس سب میں میرا تو کوئی قصور
نہیں… ٹھیک ہے ہم دونوں ساتھ ہی چلتے ہیں۔ وہ اسے کچھ خفگی سے دیکھتی پریشان چہرے اور
گھبرائے دل کے ساتھ گاڑی سے اتر آئی۔ تیمور نے شیشہ چڑھایا۔ خراب موڈ کے ساتھ دروازہ کھٹاک سے بند
کیا اب وہ گاڑی لاک کرنے کے بعد چاروں طرف کا جائزہ لے رہاتھا۔ دونوں ہاتھوں کو پہلوئوں پر ٹکا کے اردگرد
طائرانہ نگاہ ڈالنے کے بعد اس نے غیر ارادی طور پر ایک نظر اوپر فضا میں بھی دوڑائی‘ پھر وہ آگے کی
سمت چل پڑا‘ شاذیلا روبوٹ کی طرح اس کی پیروی کے لئے مجبور تھی۔ اب وہ کی چین کی مدد سے ایک
کا نشان لگایا xدرخت کے تنے کو کھرچ رہا تھا۔ شاذیلا نے دیکھا درخت کے تنے پر چابی کی نوک سے اس نے
اور اگلے چند لمحوں میں قدم آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ شاذیلا نے دیکھا وہ راستہ کھوجنے کے علاوہ آگے
کا نشان لگاچکاتھا۔ xچند اور درختوں پر
کا نشان کھرچتے ہوئے اچانک وہ ہاتھ روک xکیا اپنا سیل فون تم ساتھ لائی ہو؟ آگے ایک درخت کے تنے پر
کر اس کی جانب پلٹا‘ شاذیلا نے سر کو نفی میں جنبش دی۔
آپ کا موبائل…؟
میں جلدی میں وہ گھر پر ہی بھول آیا۔ اس نے جواب دیا تو شاذیلا کا دل ڈوب ساگیا۔ وہ اب دوبارہ درخت
کی جانب پلٹ گیاتھا اس کے ہر ہر انداز میں تیزی تھی۔
میں تھک گئی ہوں…آخر کوئی راستہ کب ملے گا ہمیں۔چل چل کرمیرے پائوں دکھنے لگے ہیں۔ وہ ایک جگہ
تھک کر رک گئی۔
خود کو مضبوط کرو‘ یہ دیکھو یہ راستہ ہی لگ رہا ہے شاید… گاڑی یہاں تک تو پہنچ جائے گی۔ مگر ہمیں
جنگل سے باہر جانے والا کوئی راستہ ڈھونڈنا ہے۔ یہ کیا تم یہاں ایسے کیوں بیٹھ گئی ہو…مجھے یقین ہے
ہم صحیح راستہ ڈھونڈ رہے ہیں…یہ راستہ ہی دکھائی دے رہا ہے۔ اٹھو بھئی‘ خطرہ ہمارے سر پر منڈلارہاہے۔ جہاں اتنا چل آئی ہو مزید تھوڑی سی اور ہمت کرلو… اسے ایک جگہ بیٹھ کر سرہاتھوں میںپکڑتے
دیکھ کر تیمور پھر سے جھنجلا گیا۔
میں واقعی ان اونچے نیچے تنگ راستوں پر چل کر بہت تھک چکی ہوں۔ مجھ سے اور نہیں چلا جائے گا…
آپ اکیلے چلے جائیں۔ واپس تو آپ کو یہیں آنا ہے تیمور۔
کیامطلب ہے تمہارا… اکیلا چلاجائوں… یہ بچکانہ ضد کا وقت نہیں ہے۔ پتہ نہیں کتنی دور جاکر راستہ ملتا
ہے یہاں سے نکلنے کا…واپس گاڑی لینے میں تنہا ہی آئوں گا…یاہوسکتا ہے سڑک تک پہنچنے پر کوئی
کنوینس مل جائے اورگاڑی لینے نہ آناپڑے۔
پتہ نہیں سڑک تک پہنچیں گے یا کسی کھائی یا دلدل تک۔ وہ جومزید چلنے کے موڈ میں نہ تھی اٹھ کر
سست قدموں سے پھر چلنے لگی۔
کوئی دلدل نہیں ہے اس جنگل میں اور کھائی تک جانے والا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ رہا ہوں میں… میں وہ
راستہ ڈھونڈ رہا ہوں جوہمیں تعاقب کرنے والوں کی دسترس سے دور لے جائے‘ میں وہ راستہ ڈھونڈ رہا
ہوں جو ہمیں بحفاظت ہماری منزل تک لے جائے۔ وہ جھنجلا کے بولتا چلا گیا۔
بس اب مجھ سے مزید نہیں چلاجائے گا‘ اب میں یہاں سے ایک بھی قدم آگے چلی تو میرا دم رک جائے گا۔
کافی فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ ایک بار پھر گڑگڑائی‘ تیمور کے قدم تھم گئے۔ اس نے پلٹ کر دیکھا وہ
زمین پر گھٹنوں کے بل نڈھال سی بیٹھی ہانپ رہی تھی۔ سردموسم کے باوجود اس کا چہرہ پسینے میں
چمک رہاتھا۔
تم کچھ دیر سستالو توپھر ہم اپنی تلاش شروع کریں گے۔ اس کا لہجہ نرم اور مصالحت آمیز تھا۔
مجھے اب کہیں نہیں جانا…مجھ میں اور چلنے اور ٹھوکریں کھانے کی طاقت نہیں‘ یہ دیکھیں میرے پائوں
زخمی ہورہے ہیں تیمور۔ آپ کومجھ پر رحم نہیں آرہا۔ میں سچ کہہ رہی ہوں۔ میں اب مزید ایک قدم نہیں
چل سکتی۔ چاہے آپ کچھ کرلیں میں اب اور نہیں چلوں گی۔ وہ بالکل بچوں کی طرح روہانسی ہو رہی
تھی۔ وہ اپنے خراش زدہ پیر سینڈلز سے آزاد کرنے کے بعد دونوں ہاتھوں سے اپنے پیروں کو سہلا رہی تھی۔
میں تمہیں تنہا کسی صورت بھی چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔ یہ ریس کورس یا پارک نہیں ہے ایک پرخطر اور
بڑ اجنگل ہے۔ سو طرح کی مصیبتیں درپیش آسکتی ہیں۔ سب سے بڑی آفت وہ لوگ ہیں جو ہمارے تعاقب
میں ہیں۔ تیمور کی بات مکمل ہی ہوئی تھی کہ شاذیلا چونکی۔
تیمور…؟ شاذیلا نے کسی خیال کے تحت جلدی سے سراٹھایا تو تیمور کو اس کی آنکھوں میں چمک گہری
ہوتی محسوس ہوئی۔کیا یہ ٹھیک نہیں کہ آپ جاکر گاڑی لے آئیں۔ جہاں تک ہمیں اب راستہ مل رہا ہے ہم گاڑی کے ذریعے آگے
کا راستہ ڈھونڈتے چلے جائیں۔ شاذیلا پرجوش لہجے میں کہہ رہی تھی۔ تیمور کو اس کامشورہ مناسب
لگا۔
یہ خیال مجھے کیوں نہیں آیا…وہ قائل ہونے والے انداز میں سراثبات میں ہلاتے ہوئے بڑبڑایا۔
ٹھیک ہے میں جاکر گاڑی لاتا ہوں۔ تم یہاں سے ایک انچ بھی‘ ایک قدم بھی ادھر ادھر نہ ہونا۔ تم مجھے دور
سے ہی یہیں کھڑی نظر آئوگی تو مجھے راستہ درست ہونے کااندازہ ہوگا۔ دیکھو میں پھر کہہ رہا ہوں۔
جنگل کے راستے بہت پیچیدہ ہیں اپنی جگہ سے ہلنا بھی مت۔ یہ نہ ہو کہ تم راستہ بھٹک جائو… مجھے
کے نشانات xآنے میں دیر ہوجائے تو پریشان نہ ہونا۔ زیادہ دیر ہونے کی صورت میں تم ان درختوں پر بنے
کے ساتھ ساتھ محتاط انداز میں میرے پیچھے آسکتی ہو پربہت احتیاط کے ساتھ خود کو اوجھل رکھتے
ہوئے اور کم از کم اب سے بیس یا پچیس منٹ تک تو تمہیں میرا یہیں انتظار۔ وہ اسے تفصیلی ہدایات
جاری کرتے کرتے یک دم ہی چپ سادھ گیا تھا۔ اپنے پیروں کو سہلاتی شاذیلا نے دیکھاوہ دائیں جانب کے
درختوں کے تنوں کوبغور گھور رہاتھا۔ اگلے چند لمحوں میں اس نے تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے کچھ اور درختوں
کے تنوں کو متلاشی نظروں سے غور غور سے دیکھا پھر شاذیلا کو دیکھتے ہوئے وہ معلوم نہیں کیوں لب
بھینچ گیا۔ اب وہ دونوں ہاتھ پہلوئوں پہ ٹکاکے ہلکے ہلکے تھمے تھمے قدموں کے ساتھ اس کی طرف
آرہاتھا۔ شاذیلا چہرہ اٹھا کر اسے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔ تیمور نے اس کی صورت
تکتے ہوئے پھر بے مقصد انداز میں ایک نظر اردگرد ڈالی۔ اس کے بعد وہ پنجوں کے بل اس کے سامنے
آبیٹھا۔
تمہارے پیروں کی تکلیف کچھ کم ہوئی یانہیں۔ نرم لہجہ‘ بھرپور توجہ‘ اس کے پیروں کو ہمدردانہ نظروں
سے تکنے کاغیر متوقع انداز شاذیلا کو اچنبھے میںڈال گیا۔
پیچھے ایک جگہ میرا بایاں پائوں ایک گڑھے میں دھنس کربہت زور کا جھٹکا لگنے سے مڑا تھا مجھے ڈر ہے
موچ نہ آگئی ہو۔ذرا سی ہمدردی پاکر اس کالہجہ بھیگنے لگا۔ نازک آواز میں بے بسی تھی۔
لائو دکھائو۔ تیمور نے مروتاً اپنی خدمات پیش کرنا چاہیں۔
نن…نہیں… بس…میں سہہ لوںگی… اب یہاں جنگل میں بھلا کیا علاج ہوسکتا ہے۔ ویسے شاید موچ نہیں
آئی۔ شاذیلا نے اس کے بڑھتے ہاتھوں کی دسترس سے اپنا پیر دور ہی رکھا۔
آپ جائیے… گاڑی لے آئیں… میں یہیں آپ کاانتظار کروں گی۔شاذیلا۔مجھے لگتا ہے کہ اب تمہیں بھی میرے ساتھ چلنا پڑے گا۔ اس کی جانب دیکھے بنا وہ اس کے
پیروں کو دیکھتے ہوئے بولا۔ شاذیلا ٹھٹک گئی وہ بائیں ہاتھ سے اپنا دایاں گال کھجا رہاتھا۔
ہم…ہم بے دھیانی میں راستہ بھٹک گئے ہیں۔ وہ آہستگی سے بولا۔
کیا…ہم راستہ بھٹک گئے ہیں۔ پر یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ وہ گھبرا کے چیخ اٹھی۔ تیمور اس کے چہرے کی
ناگواریت کو دیکھتا کھڑا ہوگیا۔
کا نشان لگانا xیہ سب تمہاری وجہ سے ہوا۔ تمہاری بحث کی وجہ سے میں پتہ نہیں کتنے درختوں پر
بھول گیا۔ تیمور نے انکشاف کیا۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ جنگل کی سرسراتی ہوائوں میں شاذیلا کو اپنی آواز ہی بہت اجنبی لگی۔
یہ ہوچکا ہے۔
آپ کو دھیان رکھنا چاہئے تھا تیمور۔ وہ بے تحاشہ گھبرا گئی تھی۔
میں مانتا ہوں مجھ سے بھول ہوگئی۔ مجھے خیال رکھنا چاہئے تھا مگر جوہونا تھا ہوچکا اب ہمیں اپنے اگلے
قدم کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ وہ بھی اسی کی طرح جھنجلا کے بولا اور یہ الفاظ سن کر شاذیلا کے
دکھتے پیروں میں اٹھتی ٹیسوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔ وہ فق چہرے کے ساتھ اسے دیکھتی سرنفی میں
ہلا گئی۔
میں بہت تھک چکی ہوں۔ اب نئے سرے سے گاڑی تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈنے کی مجھ میں ذرا سی
بھی ہمت نہیں ہے تیمور۔ وہ گھبراہٹ کے عالم میں پہلے سے بھی زیادہ قوت سے چلائی۔ تیمور نے اسے
ناگواری سے گھورا۔
میں بھی تھک چکا ہوں… مجھ میں بھی اتنی ایکسٹراانرجی نہیں ہے کہ تمہیں اٹھا کر گاڑی کو ڈھونڈتا
پھروں۔ تیمور ناگواری سے بولا۔
میں ایسے فضول الفاظ سننے کی عادی نہیں ہوں۔ شاذیلا تنک کر ناگواری سے بولی۔ تیمور کی غصے میں
کہی گئی بات اس کے گال تپا گئی تھی اس کا چہرہ تمتما اٹھا۔ اور اب میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں
کے نشان لگاتے xجائوں گی… آپ جیسے چاہیں گاڑی کوجاکر تلاش کریں۔ پہلے کی طرح ہی درختوں پہ
ہوئے یہاں سے جائیے اور گاڑی ملنے پر یہاں سے مجھے پک کرلیجئے۔ شاذیلا کے اکھڑے تیوروں‘ضدی
لہجے سے ظاہر تھا کہ وہ اب کسی صورت اپنی جگہ نہ چھوڑے گی۔ تیمور یک دم ہی پلکیں میچ کر چہرہ
مخالف سمت پھیرتے ہوئے لب بھینچ گیا۔بے وجہ شک… بے وجہ بحث اور اب بے وجہ غصہ… تم مجھے مزید پریشان کرنے کی کوشش کررہی ہو‘
ایسے وقت میں کہ جب تمہیں میرا ساتھ دینا چاہئے‘ تمہیں میرا یقین کرنا چاہئے۔ وہ ضبط کے ساتھ سرد
لہجے میں بولا۔
کیا میں نے اب تک آپ کا ساتھ نہیں دیا ہے؟ کیا میں نے اب تک آپ پر یقین نہیں کیا ہے؟پہلے آپ نے گاڑی
جنگل میں اتار دی۔ اور مجھ سے کہا کہ ہمیں خطرہ ہے‘ ہمیں کسی پناہ کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد آپ
نے مجھے گاڑی سے اترنے کے لئے کہا اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم راستہ بھٹک گئے ہیں۔
میں نے سچ کہا ہے۔ ہم واقعی راستہ بھٹک گئے ہیں۔ تم…مجھ پرشک کررہی ہو؟ یہ سب پری پلانڈ نہیں
ہے یہ دن یہ وقت تمہاری قسمت میں لکھا تھا‘ سو آکے رہا اس کے لئے تم مجھے مورد الزام نہیں
ٹھہراسکتی ہو۔ پچھلے تمام وقت میں نے تمہاری آنکھوں میں بے یقینی دیکھی ہے۔ شک دیکھا ہے‘ جو کہ
بے بنیاد اور فضول ہے۔ میری جگہ اس وقت تمہارے ساتھ تمہارا منگیتر بھی ہوسکتاتھا‘ کیا تم اس پر
بھی شک کرتیں؟ نہیں تم اس پر شک نہیں کرتیں کیونکہ وہ تمہاری نظروں میں مجھ سے زیادہ اہم اور
قابل اعتبار ہے۔وہ تمہاری نظروں میں مجھ سے زیادہ سچا اور دیانتدار آدمی ہے۔ تم یہ سمجھتی ہو کہ اس
کے دل میں اس کی نیت میں تمہارے لئے کھرا پن اور فرشتگی ہی فرشتگی ہے۔ معصومیت اور پاکیزگی
ہی پاکیزگی ہے۔ وہ یک دم ہی چٹخ گیاتھا۔
آپ بات کو بہت غلط رخ دے رہے ہیں تیمور۔ بہت ضبط کے باوجود شاذیلا کا لہجہ کپکپا گیا۔ تیمور کے لفظ
لفظ نے اس کی روح تک کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ وہ اندر ہی اندر حیا سے کٹ کر رہ گئی۔
آپ مجھے تھوڑا ساوقت دیں۔ میرے پائوں سن ہو رہے ہیں۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی۔ مگر سن ہوتے
پیروں کے ساتھ میں کیسے چل سکتی ہوں؟ یہ کہہ کر شاذیلا نے پلکیں جھکاتے ہوئے پھر سے اپنے پیروں
کوسہلانا شروع کیا۔ اس کی جھکتی ہوئی پلکوں کے سائے روٹھی شاکی نظروں میں تیزی سے امڈتی
نمی تیمور کی زیرک نگاہوں سے نہ چھپ سکی تھی۔ دوسرے ہی پل وہ نگاہ کے ساتھ رخ بھی پھیر گیا
اس کی توجہ واپسی کے راستے کی سمت تھی اس کا پائوں نیچے کسی جھاڑی میں اٹک گیا‘ بے دھیانی
میں پائوں آزاد کراتے ہوئے تیمور کی نظریں جیسے زمین کے اس ٹکڑے پہ ہی دھنس کر رہ گئیں۔ وہ غیر
ارادی طور پر دو قدم پیچھے ہٹا اس کے دماغ میں جیسے کوئی انگارہ پیوست ہوگیا۔ دھڑکنیں ہچکولے کھاکر
رہ گئیں‘ اس کی آنکھوں نے لمحوں میں زمین کو دائیں بائیں سے کھنگالا اب وہ ایک بار پھر جنگل کی
پتھریلی ریتلی زمین کے اس قطعے کو متحرش نظروں سے گھور رہاتھا۔ جہاں کوئی سانپ بل کھاتا لکیر
کھینچ گیا تھا۔ تیمور نے سنبھل کر دوتین قدم چل کر اس لکیر کاپیچھا کرناچاہا اور چوتھے ہی قدم پر وہ
دھک سے رہ گیا۔ کوئی مٹیالا سانپ تیزی سے نظروں سے اوجھل ہواتھا۔ وہ صرف اس کی چمکدار لچکتی
ہوئی دم کو دیکھ سکاتھا۔ تیمور کی رگوں میں تکلیف دہ سنسناہٹ بھر گئی تھی۔ اسے اپنی کنپٹیوں کیشریانیں کھنچتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔ دل پر بے تحاشہ بوجھ لئے اس نے پلٹے بغیر چہرہ گھما
کرپیچھے زمین پربیٹھی شاذیلا کو دیکھا جو اس نئی افتاد سے بے خبر کسی نادان بچے کی طرح دکھائی
دی تھی اور پھر وہ چادر سنبھالتی پائوں سینڈلز میں پھنسا کر اسٹریپ بند کرنے لگی۔
چلیں تیمور…؟ اب وہ کھڑی ہو رہی تھی۔ وہ اس کے ساتھ ایک سمت چل پڑا تھوڑی دور چلنے کے بعد اندر
سے متفکر تیمور سنسناتے ذہن کے ساتھ اس کے قریب آیا۔ شاذیلا کو اس کے پلٹنے پر کچھ حیرت ہوئی۔
کیا مجھے اسے بتادینا چاہئے کہ میں نے یہاں ابھی سانپ کو دیکھاتھا۔ وہ شاذیلا پر نظریں جمائے اندر ہی
اندر شش وپنج کا شکار تھا اور اس کی نظروں کے بے اختیاری جمود نے شاذیلا کو خود میں سمٹنے پر
مجبور کردیا۔ وہ ان گہری آنکھوں کی بھرپور توجہ کی تاب نہ لاکر نظریں چرا کر دو قدم دور ہوئی۔ اس نے
کن انکھیوں سے دیکھا وہ اب ایک ہاتھ سے گردن کھجاتے ہوئے پھر سے پلٹ گیا تھا۔ وہ دوسرے ہاتھ کو
منتشر بالوں میں پھیر رہاتھا۔ اس کے انداز کی بے چینی‘ بے ساختگی‘ اضطرار اور بے اختیاری شاذیلا کو
بری طرح کھٹک رہی تھی۔ جنگل کی گہری ہوتی نیم تاریکی شاذیلا کے اندر تفکر پھیلا رہی تھی۔ شام ہو
رہی تھی اور وہ ابھی تک اپنی منزل سے دور اس جنگل میں بھٹک رہے تھے اوراب اس کا پراسرار انداز‘ نہ
سمجھ میں آنے والی الجھی الجھی حرکتیں؟ شاذیلا نے دیکھا اب وہ پھر اس کی سمت متوجہ تھا۔
تراشیدہ سیاہ مونچھوں تلے لب کاٹنے کاانداز اضطراری تھا۔
تم ذرا دیر کو یہاں بیٹھ جائو۔ میں جب تک یہاں سے کسی درخت کی کوئی شاخ توڑ لوں؟ جہاں سانپ
نظر آیاتھا وہ اب اس جگہ سے آگے نکل آئے تھے۔
درخت کی شاخ… اس کی کیاضرورت ہے؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: