Aik Qissa Gul e Gulab Ka Novel by Syeda Gul Bano – Episode 7

0

اک قصہ گل ِ گلاب از سیدہ گل بانو – قسط نمبر 7

–**–**–

ضرورت پڑسکتی ہے۔ یہاں کتنی جھاڑیاں اور جگہ جگہ ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ لمبی گھاس اگی ہوئی ہے۔ ہمیں
بہت دیکھ بھال کر چلنا چاہئے‘ زہریلے کیڑے یا سانپ وغیرہ سے بچائو کے لئے ہمارے پاس کچھ تو ہونا
چاہئے۔ وہ اس سے نظریں ملائے بغیر کہتا ایک قریبی درخت کی جانب بڑھ رہاتھا۔ شاذیلا کو بے اختیار
خوف کا دھچکا لگا۔ اس نے بے ساختہ متفکر نظروں سے پیروں تلے بچھی ہلکی ہلکی گھاس اور قریبی
جھاڑیوں کو محتاط انداز میں دیکھا اب تک تو وہ بس سفر کی درپیش مشکلات سے ہی گھبرا رہی تھی
اس نادیدہ مشکل کا تو ابھی اس کے ذہن سے کوئی خیال بھی نہ گزرا تھا۔ اب سوچ کرہی اسے جھرجھری
آگئی۔ اس نے بلیک شرٹ اور برائون ٹرائوزر میں ملبوس دور جاتے تیمور کو دیکھا۔
مرد ہونا بھی کتنی بڑی نعمت ہے۔ اس نے ایک درخت سے کسی مضبوط شاخ کے حصول کے لئے تگ ودو
میں مصروف تیمور کو رشک آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے سوچا۔ وہ محتاط نظروں سے نیچے جھاڑیوں کو
بھی دیکھ رہا تھا۔یہ درخت کافی اونچے ہیں مگر تھوڑی سی کوشش سے میں اس درخت پر چڑھ کر…آہ… درخت پر چڑھنے
کے لئے تنے پر پائوں جمانے کی جگہ تلاش کرتے ہوئے تیمور کے منہ سے ایک کراہ نکل گئی۔ وہ بلبلا کے تڑپا
اور پھر کسی کٹے ہوئے درخت کی طرح وہ وہی ڈھیر ہوگیا تھا مگر وہ فوراً ہی سنبھل کر اٹھا اور اپنے بدن
کابوجھ ٹانگوں پر اٹھاتے ہوئے وہ بہ دقت تمام چند قدم چل کر اس جگہ سے دور ہوااور شاذیلا نے اسے
دوبارہ نڈھال حالت میں ایک جگہ گرنے کے سے انداز میں زمین پر بیٹھتے دیکھا۔
سانپ۔ چند ہی لمحوں میں بے ترتیب ہو کرلرزتی سانسوں کے درمیان اک دہشت کے اثر سے کراہا اور گھبرا
کے قریب آتی شاذیلا کو کرنٹ سا لگا۔
تیمور… آپ ٹھیک ہیں؟ وہ گھٹنوں کے بل اس کے قریب بیٹھی پوچھ رہی تھی۔
سانپ… مجھے سانپ نے ڈس لیا ہے۔ وہ درد سے نڈھال کراہ رہا تھا۔ اس نے اپنی بائیں ٹانگ کو پنڈلی کے
پاس سے مضبوطی سے دونوں ہاتھوں میں جکڑ رکھا تھا‘ اس کی آنکھیں اور چہرے کا ایک ایک نقش درد
کا اشتہار بن گئے تھے۔
سانپ…؟ شاذیلا اپنی بے ساختہ چیخ پرقابو نہ رکھ پائی تھی۔ اس نے کانپتے دل کے ساتھ گھبرا کے سانپ
کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا۔
کیا آپ کو یقین ہے آپ کو کسی زہریلے کیڑے نے نہیں کاٹا کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کو کسی سانپ نے ہی
کاٹا ہے۔ وہ تکلیف سے مچلتے تیمور کو دیکھ کر مخاطب ہوئی۔
میں خود کو ساری زندگی زہریلے کیڑوں سے کٹواتا نہیں رہا ہوں نہ ہی سانپوں سے خود کو ڈسواتا رہا ہوں
کہ مجھے اندازہ ہوجائے کہ مجھے کسی کیڑے نے کاٹا ہے یا سانپ نے ڈسا ہے۔ اس نئے عذاب سے دوچار
تیمور کو اس کے سوال نے برانگیختہ کردیا۔
میرا مطلب ہے کہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو کسی… بچھو نے کاٹ لیا ہو۔ پریشانی اور دہشت سے
سہمی شاذیلا نے جیسے خود کو ڈھارس دینا چاہی۔ اسے تیمور کا یک دم ہی کسی شاخ کے حصول کے
لئے متحرک ہونا اب سمجھ میں آیا کہ اسے سانپ دکھائی دیا تھا شاید۔
میں نے اس سانپ کو خود اپنی آنکھوں سے ابھی ادھر تھوڑی دیر پہلے رینگتے ہوئے دیکھا ہے۔بمشکل
حوصلہ مجتمع کرکے وہ ٹرائوزر سرکا کے اپنی ٹانگ کا جائزہ لے رہاتھا۔ اس کے پیروں میں برائون چمڑے کے
چمچماتے ہوئے بوٹ تھے جو دھول مٹی میں اٹ کے ابتر حالت میں تھے۔تیمور کے بدن کا سارا لہو اس
وقت شدت سے کھول رہاتھا۔ اس کے چہرے پر شدید کرب کے آثار تھے۔ شاذیلا کو اس کے جواب نے اور
بھی دہشت زدہ کردیا۔ وہ تصدیق کررہاتھا کہ یہاں سانپ کو وہ دیکھ چکا ہے۔ شاذیلا کا شبہ درست تھا۔تو…توپھر آپ نے سانپ کو اسی وقت کیوں نہ مار دیا۔
وہ ایک سانپ تھا کوئی چیونٹی نہیں کہ جسے میں جوتے کی ایڑھی سے کچل دیتا نہ ہی وہ کوئی مچھر
تھا جسے میں تالی میں مسل دیتا۔ مجھے سانپ ہی نے ڈسا ہے۔ اس کی بات پر جھنجلا کے بولتے تیمور نے
اپنے پائوں کی ایڑھی سے اوپر پنڈلی پر موجود نشانات کو دھندلائی نظروں سے شناخت کرتے ہوئے یک دم
ہی دل برداشتہ ہو کر پسینے میں ترچہرے پرمضطربانہ انداز میں ہاتھ پھیرے۔ اس کی اڑی اڑی رنگت میں
یک دم ہی زردی گھلنے لگی۔ اس نے دونوں ہتھیلیاں زمین پررکھیں‘ وہ سرک کر پیچھے درخت کے تنے سے
کمر ٹکا کر سنبھل کربیٹھنا چاہتا تھا مگر پیچھے سرکنے کے ساتھ اس نے چہرہ پھیر کر عقب میں دیکھا اور
اپنے قریب کسی درخت کو نہ پاکر وہ بے دم ساہو کر وہیں زمین پر چت لیٹ گیا۔ شاذیلا دھڑدھڑاتے دل کے
ساتھ خوف اور دہشت سے پھیلی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو لئے اب تک یقین و بے یقینی کے عالم میں
اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے یوں لاچار زمین پر لیٹتے دیکھ کر اس کا دل ہل گیا۔ تیمور آنکھیں بند کئے لب
بھینچے تکلیف واذیت سے کسمسا رہاتھا۔
تیمور…اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ اس نے لرزتے ہاتھوں میں بے ساختہ تیمور کا بازو بھینچ لیا۔ تیمور نے اسے
متمنی نظروں سے دیکھا۔
تم دانتوں سے نوچ کر زہر چوس لو تو یقینا زہر نہیں پھیلے گا مگر اس کے لئے مہارت کی ضرورت ہے
کیونکہ زہر چوس کرتھوکنے کے دوران زہر کی ذرا سی بھی مقدار کسی سانس کے ساتھ نگلنے سے بھی
موت واقع ہوسکتی ہے۔ جنگل کے پراسرار ماحول میں تیمور کی لڑکھڑاتی آواز ابھری۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ شاذیلا کو اس کے الفاظ نے دہلا دیا۔ یہ وہ اس سے کیا چاہ رہاتھا کچھ بھی تھا یہ
ایک سفاکانہ فعل تھا جو شاذیلا کے لئے سرانجام دینا ممکن نہ تھا۔
میں…فارسی یا فرنچ زبان میں تمہارے ساتھ بات نہیں کررہا ہوں کہ تمہیں میری بات کامفہوم سمجھ
میں نہ آیا ہو۔ تم اچھی طرح سن چکی ہو کہ میں نے ابھی کیا بکواس کی ہے۔ مجروح تیمورکی اب ہر امید
اسی سے وابستہ تھی اسی لئے شاذیلا کی ہچکچاہٹ نے اسے اور بھی تڑپا کے رکھ دیا تھا۔ وہ اس حقیقت
کو تسلیم کرنے کوہرگز تیار نہ تھا کہ وہ اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتی۔
اگر آپ خود کوشش کریں تیمور تو شاید…؟ شاذیلا بولی تو وہ جھنجلا گیا۔
میرے منہ میں میرے دانت ہیں‘ کسی ڈائن یا ڈریکولا کے دانت نہیں ہیں کہ میں ان کو اس جگہ تک
پہنچادوں جہاں میرا چہرہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ تمام انسانوں کی طرح قدرت نے میرے دانتوں کو بھی
مسوڑھوں میں فٹ کیا ہے‘ اسپرنگز میں نہیں۔جتنی دیر ہوگی زہر اتنی ہی تیزی سے اس کے پورے بدن میں پھیلے گا۔ یہ خوف یہ ادراک تیمور جیسے
اکھڑ مرد کو اندر سے بچے کی طرح سہمائے دے رہاتھا۔ مزید لمحوں کو ضائع کرتی یہ لڑکی اپنی نادانی
سے اس کے حواس اور بھی خطا کررہی تھی۔ تیمور سخت بے بسی میں گھرا ہوا تھا۔
کیا کوئی اور راستہ… کوئی اور حل… گھبرا کے بولتی شاذیلا نے ڈر کے بات ادھوری چھوڑ دی۔ تیمور بے
چارگی کی حالت میں بھی اسے کھاجانے والے انداز میں گھو ررہاتھا۔
اب میں زہر میں جلتے ہوئے بدن کے ساتھ یہاں سے سڑک تک لے جانے والی کوئی سرنگ تو نہیں
کھودسکتا‘نہ ہی مجھے سانپ کے زہر کو پھیلنے سے روکنے کا کوئی منتر آتا ہے۔
پر…میں نے پہلے کبھی یہ نہیں کیا جو آپ چاہتے ہیں؟
دنیا میں سارے کام کبھی نہ کبھی پہلی بار ہی کئے جاتے ہیں۔ وہ بے بسی سے دھاڑا۔
پر میں یہ نہیں کرسکتی۔ آپ جانتے ہیں میں یہ نہیں کرسکتی تیمور۔ ضبط کھو کر شاذیلا بے
بسی‘گھبراہٹ‘خوف کے احساس کی شدت سے چیختی یک دم بلک اٹھی۔
اچھا ہوتا کہ وہ سانپ تمہیں ڈس لیتا۔ تیمور کا بے بس لہجہ رقت آمیز تھا۔
کتنی بے رحمی سے آپ نے یہ بات کہہ دی۔ شاذیلا نے جھرجھری لی‘ آنسو تیزی سے اس کے گالوں سے
پھسل رہے تھے۔
جتنی بھی بے رحمی سے میں نے یہ بات کہی بالکل ٹھیک نیت کے ساتھ کہی ہے۔ میں کم از کم تمہیں
اس زہر سے چھٹکارا تو دلاسکتا تھا۔ تیمور کا لہجہ ٹوٹا پھوٹا اور یک دم ہی مدھم پڑتا ہواتھا۔ وہ تکلیف سے
تڑپ رہاتھا۔
آپ کو ایسا کچھ کرنے کی زحمت ہی نہ کرناپڑتی۔ آپ کی طرح خود کوسنبھالے رکھنے کی بجائے اس وقت
یہاں میری لاش پڑی ہوتی۔ شاذیلا کو واقعی اس کی ہمت مضبوط قوت مدافعت اور حوصلے کی پختگی
پر حیرت کے ساتھ ساتھ رشک کا احساس ہو رہاتھا ورنہ اسے سانپ نے ڈس لیاہے یہ حقیقت آشکارا ہونے
کے بعد شاذیلا کے خیال میں اسے کم از کم اب تک بے ہوش توہوہی جاناچاہئے تھا۔ اور پھر اسی سوچ کے
ساتھ اس نے تیمور کی بند ہوتی آنکھوں کو چونک کر دیکھا۔ اس کے لبوں سے نکلتی ہر کراہ دب کے رہ
گئی۔ کیا اس پر بے ہوشی طاری ہو رہی ہے؟ شاذیلا نے سہم کر سوچا۔
تم ایک انتہائی احمق اور جاہل لڑکی ہو بجائے کوئی کوشش‘ کوئی مدد‘ کرنے کے مجھے موت یاد دلارہی
ہو۔ وہ کراہا۔آپ کو کچھ نہیں ہوگا تیمور۔ آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ تیمور کے رندھے ہوے بے بس لہجے نے شاذیلا کے
اوسان خطا کرڈالے۔ لفظ موت اپنی پوری دہشت کے ساتھ اس کی رنگت میں خوف کی زردی گھولنے لگا۔
پتہ نہیں کس احساس سے مغلوب ہو کر اس نے تیمور کاہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کرمضبوطی سے بھینچ
لیا۔ پھول سے نازک ملائم ہاتھوں کے ٹھٹھرتے سردلمس نے تیمور کے ٹھنڈے یخ ہاتھ کو زندگی کی تراوٹ
بخشی اور یہ تراوٹ اس کی خائف لرزیدہ روح تک حلول کرگئی۔ شاذیلا کی آنکھیں اس کی کلائی سے
بندھی گھڑی میں الجھیں۔
تمہیں مجھ پررحم نہیں آرہا…شاذیلا۔ تمہاری تھوڑی سی ہمت‘ ذرا سی جرات مندی مجھے موت کے منہ
میں جانے سے بچا سکتی ہے۔ تم کوشش کروگی تو…یہ تمہیں آسان لگے گا۔ میں نے تمہاری… حفاظت کے
خیال سے گاڑی…جنگل میں اتاری تھی۔ اگر تم نے میری مدد نہ کی…تو میرا خون…یاد رکھو میرا خون
تمہاری گردن پر ہوگا۔ وہ نیم غنودگی کے عالم میں اسے اب بھی اپنی مددپراکسا رہاتھا۔ اس کی آنکھیں
اب بھی بند تھیں۔
ہاں… میں آپ کی مدد کرسکتی ہوں تیمور‘ ہاں میں آپ کو بچا سکتی ہوں۔ تیمور نے بند آنکھوں سے
شاذیلا کی عزم میں ڈھل کرمضبوط ہوتی آواز سنی اس کی آواز کے عزم نے تیمور کی دھڑکنوں میں ایک
امنگ سی بھردی۔ اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے کی کوشش کی تبھی شاذیلا کے لرزتے یخ ہاتھوں
نے اس کی مضبوط کلائی کو تھاما۔ تیمور نے دھندلاجانے والی آنکھوں سے دیکھا اب وہ اس کی کلائی سے
بندھی گھڑی کے اسٹریپ کو کھول رہی تھی۔ وہ اس وقت اس کے بالکل قریب جھکی ہوئی تھی۔
ٹپ…ٹپ…ٹپ آنسوئوں کے چند قطرے تیمور کی ٹھوڑی اور پھر گردن پر گرے۔ تیمور کالباس اور گھنے بال
مٹی سے اٹ گئے تھے۔
کیا میں اس گھڑی کے شیشے سے آپ کی ٹانگ پر کٹ لگا کر زہر کوپھیلنے سے روک سکتی ہوں۔ میرا
…مطلب ہے کہ خون نکلنے سے زہر
ہاں تمہاری سوچ ٹھیک ہے۔ اوہ میں بھول گیا۔ مجھے فوراً ٹانگ کو کپڑے سے کس کرباندھنا چاہئے تھا۔
تیمور کے جسم میں بھی اس کے عزم نے نئی تحریک جگائی تھی۔ اس نے اٹھ کربیٹھنے کی کوشش کی اور
اپنے ہی بوجھ سے جھول ساگیا۔ شاذیلا نے بے ساختہ اس کے ڈولتے بدن کو سہارا دیا اور بلاتامل اسے
اپنی چادر پیش کی‘ تیمور نے چادر کوبیچ سے پھاڑ کر دو حصے کئے‘ ایک حصے کو پنڈلی پہ گھٹنے کے
نیچے…باندھا دوسرا حصہ چادر اور دوپٹے سے بے نیاز شاذیلا کے حوالے کرتے ہوئے وہ فوراً ہی آنکھیں جھکا
گیا تھا۔ دوسرے ہی پل وہ شاذیلا کو اٹھتے پاکر چونکا اور بے اختیار اس کا بازو تھام لیا۔ وہ بے طرح ہانپ
رہاتھا۔میں کوئی پتھر ڈھونڈ لوں۔ شاذیلا نے جلدی سے وضاحت کی۔
زیادہ…زیادہ دور نہ جانا۔ زندگی کی امنگ کھوکر موت سے لڑتے ہوئے بھی وہ اس کے تحفظ کے لئے چوکنا
تھا۔ شاذیلا کے دل سے ایک ہوک سی اٹھی۔ اسے اپنے سامنے بے چارگی اور بے بسی سے دوچار اس
انسان پر بے تحاشا ترس آیا جو خود زندگی اور موت کی کشمکش میں گرفتار ان گنت خدشات سے
نبردآزما تھا۔ وہ اس عالم بے ی وناامیدی میں بھی اس کا تحفظ چاہ رہاتھا۔ شاذیلا کی آنسوئوں میں
ڈوبی آنکھیں چھلک پڑیں۔ وہ اس کے پاس سے ہٹ کر آگے بڑھی اس نے ہر ُسو زمین کومتلاشی نظروں
سے دیکھا۔ سینے میں اس کا دل سوکھ پتے کی طرح کانپ رہاتھا۔ کبھی پیچھے مڑ کر تیمور کو دیکھتی اور
کبھی پتھر کی تلاش میں سرگرداں وہ اس وقت گھبراہٹ‘ خوف‘ بے بسی‘امید وناامیدی کے احساسات
سے دوچار تھی۔ تیمور نے ایک بار پھر کراہنا شروع کردیاتھا۔ شاذیلا نے دیکھا وہ ایک بار پھر خوف وبے بسی
میں گھرا زمین پر گرا کسمسا رہا تھا۔ اورپھر ہمت ہار کر یکلخت تکلیف سے مچل کر پکاراٹھا۔
شا… شش… شاذیلا… شاذیلا… اس کی پکار اور کسی ذبح ہونے والے جانور کے نرخرے سے نکلنے والی آواز
میں کچھ زیادہ فرق نہ تھا۔ شاذیلا گھبرا کے اس کی جانب لپکنا چاہتی تھی کہ خوش قسمتی سے ایک
پتھر اسے نظر آہی گیا۔ وہ دل ہی دل میں یک دم پروردگار کا شکر ادا کرتی پتھر کی جانب تیزی سے بڑھی
اور جھک کر پتھر کو اٹھاتے ہوئے وہ پوری قوت کے ساتھ ایک جھٹکے سے تھمی تھی۔ اس نے ریتلی
پتھریلی زمین کے گھاس سے پاک اس راستے کو دیکھا‘ اس کی حیرت و بے یقینی سے پھیلتی آنکھوں میں
ایک برق سی کوندی دل زور سے دھڑکا۔
تیمور… تیمور گاڑی… تیمور یہ راستہ ہے یہاں گاڑی ہے…تیمور دیکھئے یہ گاڑی کے ٹائرز کے نشان… تیمور…
گاڑی… وہ ہر بات فراموش کئے ٹائرز کے نشانات کے تعاقب میں اندھا دھند دوڑی تھی۔
یارب العزت… یا پروردگار تیرا شکریہ۔ جتنی تیزی سے وہ دوڑی تھی اسی تیزی سے وہ الٹے قدموں واپس
آئی تھی۔ اس کے لہجے‘ آواز‘ آنکھوں میں زندگی کا جادو سابھرگیاتھا۔ وہ بھٹکتے بھٹکتے جانے کب پھر
اسی راستے پہ آن پہنچے تھے جو ان سے کھوگیاتھا۔
تیمور… گاڑی مل گئی‘ تیمور آپ…کو کچھ نہیں ہوگا۔ تیمور اٹھئے…اب ہم جلدی گھر پہنچ جائیں گے تیمور۔
وہ تیمور کابازو تھام کر سہارا دیتی اس پر جھکی تھی۔ تیمور نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو شاذیلا کو دھچکا
لگا۔ تیمور کی درد میں رچی آنکھیں آنسوئوں سے جل تھل تھیں‘ آنسوئوں میں تیرتی تڑپ سے شاذیلا کا
دل ہل گیا۔تمہیں پتھر ملا؟ مدھم گھٹا گھٹا ٹوٹا پھوٹا لب ولہجہ شاذیلا کے وجود میں سنسنی پھیلا گیا۔ اس نے
دوسرے ہاتھ کی گرفت میں دبا پتھر تیمور کی پھیلی ہتھیلی پہ رکھا اسی ہتھیلی پر گھڑی چمک رہی
تھی۔
تم جاکر گاڑی لائو… میں بیٹھنا چاہتا ہوں۔ جیب سے چابی نکال کر اس کے حوالے کرتے ہوئے لرزتے لہجے
میں اپنی خواہش بتائی۔ اس کا دھیما لہجہ اتنا ٹھہرا ہوا اور گھمبیر تھا کہ شاذیلا کے دل میں اک وحشت
سی پھیل گئی۔ معلوم نہیں کیوں اس نے پل بھر کو اسے نظربھر کر دیکھا‘ اس کے چہرے کی رنگت پیلی
پڑچکی تھی‘ بارعب تیکھے نقوش میں زردی گھلی ہوئی تھی اور نقوش کے گداز حصوں میں بے تحاشہ لہو
جیسے چھلک پڑنے کو تھا۔ وہ یقینا اس وقت گہری اذیت سے دوچار تھا‘ چٹانی مضبوط توانا وجود پر
مردنی چھارہی تھی۔ کالی آنکھوں میں متعدد خدشات خوف بن کر تھرتھرا رہے تھے۔پورا بدن پسینے میں
شرابور تھا۔ وہ اندر ہی اندر دہل کراس کے چہرے سے نظریں ہٹا گئی۔ اس نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کا
سہارا دیتے ہوئے دوسرا ہاتھ اس کے سر کے نیچے مضبوط گردن میں حمائل کرکے اسے اٹھنے میں مدد دی
اور پھر اس کے سنبھل کربیٹھنے کے بعد وہ ایک بار پھر اس جانب دوڑ پڑی جس طرف اس نے گاڑی دیکھی
تھی۔

Read More:  Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 9

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: