Aik Qissa Gul e Gulab Ka Novel by Syeda Gul Bano – Episode 8

0

اک قصہ گل ِ گلاب از سیدہ گل بانو – قسط نمبر 8

–**–**–

میں سچ کہہ رہا ہوں‘ میں نے کسی گاڑی کو تعاقب کرتے دیکھا تھا‘ فاصلہ اتنا تھا کہ میں گاڑی ڈرائیو
کرنے والے کوپہچان نہیں سکا‘ وہ چہرہ میرے لئے یقینا کسی شناسا آدمی کا چہرہ نہیں تھا‘ مگر مجھے
یقین ہے کہ اس نے گھر سے نکلتے ہی ہمارا پیچھا کرنا شروع کردیاتھا۔ میرے اندازے کے مطابق وہ دوسے
زیادہ تھے۔
مگرتمہیں یہ یقین کیسے ہوا کہ وہ گاڑی ہمارے تعاقب میں ہی تھی۔
تو آپ کے خیال میں… میں گاڑی روک دیتا… پھر میں گاڑی سے اتر کر ان کے پاس جاتا اور ان سے پوچھتا کہ
آپ کہیں ہمارا تعاقب تو نہیں کررہے ہیں۔ وہ تمسخرانہ بولا تو ماجد خان یک دم بھڑک اٹھے۔
میں نے تمہیں یہاں تمہاری کوئی بکواس سننے کے لئے نہیں بلایا ہے۔
آپ کو جو پوچھنا تھا‘ آپ اپنی بیٹی سے پوچھ سکتے تھے۔ آپ اس سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے گاڑی
جنگل کی طرف کیوں اتاری؟اس سے سب کچھ پوچھنے کے بعد ہی تمہیں یہاں بلایا گیا ہے۔ اور اب تمہارے سامنے بھی پوچھ لیتا ہوں۔
شاذیلا…بتائو کیا تمہیں کسی بھی لمحے یہ محسوس ہوا کہ کوئی گاڑی تم دونوں کا پیچھا کررہی ہے۔ماجد
خان نے بالکل اچانک وہاں بیٹھی شاذیلا کو شامل تفتیش کیا۔
نہیں…مجھے ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا۔ شاذیلا کے غیر متوقع بیان پر تیمور کا دل پل بھر کو تھم کر
تیزی سے دھڑکا اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا کہ شاذیلا نے وہی کہا ہے۔
اور واپسی پر تم نے ایسا کچھ محسوس کیا یا دیکھا؟
نہیں۔شاذیلا کا دوسرا مختصر جواب بھی پہلے سے ملتا جلتا تھا۔ تیمور کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔ کچھ
کہنے کی خواہش کو لبوں میں ہی دباتے ہوئے اس نے سخت بے چینی کے عالم میں اپنی جگہ پر پہلو بدلا
تھا۔ اس کے جبڑے بھینچ گئے‘ ناگواریت کی کئی لہریں ایک ساتھ اس کی کنپٹیوں سے گزر کے اس کے
اعصاب کو منتشر کرگئیں۔ اسے ابھی تک اس کی بات کا یقین نہ آیا تھا۔ یہ جان کر تیمور کو شدید دھچکا
لگا تھا‘ تیمور نے دیکھا ماجد خان کی آنکھوں میں فاتحانہ چمک تھی۔
کیا اب بھی تم خود کو سچا کہوگے۔ یہ راشد خان تھا‘ شاذیلا کا بڑا بھائی‘ کچھ کہنے کی خواہش کو ایک
بار پھر اپنے ضبط تلے دباتے تیمور کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔
حالانکہ سچ…سچ نظر آتا ہے۔ اور جھوٹ‘ جھوٹ دکھائی دے جاتا ہے کبھی نہ کبھی۔ کوئی بہت دیر تک
سچ اور جھوٹ پر پردہ ڈال کر نہیں چھپا سکتا۔ راشد خان سے چھوٹے زاہد خان نے بھی زبان کھولی۔ تیمور
اب بھی چپ تھا۔
ہم نے تم پر اعتبار کیا اور تم…؟
جب میں آپ لوگوں کے لئے اتنا ہی ناقابل اعتبار ہوں تو پھر اسے میرے ساتھ بھیجا ہی کیوں گیا؟ بہت
ضبط کے بعد اس نے زاہد خان کی بات کاٹی۔
تم پر اعتبار نہ کرتے تو تمہاری اصلیت کیسے ظاہر ہوتی۔ زاہد خان نے تڑخ کر کہا۔ تب وہ تمام ضبط کھو کر
غصے سے یکلخت پھٹ پڑا۔
آپ لوگوں کامطلب یہ ہے میں نے جان بوجھ کر شاذیلا کو ہراساں کیا۔ میں نے اس سے جھوٹ بولا۔ میں نے
…جان بوجھ کر محض اسے ذہنی اور نفسیاتی طور پر ٹارچر کرنے کے لئے گاڑی جنگل میں داخل کی اور
اور پھر تم نے گاڑی ایک جگہ روک دی اور شاذیلا سے کہا کہ آگے گاڑی کے لئے راستہ نہیں ہے اور پھر اس
کے بعد جب شاذیلا نے تم سے گاڑی لانے کو کہا تو تم نے اس سے کہا کہ تم راستہ بھول گئے ہو۔ زاہد خان
نے روانی سے لقمہ دیا۔میں واقعی راستہ بھٹک گیاتھا۔ تیمور کا لہجہ مضبوط اور بے لچک تھا۔
حالانکہ تم پہلی بار اس جنگل میں نہیں داخل ہوئے تھے۔ پچھلے کئی برسوں سے تم کئی بار اس جنگل
میں تفریحاً جارہے ہو۔
ہاں…مگر پہلے کبھی یہ صورت حال پیش نہیں آئی تھی۔ پہلے کبھی کسی نے میر ایوں تعاقب نہیں کیا۔
پہلے کبھی میرے ساتھ شاذیلا نہیں تھی۔ مجھے صرف شاذیلا کی پروا تھی۔ اسی کی فکر میں مبتلا ہو کر
مجھ سے ہر وہ بھول ہوئی جو عام حالات میں یقینا نہ ہوتی۔
ہونے یا سرانجام دینے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ماجد خان کے لہجے میں برہمی اور درشتگی بدستور قائم
تھی۔
آپ کامطلب ہے وہ سب دانستہ تھا۔ پر…پر میں ایسا کچھ جان بوجھ کر کیوں کروں گا؟ وہ بے بسی سے
بولا۔
یہی معلوم کرنے کے لئے آج ہم یہاں تمہارے سامنے بیٹھے ہیں‘ تمہارے سچ سے جھوٹ کا نقاب اتارنے کے
لئے۔
یہ آپ زیادتی کررہے ہیں زاہد بھائی… میں بار بار بتا چکا ہوں کہ وہ سوچاسمجھا منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے
جو بھی اس وقت بہتر جانا وہ کیا۔ مجھے اپنی جان سے بڑھ کر اپنی ذات سے زیادہ اس وقت شاذیلا تھی۔
مجھ سے جو بھی نادانی یا بھول ہوئی وہ شاذیلا کے تحفظ کی فکر میں ہوئی‘ مجھے اپنے سے زیادہ شاذیلا
کے لئے خطرہ محسوس ہوا۔یہی سچ ہے۔
سچ… ماجد خان کے عقب میں صوفے کے پیچھے کھڑے زاہد کی آنکھوں میں نہ سمجھ میں آنے والی
معنی خیزی پھیلی۔
یہ جو کچھ بھی ہوا اس تمام واقعے میں سچ صرف یہ ہے کہ تمہیں سانپ نے ڈسا اور تم موت کے منہ
سے واپس آنے کے بعد آج ہمارے روبرو ہو۔ زاہد خان کے لفظ میں بے پناہ درشتگی تھی۔
آنٹی یہ سب کیا ہے…آخر اس سارے تماشے کامطلب کیا ہے؟ تیمور یک دم بپھر کر اپنی جگہ سے کھڑا
ہواتھا اس بار وہ سخت تائو میں آکر قندیل بیگم سے مخاطب تھا اور اسے یہ دیکھ کر مزید صدمے سے
دوچار ہونا پڑا کہ انہوں نے اس کی سمت سخت نظروں سے دیکھنے کے بعد نخوت سے نظریں پھیرلیں اور
دبنگ لب ولہجے میں گویا ہوئیں۔جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں‘ انسان تو بس وسیلہ ہوتے ہیں ان جوڑوں کے ملاپ کے سلسلے میں… تمہیں
یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ تم نے اپنے ٹھکرائے جانے کو قدرت کا فیصلہ سمجھنے کے بجائے اپنی انا
کامسئلہ بنالیا ہے۔ یہ تو ہمارے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔
یہ سچ نہیں ہے…سچ تو صرف یہ ہے کہ مجھے تو علم تک نہ تھا کہ کب باباجانی اور ماماجانی کے دل میں
…شاذیلا اور میرے لئے ایسا کوئی خیال آیا۔ آپ لوگوں سے بات کرنے کے بعد انہوں نے مجھے بتایا کہ
پرانے قصے چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے تمہیں یہ کہنے کے لئے بلایا ہے کہ اب ہمارے دل میں تمہارے
…لئے کوئی جگہ نہیں۔ تم نے جوبھی کیا
آخر ایسا کیا کیا ہے میں نے جسے آپ میرے لئے بہتان بنا رہے ہیں۔
وہ سانپ شاذیلا کو بھی ڈس سکتاتھا۔ تم اپنی فولادی قوت مدافعت کے سبب معجزانہ طور پر بچ گئے‘
ورنہ تمہارے بچنے کا ایک فیصد امکان بھی نہ تھا۔ یہ ضروری نہیں کہ شاذیلا بھی بچ جاتی‘ مرد اور
عورت کے حوصلوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے یہ تو اسی دہشت سے جنگل میںدم توڑ دیتی کہ
اسے سانپ نے ڈس لیا ہے اور اس کی موت کے ذمہ دار تم ہوتے تم…اور اب بھی جو کچھ ہوااس کے تم ذمہ
دار ہو صرف تم‘ مگر ہم اب یہ نہیں سوچ رہے ہیں‘ ہم اس تمام واقعے کے وقوع پذیر ہونے کی وجہ یا سبب
جاننا چاہتے ہیں…اور اب تم پھر سے اپنا بے ہودہ بیان ہمارے سامنے مت دہرانا‘ تم ساری دنیا کے سامنے
یقینا اپنی کامیاب ایکٹنگ کے ذریعے سچ پرکسی جھوٹ کا پردہ تو ڈال سکتے ہو مگر تم ہمیں اپنی اس
فلمی قسم کی گھٹیا پرفارمنس سے مطمئن نہیں کرسکتے۔ماجد خان نے غرا کے کہا تو تیمور کئی لمحے
کچھ بول نہ پایا۔
آپ اس سے پوچھ سکتے ہیں کہ اس نے کب میرے رویے… میری نیت میں کوئی کھوٹ محسوس کی… یہ
آپ کو بتاسکتی ہے کہ کب ا س نے میری آنکھوں‘میرے سلوک میں اپنے لئے کوئی بددیانتی یا بے ایمانی
امڈتے دیکھی۔ کیا مجھے اپنے خاندان کی عزت کا کوئی پاس نہیں۔ کیا مجھے اپنے ہی خاندان کی بہن
بیٹیوں کی عصمت اور حرمت…بے حد کمزور لہجے میں بولتے ہوئے تیمور کا انداز مدافعانہ تھا۔
تمہارے اندر عورتوں کے لئے کتنی ایمانداری اور پاکیزگی ہے تم یہ بتانے کی کوشش کروگے تو یہ فضول اور
بچکانہ بات ہوگی۔ تمہیں یہ بتانے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ تم عورتوں کے لئے فرشتہ ہو کہ شیطان۔ زاہد
کالہجہ پھنکارتا ہوا تھا۔ تیمور لمحے بھر کو گنگ ہوا پھر پھٹ پڑا۔
یہ آپ ناانصافی کررہے ہیں‘ میں اب اس سے زیادہ توہین برداشت نہیں کرسکتا… میںاس سے زیادہ تذلیل
برداشت نہیں کروں گا۔ اس کاچہرہ تمتما اٹھا تھا۔ راشد نے اسے نفرت سے گھورا۔وہ سچ…اس سچ سے بھی زیادہ کڑوا ہے جسے ہم نے تمہاری چھتیس گھنٹوں کی بے ہوشی کے وقت سے
اب تک برداشت کیا‘ وہ سچ جسے تم چھپانے کی ناکام کوشش کررہے ہو۔
میں کچھ نہیں چھپارہا ہوں۔آپ لوگوں کی بدگمانی اور شک بے بنیاد اور بے ہودہ ہے۔ تیمور کے ضبط
وتحمل کی ہر حد ختم ہوچکی تھی۔
کیا تم شاذیلا کوپسند نہیں کرتے۔ راشد پھنکارا۔
میرے پاس اس بکواس کا جواب نفی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
کیا تمہارے دل میں کبھی بھی شاذیلا سے شادی کا خیال نہیں آیا۔
یہ اس سے بھی بڑی بکواس ہے۔ راشد کے پے درپے سوال کا جواب دیتے ہوئے تیمور کو اپنے سینے سے
پسینے کی سرد بوندیں پھوٹتی محسوس ہوئیں‘ اس کے دل کی رفتار یک دم ہی دھیمی پڑکر بوجھل ہونے
لگی۔ اس کو اپنی مجروح ٹانگ میں میڈیسنز کے ذریعے دب جانے والی ٹیسیں دوبارہ اٹھتی محسوس
ہورہی تھیں۔ اسے احساس ہوا کہ وہ زیادہ دیر زخمی ٹانگ کے ساتھ کھڑا نہیں رہ پائے گا۔
…پھر آخر تم نے کس خواہش کی تکمیل کے لئے شاذیلا
میرے پاس اب آپ لوگوں کی کسی بھی فضول بات کا کوئی جواب نہیں‘اب میں مزید تماشہ نہیں بن
سکتا۔ میرے خیال میں مجھے اب یہاں سے نکلنا چاہئے۔ تیمور نے سخت ناگواریت اور درشتگی سے بات
ختم کرکے انتہائی برہمی کے عالم میں قدم بڑھائے۔بہت لحاظ‘ بڑا احترام کیاتھا اس نے کہ وہ اس کے بڑے
تھے۔ اس سے زیادہ اعلی ظرفی سے کام نہیں لے سکتاتھا۔
تم خود کوبہت بڑا بدمعاش سمجھتے ہو ہاں…کتنا بڑا بدمعاش سمجھتے ہوتم اپنے آپ کو۔ زاہد خان سرعت
سے اس کے راستے میں حائل ہواتھا۔ اور لمحہ بہ لمحہ ذلیل ہوتے تیمور کا جی چاہا کہ اسے گریبان سے
دبوچ کر سامنے دیوار میں پٹخ دے مگر آج کا دن اس کے ضبط کی آزمائش‘ اس کی برداشت کا امتحان تھا
شاید‘ وہ بے بسی سے بھنچی مٹھیوں‘ سختی سے بھنچے جبڑوں کے ساتھ سراپا ضبط بنا زاہد خان کے
کندھے کے پار سے پیچھے صوفے پربت بنی شاذیلا کو دیکھ رہا تھا۔ جو سر اٹھائے بیٹھی ہراساں و متوحش
نظروں سے ادھر ہی دیکھ رہی تھی۔ تیمور کے دل میں یہ خواہش شدت سے ابھری کہ وہ زاہد خان کو
سامنے سے دھکیل کر آگے بڑھے اور تھپڑوں سے شاذیلا کا منہ لال کردے۔ جس کی بے اعتباری کی وجہ
سے وہ اس ذلت سے دوچار ہو رہا تھا۔ اسے اس وقت شاذیلا سے شدید نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ ماجد
خان نے آگے بڑھ کر زاہد کو بازو سے پکڑکے دورکیا۔زاہد‘ تم لوگ بیچ میں مت آئو… اپنا ہی خون غداری پر آمادہ ہوجائے تو دوسروں سے کیسی باز پرس‘
دوسروں سے کیسا گلہ۔ میں آج اس قصے کو یہیں ختم کردوں گا۔ چور یہ کبھی نہیں مانتا کہ چوری اس
نے کی ہے جب تک کہ رنگے ہاتھوں نہ پکڑا جائے۔ یہ سچ کبھی نہیں بتائے گا اور مجھے سچ چاہئے۔ میں ان
دونوں کی وجہ سے دنیا والوں کی نظروں میں‘ اظفر اور اظفر کی فیملی کے لئے تماشہ بن کے رہ گیا ہوں‘
ہر نظر مشکوک‘ ہر ذہن متجسس ہے اس واقعے کی چھان بین کے لئے‘ مجھے کسی کی پروا نہ سہی‘ اپنی
عزت اپنی غیرت کی پروا ضرور ہے۔ حقیقت کیا ہے یہ شاذیلا بتائے گی۔
میں…میں بتاچکی ہوں کہ… وہ بولی تو ماجد دھاڑے۔
بکواس بند کرو شاذیلا…تم اگر سچ بتادیتی تو ہمیں یوں اس کے منہ نہ لگنا پڑتا۔ ماجد خان کی بات پر
سہم کر وہ چپ سادھ گئی۔ تیمور نے انتہائی کوفت سے دونوں کو دیکھتے ہوئے نگاہ پھیرلی تھی۔ اس
سے کھڑا رہنا دشوار ہو رہا تھا۔ مجروح ٹانگ میں درد پھر سے جاگ اٹھا تھا اسے بڑی شدت سے آرام دہ
بستر کی خواہش محسوس ہو رہی تھی۔ ماجد ایک بار پھر تیمور کوگھور رہے تھے۔
اب ہمیں یہ شاذیلا بتائے گی کہ تم کتنے سچے‘ بے ضرر اور معصوم ہو اور خاندان کی بہن بیٹیوں کے لئے
تمہارے اس پاکیزہ دل میں کتنااحترام اور کس قدر تقدس ہے۔ سرسراتے لہجے میں بات کرتے ماجد خان
نے اچانک زاہد کو معنی خیز نظروں سے ایک مبہم اشارہ کیا‘ وہ کہیں جانے کو پلٹ گیا۔ تیمور کی الجھی
سوالیہ نظریں بے ارادہ ہی شاذیلا کی جانب اٹھیں تو اس کی بے بس گھبرائی نظروں میں بھی تیمور کو
ایک سوال ایک الجھن نظر آئی۔ تیمور نے دکھتی ہوئی زخمی ٹانگ کابوجھ بھی دوسری ٹانگ پر منتقل
کرتے ہوئے قدموں کی آہٹ پر گردن گھما کر توجہ مرکوز کی اور حیرت وبے یقینی سے سناٹے میں آگیا۔ اس
کے گمان تک میں نہ تھا کہ وہ لوگ جاہلیت اور سفاکیت کی حد تک بالکل اندھے ہوچکے تھے۔ تیمور نے
مودبانہ انداز میں اس سمت سے پیٹھ پھیر کر رخ زاہد خان کی جانب کیا کہ روبرو کلام پاک تھا۔ احترام لازم
تھا چند لمحے خاموشی کی نذر ہوئے اور پھر گڑبڑائی سی کھڑی شاذیلا کے قریب رکتے ہوئے زاہد خان نے
شاذیلا کو مخاطب کیا تو اس کی نظریں تیمور کو گھورر ہی تھیں۔
بولو شاذیلا سچ کیا ہے؟

Read More:  Uqaab by Seema Shahid – Episode 4

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: