Aik Qissa Gul e Gulab Ka Novel by Syeda Gul Bano – Episode 9

0

اک قصہ گل ِ گلاب از سیدہ گل بانو – قسط نمبر 9

–**–**–

سچ میں بتاچکی ہوں زاہد بھیا۔ شاذیلا کی رنگت متغیر ہوگئی تھی۔
ڈرومت شاذیلا… تمہیں صرف سچ بتانا ہے… وہ سچ جو تیمور کے دل میں تمہارے لئے ہے۔ وہ سچ جو اس
نے تم سے چھپایا نہیں ہوگا۔ یا کم از کم بتانے کی کوئی کوشش تو ضرور کی ہوگی۔ راشد نے کہا۔
…ایسا کچھ نہیں ہے بھیا جانی…انہوں نے مجھ سے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی کہجنگل میں اس نے گاڑی داخل کی اس دوران اس نے تم سے کچھ ایسا کہا جس سے ظاہر ہو کہ اس نے
کس مقصد کے لئے ایسا کرنے کی ضرورت محسوس کی؟
یہ پریشان تھے… ہم دونوں پریشان تھے کہ کیسے تعاقب میں آنے والوں کی پہنچ سے خود کو کم سے کم
وقت میں دور لے جایا جائے… میں یہ سب کچھ پہلے بھی آپ لوگوں کوبتاچکی ہوں…پاپاجی ہمارے درمیان
مزید کوئی ایسی بات نہیں ہوئی کہ جس سے مجھے تیمور کا رویہ انتقامی محسوس ہوا ہو۔
یہاں انتقام کی بات نہیں ہو رہی ہم تمہارے مستقبل کے لئے یہ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ یہ آئندہ کبھی
تمہارے لئے خطرناک ثابت نہیں ہوگا جو تم بتاچکی ہو وہ مت بتائو تم کلام پاک کو گواہ بنا کر صرف سچ
بتائو‘ وہ سچ کہ تم دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لئے کیا ہے یا تم دونوں کے درمیان آج تک تعلق کی
کیا نوعیت رہی ہے؟ راشد کاانداز بہت چبھتا ہوا بڑا بے رحمانہ تھا ان کی آنکھوں میں ایک ضد چمک رہی
تھی وہ جیسے شاذیلا کو ہر طرف سے گھیر کر تیمور کی اصلیت کا پردہ چاک کرنے کے لئے بے تاب تھے
مضطرب کھڑے تیمور کو اس لمحے وہاں بے بس کھڑی اس لڑکی پہ بے اختیار ترس آیا جو اپنوں کی ذہنی
پستی اور فطرت کی سفاکی کے ہاتھوں ذلت اٹھا رہی تھی‘وہ سب اسے کھلونے کی طرح استعمال کرکے
اپنے تئیں تیمور کے خلاف بازی پلٹنا چاہتے تھے۔ ان کی آنکھوں میں تیمور کے لئے شک کے ساتھ مکمل
یقین تھا کہ نقاب ہٹنے پرتیمور کا چہرہ مسخ حالت میں سامنے آئے گا۔ اور ان کی یہ خواہش تیمور کو
انتہائی جارحانہ مگر لاحاصل لگ رہی تھی۔ وہ اندر سے بے چین مگر بظاہر بے نیاز تھا۔ بے نیاز اپنے لئے اور
بے چین اس لڑکی کے لئے جو اپنوں کے مجمع میں بھی بالکل تنہا ہوگئی تھی۔ زاہد خان نے خود ہی اس
کاہاتھ کھینچ کر کلام پاک پہ رکھا وہ کانپ گئی۔
بولو… بولوشاذیلا… حامد خان کا دبنگ لہجہ‘ ماں اور بھائیوں کی چھیدتی ہوئی منتظر نگاہیں‘ تیمور کا
مضمحل چہرہ‘ شاذیلا کی ڈبڈبائی آنکھوں کے سامنے ہرمنظر دھندلا گیا۔
بولو… شاذیلا تم نے اسی کی خواہش پر اظفر کا پروپوزل رد کیا تھا… ماجد کا جملہ تیمور کو روح تک
جھنجوڑ گیا‘ کچھ تھا…کچھ تو تھا جو اس لمحے شاذیلا کی رنگت سے زندگی نچوڑ گیا تھا پر کیا؟ تیمور کی
آنکھیں ایک گہری بے یقینی سے لپٹی پروانہ وار شاذیلا کے نقش نقش کو ٹٹول رہی تھیں۔
نہیں…شاذیلا کی لرزتی آواز‘ کانپتے ہونٹ‘ چھلک پڑنے والی خوفزدہ نگاہیں تیمور کی آنکھوں سے الجھ کر
پھر تیزی سے پلکوں کے سائے تلے چھپی تھیں۔ وہ نازک سراپے کی کپکپاہٹ کو دور سے بھی محسوس
کررہاتھا۔
پھر تم نے اظفر کا پروپوزل ٹھکرا کرکے تیمور کے پروپوزل کے لئے رضامندی کیوں ظاہر کی تھی۔ اگلے سوال
پر شاذیلا نے اذیت سے ہونٹ بھینچے۔اپنے…اپنے لئے…اپنے دل کے لئے…اپنی مرضی سے… ٹوٹے پھوٹے لرزیدہ اجڑے بکھرے یہ لفظ کتنے
معمولی اور مبہم تھے پر کیسے فتنہ پرور‘ تیمور کے اندر ایک ساتھ کئی چھناکے ہوئے۔ وہ اپنی پوری
ہستی سمیت ہل کے رہ گیا۔ اعصاب پر کوئی دھماکہ سا ہوا تھا۔
تیمور نے تو مجھے ہمیشہ عزت دی…مجھے پاک شفاف نیک نظروں سے دیکھا۔ ہمیشہ میرااحترام کیا اور
اس شام بھی جنگل میں پل پل مجھے تحفظ دیا۔ اپنے سے بڑھ کر میری حفاظت کی…میں نے جو بھی چاہا
تنہا چاہا‘ میں نے جو بھی سوچا تنہا سوچا‘ اپنا سمجھ کر… ان کواچھا سمجھ کر… مجھے معاف
کردیں…آپ سب مجھے معاف کردیں‘ مجھے اندازہ نہ تھا کہ آپ کو یہ منظور نہ ہوگا ورنہ میں…میں کبھی
تیمور کے نام پرہاں نہ کہتی‘ تیمور سچے ہیں۔ تیمور نے سب سچ کہا۔ تیمور نے جھوٹ نہیں بولا‘مجھے
یقین ہے کوئی یقینا ہمارے تعاقب میں ہوگا تبھی تیمور نے راستہ بدلا میرے لئے میرے تحفظ کے لئے۔
انہوں نے لمحہ لمحہ میری پروا کی‘ مجھے یقین ہے تیمور نے جھوٹ نہیں کہا‘ تیمور…تیمور سچے
ہیں…تیمور سچے ہیں۔ کچھ اور بے ربط بکھرے بکھرے لفظ تھے اور بے شمار سسکیاں تھیں‘ آنسوئوں کی
تیز بارش تھی غم سے نڈھال صدمے سے بوجھل ہچکیاں تھیں جو ایک ایک کرکے تیمور کی دھڑکنوں کو
گرفت میں لے کرمسل رہی تھیں‘ کچل رہی تھیں اور تیمور کی دھڑکن دھڑکن کراہ رہی تھی۔ مچل رہی
تھی‘ تڑپ رہی تھی‘ اور وہاں موجود باپ کے تنے ہوئے شانے جھک گئے تھے۔ بھائیوں کے سر بھی جھک گئے
تھے۔
قندیل بیگم تڑپ کر آگے بڑھیں اور چہرہ ہاتھوں میں ڈھانپ کر روتی بلکتی شاذیلا کو آغوش میں چھپالیا
تھا۔ تیمور نے ایک نظر وہاں موجود افراد پرڈالی۔ چار قدم آگے بڑھ کر اس نے زاہد خان کے ہاتھوں میں
دمکتے گلابی سنہری اور سبز رنگ کے ریشمی جزدان میں لپٹے کلام پاک کو احتراماً تھام کر پیشانی جھکا
کر آنکھوں سے چھوا۔ عقیدت سے چوما اور پیٹھ موڑے بغیر وہ الٹے قدموں چلتا گیا اور بیرونی راستے تک
پہنچ کر پہلوبدل کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
گھر پہنچنے پرتیمور نے سب کو اپنے لئے متفکر پایا کہ وہ بن بتائے اچانک کہاں چلا گیا تھا۔ آج اسے بلڈ
ٹیسٹ کے لئے لیبارٹری جانا تھا اور پھر کچھ سرسری چیک اپ کے لئے ڈاکٹر کے ساتھ بھی وقت طے تھا۔
تیمور ہر طرف سے عدم دلچسپی اور بھرپور نظر اندازی کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیڈروم میں بند ہوگیا۔
اسے اپنی زندگی کا وہ بدترین دن‘ اس بدترین دن کا ایک ایک پل‘ اس ایک ایک پل کی تمام ترالجھن‘
پریشانی‘ وحشت اور وہ سارا درد‘ وہ ساری تکلیف اور تڑپ ابھی تک نوک دار کانٹے کی طرح اپنے دل و
دماغ‘ اعصاب‘ احساسات اور جذبات میں پیوست محسوس ہو رہی تھی۔ اسے اپنی گزشتہ تمام عمر‘ تمام
زندگی سوائے پچھتاوے‘ سوائے ندامت کے اور کچھ بھی نہ لگ رہی تھی۔ کتنا بے مقصد جیا تھا وہ‘ کیسی
بے فائدہ زندگی بتائی تھی اس نے اپنے لئے بھی او ر دوسروں کے لئے بھی‘ خوش رہنے کامیابی حاصلکرنے جیون بسر کرنے کے اس کے سبھی قاعدے غلط‘ سارے اصول الٹے اور فضول تھے۔ یہ انکشاف اس پر
موت سے مصافحہ کرکے واپس اپنی حیات تک پلٹ آنے کے بعد ہوا۔ اس نے وقت سے روح کی بہت
گہرائی تک مات کھائی تھی اور لمحہ لمحہ دم بخود تھا۔ اس کو اس کی ہمیشہ مہربان رہنے والی تقدیر
نے بڑی زبردست ٹھوکر دی تھی۔ اسے بہت زبردست دھچکا لگا تھا۔ جس سے ابھی وہ سنبھلا بھی نہ تھا
کہ اب یہ دوسری ٹھوکر‘ ایک اور دھچکا‘ اور دونوں مواقع میں وہ گل رنگ‘ گل بدن‘ اس کے سنگ سنگ
تھی‘ جس کے سراپے کا گداز‘ چہرے کی کشش‘ رعنائی‘ نزاکت‘ خوشبو سب لمس بن کر اس کی روح سے
ہم آہنگ رہنے لگے تھے اور اسے اعتراف تھا جو بے پردگی میں بھی حجاب آلود دکھائی دی تھی‘ وہ حجاب
میں بھی سنسنی خیز‘ وہ اس چور کی مانند شرمسار تھا جس کی چوری کا راز سرعام فاش ہو جائے۔ وہ
حیران تھا کہ وہ چاہتی تو کہہ سکتی تھی‘ سب کے بیچ اس کی ڈھکے چھپے جھوٹ کے اندر کی سچائی
کو برہنہ کردیتی۔ پر وہ حیران تھا کہ اس نے بڑے منصفانہ طریقے سے اسے سچا کہا تھا۔ اور واقعی وہ
سچا ظاہر کرتا رہاتھا خود کو‘ اپنے جھوٹے بدن پر سچائی کالبادہ اوڑھ کر لیکن یہ فقط وہ جانتا تھا یا فقط
وہ جانتی تھی اور یہ صرف وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ ایک نے دوسرے کو توڑنا چاہا تھا۔ ایک ٹوٹ گیا تھا۔
ٹوٹنے والی شاذیلا کی ذات تھی اورتوڑنے والا…؟
تیمور خان نے ایک گھٹن سی دل پہ حملہ آور ہوتی محسوس کی اور صوفے سے اٹھ کر لڑکھڑاتے قدموں
سے بیڈ کی جانب بڑھنے لگا۔ ان سب نے شاذیلا سے اس بات کی گواہی مانگی تھی کہ اس نے شاذیلا کو
کبھی اپنی پسندیدگی یا صاف لفظوں میں یہ کہ کسی قسم کی دلچسپی یا چاہت سے متعلق مطلع کیا۔
شاذیلا کا جواب تھا نہیں‘ اور یہی سچ بھی تھا مگر ایک سچ اور بھی تھا‘ وہ یہ کہ اس نے اپنے اظہار یا
اپنی باتوں سے شاذیلا کے دل تک رسائی نہ پائی تھی۔ اس نے اپنی بولتی ہوئی آنکھوں سے شاذیلا کی
آنکھوں سے تعلق جوڑ کر اسے سرنگوں کرنے کے حربے آزمائے تھے جو بظاہر کبھی بھی تیمور کو کامیاب
ہوتے محسوس نہ ہوئے پر وہ نہیں جانتاتھا کہ درحقیقت وہ سارے حربے کامیاب رہے تھے۔ جب تک اس نے
جانا تب تک وہ اپنی کوششیں‘ اپنے حربے بھول بھال بھی چکا تھا۔ لیکن اب وہ پھر سے پوری شدت کے
ساتھ یاد آگئے تھے۔ یہ بے زبان آنکھوں سے بے زبان آنکھوں کومسخر کرکے بے زبان دل کو چاہت کی مٹھی
میں جکڑنے کی غرض اور خواہش کے شکنجے میں برتری کی قوت سے دبوچنے کی ایک خاموش داستان
تھی۔ بے زبان آنکھیں ان دونوں کی تھیں اور بے زبان دل شاذیلا کا تھا اک ناتجربہ کار گداز پھول بدن موم
سی لڑکی کا جس کاخمیر ہی محبتوں کی کشش سے اٹھایا گیا۔ اور چاہت کی مٹھی‘ غرض اور خواہش
کاشکنجہ ایک چٹانی عزائم والے فولادی اعصاب کے مالک‘گھاٹ گھاٹ کاپانی پینے والے تجربہ کار شاطر
مرد کا تو کچھ عجب نہ تھا کہ بالا ٓخر وہی جیت گیاتھا اور وہ کیوں شکست کھاگئی تھی وہ یوں شکست
کھاگئی تھی کہ اسے لگا تھا وہ سچا ہے۔ ہاں وہ سچا تھا مگر سچ کوجھوٹے میں ملانے والا ایک جھوٹاسچا
تھا یا پھر وہ ایک سچا جھوٹا تھا۔ وہ یہ سمجھ ہی نہ سکی تھی‘ یہ آسانی سے سمجھ میں آنے والی باتہی نہ تھی مگر جس کی یہ بات تھی وہ سمجھ سکتاتھا اور یقینا اسے یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں
…آگئی تھی یہی کہ
وہ ایک جھوٹ موٹ کا جھوٹا تھا جو اندر سے بالکل سچا تھا اورسچ یہ تھا کہ وہ ہارگیاتھا۔ معلوم نہیں کب
پر وہ اس سے بس ہار گیاتھا۔ چپکے چپکے‘خاموشی سے چپ چاپ‘ مان جاتاتو یہ سچائی یوں اس کے
پیروں تلے بھنور نہ جگاتی بلکہ سرشار کردیتی نہال کردیتی پر وہ تو فاتح دل تھا۔ دلوں کو فتح کرنے والا‘
اپنی شکست کا اعلان اس کے شایان شان نہ تھا اس کی شان کے خلاف تھا‘ نادان تھا ناں‘گمراہ تھا ناں‘
ورنہ تسلیم کرکے سرخروئی پالیتا‘ آج یوں فکر اور پچھتاوے چھلنی چھلنی نہ کرتے۔ اب سوچ رہاتھا اب
سمجھ آرہی تھی اس پر علم اورآگہی کے دریچے کھل رہے تھے۔ مگر…کون…کس سے؟ کون تھا جو ایک ایک
کرکے سارے دریچے کھول رہاتھا۔
محبت…کوئی لمحہ سرگوشی کرگیاتھا۔
تم اس دنیا کے انتہائی ذلیل ترین… بدنصیب… بدبخت‘ آدمی ہوزخمی زخمی ضمیر نے دل میں جیسے
کوئی نیزہ گاڑ دیا۔ تیمور خان تڑپا اور شرم سے پسینے میں نہا گیا‘ زندگی میں اسے بہت کم اذیت برداشت
کرناپڑی تھی‘ بہت کم مشکلات جھیلنی پڑی تھیں تقریباً نہ ہونے کے برابر‘ اسے یہ زعم تھا کہ نہ وہ
مشکلات کے لئے بنا ہے نہ مشکلات اس کے لئے۔ جتنی جلدی وہ صنف مخالف کی جانب مائل ہوجاتاتھا
اتنی ہی جلدی وہ گھمنڈ اور حسد کے جذبات سے دوچار ہوجاتا اسے اپنے تسخیر ہونے میں اپنی ذلت
محسوس ہوتی اور تسخیر کرنے میں احساسِ تفاخر۔
اس کاتعلق ایک پرہیزگار مذہبی گھرانے سے تھا اس کی تربیت اوراس کی پرورش میں مذہب سے
دلچسپی اور عقیدت گہرائی تک شامل کی گئی تھی یہ یقینا اس کی خوش قسمتی تھی مگر اس خوش
قسمتی کو بھی وہ اپنی فطرت‘ اپنی ذات کا کمال سمجھتا تھا۔ مذہب اسے اپنی جانب کھینچتا تھا۔ وہ
سمجھتا کہ وہ مذہب کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔ یہ تو رب کی عطا تھی لیکن اسے اپنے گھمنڈ کے آگے یہ
عطا بھی اپنی خوبی محسوس ہوتی‘ اور وہ سمجھتا وہ مکمل ہے۔ وہ ایمان دار ہے‘ اس کے اعمال شفاف
اور کردار بے داغ ہے۔ اسے کسی عورت کی قربت میں اپنا آپ برانہ لگتا بلکہ کسی عورت کی قربت میں وہ
عورت بری‘گمراہ اور بدچلن دکھائی دیتی وہ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا کہ بدی‘بے حیائی‘ آزادی‘ گمراہی
اور بدچلنی کے اس راستے پر خوداس کاچال چلن بھی گمراہ کن تھا۔ قدرت اسے صاف ستھرا‘ پاک شفاف
بنانا چاہتی تھی مگر وہ اس صاف ستھرے پاک شفاف کو بھی گندا اور میلا کرکے پھر اس میں سے اپنے
لئے اچھائی‘ سچائی‘ پاکیزگی اور بہتری حاصل کرنے کا خواہش مند رہتا۔ ایسا آج تک کبھی ہوا نہیں کہ
جھوٹ سچ میں شامل ہونے کے بعد پاک صاف ہوجائے‘ وہ اذیت بہت توڑ پھوڑ دینے والی تھی۔جب و ہ
جنگل میں درد وتڑپ سے گھائل صدمے اور خوف اور تکلیف سے ادھ موا اور ہلکان تھا۔ نڈھال تھا بےیارومددگار تھا اور اپنے لئے ایک لڑکی کا سہارا پانے کے لئے تڑپ رہاتھا۔ جب اسے اس لڑکی کے ہاتھوں کے
لمس نے زندگی کا بھرپور احساس دلایا تھا جب اسے اس لڑکی کی پھول جیسی قربت نے رلادیاتھا۔ وہ
پھول جیسی تروتازہ‘مہکتی‘نرم وملائم نازک خوشبودار قربت جو زندگی کی قربت تھی مدہوش کن ہوش
ربا‘ دل آفریں‘ فرحت انگیز‘ تراوٹ بخش جوموت کے تاریک عذاب ناک غار کی سمت جانے سے روک روک
کر اسے اپنی جانب بلاتی رہی تھی۔ جب اسے ایک بے جان سی شے ایک معمولی شے زندگی کی ایک
ضرورت وہ گھڑی بھی کتنی جاندار‘ اور زبردست لگی تھی جسے توڑ کر جس کے شیشے کی دھار سے اپنے
بدن کے زہرآلود حصے کو اپنے ہاتھ سے بڑی بے جگری سے چھید لگاتے سمے اسے کوئی دردمحسوس نہ ہوا
تھا۔ اور خون کی بوندیں پھوٹتے دیکھ کر بھی وہ یہی سوچ رہاتھا کیا ایسا کرنے سے وہ مرنے سے بچ جائے
گا؟ جب اسے ایک شاخ کا حصول سخت جدوجہد لگا تھا جب اسے اس لڑکی کے سہارے گاڑی تک
پہنچتے وقت اس لڑکی کے نازک شانوں پر بازو پھیلا کر نیم غنودگی کے عالم میں قدم اٹھاتے اپنا آپ بے
وقعت ناتواں اور وہ لڑکی بہت مضبوط‘ توانا اور طاقت ور محسوس ہوئی تھی اور جب گاڑی میں پچھلی
سیٹوں پر اپنے طویل قامت کشادہ وجود کوسمیٹ کر لیٹتے ہوئے اس کا دل وحشت سے لپٹ لپٹ کر زور
زور سے دھڑک رہاتھا۔ اس وقت بھی اسے خود سے زیادہ شاذیلا کی فکر تھی کہ سڑک تک پہنچنے پر اگر
وہی لوگ جو تعاقب میں تھے اچانک ان کے سامنے آن کھڑے ہوئے تو وہ کیا کرے گا؟ وہ کیسے ان کے چنگل
سے شاذیلا کو چھڑاپائے گا؟ ایسے میں اسے کیا کرنا چاہئے؟ یہی سوچتے سوچتے وہ پتہ نہیں کب ہربات
ہر شے ہر احساس سے غافل ہوگیاتھا۔ ہوش میں آنے کے بعد بھی وہ اگلے کئی گھنٹوں تک شاکڈ رہاتھا دل
وروح تک پر سکتہ چھایا رہاتھا۔ دو دن بعد وہ ڈسچارج ہو کر گھر آیا اور تیسرے دن ایک نیا دھچکا اس کا
منتظر تھا ماجد خان کی کال ملنے پر وہ ان کے حکم پر تنہا ہی گھر سے نکلاتھا مگر واپسی پر وہ تنہا نہیں
تھا‘ محبت اس کے ساتھ تھی۔جو ایک بے بس‘ بے قصور‘باحیا لڑکی کے آنسوئوں سے چھلک کر اس کی
آنکھوں میں سمائی اور وہ اندر تک جل تھل ہوگیا۔ اور روح تک اس محبت کے ساون میں شرابور ہوتے ہوئے
اب وہ مچل کر‘ بکھر کر‘تڑپ کر نم ہوتی آنکھوں اور ڈوبتے ہوئے دل کے ساتھ اسی خدشے سے سہما
جارہاتھا کہ اگر وہ اسے نہ ملی تو؟ اس توسے آگے کچھ بھی سوچتے ہوئے اسے لگ رہاتھا کہ اس کے دماغ
کی شریانیں کٹ جائیں گی۔ اس کا دل پھٹ جائے گا۔

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 26

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: