Aik Qissa Gul e Gulab Ka Novel by Syeda Gul Bano – Last Episode 10

0

اک قصہ گل ِ گلاب از سیدہ گل بانو -آخری قسط نمبر 10

–**–**–
ایک بار تم مجھ سے کہتیں تو سہی…بس ایک بار ٹھیک تیرہ دن بعد مقررہ تاریخ پر ہی شاذیلا دلہن بن
کر اپنی سسرال آگئی تھی۔ یہ شادی بہت دھوم دھام اور ارمانوں بھری شادی تھی۔ سب کچھ ویسا ہی
ہوا تھا جیسا کہ طے پایا تھا۔ بس…دولہا اور باراتی بدل گئے تھے۔ دولہا اپنے بھائیوں سے چھوٹا تھا اور
دلہن اپنے بہن بھائی سے چھوٹی تھی۔لوگوں کو یہی تجسس ستارہاتھا کہ بڑوں سے پہلے ان کی شادیہوجانے کا مطلب؟ دلہن کی منگنی ختم ہونے کی وجہ؟ سب سے زیادہ حیرت ناک بات یہ کہ دلہن کا نام
شاذیلا تھا اور دولہا کانام…تیمور خان۔ تھی ناں حیرت کی بات مگر کم عقل انسان کی سمجھ میں یہ بات
بہت دیر سے آتی ہے کہ جوڑے بنائے آسمان پر جاتے ہیں اور ملائے زمین پرجاتے ہیں اور یہ کہ جو جوڑے
آسمان پر بنادیئے گئے وہ زمین پر بدل سکتے ہیں نہ ٹوٹ سکتے ہیں‘ نہ بچھڑ سکتے ہیں۔ کچھ بھی تھا
قسمت کا دھنی تو تیمور خان تھا کہ تقدیر نے پھر اسے عطاہی عطا کردیاتھا۔ اظفر کے گھر والوں کی طرف
سے اس واقعے کے بعد شادی کی تاریخ کچھ ٹال مٹول کے بعد آئندہ سال دوسال کے لئے بڑھادی گئی
تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ شاذیلا کی طرف سے ان کے خاص طور پر اظفر کے دل میں بال آگیا تھا۔ ماجد خان
اور قندیل بیگم نے بیٹی داماد اور دونوں بیٹوں سے باہمی مشاورت کے بعد ان لوگوں کے اس بہانے کے
جواب میں رشتہ ختم کرنے کا اعلان کیا اور ایسے میں ان کو تیمور خان یاد آیا جو اب ان کے لئے بڑا معتبر
اور عزیز تر ہوچکاتھا۔ جس کے لئے تیمور خان رب کا جتنا بھی شکر ادا کرتا کم تھا کہ قدرت نے ایک بار پھر
اسے فراخدلی سے نوازنے کا اہتمام کردیاتھا اور شب عروس میں اپنی شریک سفر کے روبرو پیش ہونے کے
بعد پہلا جملہ یا پہلا شکوہ اس کے لبوں پہ یہی مچلا تھا۔
ایک بار تم مجھ سے کہتیں تو سہی…بس ایک بار…پھر کیا میں یقین نہ کرتا۔ بہت نرم بے حد مدھر بھرا
لب ولہجہ تھا۔ شاذیلا نے روٹھے روٹھے انداز سے ایک پرشکوہ نگاہ اس سجیلے شخص پر ڈالی۔
اور اگر یہی میں آپ سے کہوں تو؟ اور اس تونے پہلے ہی سے نادم تیمور کو اور بھی شرمسار کرڈالا۔
…میں تم سے معافی
مجھے کسی معافی تلافی کی ضرورت نہیں۔ کتنی پراعتماد تھی وہ ہمیشہ کی طرح۔ مضبوط اور مہربان۔
تیمور کو اس پر ٹوٹ کے پیار آیا۔ تراشیدہ سیاہ مونچھوں تلے لب بھنچے وہ الفت سے اسے تکے گیا۔
ایک بات پوچھوں…؟اچانک شاذیلا کی الجھی الجھی سوچتی آنکھوں میں تیمور نے دھیرے دھیرے نمی
امڈتے دیکھی وہ چونکا۔
آپ نے… آپ کو کتنی…آپ نے اپنی زندگی میں کتنی لڑکیوں سے محبت کی؟ لہجے کی چبھن بتارہی تھی
کہ سوال کے پیچھے کچھ پرانی اذیتیں تھیں۔
میں اگر سچ بتائوں گا تو شاید تمہیں یقین نہ آئے شاذیلا پر یہی سچ ہے میں نے کبھی محبت کی نہیں
بلکہ مجھے محبت ہوئی تھی اوراگر کہوں کہ تم سے تو پھر تو تمہیں بالکل یقین نہ آئے گا؟میرے یقین کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے آپ شاید بھول رہے ہیں کہ جتنی بھی لڑکیاں آپ کی زندگی
میں آئیں‘ آپ نے ان کو بھرپور توجہ دی… میں تو آپ کے لئے ہمیشہ ایک کھلونے کی طرح تھی جسے توڑ
…پھوڑ کے تضحیک اور اہانت
اب تک پرسکون‘مہربان اور پراعتماد دکھائی دینے والی شاذیلا یکلخت تمام ضبط کھو کر حنائی ہاتھوں
میں چہرہ چھپاتی سسک پڑی تھی۔ تیمور بھونچکا رہ گیا پھر پریشانی سے اس کے ہاتھ تھامے۔
شاذیلا…میں…شاذیلا میں تم سے معافی مانگ تو رہا ہوں۔ میں اپنے ہر جرم کے لئے شرمندہ ہوں۔ شاذیلا
میں کفارہ ادا کروں گا۔ میں تلافی کروں گا۔ میں یقین دلائوں گا کہ میری ساری محبت ساری سچائیاں
تمہارے لئے ہیں۔ میں نے رب سے بہت معافی مانگی ہے۔ بہت رویا ہوں بہت تڑپا ہوں میں اس کے حضور
میں۔ میں اندر سے خوفزدہ ہوں کہ جانتا ہوں وہ اس وقت تک میری کوئی معافی کوئی توبہ قبول نہ کرے
گا جب تک تم…شاذیلا جب تک تم مجھے معاف نہ کروگی اور جن آنکھوں سے میں نے تمہیں اسیر کرکے
تسخیر کرنے کی کوششیں کیں ان آنکھوں کے لئے تو میں بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ کاش میں اندھا
پیدا ہوا ہوتا۔ اس کے لہجے میں اپنے ہی لئے نفرت بھری بددعا تھی۔ جو شاذیلا کو تڑپا کے رکھ گئی۔
تیمور… وہ اور بھی شدت سے سسک اٹھی۔
سچ ہی تو کہا ہے نیک پاکباز روحوں کو بے بس کرکے شرافت کے دھوکے سے بہکانے والے کی شیطینت
کی یہی سزا ہونی چاہئے۔ برتری کے نشے میں اندھا ہو کرمیں حاسد بن گیا اس اندھے پن کی سزا اندھا پن
ہی ہونی چاہئے۔
تیمور… آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں؟
ٹھیک ہے نہیں کرتا لیکن پہلے تم مجھے معاف کرو اور رونا بند کرو۔ وہ بوجھل دل کے ساتھ نرمی سے
مسکرایا۔
میں نے کہاناں مجھے معافی کی ضرورت نہیں۔ شاذیلا نے آہستگی سے ہاتھ چھڑائے۔ وہ گلابوں کی خوب
صورت مہکتی سیج پر سحر انگیز مہکتی دلکش دلہن کے روپ میں مہندی‘ زیورات‘پھولوں سے سجی
سجائی اس وقت تیمور کے ضبط‘ ایمان اور دل کی دنیا کو زیروزبر کئے دے رہی تھی۔ وہ منہ دکھائی کا
تحفہ نازک بریسلیٹ حنائی کلائی پر سجاتے ہوئے بے توجہی سے مسکرایا۔
پھر کس کی ضرورت ہے؟
اعتبار کی۔ کیسی آس تھی حجاب آلود آنکھوں میں۔ تیمور کے دل کو پھر سے کسی ندامت کے شکنجے نے
دبوچا اوراس کی جادو بھری خوابناک مخمور آنکھوں میں دیکھتے ہی دیکھتے پھر سے کسی پچھتاوے کینمی چمک اٹھی۔ مضبوط گلابی لبوں پر دھیرے سے اک اداس مسکراہٹ بکھر گئی۔ دولہا کے لباس میں
مسحور کن روپ لئے شاذیلا نے اس کی سوگواریت کو دل سے محسوس کیا۔
تم جاننا چاہوگی مجھے تم سے محبت کب ہوئی؟
جب سے میں نے ہوش سنبھالا… یا شاید اس سے بھی پہلے اس وقت جب بنانے والے نے تمہیں تخلیق
کرتے وقت مجھ سے کہا کہ تم صرف اس کے لئے ہو اور یہ صرف تمہارے لئے اور دنیا میں تمہیں دیکھتے
ہی میرا دل… وہ بولتے بولتے جیسے کہیں بہت دور گم ہونے لگا۔
تیمور…آپ…آپ کی آنکھوں میں آنسو…؟ شاذیلا کی پکار پر وہ پھر سے اپنے مقام پہ آگیا۔
یہ آنسو گواہ ہیں کہ تم نے مجھے معاف نہیں کیا۔
آپ کا رتبہ مجھ سے معافی مانگنے کانہیں مجھے معاف کرنے کا ہے تیمور۔ وہ لجاجت سے بولی تو تیمور
کو کچھ یاد آیا۔
ہاں…اور میں…تمہیں عمر بھر معاف نہیں کروں گا کہ تم نے میری محبت کو میری چاہت کو مجھ سے ہی
چھپائے رکھا جو تمہارے پاس میری امانت تھی۔ تیمور مصنوعی خفگی سے بولا لبوں کے گوشوں میں
مدھر مسکراہٹ دبی تھی۔ شاذیلا اس کی چمکتی نم آنکھوں‘چمکیلے گھنے بالوں کی دلکش بنت سنگ
دمکتے دل پسند چہرے کے تیکھے نقوش میں مچلتی مسکراہٹ سجیلے مہکتے سراپے سے نظریں چراتی
پلکیں جھکاگئی۔
بتاتو دیا…سب کے سامنے۔ نازک ہونٹوں پر شرمگیں مسکان رقصاں تھی۔ لرزیدہ پلکیں‘ حیا آلود گلاب سے
گال‘ اناری ہونٹ‘ تیمور یک ٹک مسحور ساتکے گیا۔ وہ لجا کر سمٹتی‘ ہاتھ چھڑانا چاہتی تھی۔ چوڑیوں کی
کھن کھناہٹ میں تیمور نے اس کے ہاتھوں پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے سرشار محبت کی سب نشانیاں اس
کے عروسی روپ کو سونپنے سے ذرا پہلے بے اختیار سوچا تھا۔
وہ عمر بھر اپنے لئے ممنوعہ ناجائز پرائی عورتوں کے دل سے کھیلتا رہا اور اب باقی عمر کوئی اور اس کے
دل کے ساتھ کھیلتا رہے گا اور وہ کوئی اور…اور کوئی نہیں اس کی شریک حیات تھی‘ اس کی اپنی جائز
عورت‘ اس کی محبت۔ اس کی اپنی شاذیلا مگر جو کھیل وہ کھیلتا رہاتھا وہ حسد‘ بدی‘ برتری گمراہی کے
اندھے جذبوں کے میدان میں کھیلتا رہاگناہ کا کھیل‘ مگر اب جو کھیل اس کے سنگ تاعمر محبت کھیلا
کرے گی وہ حق وسچ کی پاکیزگی سے منور تھا ایمان کی روشنیوں سے روشن کھیل۔
–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Jinnat Ka Ghulam Novel By Shahid Nazir Chaudhry Read Online – Last Episode 37

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: