Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 1

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 1

–**–**–

“جنت۔۔!! میری جان۔۔!!
کیا ہوا تمہیں۔۔۔؟؟؟ کیوں اس طرح رو رہی ہو۔۔!!
کچھ بتاؤ تو۔۔
اور یہ تم نے اپنا حلیہ کیوں بگاڑا ہے۔۔؟؟
یہ اپنے ہاتھ دکھاؤ مجھے ۔۔!!
تمہیں چوڑیاں نہیں پہننی تھی تو اتار دیتیں۔۔!!
انہیں توڑ کر اپنا ہاتھ زخمی کیوں۔۔ کیا بولو۔۔؟؟”
زوبیہ کے لہجے سے اپنی پیاری دوست کے لیے فکرمندی صاف ظاہر تھی۔
زوبیہ کب سے اسے چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی۔
پر جنت فرزان پر تو اس کی کسی بات کا اثر ہی نہیں ہو رہا تھا۔
وہ بڑے انہماک سے اپنا رونے کا شغل پورا کر رہی تھی۔
اب تو اس نے اپنی لپ اسٹک بھی رگڑ کر خراب کر لی تھی۔۔
اور ساتھ میں اپنے خوبصورت سے جوڑے میں بند بالوں کو اپنے ایک ہاتھ سے بے دردی سے کھول کر اپنے کندھوں پر گرنے کے لیے چھوڑ دیا ۔
اس کا دوسرا ہاتھ زوبیہ نے نرمی سے اپنے ہاتھوں میں لیا ہوا تھا۔
زوبیہ بہیت پریشانی سے اپنی دوست کی یہ خبطیوں والی حرکتیں ملاحظہ کر رہی تھی۔
وہ کب سے.. اس سے۔۔اس کا مسئلہ پوچھ رہی تھی۔۔۔
اس کی تکلیف جاننا چاہ رہی تھی۔۔
پر جنت صاحبہ نے تو ہر چیز ایک طرف رکھ کر۔۔ بس رونے پر زور دیا ہوا تھا۔
میک اپ واٹر پروف نہ ہونے کی وجہ سے۔۔
اس کا آئی لائنر، مسکارا اور کاجل بھی بہہ کر۔۔ اس کے چٹے سفید۔۔ بھرے بھرے گالوں پر عجیب و غریب نقشے بنا چکا تھا۔
زوبیہ اس کے۔۔ اس قدر مستقل مزاجی سے سبکیاں لینے سے اب اچھی خاصی تنگ آ چکی تھی۔
“جنت کی بچی۔۔!!
اب اگر تم نے اپنے منہ سے کچھ پھوٹے بغیر، ایک بھی آنسو باہر نکالا تو۔۔!!
میں نے ایک چماٹ لگانا ہے تمہیں ۔۔!! سمجیں۔۔؟؟” زوبیہ نے قدرے غصے سے کہا۔
“زوبی مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔۔!!” جنت شدت سے سسکتے ہوئے بولی۔۔
زوبیہ ایک بار پھر تشویش میں مبتلا ہوئی۔۔
اب وہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ اور پریشان دکھائی دے رہی تھی۔
“بتاؤ تو۔۔ کہ کیا برداشت نہیں ہو رہا؟؟”
“درد..! درد برداشت نہیں ہو رہا۔۔ مجھ سے۔۔ زوبی بتاؤ میں کیا کروں۔۔ کہاں جاؤں۔۔؟؟” جنت اب مزید تڑپتی دکھائی دے رہی تھی۔
“اوہ۔۔ تمہیں درد ہو رہا ہے؟؟ پر کہاں۔۔؟؟ چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔” زوبیہ کی پریشانی ابھی بھی قائم تھی۔
جنت کا دل کیا کہ وہ اس کا سر پھوڑ دے۔۔
وہ اپنا رونا بھول کر ذرا غصے میں زوبیہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔
” کیا ہوا۔۔ ؟؟ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟؟” زوبیہ نے معصومیت سے پوچھا کیوں کہ اسے جنت کا یہ ری ایکشن بالکل سمجھ میں نہیں آیا۔
“بھلا میں ڈاکٹر کے پاس جا کر کیا کروں گی۔۔؟؟” جنت نے جل کر کہا۔
“تم نے ہی تو کہا کہ تمہیں درد ہو رہا ہے۔۔”زوبی کی معصومیت انتہا پر تھی۔
“بس تمہاری یہی عادت سب سے بری لگتی ہے۔۔!!
باقی ہر چیز کا پتہ ہوتا ہے تمہیں۔۔ بس میرے معاملے میں بدھو بن جایا کرو!
تمہیں اپنی بات بتانے سے اچھا ہے کہ میں اپنا سر دیوار میں مار لوں۔۔!!” جنت نے ہنوز روتے ہوئے زوبیہ کو لتاڑا۔
“دیکھو۔۔!!! جنت ۔۔ یہ بہت بری بات ہے۔۔
ایک تو میں نے اتنی دیر سے تمہارا یہ رونا دھونا برداشت کیا ہوا ہے اور۔۔
کب سے۔۔۔ میں تمہیں بہلانے کی کوششیں کر رہی ہوں۔۔
اور اوپر سے تم مجھے ہی بدھو ہونے کے طعنے دے رہی ہو۔۔” زوبیہ نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔
“زوبی میں کیا کروں؟؟؟
مجھ سے اپنی فیلنگز نہیں سنبھالی جا رہیں۔۔!!
تم پوچھ رہی ہو نا۔۔ کہ کہاں درد ہو رہا ہے۔۔؟؟
میرے دل میں درد ہو رہا ہے۔۔
میں نے ہمت کر کے اپنے دل پر پتھر رکھ کر احسن سے منگنی کر تو لی۔۔
لیکن اب مجھ سے۔۔ اس پتھر کا بوجھ نہیں برداشت ہو رہا۔۔” وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔
“اوہ ہ ہ۔۔ تو تم کس اور کو پسند کر تی ہو۔۔!!” زوبیہ نے حیرت کے مارے اپنے ہونٹ گول کر کے لمباسا ‘اوہ’ کیا۔
“پسند تو بہت۔۔ بہت چھوٹا سا لفظ ہے۔۔ زوبی۔۔!! مجھے ان سے عشق ہے۔۔” وہ پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“یار۔۔ پھر تمہیں اس رشتے کے لیے “ہاں” نہیں کرنی تھی۔۔
پھوپھو اور انکل نے تم سے تمہاری خواہش۔۔ تمہاری مرضی پوچھی تو تھی۔۔
ابھی ابھی تو تمہاری منگنی ہوئی ہے۔۔
اور ابھی سے تمہارا یہ حال ہے۔۔۔
تم اپنی ساری زندگی کیسے گزارو گی۔۔!!” زوبیہ پریشانی کی تصویر بنی بیٹھی تھی۔
“یار۔۔ میں کس base پر انکار کرتی۔۔؟؟
جس سے میں بے پناہ محبت کرتی ہوں وہ تو شاید مجھے اپنی نفرت کے لائق بھی نہیں سمجھتے۔۔
اور مجھے منگنی سے کوئی مسئلہ نہیں۔۔
انفیکٹ شادی تو کسی نہ کسی کے ساتھ بھی ہونی ہی ہے۔۔
پھر کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ احسن ہو یا کوئی اور۔۔
اور مجھے مما بابا کے فیصلے پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔۔
کیوں کہ میں جانتی ہوں انہوں نے میرے لیے بہترین بندہ سلیکٹ کیا ہے۔۔
میں تو بس یہ کہ کہہ رہی ہوں کہ۔۔
کہ۔۔ مجھ سے۔۔ میرا دل۔۔!! نہیں سنبھل رہا۔” اپنی بے بسی پر جنت کا معصوم دل۔۔ کٹ کر رہ گیا۔
“اچھا یہ بتاؤ کہ وہ ہیں کون؟؟
کیا انہیں ان کے بارے میں۔۔ تمہارے احساسات کا علم ہے۔۔؟؟” زوبی نے انویسٹیگیشن آگے بڑھائی۔
“زوبی۔۔۔ !! آئم رئیلٹی ویری سوری ٹو یو۔۔!!
میں۔۔ تمہیں۔۔ ان کا نام نہیں بتا سکتی۔۔!!
دیکھو!! بے شک تم میری سب سے زیادہ کلوز فرینڈ ہو۔۔
لیکن میں تمہیں ان کا نام نہیں بتانا چاہتی۔۔
وہ میرا راز ہیں۔۔ میں نے بہت سنبھال کر انہیں اپنے دل کے پردوں میں چھپا کے رکھا ہے۔۔
انہیں میرا راز ہی رہنے دو۔۔
اور اب بتانے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔
میں انہیں بھلانا چاہتی ہوں۔۔
میں بھول جانا چاہتی ہوں۔۔
میں جانتی ہوں کہ میں اب کسی اور کی امانت ہوں۔۔!!
اور مجھے خود کو اس امانت میں خیانت کرنے سے روکنا ہے۔۔
اور مجھے نہیں علم کہ انہیں میری فیلنگز کا پتہ ہے یا نہیں۔۔
بس میں اتنا جانتی ہوں کہ مجھے اب ان سے نفرت کرنی ہے۔۔ اتنی نفرت کہ ان سے محبت کا خیال بھی میرے وہم و گمان میں نہ رہے۔۔ ” جنت کی تکلیف انتہا پر تھی۔
“یار پھر بھی۔۔!!
تم ایک دفع پھر سوچ لو۔۔
ابھی تمہاری شادی میں۔۔پورا مہینہ باقی ہے۔۔
تم کہو تو میں زریاب بھائی سے بات کر لیتی ہوں۔۔
وہی لائے تھے نا۔۔
اپنے دوست کا پروپوزل تمہارے لیے۔۔
میں ان سے کہتی ہوں کہ وہ کسی طرح احسن بھائی کو اس رشتے سے انکار کے لیے راضی کر لیں۔۔” زوبیہ نے بڑے خلوص سے اپنی خدمات پیش کیں۔
زریاب کے نام پر تو جنت کو مزید پتنگے لگ گئے۔
“نام مت لو تم اپنے۔۔ رشتہ کرانے والی ماسی جیسے بھائی کا۔۔
پتہ نہیں خود کو سمجھتے کیا ہیں۔۔
اپنے دوست کو لے کر پہنچ گئے۔۔
میں ہی ملی تھی انہیں اپنے دوست کے لیے۔۔
پتہ ہے تمہارے “زریاب بھائی۔۔” ایک نمبر کے سڑیل۔۔
کھڑوس ۔۔ بدلحاظ اور بہت مغرور انسان ہیں۔۔
زہر لگتے ہیں مجھے وہ۔۔” زریاب کے نام پر جنت مزید بھڑک اٹھی۔
“جنت..!!
میرے بھائی کے لیے زبان سنبھال کر بات کرو۔۔
مانا کہ تم اس وقت ٹینشن میں ہو۔۔
مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ تم اپنے ہواس ہی کھو دو۔۔
اور مت بھولو۔۔ وہ تمہارے بھی بھائی ہیں۔۔”” زوبیہ اپنے بھائی کی شان میں گستاخی سن کر خوب خفا ہوئی۔
“کوئی بھائی وائی نہیں ہے میرے۔۔
میں نے کبھی انہیں اپنا بھائی نہیں مانا۔۔
وہ صرف اور صرف ایک آنا پرست۔۔ضدی۔۔ مغرور اور بد تمیز انسان ہیں۔۔
اور میرا رشتہ کروانے کے بعد تو رشتے کرانے والی مائی بھی بن گئے۔۔
اللّٰه جانے کس بات کی اکڑ ہے ان میں۔۔”” جنت پر زوبیہ کی خفگی کا کوئی اثر نہیں ہوا۔۔ وہ تو بس مگن تھی۔۔ اپنی بھڑاس نکالنے میں۔
زوبیہ اپنے بھائی کی اس قدر ذلالت سننے کے بعد جنت کا منہ توڑنے والی تھی۔۔
کہ اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 1

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: