Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 10

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 10

–**–**–

اور اسے ، زرار کے behavior سے جو تھوڑے بہت، مبہم سے اشارے ملے تھے،
ان پر تو وہ چاہ کر بھی یقین نہیں کرنا چاہتی تھی۔
وہ یوں ہی کچھ دیر تک۔۔ اپنی سوچوں سے الجھتی رہی،
اور بالآخر نیند کے اثر سے مغلوب ہو کر وہ پر سکون سی سو گئی،
پتہ نہیں اس کی بے چینی ، اس کی تکلیف ۔۔ اس کا غم ، اپنے عشق کو مارنے کا درد ، سب غائب ہوگیا تھا،
زرار کی اتنی سی دیر کی کمپنی نے ۔۔ اس کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا تھا،
اور جنت بی بی کو پتہ بھی نہیں چلا،
اب اسے ایک بار پھر سے اس تکلیف سے گزرنا تھا،
اسے پھر سے اپنی محبت مارنی تھی، جو پتہ کہاں سے اتنی طاقتور ہو کر، پھر سے اس کے دل میں ڈیرا ڈال چکی تھی،
وہ بری لڑکی نہیں بننا چاہتی تھی،
وہ اپنے دل و دماغ کی تمام تر رضامندیوں سے احسن کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتی تھی،
پر دل تھا کہ بغاوت پر تلا ہوا تھا،
اور وہ اپنے دل کی اس بغاوت سے بے خبر، بہت سکون سے محوِ خواب تھی،
××××××××
تین چار دن بالکل معمول کے مطابق گزرے،
ان دنوں میں جنت نے ایک دفع تو زوبی کی کلاس بھی لی تھی۔۔ کہ وہ اپنی اوٹپٹانگ حرکتیں چھوڑ دے اور اس کی کہی باتیں، کسی سے بھی ہر گز ، شیئر نہ کرے۔۔ اور زرار سے تو بالکل بھی، اس کے متعلق کوئی بات نہ کرے،
اسے زوبیہ اور زرار کا دھوکے سے آئسکریم کے لیے لے کے جانے والا منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھایا،
اس نے صاف الفاظ میں زوبی کو اپنے معاملے سے دور رہنے کی تلقین کی،
وہ اپنے دل سے زرار کی لائف پارٹنر بننے کے سارے وہم نکال چکی تھی،
اور خود کو بہت مشکل سے ، زرار کی محبت سے دستبردار ہونے پر آمادہ کیا تھا،
اس نے ہاتھ جوڑ کر زوبی سے درخواست کی کہ وہ مزید اس کے لیے مشکلات نہ کھڑی کرے،
×××××
زرار بھی تین چار دنوں تک بہت بزی رہا تھا،
کالج میں ایڈمیشنز بھیجنے کا سلسلہ اور پھر چند ایک ضروری کام۔۔!!
ان کی وجہ سے وہ اپنا کوئی لیکچر بھی نہیں لے پایا،
اور اتنے کام اور مصروفیات کے باوجود بھی مزاج میں تبدیلی، اضطراب، دیوانگی۔۔۔ اب تک قائم تھی،
ظاہر ہے ، اسے تسکین، صرف جنت کی صورت میں ہی مل سکتی تھی۔۔۔
اور وہ اسے وہ اسکی لاکھ کوشش کے باوجود بھی کہیں نہیں دکھائی دی،
کیونکہ کچھ احتیاط تو وہ خود بھی برت رہی تھی،
اسے زرار کا آخری رویہ اب تک نہیں بھولا تھا،
××××××××
اب فائنلی ویک اینڈ تھا،
زرار اپنے سارے کام نبٹا چکا تھا،
اب وہ بالکل فارغ تھا،
وہ گھر سے باہر جانے کے ارادے سے اپنے روم سے نکلا تھا کہ لاونج میں بیٹھے زریاب اور زوبیہ کو لڈو کھیلتا دیکھ کر ، انہی کے پاس آ کر بیٹھ گیا،
“السلام علیکم بھائی” زریاب نے خوشدلی سے سلام کیا ،
زرار نے بھی جواباً اتنی ہی خوشدلی سے “وعلیکم السلام” کہا،
جبکہ زوبیہ خاموش ہی رہی ، اس نے ایک نظر اپنے اس کھڑوس بھائی کو دیکھا،
جس نے اس دن کے بعد سے اپنے اور جنت کے معاملے میں کوئی پراگریس ہی نہیں دکھائی تھی،
“بس ایک دن کا عشق تھا۔۔ان کا” زوبی نے جل کر سوچا،
اب وہ اپنی طرف سے تو وہ کوئی خاص کوششیں جاری نہیں رکھ سکتی تھی،
کیونکہ جنت نے جو اسے منع کیا تھا،
“اور سناؤ کیا حال چال ہیں؟؟” زرار نے ایسے پوچھا کہ جیسے وہ کافی عرصے بعد مل رہے ہوں،
“میں تو ٹھیک ہوں بھائی پر آپ کو شاید کچھ ہوا ہے۔۔
دو تین دن سے میں نے خود بھی نوٹ کیا ہے اور کچھ اسٹوڈنٹس کو بھی آپس میں بات کرتے سنا تھا کہ زرار سر آج کل کچھ بدلے بدلے لگتے ہیں،” زریاب نے زوبی کی پکی گوٹی مارتے ہوئے مزے سے کہا،
“نہیں۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں، وہم ہے تمہارا بس،” زرار صاف مکر گیا،
اس پر تو جنت کو پتنگا لگ گیا،
اب بندے میں ایسا بھی ڈھیٹ پن نا ہو۔۔ کہ بندہ اپنی محبت کا اقرار اور اظہار کرنے سے ہی مکر جائے،
“کچھ تو ہے بھائی۔۔!! کچھ تو ہے۔۔!! وہ مجھ سے دو تین ٹیچرز نے بھی پوچھا تھا کہ زرار سر کو کچھ ہوا ہے۔۔آج کل عجیب اجڑے شہزادے بن کر گھومتے ہیں،” زریاب نے زرار کے چہرے پر آتے جاتے رنگ دیکھ کر شرارت سے کہا،
“کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ ہے۔۔!! پر آپ بھائی کے ساتھ مغزماری نہ کریں، یہ نہیں اگلنے والے، جب اپنی محبت کو کسی اور کے ساتھ رخصت ہوتا دیکھیں گے ناں تو پھر انہیں عقل آئے گی،” زوبی تو اپنے دل میں آئی بات، بغیر کوئی لحاظ کئے، زریاب کے سامنے بول کر ہی وہاں سے اٹھ گئی،
اور ایک ہاتھ مار کر ، لڈو کی ساری گوٹیاں تہس نہس کر کے غصے میں وہاں سے اٹھی تھی،
اس سے جنت کی کی ہر پل مرتی ”زندہ دلی” کا تماشہ نہیں دیکھا جاتا تھا،،
اس سے ، اپنی سہیلی کا تنہائی میں بیٹھ کر، اس لاپرواہ اور کھڑوس انسان کے لیے آنسو بہانا برداشت نہیں ہوتا تھا،
اسے تکلیف ہوتی تھی، جنت کو اس کے دل کے ہاتھوں مجبور دیکھ کر،
وہ لاکھ چاہنے کے باوجود بھی، زرار سے نفرت کرنے میں ناکام رہی تھی،
اور یہ بات اس نے کسی کو بتائی نہیں تھی،
لیکن زوبی کی چھٹی حس آج کل ایسی تیز ہوگئی تھی کہ زرار اور جنت کے اندر مچلتے طوفانوں کو بخوبی دیکھ سکتی تھی،
×××××××
“بھائی یہ زوبی کیا کہ کر گئی ہے۔۔؟” زریاب نے حیرانی سے پوچھا،
“کچھ نہیں۔۔ تم چھوڑو اسے۔۔ مجھے یہ بتاؤ کہ احسن اپنے رشتے پر دل سے رضامند تھا یا خالہ کے دباؤ میں آکر۔۔۔ وہ یہ شادی کر رہا ہے۔۔ تم سے اس لیے پوچھ رہا ہوں کیونکہ تم اس کے دوست ہو۔۔ جانتے ہوگے یہ سب۔۔” زرار نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے، اپنے دل میں آتا سوال پوچھا،
اسے فی الحال زوبی کی بدتمیزی پر بھی غصہ نہیں آیا ،
زریاب کو کچھ کچھ بات سمجھ آ رہی تھی،
وہ چھوٹا بچہ تو تھا نہیں کہ زوبی کی بات ، زرار کے رویے اور سوال سے مطلب نہ اخذکر پاتا،
سو اس لیے اس نے اپنے بھائی کو تمام حقیقت بتانے میں ہی بھلائی سمجھی،
“جی بھائی وہ خالہ کی ضد اور اصرار پر ہی یہ شادی کر رہا ہے، خالہ نے پتہ نہیں کیسے کیسے ایموشنل بلیک میل کر کے، اسے زبردستی راضی کیا تھا،” زریاب نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا،
زرار کے چہرے پر نرم سی، ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی،
“ہاں جانتا ہوں، خالہ کو ہمیشہ سے ہی جنت کی دولت اور اس کا اکلوتا ہونا، بہت اٹریکٹ کرتا تھا، ” اس نے طنز بھرے لہجے میں کہا،
“وہ تو صحیح ہے۔۔ لیکن مجھے یہ بتائیں کہ آپ کو کوئی لڑکی کب سے اٹریکٹ کرنے لگی،” زریاب نے ایک آنکھ مارتے ہوئے شرارت سے کہا
“بکواس نہیں کرو۔۔ اور خاموش بیٹھو، میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی،” زرار نے سخت لہجے میں کہا،
“واہ جی واہ، ساری پابندیاں، بس مجھ پر ہی۔۔ ایک تو آپ نے اس زوبی چڑیل کو کیوں کچھ نہیں کہا؟؟ جو میری جیتی جتائی گیم الٹ کر چلی گئی،” زریاب نے ، زرار کے ٹوکنے پر جل کر کہا،
“میں نے کہا ناں بکواس نہیں کرو۔۔ مجھے یہ بتاؤ کہ وہ کسی اور میں تو انوالو نہیں ہے۔۔؟؟” اس نے ماتھے پر بل لاتے ہوئے پوچھا،
“جی بھائی۔۔ وہ اپنی کسی کلاس فیلو کو بہت پسند کرتا ہے، پر اسٹیٹس کے فرق کی وجہ سے ، خالہ کو وہ لڑکی بالکل نہیں، اب اس میں اس لڑکی کا تو کوئی قصور نہیں ناں کہ وہ مڈل کلاس فیملی سے ہے،” زریاب نے اپنے دوست کے لیے افسوس محسوس کرتے ہوئے کہا،
زرار کی تو لاٹری ہی نکل آئی تھی،
بے شک وہ اوپر سے جنت کے لیے اپنی بے تابی کا اظہار کرنے سے ہچکچاتا تھا،
لیکن اندر سے اسے بھی ، اس کی شادی کی اتنی ہی ٹینشن تھی،
اس نے سیکنڈز میں ہی اپنا پلین ترتیب دیا،
زریاب ابھی تک کسی اور سوال کے انتظار میں، خاموشی سے زرار کے چہرے کی طرف ہی دیکھ رہا تھا کہ زوبی وہاں آ ٹپکی،
“زریاب بھائی جلدی اٹھیں، خالہ کا فون آیا ہے، وہ کہہ رہی تھیں کہ جنت کو لے کر مارکیٹ آجاؤ ، انہوں نے اس کے ولیمے کا ڈریس سلیکٹ کرنا ہے ناں، اس لیے، آپ جلدی سے کار نکالیں، ہم جنت کو اس کے گھر سے پک کر لیتے ہیں،” زوبی نے زرار کو فل اگنور کیے، جلدی جلدی ساری بات کی،
زریاب ابھی فارغ نہیں، اسے کہیں اور جانا ہے۔۔
میں لے چلتا ہوں،
زرار نے اپنی گھمبیر آواز میں ، اپنا حکم سنایا،
زریاب پریشان۔۔!! کہ اسے بھلا کہاں جانا ہے۔۔
پھر اپنے بھائی کی چالاکی سمجھتے ہوئے اس نے اپنی ہنسی دبائی،
“نہیں بھائی۔۔ مجھے تو کوئی کام نہیں، اور اگر ہوتا بھی تو میں اپنا کام بعد میں کر لیتا، کوئی نہیں، میں لے جاتا ہوں، مجھے بھی ذرا تجرںہ ہو جائے گا،” زریاب نے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے زرار کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دی،
زرار تلملا کر رہ گیا تھا،
ایک تو بچارے کو محبت کیا ہوئی کہ اس کے دونوں بہن بھائی ہی اس کے ہاتھ سے نکل گئے تھے،
دونوں پر اس کے رعب دبدبے کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا تھا،
زرار نے ایک غصے بھری گھوری اپنے بھائی پر ڈالی،
جس کا اس نے کوئی اثر نہیں لیا،
الٹا وہ ہنستے ہوئے، اس نے، سامنے ہی ٹیبل پر، لڈو کے ساتھ پڑی کار کی چابی اٹھائی، اور زوبی کو چلنے کا کہ کر، خود بھی اپنی جگہ سے اٹھا،

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: