Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 11

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 11

–**–**–

الٹا ہنستے ہوئے، اس نے، سامنے ہی ٹیبل پر، لڈو کے ساتھ پڑی کار کی چابی اٹھائی، اور زوبی کو چلنے کا کہ کر، خود بھی اپنی جگہ سے اٹھا،
زرار کو زریاب پر بہت غصہ آیا،
پر اس وقت وہ کوئی بدمزگی نہیں چاہتا تھا،
زوبیہ، زریاب کے ساتھ ہی، کار میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی،
زریاب کار اسٹارٹ کرنے ہی لگا تھا،
کہ زرار نے کار کا بیک ڈور کھولا اور ڈھیٹوں کی طرح آکر بیٹھ گیا،
زراز فرنٹ مرر میں نظر آتے، زریاب کے مسکراتے چہرے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا،
زوبیہ نے بھی پیچھے مڑ کر زرار کی طرف دیکھا
تو بمشکل اپنے منہ سے برآمد ہونے والے قہقہے کو اندر ہی رکھا،
اور زرار مسلسل، اپنے بہن اور بھائی کے مذاق اڑانے والے تاثرات دیکھ کر جل رہا تھا،
ظاہر ہے۔۔یہاں مذاق اس کا اڑایا جا رہا تھا،
اور زرار سے ، اپنے متعلق کوئی بات کب برداشت ہوتی ہے!!
پر اب تو وہ برداشت کر رہا تھا،
اور بہت تحمل سے برداشت کر رہا تھا،
زریاب نے کار جنت کے گھر کے باہر روکی تو وہ وہاں پہلے سے ہی گیٹ کے سامنے کھڑی تھی،کیونکہ زوبی پہلے ہی اسے بھی فون پر ریڈی رہنے کا بول دیا تھا،
زرار ذرا نیچے کو، اپنے سنیکر کا تسمہ سیٹ کرنے کا بہانا کرتے ہوئے نیچے کو جھکا تھا،
اس لیے جنت اسے باہر سے دیکھ نہیں پائی اور وہ وہیں بیک سیٹ کا ڈور کھول کر بیٹھنے لگی تو زرار کو وہاں پہلے سے بیٹھا دیکھ کر، ایک دم بوکھلا گئی،
مصیبت ہی تھی اس کے لیے تو،
زرار اسے منتظر نگاہوں سے دیکھ رہا تھا کہ وہ آئے اور اس کے پہلو میں بیٹھے،
جنت بچاری۔۔!!
کنفیوز سی وہیں پر کھڑی تھی،
“احسن کی فیوچر مسز، بیٹھنے کے ارادے نہیں ہیں کیا، وہاں تمہاری ساس پلس ہونے والا ہزبینڈ انتظار کر رہے ہوں گے۔۔!!” زرار کو بھی پتہ نہیں کیا مسئلہ تھا،
وہ ایسی فضول جلی کٹی سنانے سے خود کو روک نہیں سکا،
شاید اپنے بہن بھائی کا غصہ تھا، جسے اس نے جنت پر طنز کر کے نکالا، اب وہ اپنی زبان کے اس طرح پھسلنے پر تھوڑا شرمندہ ہوا لیکن اس نے اپنی مغرورانہ عادت کے باعث ، اپنی ساری شرمندگی بھلا دی،
زرار کے سلگتے جملے پر، جنت نے تڑپ کر اسے دیکھا،
اور پھر اپنے تاثرات میں سختی لاتے، غصے میں بالکل ڈور کے ساتھ ہی چپک کر بیٹھ گئی،
وہ مسلسل ونڈو سے باہر دیکھ رہی تھی اور ساتھ میں ہی زوبی اور زریاب کی گفتگو میں بھی حصہ ملاتی رہی،
شکر تھا کہ زرار چپ بیٹھا تھا،
پر چپ رہ کر بھی اس نے جنت کی جان سلگائی ہوئی تھی،
اس نے جنت کا ناراض چہرہ مسلسل اپنی نگاہوں کے فوکس میں رکھا ہوا تھا،
جنت اس کی اس مسلسل حرکت سے کوفت کا شکار ہو رہی تھی، کیونکہ زریاب نے فرنٹ مرر سے زرار کا یہ عمل نوٹ کر لیا تھا اور دو دفع اپنے بڑے بھائی کو ٹوک بھی چکا تھا،
پر زرار نے تو ڈھیٹ بننے کی قسم کھائی ہوئی تھی،
اس لیے وہ اپنی حرکت سے قطعاً باز نہیں آیا،
××××××
مارکیٹ پہنچتے ہی زریاب اور زوبی جنت کو بوتیک لے گئے جہاں احسن اور خالہ پہلے ہی سے موجود تھے،
احسن کی نظروں میں جنت کے لیے کوئی خوش آمدیدی تاثر نہیں تھا جبکہ خالہ بہت اپنائیت بھرے انداز میں جنت سے ملیں،
احسن جنت کی ڈریس سلیکشن میں بھی کوئی دلچسپی نہیں لے رہا تھا،
زرار اس کا ہر ایک عمل بہت گہرائی سے نوٹ کر رہا تھا،
پھر وہ احسن کی واضح اکتاہٹ کو بھانپتے ہوئے،
اسے بوتیک کے عین سامنے موجود کیفے میں کافی پلانے لے گیا، یہاں وہ آرام سے اس سے بات کر سکتا تھا،
احسن نے اس کی پیشکش آرام سے قبول کر لی تھی،
لیکن وہ زرار سے بات کرتے ہوئے کسی قسم کی گرمجوشی کا تبادلہ نہ کر سکا،
کیونکہ اسے بھی زرار کا زبردستی جنت کے والدین کو رشتے کے لیے راضی کرنے والا کارنامہ بالکل پسند نہیں آیا تھا،
“میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنے رشتے سے شاید خوش نہیں ہو،” زرار نے دو کپ کافی اور سینڈوچز آرڈر کرنے کے بعد، گہری نظروں سے احسن کے تاثرات جانچتے ہوئے، گفتگو کا آغاز کیا،
“آپ کو ایسا کیوں لگا، اور کیا فرق پڑتا ہے آپ کو،میرے خوش ہونے نہ ہونے سے،” احسن نے اکھڑے لہجے میں کہا،
“تمہاری شکل پر لکھا ہے کہ تم خوش نہیں،
تمہارے خوش ہونے یا نہ ہونے سے ، یقیناً مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا،
لیکن یہاں معاملہ دو زندگیوں کا ہے،
بھلا اس طرح تم جنت کو کیسے خوش رکھ سکو ہے،” زرار نے تحمل سے بات آگے بڑھائی،
“بھائی یہ بات۔۔ویسے آپ کو ذرا پہلے پوچھنی چاہیے تھی، اب پانی سر سے گزر چکا ہے، ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں، ویسے بھی میں اس رشتے کو قبول کر چکا ہوں اور میں نے سعدیہ کو بھی انکار کردیا ہے،” احسن نے بے دھیانی میں سعدیہ ، بھی نام بول دیا،
“یہ سعدیہ کون ہے۔۔؟؟” زرار نے فوراً اس کی بات پکڑی،
“کک کوئی نہیں بھائی،” احسن بوکھلا گیا تھا،
“دیکھو۔۔ جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں،
میں نے دیکھا تھا تمہیں کچھ دنوں پہلے اس کے ساتھ،
وہ کالے عبایا میں موجود لڑکی اچھی تھی،
اگر تم ساری بات سچ سچ بتادو گے تو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں، مجھے تم اپنا بڑا بھائی سمجھ کر سب کچھ شئیر کر سکتے ہو،”
زرار کا رویہ بے حد پولائیٹ اور میٹھا تھا،
احسن کو کچھ کھٹکا سا ہوا،
کیونکہ اس نے زرار کو اس قدر شائستگی سے بات کرتے، آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا،
پر پھر بھی، اسے اپنا کام بنتا نظر آیا تو اس نے ساری کہانی بتادی۔۔۔
کہ وہ سعدیہ کو گزشتہ چار سالوں سے بے حد چاہتا ہے پر اس کی امی کسی طرح اس کی شادی سعدیہ سے کرانے پر رضامند نہیں،
اس لیے پھر اس دن اس نے سعدیہ کو ملنے کے لیے بلایا تھا،
اور وہ پہلی بار ، اس طرح اس کے کہنے پر ملنے آئی تھی،
وہ احسن کی شادی کا سن کر بہت ہرٹ ہوئی تھی،
اور وہ احسن سے بہت خفا ہو کر، روتے ہوئے اپنے گھر واپس گئی تھی،
احسن نے بہت افسوس سے سارا ماجرا بتایا،
“اب تم واقعی سعدیہ سے شادی کرنا چاہتے ہو تو۔۔ میرے پاس ایک پلین ہے۔۔
اور ہاں وہ جو تمہیں اپنے بزنس کے لیے لون چاہیے تھا ناں، اس کے لیے اب تمہیں بینک جانے کی کوئی ضرورت نہیں، اس کی کی ٹینشن مت لینا،”
زرار نے اسے اچھی طرح ٹریپ کرلیا تھا،
اس نے گزشتہ دنوں میں احسن کے متعلق ساری معلومات حاصل کر لیں تھیں، اس لیے اب اس کو اپنے جال میں پھنسانے میں، زرار کو زیادہ مشکل نہیں ہوئی،
اور وہ بھی بھولا کہیں کا، بغیر کچھ سوچے سمجھے اس کی باتوں پر ہاں ہاں میں سر ہلایا جا رہا تھا،
زرار نے احسن کے پوچنے پر، اپنا مکمل پلین، اسے بتایا،
احسن کو اس کا سارا منصوبہ پسند آیا پر اس سب میں بھی اسے ایک بات پریشان کر رہ تھی کہ جنت کا کیا ہوگا!
زرار نے اسے تسلی دی کہ وہ جنت کی فکر نہ کرے،
پر پھر بھی، احسن تھوڑا ہچکچاہٹ کا شکار تھا،
کیونکہ جو بھی تھا، لیکن وہ اپنے دل کی نرمی کے باعث ایسے کسی کو ہرٹ کرنے کی وجہ نہیں بننا چاہتا تھا،
پہلے ہی، اس سے ، سعدیہ کو انکار کرنے کا گلٹ برداشت نہیں ہو رہا تھا،
جنت لڑکی تھی، اور وہ جانتا تھا کہ لڑکیوں کی عزت کتنی نازک ہوتی ہے، پر وہ تھا تو انسان ہی، “مطلب پرست انسان!!”
اس لیے اس نے تھوڑے تردد کے بعد زرار کے پلین پر عمل کرنے کی حامی بھر لی تھی،
×××××××
ایک خوشی تھی،
جو احسن کے، اتنی آسانی سے راستے سے ہٹنے پر،
زرار کے ہر انداز سے چھلک رہی تھی،
اس نے جلدی جلدی اپنی کافی ختم کی،
اور جلدی سے احسن کو ساتھ لیے، واپس اسی برائیڈل بوتیک میں گھس گیا،
“چلو بچے۔۔ تم بھی اپنی دلہن کے لیے کچھ پسند کرلو۔۔!” زرار نے شرارت سے احسن کے کان میں سرگوشی کی،
“اور آپ اپنی دلہن کے لیے۔۔” احسن نے جواباً، تھوڑی کمینگی والے لہجے میں کہا، وہ بھی منا کاکا تو تھا نہیں، جو زرار کے سارے پلین کے پیچھے چھپی وجہ نہ سمجھ سکتا،
“مطلب کیا ہے تمہارا،؟؟” زرار نے ذرا غصے سے ، دھیمی آواز میں ، اپنے جبڑے بھینچتے ہوئے کہا،
“مجھے سمجھ آگئی ہے بھائی، آپ کس کے لیے اتنے پاپڑ بیل رہے ہیں،” احسن ابھی بھی۔ دل جلے لہجے میں، ہلکی پھلکی کمینگی کا تاثر دیتا،اپنی بات مکمل کر گیا،
عجیب معاملہ تھا،
کہ جس کسی کو بھی زرار کے دل کا راز پتہ چلتا،
اس کے دل سے زرار کا رعب و دبدبہ ہی ختم ہوجاتا،

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Hijab Novel By Amina Khan – Episode 13

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: