Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 12

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 12

–**–**–

عجیب معاملہ تھا،
کہ جس کسی کو بھی زرار کے دل کا راز پتہ چلتا،
اس کے دل سے زرار کا رعب و دبدبہ ہی ختم ہوجاتا،
بہرحال، زرار نے احسن کو اکیلا چھوڑا اور خود بڑی دلچسپی سے جنت اور خالہ کو مشورے دینے لگا،
جس جوڑے پر زرار انگلی رکھتا،
جنت اس جوڑے کو آنکھ بھر کر دیکھنے سے بھی پرہیز کرتی،
چار گھنٹے کی مغزماری کے بعد، جنت کو آخر ایک ڈریس پسند آہی گیا،
وہ ہاٹ پنک اور سلور کمبینیشن والا ، انتہائی خوبصورت اور نفیس، جوڑا، زرار کو پہلی نظر میں ہی، وہاں موجود باقی جوڑوں میں سے سب سے زیادہ اچھا اور منفرد لگا تھا،
اور مسئلہ یہ تھا کہ وہ جس بھی ڈریس پر ہاتھ رکھتا،
جنت اسے فوراً ریجکیٹ کردیتی،
اس لیے زرار نے ایک ایک کر کے ہرڈریس میں اپنی اچھی رائے دی،
اور اس ڈریس میں، جو اسے سب سے زیادہ پسند آیا تھا، تین چار نقص نکال کر یہ جتانے کی کوشش کی کہ یہ جوڑا تو اسے بالکل نہیں اچھا لگا،
جنت بھولی، اس کی چالاکی کا شکار ہوگئی،
اور اس نے ضد میں وہی والا پیس پیک کروا لیا،
زرار کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی،
جسے چھپانے کے لیے، وہ جلدی سے وہاں سے غائب ہوا،
وہ بہت خوش تھا کہ احسن نے جلدی سے ، بغیر کسی پس و پیش کے، اس کی بات مان لی تھی،
اب جنت کو حاصل کرنے کے لیے اس کا راستہ صاف تھا،
لیکن ایک کام تو ابھی بھی باقی تھا،
اسے جنت کی مرضی بھی تو جاننی تھی،
لیکن اسے ، اس کی مرضی صرف جاننی تھی،
اس نے سوچ لیا تھا کہ اگر وہ انکار بھی کرے، تو بھی وہ اسی سے شادی کرے گا،
اور وہ جتنا resist کرے گی، یہ اتنی ہی ہٹ دھرمی اور زبردستی سے کام لے گا،
اب کی بار، یعنی واپسی میں، زرار نے زوبی کو پھر سے تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا، اس لیے وہ بغیر کوئی پنگا لیے، شرافت سے، زریاب کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا،
××××××××
زوبی کو اپنے بھائی کا اطمینان بہت کھل رہا تھا،
وہ حیران تھی، کہ زوبی کی شادی کو صرف سترہ دن باقی تھے، اور زرار صاحب نے ابھی تک کوئی ہاتھ پاؤں مارنے کی ہی زحمت نہیں کی،
اسے جنت کی حالت پر بہت افسوس ہوتا تھا،
وہ بے چاری، اپنے جذبات سے سمجھوتا کرنے کے چکر میں، اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹ رہی تھی،
زوبی کو بار بار، یہ بات چین ہی نہیں لینے دیتی تھی،
پر جنت۔۔ جنت اپنے فیصلے پر بے شک بہت تکلیف میں تھی لیکن وہ مطمئن تھی،
اسے اطمینان تھا کہ اس نے اس مغرور آدمی کی محبت کی خاطر ، خود کو گرایا نہیں تھا،
اس نے زرار کے سامنے اپنے عشق کا اظہار ، نہ کر کے، خود کو ناقدری سے بچا لیا تھا،
اس نے اپنے والدین کی عزت اور تکریم کی حفاظت کے لیے، ان کا فیصلہ بہت احترام سے تسلیم کیا تھا،
اس لیے وہ ناخوش ہونے کے باوجود بہت مطمئن تھی،
×××××××××
زرار نے اپنی محنت اور قائل کرنے کی زبردست صلاحیت سے جلد ہی سعدیہ کی والدہ جو کہ اس کی واحد سرپرست تھیں، انہیں سعدیہ اور احسن کے نکاح کے لیے منا لیا تھا،
اب وہ خود بطور گواہ وہاں سعدیہ کے گھر، اس کے اور احسن کے نکاح میں شامل تھا،
اس کی خوشی تھی کہ سنبھلنے میں ہی نہیں آ رہی تھی،
چلو کم سے کم ایک ٹینشن تو سر سے اتری تھی،
اب اسے اپنی ساری فیملی کے سامنے، جنت کے ساتھ اپنی شادی کی خواہش کا بم پھاڑنا تھا،
اور اسے یہ سب اب بہت جلدی کرنا تھا،
کیونکہ شادی میں صرف تیرہ دن باقی تھے،
××××××××××
وہ رات دس بجے کے بعد گھر آیا تھا،
اسے جنت کو وہاں، اس کے گھر میں ہی ، زوبی کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھا دیکھ کر، خوش گوار حیرت ہوئی،
دراصل جنت کے پیرینٹس ، اس کے ددھیالی خاندان کو، شادی میں بذات خود، انوائیٹ کرنے کی غرض سے، آؤٹ آف سٹی گئے تھے،
اس لیے جنت نے آج رات زوبی کے ساتھ رہنا تھا،
زرار کو یہ بات معلوم نہیں تھی،
لیکن پھر بھی اسے جنت کو اپنی آنکھوں کے سامنے بیٹھا دیکھ کر کافی اچھا لگ رہا تھا،
اب وہ خوشدلی سے اس سے سلام دعا کرتا اپنے روم میں چلا گیا،
وہ فریش ہوا، اپنی جینز اور ڈریس شرٹ چینج کر کے،
اس نے ہاف سلیوز والی کھلی سی شرٹ پہنی اور ٹخنوں سے پانچ انچ اونچا ٹراؤزرز پہنے وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا،
اس نے اپنے بیڈ پر سے، تکیے کے پاس پڑا، اپنا فون اٹھایا، اور دو کالز ملائیں، اس نے ٹائم چیک کیا،
تھوڑی دیر وہ وہیں اپنے بیڈ پر بیٹھے ٹانگیں ہلاتا رہا،
اور پھر سے ٹائم چیک کر کے، روم سے باہر نکلا،
اس کے قدم اپنے مما پاپا کے روم کی جانب بڑھے ،
روم کا دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے اسے ناک کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی،
اس لیے وہ ایسے ہی روم میں داخل ہوگیا،
اس کی مما کو اس وقت اسے یہاں دیکھ کر حیرت ہوئی تھی،
“بیٹا، اس وقت یہاں آئے ہو ،کچھ کہنا تھا کیا؟؟ خیریت تو ہے؟؟” زینب بیگم نے پوچھا۔
“خیریت کا تو پتہ نہیں۔۔ لیکن بات ضرور ہے،” زرار نے اپنی بھاری آواز میں ہلکی سی دہشت شامل کرتے ہوئے کہا،
اس کی مما کو اس کا رویہ غیر معمولی لگا، وہ بہت پریشان اور متجسس نظروں سے اپنے بیٹے کو گھور رہی تھیں،
انہیں اپنی اولاد کی عادتوں کا پتہ تھا، اس لیے کسی انہونی کی بو، انہوں نے زرار کے اس عجیب انداز میں ، بخوبی محسوس کر لی تھی،
جنید صاحب، جو ابھی ابھی واشروم سے نکلے تھے اور زرار کی آخری بات سن کر وہ بھی اپنی جگہ ٹھٹک کر رہ گئے،
“مجھے شادی کرنی ہے؟؟” اس نے بالکل سنجیدہ لہجے میں کہا،
زینب بیگم اور جنید صاحب تو چونک کر رہ گئے،
“اوہ۔۔ تو بیٹا اس میں کونسا کوئی ایسی ویسی بات ہے۔۔!! تم نے تو میرا دل ہی دہلا دیا تھا، ” زینب بیگم نے مسکراتے ہوئے اپنے اس عجیب بیٹے کو دیکھا، اور وہیں بیڈ کے سامنے پڑے صوفے پر زرار کے ساتھ ہی بیٹھ گئیں،
جنید صاحب بھی مسکراتے ہوئے، اپنے صاحبزادے کو دیکھ رہے تھے اور ساتھ ہی ، بیڈ پر، اپنی ٹانگیں چڑھا کر، سکون سے بیٹھ گئے،
زرار کی بات پر ان دونوں میاں بیوی کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی،
“بیٹا یہ کیا کہ کہہ رہے ہو؟؟” زینب بیگم کو اس کی اس بے تکی بات پر شک سا ہوا،
“مما۔۔!! میں نے کونسا کوئی اتنی مشکل بات کہہ دی؟؟ یہی کہہ رہا ہوں ناں کہ مجھے جنت سے شادی کرنی ہے۔۔ اب اس میں اتنا حیران و پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے،” زرار نے تھوڑی ناگواری سے کہا،،
اسے اپنے مما پاپا کا ری ایکشن کچھ خاص اچھا نہیں لگا تھا، حالانکہ ان کا حیران ہونا تو بنتا تھا،
“بیٹا، عقل سے کام لو، تم بچے نہیں ہو جو اپنی بات کی سنگینی کی نوعیت کو نہ سمجھ سکو، شادی کرنی ہے تو سو بسم اللّٰه، لیکن اس معصوم کے پیچھے کیوں پڑ گئے، جس پہلے سے ہی کسی اور سے شادی ہونے جا رہی ہے۔۔” جنید صاحب نے تحمل سے، اپنے اس اڑیل بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کی،
“پاپا، مجھے نہیں پتہ۔۔ بس میں اسی سے شادی کروں گا،
مجھے نہیں، پتہ بس آپ پھوپھو، پھوپھا سے بات کریں،” زرار بالکل سنجیدہ ہوکر اپنی بات پر بضد رہا،
“بس زرار بہت ہوگیا۔۔!! بچپن سے ہر ضد پوری کراتے آئے ہو تو۔۔۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس معاملے میں بھی تمہاری ضد مانی جائے گی، کچھ تو لحاظ کر لو، اس بچی کی کسی اور سے شادی ہونے والی ہے۔۔” زرار کی مما کو بھی اب، اپنے بیٹے کی اس بے تکی فرمائش پر غصہ آرہا تھا،
“مما۔۔!! میں لحاظ ہی کر رہا ہوں،،
جس کسی سے اس کی شادی ہونے جا رہی ہے، وہ کسی اور سے نکاح کر چکا ہے،
یہ دیکھیں ویڈیو۔۔” اس نے اپنے موبائل میں اس کے نکاح ویڈیو لگا کر، اپنی مما کی طرف بڑھایا،
وہ ویڈیو اس نے ثبوت کے طور پر، وہاں پر مہمانوں میں موجود ، اپنے ایک بندے سے بنوالی تھی،
ویڈیو دیکھ کر تو،
اس مما کا حلق خشک اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں،
آخر جنت انہیں زوبیہ کی طرح ہی عزیز تھی،
“اوہ خدایا۔۔ یہ سب کیا ہے۔۔اب کیاہوگا؟؟”انہوں نے حیران ہوکر، پریشانی سے زرار کے چہرے کی طرف دیکھ کر سوال کیا،
جنید صاحب نے اٹھ کر،
زینب بیگم کے ہاتھ سے موبائل لیا اور ویڈیو دیکھ کر،
انتہائی غصے سے زرار کی طرف دیکھا،
“تم اس ویڈیو میں کیا کر رہے ہو۔۔؟؟” جنید صاحب نے دانت بھینچتے ہوئے پر طیش لہجے میں کہا،
“پاپا پلیز، آپ ریلیکسڈ رہیں، میں گواہ کے طور پر اس نکاح میں شامل تھا، وہ احسن جنت سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا، وہ اسے ساری زندگی کیسے سکھ دے سکتا تھا؟؟ اب اچھی بات ہے کہ اس نے اپنی من پسند لڑکی سے نکاح کر لیا اور جنت کی زندگی تباہ ہونے سے رہ گئی، اب بجائے اس کے کہ آپ لوگ معاملہ ہینڈل کرنے میں میری مدد کریں،، آپ الٹا مجھ پر ہی غصہ ہورہے ہیں،” زرار نے رسانیت سے اپنا موقف بیان کیا،
ڈھیٹ اور اڑیل تو وہ ویسے ہی تھا۔۔
اس لیے اس پر، جنید صاحب کہ سخت لہجے اور شدید غصیلے تاثرات کا کوئی اثر نہیں ہوا،
“میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے۔۔ اللّٰه اب بھابھی لوگوں کی کتنی بدنامی ہوگی،” زینب بیگم نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے، اپنی نند اور نندوئی کی داؤ پر لگی عزت کے متعلق سوچ کر کہا،
“مما بدنامی کیسی۔۔؟؟ میں کہہ تو رہا ہوں کہ میں کروں گا اس سے شادی، آپ ٹینشن کیوں لے رہی ہیں؟؟” زرار نے ماتھے پر بل لاتے ہوئے پوچھا،
جنید صاحب ابھی بھی بہت غصے سے ، اپنے اس ضدی اور ڈھیٹ بیٹے کو دیکھ رہے تھے،
جسے معاملے کے نازک ہونے کا کوئی احساس ہی نہیں تھا،

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: