Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 13

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 13

–**–**–

ع
جنید صاحب ابھی بھی بہت غصے سے ، اپنے اس ضدی اور ڈھیٹ بیٹے کو دیکھ رہے تھے،
جسے معاملے کے نازک ہونے کا کوئی احساس ہی نہیں تھا۔
“بابا۔۔!!
اب جو ہونا تھا۔۔
وہ تو ہوگیا،
اب ایسے مجھے گھورنے کا بھلا کیا فائدہ،
میں جارہا ہوں،
بہتر ہوگا کہ آپ لوگ خود کو ذہنی طور پر تیار کرلیں اور جلد از جلد پھوپھو اور پھوپھا سے بات کرلیں،
گڈ نائٹ،
اللّٰه حافظ،”
زرار نے اپنے ازلی مغرورانہ انداز میں اپنی بات کی، اور اپنے والدین کو مشکل میں جھونک کر، مزے سے کمرے سے نکل آیا،
جنت اور زوبی لاؤنج میں نہیں تھے، اس لیے، وہ ڈائریکٹ زوبی کے روم کی جانب بڑھا،
“زوبی مجھے چائے چاہیے، جاؤ بنا کر لاؤ،”
زرار نے آج سیریس ہونے کی انتہا کر رکھی تھی،
جو تھوڑی دیر پہلے جنت کے ساتھ سلام دعا کرتے وقت لہجے میں پولائٹنس تھی،
اب وہ بالکل ہی غائب ہو چکی تھی،
جنت تو جنت۔۔ زوبی کا بھی دل دہل گیا،
“جی اچھا، ابھی لاتی ہوں،”زوبی یہ کہہ کر وہاں سے کھسکنے لگی تو جنت بھی اس کے پیچھے چل دی،
“تم کدھر جا رہی ہو؟؟ میں نے صرف زوبیہ کو جانے کا بولا ہے تمہیں نہیں،” اس کی گھمبیر آواز اور اوپر سے اتنا دہشتناک لہجہ۔۔!! جنت اچھی خاصی سہم گئی۔۔
“تم ابھی تک یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو؟؟ کوئی کام کہا ہے تمہیں میں نے، اور سنو۔۔ میرے روم سے نکلنے سے پہلے۔۔ تم نے اندر نہیں آنا، میں نے بات کرنی ہے جنت سے،” اس نے زوبی کو جھڑکا،
زوبی تو بجلی کی تیزی سے وہاں سے غائب ہوئی،
اس پیچھے رہ گئی جنت۔۔!! جس کا خوف کے مارے برا حال تھا،
“ادھر آؤ بیٹھو۔۔ مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے،” زرار نے اب ذرا ہلکے لہجے میں، جنت کا ہاتھ پکڑ کر، اپنے ساتھ بیڈ کے کنارے پر بٹھاتے ہوئے کہا،
جنت، اس کے بے انتہا خوف کے مارے مزاحمت ہی نہیں کر سکی، اس لیے خاموشی سے اس کی بات مان گئی،
“اب جو میں تم سے سوال کروں گا، تم نے بالکل سچے جواب دینے ہیں! اوکے؟ بالکل سچ۔۔ کیونکہ مجھے بلاوجہ کے جھوٹ سے اور جھوٹوں سے نفرت ہے،” زرار نے آواز ہلکی اور لہجہ تھوڑا سنجیدہ ہی رکھا،
اس نے جنت کا ہاتھ ابھی تک اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور جنت کی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اپنا ہاتھ چھڑا سکتی،
“اوکے۔۔ پوچھیں کیا، پوچھنا ہے..!” اس نے ڈرتے ڈرتے منہ سے ہلکی سی آواز نکالی،
“تم مجھے یہ بتاؤ کہ احسن میں تمہیں ایسا کیا نظر آیا تھا کہ لمحے کی بھی دیر کئے بغیر تم نے اس کے لیے ہاں بولی،” زرار کی تیز نظریں، بخوبی جنت کے فیس ایکپسریشنز کو جانچ رہی تھیں،
زرار کی اس بات پر جنت کا ڈر کچھ کم ہوا، اور وہ ایک دم تلملا کر رہ گئی، اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ بندہ بار بار، اسے احسن کا حوالہ دیکھ کر، آخر جتانا کیا چاہتا ہے،
وہ اذیت سے، زرار کے سوال پر، لب بھینچے، اسے دیکھ رہی تھی،
“جنت میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے۔۔” انداز نرم پر دو ٹوک تھا،
“زرار بھائی۔۔میں نے اس میں وہ ہی دیکھ کر فوراً ہاں کی تھی، جو آپ نے اس میں دیکھا تھا، جو دیکھ کر آپ نے میرے پیرینٹس کو اس کے لیے کنونس کیا،” جنت نے خود کو مضبوط کرتے ہوئے، بنا ڈرے، تڑخ کر جواب دیا،
زرار کو اس کے انداز پر ہنسی آئی لیکن اس نے فقط مسکرانے پر اکتفا کیا،
اس کے مسکرانے سے جنت تو اور سلگ کر رہ گئی،
“اچھا، مطلب تم نے مجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے ہاں کی،
I liked it..!
لیکن اب میں تم سے کہنا چاہتا ہوں کہ احسن سے شادی مت کرو، وہ تمہارے لائق نہیں ہے، مجھ سے غلطی ہوگئی کہ میں نے اسے تمہارے لیے refer کیا،” زرار نے حتی المقدور، اپنے لہجے کو شائستہ رکھا،
لیکن اس مغرور شخص کے انداز سے جنت کے لیے تحکم صاف واضح تھا،
جنت کو اس کا ایسے حکم دینا بالکل پسند نہیں آیا،
“اوہ۔۔ آپ کن خوش فہمیوں میں رہتے ہیں؟؟ میں نے آپ پر کوئی بھروسہ نہیں کیا،، نہ ہی آپ کا کہا میرے لیے کوئی معنی رکھتا ہے، اور نہ ہی آپ میرے لیے کوئی معنی رکھتے ہیں۔۔ سمجھے آپ؟؟ ” جنت نے باقاعدہ اس کی حکم عدولی کی،
وہ جتانے کی کوشش کر رہی تھی کہ زرار جنید، جنت کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا،،
اس کا زرار کے سارے سابقہ رویوں سے بہت دل دکھا تھا،
اس لیے وہ اس کی کوئی بات نہیں ماننا چاہتی تھی،
اور ویسے بھی دو ہفتوں میں اس کی شادی ہونے جا رہی تھی۔۔ وہ اپنی شادی کسی کے بھی ایسے کہنے پر بھلا ایک دم سے انکار تھوڑی کر سکتی تھی،
دنیا کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔۔جنہیں فالو کرنا سب پر لازم ہوتا ہے، پر زرار کو اس سب کی پرواہ کہاں تھی۔۔؟؟
اس نے ضد باندھ لی تھی، اور اب بس اسے ایک ہی بات معلوم تھی کہ اسے ہر صورت، ہر حال اپنی ضد پوری کرنی ہے،
اسے جلد از جلد جنت کو اپنانا ہے۔۔
جنت کا بلا خوف، اس طرح ، اس کے حکم کے خلاف جانا، اور یہ جتانا کہ زرار جنید اس کے لیے بالکل غیر اہم ہے، زرار کو اندر تک جلاگیا،
اس کی ساری شائستگی۔۔ ساری نرمی بھاپ بن کر اُڑ گئی،
“جو بھی ہے۔۔ لیکن تم یہ شادی نہیں کرو گی۔۔!!” زرار اچھا خاصا مشتعل ہوا تھا،
“میں یہ شادی کروں گی، اور احسن سے ہی کروں گی۔۔ میں دیکھتی ہوں کہ مجھے کون روکتا ہے۔۔اور بھلا میں کیوں اس شادی سے انکار کروں۔۔؟؟ کوئی وجہ؟ کوئی ریزن۔۔؟” جنت نے بھی اسی کا انداز اپنایا،
“میں نے کہا ناں کہ تم یہ شادی ہر گز نہیں کر سکتی۔۔!!!
اور تمہیں وجہ جاننی ہے تو سنو۔۔ زرار جنید تمہیں اپنانے کی خواہش رکھتا ہے۔۔” زرار نے گردن اکڑا کر، جنت پر ایک اور بم پھوڑا۔۔
جنت بالکل ساکت ہو کر زرار کو تک رہی تھی،
اس کی بات جنت کے دائیں بائیں سے گزر گئی،
اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ زرار ، اپنے منہ سے خود کہہ رہا ہے،
اف۔۔!! ان لفظوں کا تو اس نے برسوں انتظار کیا تھا،
پر اب زرار نے یہ لفظ کہے بھی تو کب۔۔ !!
اب تو وہ اپنے جذبات کا، زرار سے منسلک ہر سلسہ توڑ چکی تھی،
اور زرار کا لہجہ۔۔ وہ بھی تو اس لائق نہ تھا کہ جنت اس خواہش کو بخوشی پورا کرنے کی حامی بھر لیتی،
جنت نے بہت مشکل سے خود کو ، زرار کے کہے لفظوں کے سحر سے نکالا،
زرار اس کے جواب کا منتظر تھا۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے۔۔ اس کے جواب کا انتظار کر رہا تھا،
“آپ مجھ پر زور زبردستی کا کوئی حق نہیں رکھتے۔۔ میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔احسن میرے لائق ہو یا نہ ہو۔۔!! میں شادی۔۔اسی سے کروں گی،” جنت نے بہت ہمت سے۔۔ زرار کے پروپوزل کا انکار کیا،
یہ انکار زرار کی توقع کے عین مطابق تھا،
پر اسے یہ امید نہیں تھی کہ جنت اس قدر ڈی گریڈ کرنے والے انداز میں انکار کرے گی،،
بے شک وہ کچھ ایسا ہی جواب ایکسپیکٹ کر رہا تھا مگر پھر بھی،
جنت کا اس طرح ریجکیٹ کرنا، اسے اندر تک سلگا گیا،،
“وجہ جان سکتا ہوں؟؟؟” زرار کی آواز غصے کی شدت سے سخت ہوگئی تھی،
“مجھے آپ سے نفرت ہے۔۔ آپ کے ہر انداز سے نفرت ہے،
آپ کو کسی کی عزت کرنا نہیں آتی، آپ کسی کا لحاظ کرنا نہیں جانتے تو آپ بتائیں کہ کوئی کیسے آپ سے سے شادی کرنا چاہے گا،” جنت کا ضبط ٹوٹا تھا،
جنت کو ، اس کی جو عادتیں تکلیف پہنچاتی تھیں،
اس نے بغیر ڈرے ، اس کے سامنے کہہ دیں ، کیونکہ اس وقت وہ رو رہی تھی، اور روتے ہوئے جنت اپنا ہر گلہ ۔۔ ہر شکایت،، نہ چاہتے ہوئے بھی، بول دیا کرتی تھی،
گلے اپنی جگہ پر اپنی محبت سے مکرنے کا دکھ،
اپنی چاہت سے انکار کی اذیت نے اسے رونے پر مجبور کیا،
وہ نظریں جھکائے۔۔ بلک بلک کر رونے لگی،
“ادھر دیکھو۔۔ میری طرف۔۔ کیا کہا تم نے؟؟ تمہیں مجھ سے نفرت ہے۔۔؟؟ مجھے یہ بتاؤ کہ تم مجھ سے جھوٹ بول رہی ہو یا خود سے؟؟” زرار نے ہاتھ بڑھا کر، اپنی شہادت کی انگلی سے اس کی ٹھوڑی اونچی کی، اور اس کے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا،
“مطلب کیا ہے آپ کا؟؟ میں کوئی جھوٹ نہیں بول رہی۔۔ مجھے۔۔ مجھے سچ میں۔۔ آپ سے نفرت ہے۔۔ سنا آپ نے؟؟” اس نے سسکیاں بھرتے ہوئے ، توڑ توڑ کر جملہ مکمل کیا،
زرار کو اس کے بے وجہ رونے سے کوفت ہورہی تھی،
“جنت۔۔میں نے تمہیں کہا تھا کہ مجھے صرف سچ سننا ہے۔۔ اور تم ہو کہ جھوٹ پہ جھوٹ بولی جارہی ہے، اور یہ بتاؤ فضول میں رو کیوں رہی ہو۔۔ میں نے ابھی تک تمہیں کچھ ایسا تو نہیں کہا، کہ تم اپنی آنکھوں کے دریا بہانے لگ پڑو۔۔” زرار نے کچھ تنبیہ کرتے ہوئے اس سے اس کے بے وجہ رونے کا بھی سبب معلوم کیا،
اب جنت کیا بتاتی۔۔ کہ کس بات پر اسے اتنا رونا آرہا ہے۔۔۔
اپنی چاہت سے مکرنے کی تکلیف بھلا کیسے وہ اس سے شئیر کر سکتی تھی؟؟
“زرار یہ دیکھیں میرے جڑے ہوئے ہاتھ، پلیز میرے لیے کوئی آزمائش کھڑی نہ کریں، میں اگر آپ کو ہاں کہہ بھی دوں تو اب کچھ نہیں ہو سکتا، اگر میں ہاں کہوں گی تو میری عزت۔۔ میرے ماں باپ کی عزت دو کوڑی کی ہو جائے گی۔۔!!” اسے زرار کے تیور اچھے معلوم نہیں ہورہے تھے، وہ بے بس تو تھی ہی، اس لیے اب منتوں پر اتر آئی تھی،
“میں آزمائش میں ڈال نہیں رہا بلکہ نکال رہا تھا،
میں نے عزت بچانی چاہی تھا،
اب اپنا انکار یاد رکھنا،
شادی تو تمہاری مجھ سے ہی ہوگی۔۔!!
یہ بات اپنے ذہن میں رکھنا، اپنے لفظ بھی یاد رکھنا۔۔ تمہیں مجھ سے نفرت ہے ناں۔۔؟؟
تو نفرت ہی سہی،” زرار نے دل دہلانے والے لہجے میں ، جنت کو دھمکایا،
“مطلب کیا ہے آپ کی اس بکواس کا؟؟
میں نے کہا ناں کہ آپ مجھ پر کوئی زور زبردستی نہیں کر سکتے تو پھر آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں آپ سے شادی کروں گی،!!!” جنت نے دانت بھینچتے ہوئے اس دھمکی کا اثر زائل کیا،
اور اپنی تحقیر آمیز ریجیکشن سے، زرار کو مزید مشتعل کیا،
“میں کوئی زور زبردستی نہیں کرنے والا،،
وہ کیا ہے ناں کہ احسن کسی اور سے نکاح کر چکا ہے،
اور “کسی” کو اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت اور شہرت بچانے کے لیے، کسی سے شادی کرنا پڑے گی۔۔”
زرار نے اسی کے انداز میں جواب دیا،
اس کی نظر ، جنت کے چہرے سے بھٹکتی ہوئی اس کی گردن تک گئی،
وہاں اسے، اسکے گلے میں بے ڈھنگے طریقے سے لپٹے سکارف کے نیچے سے اپنا دیا پینڈینٹ دکھائی دیا،
“کیا کہ رہی تھیں تم؟؟ تمہیں مجھ سے نفرت ہے۔۔!! محترمہ تم بہت برا جھوٹ بولتی ہو۔۔” یہ کہتے ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کا اسکارف گلے سے ہٹایا،
اس کا حملے اتنا Quick تھا کہ جنت اسے روک نہیں پائی، پر وہ اس کی حرکت پر بری طرح اچھلی تھی،
“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔!” جنت نے غصے سے کہا،
زرار اس کے قریب ہوا،
جنت کو اب اس سے خوف محسوس ہورہا تھا،
“زرار پلیز دور ہوں مجھ سے۔۔” جنت نے اسے مزید قریب آتا دیکھ کر، اس کے سینے پر د
اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر دھکیلنے کی کوشش کی،
اس کی سانسوں کی بے ترتیبی اور تیزی بڑھتی جا رہی تھی،
اس کے لاکھ دھکیلنے اور منع کرنے کے باوجود،
زرار نے اس کی ایک نہیں سنی،
اور اس کے انتہائی قریب آکر، وہ اس پر جھکا،
اور اپنے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے پیچھے لے جا کر،
پینڈینٹ کا ہک کھولا اور اس سے دور ہوا،،
اس کے دور ہونے پر جنت کی سانسیں بحال ہوئیں،
زرار کی اس حرکت پر وہ بہت نروس ہوگئی تھی، اور غصہ بھی۔۔!!
“میں جانتا ہوں جنت بی بی کہ تم کس کو اور کتنا چاہتی ہو۔۔!! فی الحال اس پینڈینٹ پر تمہارا کوئی حق نہیں۔۔ بالکل میرے باقی تحفوں کی طرح۔۔” زرار نے پل بھر میں اس کے جھوٹ پر اپنی بے اعتباری، اس پر جتا دی،
جیسے وہ سب جانتا ہو کہ جنت اس کے متعلق کیا محسوس کرتی آئی ہے،
جنت حیران و پریشاں ہو کر اسے دیکھ رہی تھی کہ اسے باقی تحفوں والی بات کیسے پتہ چلی،
وہ ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔۔!!
اف۔۔ اتنی شرمندگی ہو رہی تھی اسے زرار کے سامنے،
زرار اس کی شرمندگی سے بہت محظوظ ہورہا تھا،
” یہ پینڈینٹ، اب تمہیں تب ملے گا۔۔ جب تم یہ اس گدھے کی پہنائی ہوئی اس رنگ کو اسے واپس کردو گی،” زرار کے لہجے میں تھوڑی جیلسی در آئی تھی،
پر جنت تو اس کی کوئی بات سن ہی نہیں رہی تھی،
اس کے دماغ میں تو زرار کی یہی بات گھوم رہی تھی،”میں جانتا ہوں جنت بی بی کہ تم کس کو اور کتنا چاہتی ہو۔۔!!”
احساس شرمندگی سے اس کا دل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے،
غیرت مند اور باعزت لڑکیوں کے لیے ایسے moments بہت مشکل اور ندامت کا باعث ہوتے ہیں،
زرار جانتا تھا کہ وہ اسی سے محبت کرتی ہے۔۔ اور وہ سمجھتی تھی کہ اسے شاید اس کی فیلینگز کا کوئی ادراک نہیں۔
زرار اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے اٹھا،
جنت نے یہاں وہاں نظریں گھمائیں ، اپنا ہینڈبیگ نظر آنے پر اس نے وہ فوراً اٹھایا، اور بھاگتی ہوئی زوبی کے روم سے نکل کر باہر کے دروازے کی طرف بڑھی،
زوبی چائے کا کپ لیکر زرار کے پاس کھڑی تھی،
جو سب کا سکون برباد کر کے، خود مزے سے اپنی ٹانگیں لمبی کر کے، لاونج میں ، couch پر بیٹھا تھا،
زوبی نے جنت کو باہر کی طرف جاتا دیکھ کر، چائے جلدی سے زرار کو پکڑائی، اور لپک کر جنت کی طرف،اسے آوازیں دیتی بڑھنے لگی،
“رکو۔۔مت جاؤ اس کے پیچھے، جانے دو اسے” زرار کے حکمیہ الفاظ نے اس کے قدم روکے،
“پر کیوں بھائی؟؟ آپ نے کیا کہا ہے اس کو؟؟” زوبی نے اپنے بھائی کے بگڑتے تیوروں کو مزید بگڑ کر دیکھا،
“مجھ سے فضول بحث نہیں کرو، میں نے اسے کچھ نہیں کہا،
اپنی مرضی سے نکل کر جا رہی ہے وہ۔۔ تو اس لیے تم اسے جانے دو۔۔” زرار نے بے تاثر ہو کر کہا،
وہ سمجھ گیا تھا کہ جنت اپنے دل کا راز کھلنے پر شرمندہ ہو کر وہاں سے گئی ہے،
وہ اس لیے اسے وہاں زبردستی نہیں روکنا چاہتا تھا،
“پر بھائی، آپ کو شاید نہیں پتہ کہ اسے اکیلے گھر میں بہت ڈر لگتا ہے۔۔ا
ور اوپر سے ابھی رات کا وقت ہے۔۔ وہ تو ڈر ڈر کر مر جائے گی،
بھائی آپ بھی ناں۔۔ بہت ہی کھڑوس انسان ہیں۔۔
میں جا رہی ہوں۔۔ اسے واپس لانے۔۔” زوبی غصے میں کہتی لاونج کے دروازے کی طرف بڑھنے لگی، جہاں سے جنت کب کی باہر نکل چکی تھی،
“رکو۔۔!” زرار نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ کر،
لپک کے اسے، اس کا بازو پکڑ کر روکا،
“تمہارا ‘اکیلے گھر’ سے کیا مطلب تھا،؟؟” زرار نے چونک کر پوچھا،
“وہ پھوپھو اور پھوپھا ، جنت کے تایا ، چچا وغیرہ کی طرف گئے ہوئے ہیں، انہیں جنت کی شادی کا انویٹیشن دینے، اس لیے وہ گھر پر اکیلی تھی،
اور پھوپھو رات کے لیے، اسے ہمارے گھر چھوڑ کر گئی تھیں،، اور۔۔ آپ ۔۔آپ اتنے بدتمیز ہیں کہ اسے لے کر گھر سے بھگادیا،” زوبیہ حد درجہ پریشان ہو گئی تھی، اور اسی پریشانی میں وہ زرار پر چڑھ دوڑی،
“اوہ۔۔ اچھا۔۔ تم رکو پھر۔۔میں لے کر آتا ہوں،” زرار بھی تھوڑا پریشان ہوا تھا،

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: