Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 14

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 14

–**–**–

“اوہ۔۔ اچھا۔۔ تم رکو پھر۔۔میں لے کر آتا ہوں،” زرار بھی تھوڑا پریشان ہوا تھا،
اور اپنی بات کہتا، گھر سے باہر نکلا،
جنت اسے باہر نہیں نظر آئی تھی،
شاید وہ اس اسٹریٹ سے نکل چکی تھی،
زرار تیز تیز قدم بڑھاتا ، جنت کے گھر کی جانب چل رہا تھا،
ابھی وہ دوسری اسٹریٹ تک ہی آیا تھا کہ سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا خون کھول گیا، غصے سے۔۔ ایک دم اس کا چہرہ ۔۔ سرخ ہونے لگا،
رات کی تاریکی اور مدھم اسٹریٹ لائٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے۔۔ چار آورہ لڑکے جنت کو گھیرے میں لیے ہوئے تھے،
ان میں سے دو بائیکس پر سوار لڑکے۔۔ مسلسل کمینگی سے ہنس رہے تھے اور باقی دو جنت کے ارد گرد منڈلاتے ہوئے اسے چھیڑنے میں مصروف تھے،
جنت کا خوف کے مارے برا حال تھا،
آنسو تو ویسے ہی اس کی پلکوں پر ٹھہرے رہتے ہیں ۔۔ جنہیں بس موقع چاہیے ہوتا ہے باہر نکلنے کا،
سو وہ روتے ہوئے اپنی خوف سے لرزتی آواز میں انہیں دور رہنے کا بول رہی تھی،
یہ تو شکر تھا کہ ان خبیثوں نے ابھی تک اسے چھوا نہیں تھا،
وہ صرف زبانی کلامی چھیڑ چھاڑ سے کام لے رہے تھے،
ان چاروں لڑکوں کی پوزیشن کچھ ایسی تھی کہ وہ زرار کو دیکھ نہیں پائے،
زرار نے بھی تیزی سے آگے آ کر ۔۔ ان میں سے ایک لڑکے کے پیچھے آکر، اسے اسکی شرٹ سے پکڑ کر کھینچا اور ہاتھ گھما کر۔۔ایک مضبوط مکا، اس لڑکے کے جبڑے پر مارا،
زرار کے اچانک حملے پر وہ اپنا بچاؤ نہیں کر پایا اور نتیجتاً۔۔ اس کا سامنے کا ایک دانت بھی ٹوٹ کر باہر آ گیا،
بائیکس پر سوار لڑکوں نے زرار کے بگڑے تیور دیکھ کر فوراً سے پہلے بائیک اسٹارٹ کی، اور جنت کو زرار کی طرف دھکا دے کر، اپنے ساتھی کو کھینچا اور چاروں کے چاروں، سیکنڈوں میں میں وہاں سے غائب ہوئے،
اس لڑکے کے اچانک دھکا دینے پر جنت کا توازن بری طرح بگڑا تھا،
اگر وہ بروقت ۔۔ زرار کی شرٹ نہ جکڑتی تو یقیناً گر جاتی،
زرار نے بھی اسے اپنے بازوؤں کے حصار میں لے کر سہارا دیا،
تحفظ کا احساس ملنے پر جنت بھی ، اس کے سینے سے لگی مسلسل سسکیاں بھر رہی تھی،
زرار نے اپنی غصے سے جلتی نظروں سے ان اوباشوں کو اوجھل ہونے تک دیکھا، اور پھر جنت کی طرف متوجہ ہوا،
اس نے آہستگی سے اسے خود سے علیحدہ کیا،
“جنت۔۔!! کچھ بھی نہیں ہوا۔۔ چلے گئے وہ لڑکے۔۔ پلیز رونا بند کرو اور چلو میرے ساتھ،” زرار نے بہت پیار اور لحاظ سے اسے مخاطب کیا،
جنت۔۔ اس کے بولنے پر ہوش میں آئی۔۔ اسے تھوڑی دیر پہلے ۔۔۔زرار سے ہوئی تمام گفتگو یاد آئی۔۔
اور اب یوں۔۔ ان بدتمیز لڑکوں کی وجہ سے اسے زرار کے اتنے قریب آنا پڑا۔۔
اب تو اس کا شرم اور ندامت سے مزید برا حال تھا،
اس کی ہمت نہیں ہورہی کہ وہ اب زرار سے نظریں ملا سکے۔۔
زرار اس کی حالت سمجھ سکتا تھا،
اس نے دونوں کندھوں سے اسے تھاما،
“لسن۔۔ جنت۔۔!! کچھ نہیں ہوا،
Don’t be ashamed,
تمہاری غلطی نہیں تھی،
I know..
کہ تم جان بوجھ کر میرے سینے سے نہیں لگی۔۔
اب خوامخواہ شرمندہ مت ہو۔۔
اور چلو میرے ساتھ گھر۔۔” زرار اسے اب بہت احترام سے ڈیل کر رہا تھا،
وہ کہیں سے بھی پہلے والا ۔۔ بدتمیز آدمی نہیں لگ رہا تھا،
جنت کو اس کا یہ میٹھا لہجہ چبھ رہا تھا،،
اسے، اس پر غصہ آیا۔۔ کہ اس کی وجہ سے یہ سب ہوا تھا،
اگر وہ آج نہ آتا۔۔ تو نجانے کیا ہوجاتا۔۔
جنت نے سلگ کر، اس کے دونوں ہاتھ، ایک جھٹکے سے، اپنے کندھوں سے ہٹائے،
“کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کو اتنا میٹھا بننے کی۔۔!!
یہ آپ کی ہی کوئی چال ہوگی۔۔!!
جان بوجھ کر آپ نے مجھے نادم کیا۔۔اور گھر سے نکلنے پر مجبور کیا۔۔
اور اب ، عین وقت پر یہاں۔۔۔ ہیرو بن کر پہنچ گئے۔۔
ضرور۔۔!! یہ کمینے بھی آپ نے ہی کرائے پر منگوائے ہوں گے۔۔
بہت بہت بدتمیز ہیں آپ۔۔
پر سن لیں۔۔ کہ آپ ضدی ہیں ناں تو میں آپ سے بھی زیادہ ضدی بن کر دکھاؤں گی۔۔!!
Jannat is rejecting Zarar,
Jannat has rejected you,
And Jannat will never marry you…!!!
جو مرضی کر لیں۔۔ میں کسی صورت آپ سے شادی نہیں کروں گی،” جنت کے منہ میں جو آرہا تھا۔۔ وہ بغیر سوچے سمجھے بولے جا رہی تھی، حسب عادت۔۔ اس نے روتے ہوئے ہی اپنی زبان کے جوہر دکھائے۔۔
اب یہ بچاری کے تازہ ترین پڑھے گئے ناول کا اثر تھا کہ اس نے، اس حادثے نما واقعے کو، زرار کی سوچی سمجھی سکیم قرار دے دی،
زرار پہلے تو حیران ہو کر، اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات، بڑے انہماک سے سن رہا تھا،
اسے اندر ہی اندر ہنسی بھی آنے لگی تھی کہ یہ شیخ چلی کی مرید ۔۔۔ پتہ نہیں کیا کیا۔۔ اول فول بول رہی ہے۔۔!! لیکن بعد میں جنت کی ریجیکشن والی بات۔۔
اس نے تو زرار کی ساری خوش اخلاقی کہیں غائب کر دی،
“جنت۔۔۔ تم اپنی ۔۔ ان فضول دھمکیوں پر پچھتاؤ گی۔۔!! اب زیادہ بکواس نہیں کرو۔۔ اور گھر چلو۔۔” زرار نے غصے سے، دھونس جمایا،
اور کہتا ۔۔ آگے کی طرف چلنے لگا،
جنت نے اس کی باتوں کو ایک کان سے سنا، دوسرے سے نکالا، اور ضدی بنتے ہوئے، اپنے ہی گھر کی طرف چل دی،
زرار نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے، جنت صاحبہ۔۔ بڑی شان سے ، opposite ڈائریکشن میں چلتی ہوئی نظر آئیں،
زرار نے غصے سے دانت بھینچ لیے، اور تلملاتا ہوا۔۔اس تک پہنچا،،
“تمہیں ایک بار میں کہی ہوئی بات سمجھ میں نہیں آتی؟؟؟ وہاں کہاں جا رہی ہو۔۔۔؟؟ میں نے اپنے گھر چلنے کو بولا تھا،” زرار کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا،
اور اوپر سے جنت کی ignorance…!!
وہ تو اندر تک جل کر رہ گیا، جنت اس کی بات کا جواب تک دینے کے موڈ میں نہیں تھی،
“جنت۔۔!! بہت آزما لیا تم نے میرا صبر۔۔!! اب مجھے بلیم مت کرنا۔۔!!” زرار نے، جنت پر اپنی دہشت بٹھائی،
اور یہ کہتے ہی اسے اپنی گود میں اٹھا لیا،،
جنت تو بری طرح مچل گئی،
اسے زرار سے قطعاً۔۔ایسی کوئی بھی توقع نہیں تھی،
جنت، زرار کے کندھے کے پچھلی طرف موجود اپنے ایک ہاتھ میں اپنا ہینڈ بیگ مضبوطی سے پکڑے۔۔دوسرے ہاتھ سے زرار کے سینے پر مکے مارتی ۔۔ خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی،
“زرار بھائی چھوڑیں مجھے۔۔ نیچے اتاریں،، میں نے کہا نیچے اتاریں مجھے۔۔۔ آپ۔۔آپ بہت بدتمیز ہیں۔۔۔اگر ابھی زوبی میری جگہ ہوتی تو تب بھی آپ ایسا کرتے۔۔!!!” جنت کی آنکھیں پھر سے بھرنے لگیں تھیں،،
“ہاں۔۔ بالکل ۔۔!! مجھے ڈھیٹ لڑکیوں کا علاج کرنا آتا ہے۔۔اب تم خاموش رہو۔۔ اور اپنے یہ ہاتھ چلانا بند کرو،” زرار نے اپنے ازلی۔۔جلانے بھلانے والے لہجے میں کہا،
“اف اللّٰه۔۔اب میں کیا کروں۔۔!!” جنت نے دل میں سوچا،
“زرار بھائی۔۔۔آئم سوری۔۔۔!! پلیز مجھے نیچے اتاریں۔۔ اب میں آپ کی کسی بات پر ضد نہیں کروں گی،، آئم سوری۔۔پلیز نیچے اتاریں۔۔” جنت اب منتوں پر اتر آئی تھی،
اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس ڈھیٹ سے ضد لگانا، اس کی صحت کے لیے بالکل ٹھیک نہیں،
زرار نے اسے ایک دم نیچے اتارا۔۔
پر اس نے جنت کی منتوں پر نیچے نہیں اتارا تھا،
اس کی دائیں جانب۔۔۔ ایک کار، دو سیکنڈز کے لیے آکر رکی تھی، اور پھر آگے کی طرف۔۔۔ زن سے بڑھ گئی،
وہ کار کسی اور کی نہیں بلکہ احسن کی تھی،
احسن اور خالہ نے جنت کو اس کی گود میں دیکھ لیا تھا۔۔
جنت کا رخ بھی ایسا تھا کہ وہ ان دونوں کو اچھی طرح دیکھ چکی تھی،
اب صحیح معنوں میں اس کے اوسان خطا ہوئے تھے۔۔
پیروں تلے زمین نکلنا کیا ہوتا ہے۔۔ یہ اسے اب پتہ چلا تھا،
دراصل زرار نے احسن کو اپنے گھر ۔۔ خالہ کو لے کر پہنچنے کا بولا تھا، اس سے صبر نہیں ہو رہا تھا، وہ جلد از جلد، جنت کے ساتھ انگیج ہونا چاہتا تھا،
اس نے سوچا تھا کہ یہاں تینوں گھروں کے بڑوں کے سامنے وہ اور احسن مل کر اس کا نکاح ڈیکلیئر کریں گے،
اور معاملہ جہاں بگڑے گا۔۔ وہ وہیں سنبھال لیں گے۔۔
پر اسے بعد میں پتہ چلا تھا کہ اس کے پھوپھا اور پھوپھو تو ہیں ہی نہیں گھر پر۔۔!!
اور اب خالہ نے جس حالت میں جنت کو اس کے ساتھ دیکھا تھا۔۔ اس سے زرار کا تو فائدہ ہی ہونا تھا۔۔ پر جنت۔۔ وہ بے چاری تو گئی اپنی عزت سے۔۔۔
زرار اپنی خالہ کو اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کس قدر شکی خاتون ہیں۔۔
اس پل اسے شدت سے جنت کی فکر ہو رہی تھی۔۔
وہ بھلا کیسے ۔۔ اس کی عزت پر اٹھتا حرف برداشت کرسکتا تھا،
بے شک وہ جنت کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔۔ پر اس حصول کے دوران۔۔ اس کا۔۔ جنت کے کردار پر کوئی کیچڑ اچھالنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،،
وہ جانتا تھا کہ وہ لڑکی۔۔ اپنے کریکٹر کو لے کر کتنی sensitive ہے۔۔!!
جنت وہیں پر ساکت کھڑی ۔۔ زرار کو پر شکوہ نگاہوں سے گھور رہی تھی،
زرار کی۔۔ “سوری” کہنے کی بھی ہمت نہیں ہوئی۔۔ وہ خاموشی سے گھر کی طرف بڑھا،
اور جنت ڈرتے۔۔ کانپتے۔۔ اس کی پیروی کرنے لگی،۔۔
××××××
وہ دونوں گھر پہنچے تو ایک قیامت ان کی منتظر تھی،،
اتنی سی دیر میں خالہ نے سب اہل خانہ کو لاونج میں جمع کر کے۔۔ قیامت کا سا ماحول بنا دیا تھا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: