Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 15

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 15

–**–**–

اتنی سی دیر میں خالہ نے سب اہل خانہ کو لاونج میں جمع کر کے۔۔ قیامت کا سا ماحول بنا دیا تھا۔۔
خالہ کی نظر ان دونوں پر پڑی تو۔۔ ان کی الزام تراشیوں میں مزید تیزی آگئی،
“یہ دیکھو۔۔ زینب۔۔ دیکھ لو اپنے لاڈلے کو۔۔!!
کیسے میری ہونے والی بہو کو گودوں میں اٹھائے پھر رہا تھا،
اور بہو۔۔ تم ہی کچھ لحاظ کر لیتیں۔۔
تمہیں شرم نہیں آئی۔۔ پرائے مرد کی گود میں چڑھتے ہوئے۔۔” خالہ زبان کو لگام لگائے بغیر بولتی چلی جا رہی تھیں،
جنت کی تو حالت بری ہو رہی تھی،
وہ بے چاری سر جھکائے،، مجرموں کی طرح۔۔ سہمی ہوئی کھڑی تھی،
زوبی اس کے پاس آ کر کھڑی ہوگئی۔۔اور کندھا تھپتھپا کر۔۔دلاسہ دے رہی تھی کہ گھبراؤ مت۔۔ ریلیکسڈ رہو۔۔!!
پر وہ بھلا کیسے ریلیکس رہ سکتی تھی،
زرار کے والد،والدہ کچا چپا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہے تھے۔۔
زریاب ناسمجھی سے کبھی پھوپھو کی شکل دیکھتا اور کبھی زرار اور جنت کی،
“میں تو اتنے شوق سے آئی تھی یہاں۔۔ احسن نے بتایا تھا کہ بہو ادھر آئی ہوئی ہے۔۔ اور یہ ملنے کی ضد کر رہا تھا تو میں چلی آئی۔۔ پر یہاں تو عیاشیاں کی جارہی ہیں۔۔ وہ بھی کھلے عام روڈوں پر۔۔اس کے والدین کدھر ہیں۔۔ میں ابھی کے ابھی یہ رشتہ ختم کرتی ہوں۔۔ بھاڑ میں جائے یہ لڑکی۔۔ ایسی بے حیا کو مجھے اپنی بہو نہیں بنانا،” خالہ جی تو آؤٹ آف کنٹرول ہی ہو گئیں،
“بس خالہ بس!! بہت ہوگیا۔۔ آپ اپنی بزرگی کا لحاظ ہی کرلیں۔۔ کیسی فضول باتیں کررہی ہیں۔۔ جنت کی کوئی غلطی نہیں تھی۔۔” زرار غصے سے دھاڑا،
اس سے، جنت کی مزید ، انسلٹ برداشت نہیں ہوئی،
اور اپنے لیے کوئی بکواس سننے کا ظرف تو ویسے ہی اس میں نہیں تھا،
“زرار بکواس بند کرو تم اپنی۔۔ اتنے بدتمیز کیسے ہو سکتے ہو تم؟؟” جنید صاحب نے اپنی کراری آواز میں زرار کو لتاڑا،
“پاپا۔۔ آپ خالہ کو بھی تو دیکھیں۔۔ کیا کچھ کہ رہی ہیں۔۔۔” زرار نے تلملاتے ہوئے کہا،
“اور خالہ جانی۔۔ آپ اتنے الٹے سیدھے جو فتوے جھاڑ رہی ہیں ۔۔۔ اپنے صاحبزادے سے تو پوچھیں کہ کس مقصد کے تحت آپ کو یہاں لایا ہے۔۔!!!
آپ کے علم میں لائے بغیر اپنی پسند سے نکاح کر چکا ہے۔۔آپ سے پہلے ہی یہ آپ کی پسند کی ہوئی لڑکی کو ریجکیٹ کر چکا ہے۔۔۔
اب اپنے بچے پر کونسا فتوا لگائیں گی!!!
اور جنت کی دولت ہڑپنے کی آڑ میں جو آپ نے یہ رشتہ کیا تھا ناں۔۔
اچھا ہوا کہ توڑ دیا۔۔
ورنہ ہماری جنت اتنی گری ہوئی نہیں ہے کہ ہم آپ جیسے شکی اور لالچی لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتے۔۔۔!!” مشہور زمانہ، بدتمیز۔۔ زرار نے بڑی مشکل سے ادب کے دائرے میں رہ کر بات کرنی چاہیے تھی ۔۔۔ پر آخر کو وہ پیدائشی بد لحاظ تھا، کب تک ادب کے دائرے میں رہتا۔۔ لہذا وہ اس دائرے سے نکل کر بدتمیزی پر اتر آیا،
خالہ کو تو۔۔ ایک زور دار جھٹکا لگا،،
“احسن۔۔۔!! زرار یہ کیا کہ رہا ہے۔۔؟؟” خالہ باقی باتیں ایک طرف رکھ کر، احسن کے نکاح والی بات پر، تلملائی تھیں،
“جی ماما۔۔ صحیح بول رہے ہیں زرار بھائی۔۔ میں سعدیہ سے نکاح کر چکا ہوں۔۔ جنت بہت اچھی ہے پر میں سعدیہ کو پسند کرتا ہوں۔۔ اور اگر آپ نے یا کسی نے بھی۔۔ اب مجھے pressurize کیا ناں۔۔ تو پھر مجھ سے کسی اچھائی کی توقع مت رکھیے گا۔۔ میں جارہا ہوں۔۔ کار میں آپ کا ویٹ کر رہا ہوں۔۔آپ بات فائنل کر لیں۔۔معاملہ طے کر لیں۔۔ اور ان لوگوں سے معزرت کرکے باہر آجائیے گا،” احسن نے اپنی ماما کو اچھا خاصہ ہلکا کردیا تھا،
ابھی جو وہ بڑھ چڑھ کر زرار اور جنت کی کرداری کشی کر رہی تھیں۔۔ وہی اپنے بیٹے کے ہاتھوں بےعزت ہوکر رہ گئی تھیں،
اب کہنے سننے کو بچا کیا تھا۔۔
ہر بات کلئیر تھی۔۔ سو وہ بھی پیچ و تاب اور غصے سے بل کھاتی ہوتی ہوئی باہر کی طرف ہی چل دیں۔۔،،
اب احسن کی کلاس جو لگنی تھی۔۔ اس کا علیحدہ حساب تھا،
×××××××
جنید صاحب تھک کر وہیں صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھے اور فرزان صاحب کو فون لگا کر ساری بات بتائی،
فرزان صاحب کا تو وہیں بی پی شوٹ کر گیا،
پر اللّٰه کا لاکھ شکر تھا کہ ان کو کوئی نقصان نہیں ہوا،
ابھی تک وہ جنت کے ددھیالی گھر تک نہیں پہنچے تھے کیونکہ انہیں اپنے گھر سے نکلے ہوئے ابھی چار گھنٹے ہی ہوئے تھے جبکہ وہاں تک کا راستہ چھ گھنٹوں کی ڈرائیو پر تھا۔۔
انہوں نے وہیں سے کار ریورس کی، اپنے ساتھ بیٹھی راحیلہ بیگم کو ساری کہانی بتائی۔۔ ان کا پریشانی سے علیحدہ برا حال تھا،
فرزان صاحب کی فاسٹ ڈرائیونگ کی بدولت وہ اگلے ساڑھے تین گھنٹوں میں زرار کے گھر پر تھے،
وہاں سب لوگ ابھی تک جاگ رہے تھے،
زوبی۔۔ جنت کو اپنے ساتھ اپنے روم میں لے جا کر تسلیاں دے رہی تھی۔۔ زریاب بھی اسی کے ساتھ بیٹھا روتی ہوئی جنت کو چپ کرانے کی کوشش کر رہا تھا،
جبکہ لاونج میں گھر کے سارے بڑے اور زرار بیٹھے مشاورت میں مصروف تھے،،
وہاں بیٹھے سب لوگوں کو زرار پر بہت غصہ تھا،
پر کیا کرتے۔۔ آخری آپشن زرار ہی تھا۔۔
سو اس کے حق میں فیصلہ ہوا،،
پتہ نہیں جنید صاحب کو کیا insecurity تھی کہ انہوں نے نکاح۔۔ تیرہ دن بعد کی بجائے آج دوپہر میں کرنے کو بولا، بارہ بج چکے تھے۔۔ نیا دن شروع ہو چکا تھا۔۔ جنید صاحب کو تو جلد سے جلد نکاح کرانے کی جلدی تھی، اسی لیے انہوں نے آج ہی کے دن نکاح کرانے کی تجویز پیش کی،
انہیں اپنے اس عجیب بیٹے پر بھروسہ نہیں تھا۔۔ یہ نہ ہو کہ وہ بعد میں انکار ہی کردے۔۔اور جنت اکیلی رہ جائے۔۔ اسی خدشے کے پیش نظر، جنید صاحب آج ہی نکاح کرانے پر بضد رہے۔۔
کچھ دیر بحث کے بعد ۔۔۔۔ باہمی مشاورت سے۔۔ دوپہر دو بجے نکاح طے پایا تھا،
زرار کو بھلا کیا مسئلہ ہونا تھا۔۔ اس کی تو الٹا لاٹری نکل آئی تھی،
جنت بھی جس شاک سے اس وقت گزر رہی تھی وہ۔۔ بے چاری بھی انکار نہیں کر سکی۔۔ زرار کی خالہ کے الزامات پر وہ اندر ہی اندر خود کو مجرم محسوس کر رہی تھی۔
وہ اپنے مما پاپا کے ساتھ ہی گھر واپس آئی تھی،،
اس نے ساری رات روتے تڑپتے گزری۔۔
تقدیر کے یہ عجیب کھیل۔۔اسے بالکل اچھے نہیں لگے۔۔
وہ غصہ کرنا چاہتی تھی۔۔ انکار کرنا چاہتی تھی۔۔
پر اسے یاد آیا کہ اس نے تو اپنا دل مار دیا تھا،
اب جو ہورہا ہے۔۔ جیسا ہو رہا ہے۔۔ اسے وقت اور حالات پر چھوڑ دینا چاہیے۔۔
×××××××
دوپہر میں بخیر و عافیت نکاح ہوگیا۔۔
فرزان صاحب کے سینے سے ایک بہت بڑا بوجھ ٹل گیا تھا،
جنت تو ان پر قطعاً کوئی بوجھ نہیں تھی پر اس کی اچانک شادی ٹوٹنے پر۔۔ بدنامی کا خوف۔۔ رسوائی کا ڈر۔۔ ان پر بوجھ بن کر رہ گیا تھا،
آخر کو باپ تھے۔۔
بچیوں کی طرح باپ کی عزت بھی بہت نازک ہی تو ہوتی ہے۔۔
اس لیے اچھی لڑکیوں کو اپنے سے زیادہ اپنے والد کی عزت اور مرتبے کا لحاظ ہوتا ہے۔
×××××××
زرار کی تو خوشی ہی نہیں سمٹ رہی تھی،
اتنی جلدی اسے جنت کے ہر چیلنج اور ریجیکشن کا منہ توڑ جواب دینے کا موقع جو مل گیا تھا،
گزری رات کے تمام واقعات کا اثر، اس پر سے زائل ہو چکا تھا،
شام پانچ بجے تک سب مہمان جا چکے تھے،
جنت اپنے روم میں تھی،
زوبی کی خدمات لیتے ہوئے۔۔ زرار کے روم میں گیا،
وہاں وہ محترمہ اپنے نکاح کا ڈریس تبدیل کیے۔۔ کاٹن کے ایمبرائیڈڈ کرتے اور کیپری پہنے، تولیے سے ہاتھ رگڑتے ہوئے واشروم سے نکل رہی تھی،
جیسے اسے سب سے پہلے خود سے اس جوڑے کا بوجھ اتارنے کی جلدی تھی،،
زرار کو اس کی یہ حرکت بری تو لگی۔۔ پر وہ اسے ایسے بھی اچھی لگ رہی تھی،
زرار اس کے بیڈ پر بیٹھا۔۔ ایک جلانے والی مسکراہٹ۔۔ اس کی طرف اچھال گیا۔۔
جنت۔۔ اس کو یہاں دیکھ کر surprise ہوئی تھی۔۔
اسے کچھ اچھا نہیں محسوس ہوا۔۔زرار کو ایسے اپنے سامنے دیکھ کر۔۔ اور اوپر سے زرار جل ککڑے کی مسکراہٹ۔۔!! جنت تو پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔
ایک تو اس نے دوپٹہ تک نہیں اوڑھا تھا اور نہ ہی کوئی اسٹولر لیا ہوا تھا۔۔ سو زرار کا ایسے گھورنا۔۔۔!!
“کیا مسئلہ ہے آپ کو۔۔ کیوں میرے روم میں بغیر اجازت داخل ہوئے ہیں۔۔” جنت نے ایک بار پھر زبان چلانے کی غلطی کر دی۔۔
اب تو وہ زرار کے under آ چکی تھی۔۔ اب زرار اسے۔۔ کسی بھی قسم کی زبان درازی کی اجازت نہیں دینے والا تھا۔۔
سو وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔۔ روم اندر سے لاک کیا اور جنت تک پہنچا۔۔!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Ar-Raheeq Al-Makhtum by Safiur Rahman Mubarakpuri – Episode 7

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: