Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 16

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 16

–**–**–

سو وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔۔ روم اندر سے لاک کیا اور جنت تک پہنچا۔۔!!
“محترمہ۔۔!! میں نے تمہاری زبان درازی بہت برداشت کرلی۔۔اب اور نہیں کروں گا۔۔تم یہ یقین کرلو کہ اب تم زرار جنید کی بیوی ہو۔۔اور زرار کی بیوی وہی کرے گی۔۔ جو زرار کہے گا۔۔ سمجیں۔۔!!” زرار نے اپنے ازلی گھمبیر لہجے میں۔۔جنت کی ٹھوڑی کو اپنی شہادت کی انگلی سے اونچا کر کے، وارن کیا،
جنت کو اس کا اتنا قریب ہونا ۔۔ بری طرح کھل رہا تھا،،
“زرار بہتر ہوگا کہ آپ کچھ فاصلہ رکھ کر بات کریں۔۔” جنت اب اس کے اتنے قریب آنے پر سہم گئی تھی۔۔اس نے اپنی ساری دیدہ دلیری کو ایک طرف رکھ کر عاجزی سے ریکوئسٹ کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔
“کیوں فاصلہ رکھوں۔۔ جب کہ اب میرا تم پر مکمل حق ہے۔۔”زرار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر، اسے اپنی طرف کھینچا۔۔اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں سنجیدگی سے پوچھا۔۔
اس حق والی بات پر تو جنت کو پتنگا لگا،
کل کا دن اتنی آسانی سے بھولنے والا تھوڑی تھا،
جنت کے اندر سے غصہ ابل کر باہر آیا۔۔
“یہ کیا حق حق کی رٹ لگا رہے ہیں۔۔
کل جب آپ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بات کر رہے تھے ۔۔۔
میرے ۔۔ بےے تحاشا قریب آ کر۔۔ میری گردن پر سے پینڈینٹ اتارا۔۔ اگر آپ کو وہ چاہیئے تھا تو بول دیتے۔۔میں نے کونسا انکار کرنا تھا۔۔!!
اور پھر بدتمیزوں کی طرح گود میں اٹھانا۔۔
زرار۔۔ تب آپ کا کون سا حق تھا۔۔بولیں۔۔” جنت تڑخ کر بولی۔۔
اسے زرار کی ان باتوں پر بہت غصہ تھا۔۔
“تو اس میں کونسا اتنی بڑی بات ہے۔۔ جو تم اتنا بپھر رہی ہو۔۔ کبھی کبھی ہوجاتا ہے ایسا۔۔!! اور میں نے تو تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میری بات نہ مان کر مجھے غصہ دلاؤ۔۔آرام سے اگر میری بات مان لیتیں تو ایسا نہ ہوتا..” زرار نے اپنا کیا کرایا۔۔الٹا اسی کے سر تھوپ دیا۔۔ اسے جنت کا اس طرح غصہ ہونا بالکل اچھا نہیں لگا۔۔
اور موڈ کا الگ ستیاناس ہوگیا۔۔۔
“زرار۔۔!! کتنے ڈھیٹ ہیں آپ۔۔!! آپ کےلئے یہ بڑی بات ہے ہی نہیں۔۔؟؟ مجھ سے پوچھیں کہ مجھے کتنا گلٹ فیل ہورہا ہے۔۔!! میں کل سے پہلے بہت فخر سے کہ سکتی تھی کہ میرے کردار پر کسی غیر مرد کی قربت کا داغ نہیں ہے۔۔ پر آپ نے مجھے میرے سامنے ہی مجرم بنا دیا۔۔ آپ کو اپنی خالہ کے الفاظ بھول گئے۔۔ کیا کچھ کہہ کر گئیں تھیں وہ۔۔؟؟ زرار آپ کو یہ بڑی بات نہیں لگ رہی پر مجھے بہت شرمندگی محسوس ہو رہی ہے۔۔” جنت حد سے زیادہ سیریس ہوگئی تھی۔۔
اسے بری طرح رونا آرہا تھا۔۔ اور کل سے جو بات اس کے دل پر بوجھ بنی ہوئی تھی۔۔جنت نے اسے زرار کے سامنے کہہ کر۔۔ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کیا۔
“ریلیکس جنت ریلیکس۔۔!! تم کیوں گلٹی فیل کر رہی ہو۔۔؟؟ تمہاری غلطی نہیں تھی۔۔ ادھر میری طرف دیکھو۔۔ اب میں تمہیں ایسی فضول باتوں کی ٹینشن لیتا ہوا نہ دیکھوں،سمجیں۔۔!!”زرار نے اپنے لہجے کو حتی المقدور سافٹ رکھا۔۔وہ اب اتنا بھی بدلحاظ نہیں تھا کہ اس وقت بھی جنت کی ٹانگ کھینچنے میں لگا رہتا۔۔
اسے جنت کا۔۔ اپنے کریکٹر کے معاملے میں اتنا حسساس ہونا بہت اچھا لگا تھا،
پر جنت کو ابھی بھی کوئی تسلی نہیں ہوئی۔۔ ایسی چیزوں کا احساس ختم ہونے میں وقت لگتا ہے۔۔
اس کا یہ بے تکا گلٹ وقت کے ساتھ ہی ختم ہونا تھا۔۔
“اچھا ویسے۔۔ تم نے کل کچھ کہا تھا مجھے۔۔”زرار نے شرارت سے کہا۔۔
اس کا ہلکا پھلکا اور دوستانہ انداز دیکھ کر جنت بھی ذرا پر سکون ہوکر اور اطمینان سے اس کی بات سننے لگی۔۔
“کیا کہا تھا۔۔۔؟” اسنے ناسمجھی سے پوچھا۔۔
“یہی کہ تم نے مجھ سے کسی بھی صورت شادی نہیں کرنی تھی۔۔اب کیا ہوا۔۔؟؟ ارادہ کیسے بدلا تمہارا۔۔۔” زرار نے مسکراتے ہوئے اپنے ایک ہاتھ کی پر لپٹا، جنت کا فیورٹ ، وہی پینڈینٹ۔۔اس کے گلے میں پورے استحقاق سے پہناتے ہوئے جلانے والے لہجے میں کہا۔۔
جنت ویسے تو اسے ریزیسٹ نہیں کر رہی تھی۔۔ لیکن اس بات پر اسے ایک الگ قسم کا پتنگا لگا۔۔۔۔
اس نے زرار کو ہاتھ سے پکڑ کر کھینچا۔۔ دروازے تک لائی۔۔ اس کا لاک کھولا اور باہر کی طرف دھکا دے کر۔۔اپنی شکست کو cover کرنے والے انداز میں بولی۔۔
زرار کو اس کے انداز پر ہنسی آرہی تھی۔۔
“ارے بھئی۔۔مجھے کیوں نکالا؟؟” زرار نے مسکراتی آنکھوں سے شکوہ کیا۔۔
“آپ ہیں ہی اسی لائق۔۔ اور سن لیں میں نے ابھی آپ سے شادی نہیں کی۔۔ صرف نکاح کیا ہے۔۔ میں اب بھی اپنی بات پر قائم ہوں۔۔اور اب آپ مجھے تنگ مت کیجئے گا۔۔!!” جنت نے انگلی اٹھا کر وارن کرنے والے انداز میں تڑی لگائی۔۔
وہ دروازہ دھپ سے بند کرنے لگی تھی کہ زرار کا دھیان اس کے ہاتھ کی رنگ کی طرف گیا۔۔
اس کی ساری خوش مزاجی بھک سے اڑ گئی۔۔
اس نے اپنے بازو کے زور سے دروازہ بند ہونے سے روکا۔۔
اس کے ایک دم کے بدلتے تیوروں پر جنت بھی سہم گئی تھی۔۔
اس نے جنت کا ہاتھ لے کر سختی سے پکڑا۔۔
“تم نے اب تک اس گدھے کی پہنائی ہوئی رنگ نہیں اتاری۔۔” زرار کا غصہ سوا نیزے پر تھا۔۔
اس نے وحشیانہ انداز میں۔۔ جھپٹ کر اس کی انگلی سے رنگ نکالی۔۔
“چلو۔۔اب میں خود ہی واپس کردوں گا اسے یہ۔۔” زرار اپنی بات کہتا۔۔ تنتناتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔
جنت اپنے بیڈ پر آکر بیٹھی۔۔ اور ہولے سے کراہتے ہوئے اپنی انگلی سہلانے لگی۔۔ کیوں وہ سائڈ سے تھوڑی چھل چکی تھی۔۔!!
اسے رہ رہ زرار پر غصہ آرہا تھا۔۔
“اف۔۔خدایا۔۔!! مجھے بھی اسی نمونے سے محبت ہونی تھی۔۔!!” اس نے اپنے آپ سے شکوہ کیا۔
×××××××××
صبح وہ کالج گئی۔۔تو ایسے ہی کلاس فیلوز کے ساتھ کالج کے لان میں بیٹھی تھی۔۔ اس کے پاس بیٹھی رافعہ جسے اس کی منگنی کی سب سے زیادہ خوشی تھی۔۔
اسے جنت کے ہاتھ سے اس کی انگیجمنٹ رنگ غائب دیکھ کر حیرت ہوئی۔۔”ارے جنت۔۔ یار تمہاری رنگ کدھر گئی۔۔ارے لڑکیاں اپنی یہ اسپیشل رنگ اتارتی تھوڑا ہی ہیں۔۔ کہیں تم نے گم تو نہیں کردی۔۔؟؟” اس نے نان اسٹاپ ایک ہی سانس میں سب کچھ کہا۔
اس سے پہلے کہ جنت کوئی بہانہ بناتی۔۔زوبی منہ پھٹ نے اس سے پہلے ہی حقیقت کا اعلان کر دیا،
“وہ کیا ہے ناں۔۔ رافعہ۔۔ جنت کا نکاح ہو گیا ہے۔۔ زرار بھائی کے ساتھ۔۔ اس لیے اس نے وہ رنگ اتاردی۔۔” زوبی کا لہجہ اچھا خاصا سلگانے والا تھا۔۔
رافعہ کو تو جھٹکا لگا۔۔
وہ بے چاری دل پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئی۔۔
پھر چند منٹوں میں یہ خبر سارے کالج میں پھیل گئی،
اور پھر زوبی کو جگہ جگہ لڑکیوں کی ٹولیاں اظہار افسوس کرتی ہوئی نظر آئیں۔۔ کچھ لڑکیاں جنت کو کوس رہی تھیں۔۔ اور کچھ کا ، زرار سے جذبات کی وابستگی یہ حال تھا کہ بے چاریاں۔۔ زرار کے نکاح کے غم میں آنسو بہانے لگیں۔۔
جو بھی تھا ۔۔۔ زوبی بڑی ہی خوش تھی۔۔
×××××
نکاح کے بعد زرار نے جنت سے کوئی بات نہیں کی۔۔
تیرہ دن پر لگا کر ختم ہوئے۔۔
آج شام جنت اور زرار کی مہندی ہونی تھی۔۔
پر جنت نے ایک ادھم مچا رکھا تھا۔۔
وہ ضدی بن کر ۔۔۔ بس ایک ہی رٹ لگائے جارہی تھی۔۔کہ “میں نے زرار سے شادی نہیں کرنی۔۔میں نے زرار سے شادی نہیں کرنی۔۔” وہ صبح آٹھ بجے سے لے کر اب تک یہی راگ الاپے جا رہی تھی۔۔
اس کی مما کو تو اب پریشانی ہونے لگی تھی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: