Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 17

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 17

–**–**–

اس کی مما کو تو اب پریشانی ہونے لگی تھی۔۔
زوبی شام چھ بجے۔۔اسے پارلر لے جانے کے لیے لینے آئی تو۔۔
اس کی پھپھو نے جنت کے تماشوں کے متعلق بتایا۔۔ جو اس نے صبح سے لگائے ہوئے تھے۔۔
زوبی کو ایک نئے سرے سے غصہ آیا۔۔
وہ پیر پٹختی ہوئی۔۔جنت کے روم تک گئی۔۔۔
“اٹھو۔۔جلدی سے ریڈی ہو۔۔ تمہیں پارلر لے کر جانا ہے۔۔” زوبی نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔۔ جو پتہ کس بات منہ نیچے کیے روئے جا رہی تھی۔۔
شاید اس کو شوق تھا۔۔ فضول میں ہر وقت رونے کا۔۔
“کیا مسئلہ ہے تمہیں زوبی ۔۔ اس ٹون میں کیوں بات کر رہی ہو۔۔؟؟ اور میں نے نہیں جانا پارلر۔۔ مجھے نہیں کرنی کوئی مہندی اور کوئی شادی۔۔” جنت نے منہ بسورا۔
“اب تمہیں کیا مسئلہ ہے جنت۔۔!! کیوں تماشے لگا رہی ہو۔۔ شکر کرو اللّٰه نے تمہیں خالہ جیسی خرانٹ ساس سے بچا لیا۔۔ من پسند آدمی سے نکاح ہوگیا۔۔ اب تمہیں اور کیا چاہیے۔۔؟؟ ناشکری لڑکی۔۔” زوبی نے جنت کو جھنجھوڑ کر کہا۔۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ایک تھپڑ لگائے اپنی اس بے وقوف سہیلی پلس بھابھی کو۔۔!!
“زوبی۔۔!! میں نے انہیں چیلنج کیا تھا کہ میں ان سے کبھی شادی نہیں کروں گی۔۔ اور دوسرا یہ کہ تمہارے اس اکڑو بھائی کو ذرا تمیز نہیں ہے کہ بیوی کو کیسے ٹریٹ کرتے ہیں۔۔ ایک نمبر کے جاہل ہیں وہ۔۔اور تو اور۔۔ وہ مجھے تھوڑا سا بھی پسند نہیں کرتے۔۔” زوبی اپنی لال ہوتی ناک کو رگڑ کر بتایا۔
“یار۔۔ابھی تو ان کا تمہارے ساتھ ایسا کوئی انٹرایکشن ہی نہیں ہوا کہ تم ان پر الزام لگاؤ کہ وہ تمہیں اپنی بیوی کے طور پر صحیح سے ٹریٹ نہیں کرتے۔۔۔” زوبی نے اسے کڑے تیوروں سے گھورا۔۔
“اچھا۔۔ اور تم ہماری وہ ملاقات بھول گئیں جو تم نے ہی زرار کو میرے کمرے میں بھیج کر کرائی تھی۔۔ بولو؟؟” جنت نے اپنی آنکھیں سکیڑ کر۔۔اور کڑوے کسیلے منہ بنا کر کہا۔۔
“تت تمہیں کس نے کہا کہ میں نے بھیجا تھا۔۔ میں نے تو نہیں بھیجا تھا،” زوبی ایک دم بوکھلا لا گئی۔۔
“جھوٹ مت بولو۔۔ اچھی طرح معلوم ہے مجھے کہ تم اپنے بھائی کی کتنی بڑی چمچی ہو۔۔!! اور چلی جاؤ یہاں سے۔۔ میں نے کوئی پارلر وارلر نہیں جانا” جنت نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا۔
زوبیہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔۔
لیکن اسے پریشانی ہورہی تھی۔۔ کہ اب اس محترمہ کو کیسے راضی کیا جائے کہ یہ اپنے ان تماشوں سے باز آجائے۔۔
اس کے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا۔۔
“اچھا اچھا۔۔ اب مجھے سمجھ آئی۔۔ تم یہ تماشے اس لیے لگارہی ہو ناں تاکہ بھائی تمہیں خود آکر، منا کر لے کے جائیں۔۔ کوئی نہیں میں مدد کر دیتی ہوں۔۔ تم بھی کیا یاد رکھو گی۔۔زرار بھائی۔۔ ویسے بھی باہر کار میں ویٹ کر رہے ہیں۔۔ میں ابھی بلا کر لاتی ہوں انہیں۔۔”زوبی اپنی طرف سے جھوٹی سچی کہانی بنا کر ، اچھلتی ہوئی اس کے کمرے سے باہر نکلی۔۔
اسے پتہ تھا کہ اس وقت صرف زرار ہی اس کا علاج کرسکتا ہے۔۔
زوبی کے جانے کے بعد جنت نے اٹھ کر فوراً ڈور لاک کیا،
دو منٹ بعد زرار باہر کھڑا دروازہ ناک کررہا تھا۔۔
اور جنت ڈھیٹ بنی ۔۔۔ دروازہ ہی نہیں کھول کر دے رہی تھی۔۔
زرار کو اب اس پر غصہ آرہا تھا۔۔
پھپھو۔۔اس کے بگڑتے تیوروں کو دیکھ کر پریشان ہو رہی تھیں۔۔
انہوں نے جلدی سے اس کے روم کی ایک اضافی چابی۔۔ گھر کی تمام چابیوں والے بنچ میں سے نکال کر دی۔۔
زرار نے چابی کی ہول میں گھمائی۔۔ اور باقی سب کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔۔ کٹک کی آواز سے لاک کھلا۔۔
اور وہیں جنت کی ساری اڑی بازیاں بھی دم توڑ گئیں۔۔
زرار کی قہر برساتی نظریں۔۔
خون پی جانے والا تاثر۔۔
جنت کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔۔
وہ معصوموں کی طرح ایسے ری ایکٹ کرنے لگی کہ جیسے محترمہ نے کچھ کیا ہی نہ ہو۔۔!!
“کیا مسئلہ ہے تمہارا ہاں..؟؟ کیوں ڈرامے کر رہی ہو۔۔ زیادہ شوق ہے تمہیں میرا اور اپنا تماشا بنانے کا۔۔بولو؟؟” زرار نے جھٹکے سے اس کا بازو کھینچ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔۔
اور کچا چبا ڈالنے والا تاثر لیے۔۔غرا رہا تھا۔۔
“وہ۔۔وہ۔۔زرار۔۔ممم۔۔۔میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا۔۔ سچی۔۔وہ بس۔۔!!
دیکھیں آپ ایسے غصہ نہ کریں۔۔ مجھے ڈر لگتا ہے آپ سے۔۔
مم۔۔میں دو منٹ میں ریڈی ہو کر آتی ہوں۔۔”جنت کا تو سارا ڈھیٹ پن۔۔ ساری ضد۔۔ سارا غصہ۔۔ سب کچھ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔۔
زرار کی اس قدر سنجیدہ پرسنیلٹی کے سامنے بھلا۔۔وہ کتنی دیر اپنی ضد پر اڑی رہ سکتی تھی،
“ریڈی ہوکر آؤ گی نہیں بلکہ ابھی میرے ساتھ چلو گی۔۔
اور سنو۔۔ میں نے تمہیں ایک موقع دینا چاہا تھا۔۔لیکن تم نے اب ایک اور مرتبہ انکار کر کے وہ موقع ضائع کردیا۔۔ اب اپنے لیے کسی نرمی اور اچھائی کی امید نہ رکھنا مجھ سے۔۔” زرار کی سنجیدگی ہنوز قائم تھی۔۔
وہ جنت کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ ہی اسے باہر لے گیا۔۔
راحیلہ بیگم کو جنت کی شکل دیکھ کر بری طرح ہنسی آئی۔۔ آخر اس نے صبح سے ان کی ناک میں دم کیا ہوا تھا۔۔اور اب کیسے۔۔زرار کے قابو آئی تھی وہ۔۔
لاونج سے گزرتے وقت ایک شور تھا۔۔ جسے سن کر جنت کو اور زیادہ شرمندگی محسوس ہورہی تھی۔۔ کیوں کہ اس کی پھوپھو۔۔چاچیاں۔۔اور ان کے بچے۔۔اسے زرار کے ساتھ دیکھ کر ۔۔۔ زبردست قسم کی ہوٹنگ کرنے لگے تھے۔۔
جنت منہ نیچے کیے ۔۔۔تیز قدم بڑھاتی وہاں سے نکلی تھی۔۔
××××××
جنت ۔۔۔ مہندی کی دلہن بنی۔۔ پھولوں اور LED lights سے سجے جھولے میں ،، سمٹ کر بیٹھی تھی۔۔
زرار نے اس کے دل و دماغ پر اپنا ایسا رعب جمایا تھا اور ایسی دھاک بٹھائی تھی۔۔کہ بچاری کی بولتی بند ہو کر رہ گئی تھی۔۔
پھر زرار کی وہ آخری وارنگ۔۔ اب وہ اسے مزید تنگ کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔۔اس مغرور شخص سے تو کسی بھی برائی اور سختی کی توقع کی جا سکتی تھی۔۔
اب وہ اس سے پنگے لے کر۔۔اپنے لیے کوئی مشکل نہیں کھڑی کرنا چاہتی تھی۔۔
وہ زرار کو ہی سوچے جارہی تھی کہ ایک شور سا مچا۔۔
مہندی ہال میں ارینج کی گئی تھی،
اس کی نظر entrance پر پڑی تو وہاں زرار اپنی فیملی کے ساتھ اندر داخل ہو رہا تھا۔۔
جنت کی کزنز ان لوگوں کا گلاب کی پتیوں سے خیر مقدم کررہی تھیں۔۔
ان پھولوں کی بارش میں ۔۔۔ ایک شان سے چلتا ہوا زرار اسے کسی اور ہی دنیا کی مخلوق لگ رہا تھا۔۔
وہ منظر اتنا خوبصورت تھا۔۔۔ اتنا magical🔮 تھا ۔۔۔ کہ جنت کے لیے اپنی پلکیں جھپکانا مشکل ہوگیا۔۔۔
وہ شہزادہ بھی تو ساری دنیا سے بے نیاز۔۔ صرف اور صرف جنت کو اپنی دلفریب آنکھوں سے۔۔۔ اپنی نظروں کے حصار میں رکھے ہوئے تھا۔۔
چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی۔۔ پر خوشی کے بکھرے رنگ اس سے چھپانے پر بھی نہیں چھپ رہے تھے۔۔
اسے جنت کے بالکل ساتھ بٹھایا گیا۔۔
جنت کی دھڑکنیں بے ترتیبی کا شکار ہورہی تھیں۔۔
سانسیں تھیں کہ بے ہنگم ہوتی چلی جارہی تھیں۔۔
اور تو اور اسے اپنے پیٹ میں تتلیاں سی منڈلاتی محسوس ہورہی تھیں۔۔
“اف اللّٰه۔۔ یہ مجھے کیا ہو رہا ہے۔۔” اس نے گھبراتے ہوئے دل میں سوچا۔۔
لیکن یہ بالکل نارمل بات تھی کیونکہ سبھی لوگوں میں اپنے کرش کو اتنے قریب سے دیکھنے پر ایسا ہی فیل ہوتا ہے۔۔
ساری فیلینگز ایک طرف۔۔
لیکن جنت کو اب زرار پر غصہ آرہا تھا۔۔
وہ سب لوگوں سے ہنستے مسکراتے بات کر رہا تھا۔۔ پر ابھی تک اس نے جنت کی طرف کو توجہ نہیں برتی تھی۔۔
پندرہ منٹ ہونے کو آئے تھے۔۔لیکن اس نے ابھی تک کوئی بات ہی نہیں کی۔۔ نہ کوئی تعریف کی۔۔ جنت کا تو دل جل کر رہ گیا۔۔
اب اس کا اس ساری تقریب اور اس کی رنگینیوں سے دل اٹھ گیا تھا۔۔۔
اسے وہاں موجود کسی بھی چیز یا ایکٹیویٹی میں اب کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہورہی تھی۔۔
اور اسے ایک عجیب سی الجھن ہونے لگی تھی۔۔
زرار اچھی طرح اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ سے اس کی الجھن سمجھ رہا تھا۔۔
مگر پھر بھی اس نے خود پر جبر کرتے ہوئے۔۔نہ ہی اس سے کوئی بات کی اور نہ ہی اسے یہ بتایا کہ آج وہ اسے اس طرح ۔۔اس کے ساتھ بیٹھی۔۔ دنیا کی حسین ترین لڑکی لگ رہی ہے۔۔
جسکے ایک اشارے پر وہ کچھ بھی کر جائے۔۔۔
پر اس نے اپنے امڈتے جذبات اندر دبائے۔۔
اور جی بھر کر جنت کو اگنور کیا۔۔ جیسے اسے اس معصوم لڑکی کی۔۔ اسے کوئی پرواہ ہی نہ ہو۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: