Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 18

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 18

–**–**–

اور جی بھر کر جنت کو اگنور کیا۔۔ جیسے اسے اس معصوم لڑکی کی۔۔ کوئی پرواہ ہی نہ ہو۔۔
جنت تو بری طرح کلس کر رہ گئی تھی۔۔
زوبی نے اس کا رویہ نوٹ کیا اور پوچھا بھی کہ کیا وجہ ہے؟؟
پر جنت بی بی نے تو منہ میں دہی جما لیا تھا۔۔ کچھ بولی ہی نہیں وہ،،
وہ یوں ہی بیٹھی اپنی انگلیاں مروڑ مروڑ کر اپناغصہ بےچاری انگلیوں پر نکال رہی تھی ۔۔۔
کہ اچانک اس کے سامنے سیلفی کیمرہ آیا اور اک انتہائی خوبصورت تصویر کلک ہوئی ۔۔۔
زرار کافی دیر سے بیٹھا اس کی حرکات کو اچھے نوٹ کررہا تھا۔۔ پھر اس نے کسی خیال کے تحت اپنا فون پاکٹ سے نکالا،
اور جنت کو بتائے بغیر۔۔ ایک زبردست سی پکچر لے لی،
اس پکچر میں جنت کے ایکسپریشنز اتنے کیوٹ تھے کہ زرار کو اس پر بے تحاشہ پیار آیا،
دراصل اچانک موبائل کے کیمرے کے سامنے آنے پر جنت کچھ چونک سی گئی تھی، اور وہ موبائل اوپر سے زرار کے ہاتھ میں تھا۔۔اور زرار پکچر لینے کے لیے۔۔ اس کے کچھ زیادہ ہی قریب ہوگیا تھا۔۔ اب اس سارے عمل کے نتیجے میں جنت معصوم کے جو تاثرات نکلے۔۔وہ انتہائی مزیدار تھے،
زرار نے اسے مزید تڑپانے کا فیصلہ ترک کیا۔۔
لیکن اسے اپنی ایگو بھی بڑی پیاری تھی اور اوپر سے اس کی ہمیشہ کی عادت۔۔ اس لیے۔۔ اس نے اپنے اسی ٹھہرے ہوئے سنجیدہ لہجے میں جنت کے کان میں سرگوشی کی۔۔”یار کمفرٹیبل رہو ۔۔۔!! یقین کرو نازنین نے بہت اچھا تیار کیا ہے تمہیں۔۔” اس نے جنت کو تیار کرنے والی بیوٹیشن کا نام لیتے ہوئے۔۔بڑی کنجوسی سے تعریف کی۔۔
اس نے اپنی حقیقی تعریف خود سے ہی اخذکرلی۔۔
یعنی اسے زرار کے اتنے سے جملے میں اپنی تعریف کے وہ سارے الفاظ سنائی دے گئے جو وہ خود سننا چاہتی تھی۔۔ 😂😂
جنت ٹھہری مشرقی لڑکی۔۔
اب بے چاری کی الجھن اور غصہ تو دور ہوگیا تھا لیکن اس کی جگہ شرمیلی مسکان نے لے لی تھی ۔۔۔
اسے ایسے مسکراتا دیکھ کر، زوبی فوراً اس کے پاس آئی،
وہ اس کی اور زرار کی کارروائی دیکھ چکی تھی،
“خیر ہے۔۔؟؟ ابھی تو منہ پر بارہ بجے تھے،اور اب اچانک سیلفی لینے پر محترمہ کی مسکراہٹ ہی دب کے دے رہی۔۔ بتاؤ تو بھائی نے ایسا کیا کہا ہے تمہارے کان میں؟؟ بتاؤ بتاؤ” زوبی نے پوری طاقت سے ہونٹ کھینچ کر دانت پھاڑے ہوئے تھے۔۔اور وہ ہنس ہنس کر جنت کا اچھا خاصہ ریکارڈ لگا رہی تھی۔۔
“کچھ بھی نہیں کہا انہوں نے۔۔ اور تم اپنی بکواس بند رکھو۔۔ سمجھ آئی۔۔۔” جنت نے اسے غضب ناک نظروں سے گھورا۔
خیر اللّٰه کر کے، آج کا دن ٹلا،
×××××
بارات والے دن وہ زرار کے پسند کیے اس انتہائی خوبصورت برائیڈل ڈریس میں ، ساری Disney پرینسسز کو پیچھے چھوڑ چکی تھی،
ایک تو وہ ایسے ہی اتنی نازک سی اور بے انتہا خوبصورت تھی اوپر سے میک اپ آرٹسٹ نے اس پر اپنے آرٹ کے ایسے مظاہرے کیے تھے کہ وہ قاتلانہ حسن لیے ہر دیکھنے والی آنکھ کا مرکز بنی ہوئی تھی،
لیکن اس کی نظریں، اس کی آنکھیں تو۔۔ کسی اور کو ہی تلاش رہی تھیں۔۔
کچھ دیر کے بعد اس کا شہزادہ بارات سمیت ہال میں داخل ہوا۔۔
جنت کی دھڑکنیں پھر سے اچھل کود کرنے لگی تھیں۔۔
زرار کا پھر سے کل والا رویہ دیکھ کر تو جنت کی ساری خوشی کا ستیاناس ہوگیا تھا۔۔
اس کے اس طرح اگنور کرنے ہر بچاری جل کر رہ گئی تھی ۔۔۔
پر وہ بھی اپنے نام کی ایک ہی تھی۔۔
اپنے دماغ میں زرار کی اس حرکت پر بدلہ لینے کی طرح طرح کی سکیمیں بنانے لگی۔۔یہ سوچے بنا کہ اس کے نتائج سنگین بھی ہو سکتے ہیں۔۔
اسے پتہ تھا کہ زرار کو اپنی اہمیت جتانے کا کتنا شوق ہے۔۔!!
اب ایسے میں وہ اسے اگنور کر کے اپنا بدلہ اچھے سے لے سکتی تھی۔۔
×××××××
زرار رات کو ، روم میں ایک بجے کے بعد داخل ہوا۔۔
اس نے سوچا تھا کہ جنت سامنے بیٹھی، بیڈ پر اپنا لہنگا پھیلائے، اس کا انتظار کر رہی ہوگی۔۔
اور پھر وہ اس کی طرف بغیر دیکھے اس کو بولے گا کہ جاؤ جا کر بدل کر آؤ اپنا یہ فضول لباس۔۔
دراصل وہ جنت سے اس کے بار بار انکار کرنے اور ریجکیٹ کرنے والی بات کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔
کیونکہ اس کے نزدیک، اس کی انا ۔۔ اس کی خودی۔۔ بھی اتنی ہی اہم تھی کہ جتنی اس کی محبت۔
پر جنت صاحبہ تو اس کی ساری پلیئنگ پر پانی پھیرے۔۔ اپنے بلیک نائٹ سوٹ یعنی سلک کے ٹراؤزرز اور کالر والی شرٹ میں مزے سے۔۔ زرار کا سارا بلینکٹ گلے تک اوڑھے۔۔ اپنے بازو سے آنکھیں ڈھانپے۔۔ سونے کی بھرپور ایکٹنگ کررہی تھیں۔
جنت نے بھی سوچ چکی تھی کہ اس مغرور انسان کو اب وہ کوئی رسپانس نہیں دینے والی۔۔!!
اور دوسری طرف بات۔۔ زرار کی انا کی تھی۔۔
وہ جنت کا اس طرح نظر انداز کرنا بالکل برداشت نہیں کر پارہا تھا۔
اس نے خود کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے اور کچھ دن بھر کی تھکان اتارنے کے لئے، شاور لیا،
اور وہ بھی آرام دہ سا نائٹ سوٹ پہنے واشروم سے نکلا۔۔
“”جنت۔۔۔!! اٹھو۔۔!!” وہ جنت پر جھکا۔۔ اس کا کندھا زور زور سے ہلاتے ہوئے اسے جگا رہا تھا،
جاگی تو پہلے کی تھی ۔۔۔ لیکن فی الحال وہ سختی سے اپنی ایکٹنگ پر جمی رہی۔۔
زرار نے اس کا بازو۔۔اس کی آنکھوں سے ہٹا کر اپنے گیلے بالوں کا رخ ۔۔جنت کے چہرے کی طرف کر کے، ان میں انگلیاں پھیر کر، پانی کی چھینٹیںں جنت کے منہ پر ماریں۔۔
ایک بوند آکر اس کی آنکھ کے کونے پر لگی۔۔ جسکی وجہ سے اس کی ساری ایکٹنگ کی دھجیاں اڑ گئیں۔۔
وہ اب آنکھیں کھولے۔۔زرار کو بے زاری سے دیکھ رہی تھی۔۔”کیا مسئلہ ہے آپ کو۔۔؟؟ ہاں ؟؟ کوئی اخلاقیات نام کی چیز نہیں ہے آپ میں۔۔فضول میں لے کر اٹھا دیا۔۔” جنت نے اپن زبان کے جوہر دکھائے۔۔
“خاموش۔۔!! ایک لفظ بھی اب منہ سے مت نکالنا۔۔!!” زرار نے اپنی انگلی اس کے ہونٹوں پر سختی سے رکھتے ہوئے۔۔اسے غصے سے چپ کرایا۔
“آئی بڑی اخلاقیات کا درس دینے والی۔۔تمہیں خود تو کوئی تمیز ، کوئی عقل کوئی شعور نہیں کہ ایسے موقع پر شوہر کا انتظار کرتے ہوتے ہیں۔۔اب جاؤ جا کر اپنا لہنگا پہن کر آؤ اور میک اپ بھی کرنا۔۔ اور پھر مجھے اچھے سے ریسیو کرنا۔۔” زرار نے اپنا تسلط جماتے ہوئے، پھاڑ کھانے والے لہجے میں کہا۔
“میں کوئی۔۔لہنگا وہنگا نہیں پہن رہی ، میں سو رہی ہوں۔۔ سمجھے آپ۔۔؟؟ مجھے نیند آرہی ہے۔۔”اس نے بلینکٹ میں اپنا منہ چھپا کر کہا۔۔
زرار تو اس کی ہٹ دھرمی پر تلملا کر رہ گیا،
“ہاں ہاں۔۔میرے لیے بھلا تم نے یہ سب کیوں کرنا ہے۔۔میری جگہ آج اگر احسن ہوتا تو تم خوشی خوشی۔۔”زرار نے ابھی اتنا ہی بولا تھا کہ جنت اچھل کر بستر سے باہر نکلی اور زرار کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر، اس کی چلتی زبان کو بریک دی۔
“زرار ۔۔۔کچھ تو خدا کا خوف کریں۔۔میں۔۔میں بیوی ہوں آپ کی۔۔آپ میرے متعلق ایسا کیسے کہ سکتے ہیں۔۔؟؟ بہت ہی غلط بات کی ہے آپ نے۔۔” اس نے اذیت سے کہا،
اسے واقعی بہت تکلیف پہنچی تھی زرار کی اس بات سے۔۔
آنسو تھے کہ روانی سے بہنے لگے۔۔
اسے واقعی بہت تکلیف ہوتی تھی۔۔ جب زرار اپنے علاؤہ کسی اور مرد سے اسے منسوب کرتا تھا۔۔
وہ بھاگی بھاگی اپنی واڈروب کی طرف گئی۔۔ اپنا عروسی لباس نکالا۔۔
وہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ اس کے لیے جو اہمیت وہ رکھتا ہے۔۔ وہ تو کسی اور کی ہو ہی نہیں سکتی۔۔
وہ آدھے گھنٹے بعد لباس تبدیل کیے۔۔اور ہلکے میک اپ کے ساتھ بالکل تیار ہو کر اس کے سامنے تھی۔۔
زرار بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے۔۔ سگریٹ ہونٹوں میں دبائے۔۔اسی کا منتظر بیٹھا تھا۔۔
حالانکہ وہ اس کا انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
اسے تو جنت والی حرکت دہرانی تھی۔۔
مگر نجانے کس احساس نے اسے اسکی جگہ پر باندھ دیا تھا۔۔
وہ اسے اپنے سامنے کھڑی۔۔جنت نہیں بلکہ جنت کی حور لگ رہی تھی۔۔
وہ پلکیں جھپکائے بغیر ۔۔ اس کے حسین سراپے کو ستائش اور محبت بھری نظروں سے سراہ رہا تھا کہ جنت کی آواز نے اس کا سحر توڑا۔۔
“دیکھ لیا آپ نے۔۔؟؟ میں آپ کے لیے تیار ہوئی ہوں۔۔ میرے لیے آپ کا جو مقام و مرتبہ ہے۔۔ وہ کسی کا ہو ہی نہیں سکتا۔۔ لیکن زرار آپ بہت برے ہیں۔۔ ہمیشہ میرا دل دکھاتے ہیں۔۔” وہ روتی ہوئی واپس واشروم بھاگی،
زرار کو اب اپنے لفظوں کی سنگینی کا تھوڑا بہت احساس ہورہا تھا۔۔
جنت اس سے بری طرح خفا ہوئی تھی۔۔
پر اس کا یہ احساس لمحوں میں ختم ہوا،
جنت۔۔جب واپس اپنا نائٹ سوٹ پہنے اور میک اپ صاف کئے، واشروم سے نکلی۔۔
اور بیڈ پر ایک طرف کو بالکل کنارے پر ہو کر سونے کے لیے لیٹی۔۔۔
تو زرار کی یہ حرکت دیکھ کر وہ اندر تک کھول گئی۔۔
ایک تو وہ ناراض تھی اور اوپر سے اس کھڑوس کی ایسی اوچھی حرکتیں۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  The Mystery Of Death Novel by Janaa Mubeen – Episode 7

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: