Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 2

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 2

–**–**–

کہ اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا!!
“اوئے۔۔۔۔!!
جنت کی بچی۔۔!!
کہیں تم نے میرے پیارے سے زریاب بھائی پر تو نظر نہیں رکھی ہوئی۔۔۔؟؟؟”
زوبی نے کڑے تیوروں کے ساتھ جنت کو گھورا۔
زوبی کی بات پر جنت اچھل کر رہ گئی۔
‘”یہ کیا بکواس کر رہی ہو؟؟..
تو بہ استعفار۔۔ تمہارے اندازے تو بالکل ہی گئے گزرے ہیں۔۔” جنت اب رونا بند کر چکی تھی۔۔خشک آنکھیں لیے۔۔ کانوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی کہنے لگی۔
“اچھا۔۔ اگر ایسی بات نہیں ہے۔۔ تو پھر تم نے کس خوشی میں میرے بھائی کی شان میں اس قدر گستاخیاں کی ہیں؟؟”
زوبی سے اپنے پیارے بھائی کی برائیاں ہضم نہیں ہوئیں ۔
کیونکہ وہ برائیاں اس میں موجود ہی نہیں تھیں۔
“اف اللّٰه!! اگر میں نے تمہارے بھائی کی شان میں گستاخی کر دی تو۔۔
اس کا مطلب تم نے یہ نکالا کہ مجھے ان سے محبت ہے۔۔
بھلا۔۔ کسی سے۔۔کسی کی محبت جاننے کا یہ کونسا فارمولا ہے۔۔ بدھو۔۔!!!!!!
او۔۔ بہن میری۔۔ زریاب بھائی، میرے لیے بالکل میرے بھائی جیسے ہیں۔۔
میں نے تو ایویں کہہ دیا کہ میں نے انہیں کبھی بھائی نہیں مانا۔۔
شرم کرو۔۔ اور کوئی عقل بڑھانے والی پھکی لو۔۔”جنت اب سیدھی ہو کر بیٹھی تھی۔۔ اور اپنی سہیلی کے خراب اندازوں پر خوب بھڑک اٹھی تھی۔
“یار!! تمہارا نا دماغ خراب ہو گیا ہے۔۔!!
جو منہ میں آرہا ہے۔۔ بغیر سوچے سمجھے۔۔۔الٹا پھلٹا بولی جا رہی ہو۔۔۔
کبھی تم مجھے بدھو بول رہی ہو۔۔
اور کبھی میرے بھائی کی ایسی ایسی برائیاں گنوا رہی ہو۔۔ جو ان میں موجود ہی نہیں۔۔
تم تو ہم دونوں بہن بھائیوں کے پیچھے پڑ گئی ہو۔۔!!”زوبی منہ پھلا کر۔۔ خفا خفا سی ہو کر بول رہی تھی۔
“اچھا۔۔ بہن۔۔ آئم سوری۔۔!!
میں نے غصے میں یہ سب بول دیا۔۔
میں بھی کتنی اسٹوپڈ ہوں۔۔!!
کسی اور کا غصہ تم پر نکال رہی تھی۔۔
اور کسی اور کے لیے کہے جانے والے الفاظ۔۔زریاب بھائی کے سر تھوپ دیے۔۔۔
تم بالکل صحیح کہہ رہی ہو۔۔
میرا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔
لیکن۔۔! پلیز تم اب مجھ سے خفا مت ہو۔۔”
جنت نے زوبی کے دونوں ہاتھ پکڑ کر منت کی۔
“اوکے۔۔ نہیں ہوتی میں تم سے خفا۔۔!! پر میری ایک شرط ہے۔۔” زوبی نے نروٹھے پن سے کہا۔
“چلو جی۔۔!! اب یہ تمہاری شرط صاحبہ بیچ میں آگئیں۔۔ زوبی۔۔ مجھے کوئی ایک جھگڑا ایسا بتا دو کہ جس میں تم۔۔ کسی شرط کے بغیر راضی ہوئی ہو۔۔؟؟؟” جنت نے تپ کر کہا۔
“ڈونٹ ٹرائی ٹو چینج دا ٹاپک۔۔!!” زوبی نے اپنی آنکھیں سکیڑ کر جنت کو تنبیہ کی۔
“اچھا بابا۔۔!! تم جیتیں، میں ہاری۔۔ اب بتاؤ اپنی شرط۔” جنت نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا۔
“میری شرط یہ ہے کہ۔۔۔!!
پہلے تم وعدہ کرو کہ انکار نہیں کرو گی۔۔!!” زوبی نے اپنا خدشہ سامنے رکھا۔
“ارے بابا۔۔!!
نہیں کرتی انکار۔۔!!
تم بس مجھ سے راضی ہونے کی شرط بتاؤ۔۔!!
کیوں کہ میں۔۔ کم سے کم آج کل تمہاری ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتی۔”
جنت نے زوبی کے گال پر ہلکی سی چٹکی کاٹی۔۔
“تم مجھے اس شخص کا نام بتاؤ۔۔
جسے تمہارے جذبات کی ذرا سی بھی پرواہ نہیں!!”
زوبی نے ضدی سے لہجے می می می می می میں ۔۔۔ اس کا راز اگلوانا چاہا۔
جنت منہ کھولے حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“زوبی میں نے تم سے کہا ہے نا۔۔ کہ وہ میرا راز ہیں۔۔ انہیں راز رہنے دو۔” جنت نے کمزور سے لہجے میں اسے اپنی شرط سے باز رہنے کی تاکید کی۔
“جنت۔۔!! Listen
میں جانتی ہوں کہ تم مجھے نہیں بتانا چاہتی۔۔
اور اب تک میرا تم سے اس شخص کا نام اگلوانے کا کوئی ارادہ بھی نہیں تھا۔۔ لیکن۔۔”
“لیکن کیا۔۔زوبی؟؟ ارادہ نہیں تھا تو۔۔
اب بھی رہنے دو۔۔ مت پوچھو مجھ سے۔۔
تم جانتی ہو کہ تمہارے زیادہ اصرار پر مجھ سے اپنا سیکرٹ۔۔ تم سے نہیں چھپایا جاتا۔۔”
جنت نے اس کی بات۔۔۔ بیچ میں ہی ٹوک کر ایک بار پھر request کی۔
“جنت۔۔!! تم میری پوری بات تو سنو۔۔!!
دیکھو۔۔!! تم جانتی ہو نا۔۔ کہ تم میرے لیے بالکل میری بہنوں جیسی ہو؟؟”
جنت نے زوبیہ کی بات پر ہاں میں سر ہلایا۔
“تو یار۔۔ تم یہ کیسے سوچ سکتی ہو کہ میں تمہیں۔۔
تمہاری زندگی بھر کی خوشیوں اور دلی آسودگی سے اتنی آسانی سے دستبردار ہونے دوں گی۔۔؟؟
یار۔۔!! تم بس ایک بار اس بندے کا نام بولو۔۔
مجھ سے۔۔ تمہارے لیے جو بن پڑا۔۔ میں کروں گی۔۔
اگر میں اپنی کوشش میں ناکام رہی تو پھر بے شک تم احسن بھائی سے خوشی خوشی شادی کر لینا۔۔۔
اور یقین رکھو مجھ پر۔۔
میں کسی تیسرے کو تمہارا یہ راز نہیں سونپوں گی۔۔”
زوبی نے بہت مان، محبت اور پیار سے کہا۔
“یار جس شخص سے مجھے عشق ہے نا۔۔!!
وہ سچ میں بہت انا پرست۔۔۔ کھڑوس۔۔ غصیلے۔ سخت مزاج بلکہ بد مزاج ہی کہہ لو۔۔ اور بہت مغرور بھی ہیں۔۔
اور مجھے پورا یقین ہے کہ ان کو مجھ میں کوئی دلچسپی نہیں۔۔ مجھ سے کوئی لگاؤ نہیں۔۔
اور یہ سمجھ لو۔۔ کہ وہ تو رشتہ کروانے والی ماسی نہیں۔۔ بلکہ پورے کے پورے شادیاں کرانے والے دفتر کے owner ہیں ۔۔۔ بڑا مزہ آتا ہے انہیں۔۔ فیملیز کو ایک دوسرے سے رشتوں پر آمادہ کرنے میں۔۔
بلکہ ابھی ابھی جو میں نے تمہیں۔۔ غلطی سے۔۔۔زریاب بھائی کا نام لگا کر برائیاں گنوائی تھی نا۔۔
ان سب کی سب کی برائیوں کا ایک ہائر version ہیں وہ۔۔” جنت نے سلگ کر کہا۔
اب اس کا دماغ اپنی جگہ پر آگیا تھا۔۔
اس لیے اب اس نے اپنے پورے ہوش و ہواس میں۔۔ بالکل صحیح الفاظ۔۔ صحیح شخص کے لیے بولے۔
زوبی نے اپنا سر پیٹ لیا۔
“جنت!!!!
کہہ دو کہ یہ سب تم نے زراز بھائی کے لیے نہیں کہا۔۔!!” زوبی نے شدید حیرت اور تعجب سے جنت کی طرف دیکھا۔
“زوبی۔۔!! یہ سب میں نے انہی کے لیے بولا ہے۔۔
اب تم مجھ سے مزید کوئی سوال نہیں پوچھو گی۔۔
اور مجھے کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دو” جنت نے سرد لہجے میں۔۔زوبیہ سے آنکھیں چراتے ہوئے تکلیف سے کہا۔
اس کی آنکھوں میں پھر سے نمکین پانی امڈ آیا۔
زوبی اس کی بات سمجھ سکتی تھی۔۔
اس لیے ایک لمبا سانس اندر کی طرف کھینچتے ہوئے۔۔اس نے جنت کی بات پر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے “اوکے” کہا اور وہاں سے جانے ہی لگی۔
اور جانے سے پہلے اس نے اپنی سہیلی کو زور سے ہگ کیا۔۔
اس کے بہتے آنسو اپنی انگلیوں کے پوروں سے صاف کیے اور بہت خلوص اور فخر سے کہا۔۔
” جنت۔۔ یقین مانو۔۔!! تم بہت اچھی لڑکی ہو۔۔۔!!
مجھے تم پر فخر ہے کہ تم نے اپنا دل مار کر۔۔
اپنے والدین کے فیصلے کو مقدم رکھا۔۔
اور تم نے اپنی محبت کو اپنے دل میں دبا کر اپنا وقار بلند کیا ہے۔۔ اپنا عورت ہونے کا بھرم قائم رکھا ہے۔۔
تم نے کسی مرد کی محبت میں مجبور ہو کر اپنی ذات کا تماشہ نہیں بنایا۔۔۔ آئم سو پراؤڈ آف یو ۔۔۔!!
میری دعا ہے کہ تمہیں تمہاری زندگی کی ہر خوشی ملے۔۔” زوبی نے اسے خود میں بھینچتے ہوئے۔۔ کہا۔
اب زوبی کے لیے وہاں کھڑا ہونا مشکل تھا۔
اس سے اپنی دوست کی ہر لمحہ بے بس ہوتی حالت نہیں دیکھی جا رہی تھی۔
×××××××××××××××
فرمان احمد اور نائلہ بتول کے دو ہی بچے تھے۔۔
بڑا بیٹا۔۔ جنید فرمان اور چھوٹی بیٹی۔۔ راحیلہ۔
جنید کی شادی فرمان احمد کی زندگی میں ہی زینب امین سے ہوئی تھی۔
جبکہ جنید نے اپنے والد کی وفات کے بعد۔۔ اپنی بہن راحیلہ کی شادی اپنے بہت ہی قریبی دوست فرزان علی سے کی۔
جنید احمد کی تین اولادیں تھیں ۔۔۔ بڑا بیٹا زرار، چھوٹا زریاب اور سب سے چھوٹی بیٹی زوبیہ جو کہ راحیلہ فرزان کی اکلوتی بیٹی “جنت فرزان” کی ہم عمر یعنی بیس سال کی تھی۔
زوبیہ اور جنت کی پیدائش میں چند دنوں کا ہی فرق تھا۔
باقی زرار جنید اٹھائیس برس کے ہوچکے تھے جبکہ زریاب کی ہفتہ پہلے ہی چوبیسویں سالگرہ تھی۔
جنید صاحب کا۔۔ شہر میں ہی اپنا گرلز اور بوائز کالج تھا،،
جہاں وہ تمام زندگی اپنی تدریسی خدمات پیش کرتے رہے اور ساتھ میں کالج کے پرنسپل بھی تھے۔
زرار اور زریاب نے بھی اپنے والد کی طرح اپنی دلچسپی تدریس سے منسلک رہنے میں ہی ظاہر کی۔
یہی وجہ تھی کہ زرار گریجویٹ ہونے کے فوراً بعد سے اپنے ہی کالج میں لیکچرار ہونے کے فرائض انجام دے رہا تھا اور سال پہلے ہی اپنے بابا کی خواہش پر اس نے کالج کی adminstration بھی اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔
کالج کے ہائی اسٹینڈرڈ اور اچھی تعلیم کی وجہ سے شہر بھر میں اچھی ساکھ تھی۔
اس کے اعلیٰ معیار، یونیورسٹی جیسے ماحول اور بے تحاشا شہرت کی وجہ سے شہر کے تمام امیر خاندانوں کے بچے یہاں زیر تعلیم تھے۔
کالج مہنگا ترین ہونے کی وجہ جنید صاحب کی منتھلی انکم لاکھوں میں ہوتی تھی جو کہ زرار کے آنے کے بعد کڑوڑ سے بھی اوپر چلی گئی۔
جنید صاحب ہمیشہ سے ہی اپنی انکم کا ففٹی پرسینٹ فلاحی کاموں میں اور فی سبیل اللّٰه خرچ کرتے تھے۔
ان کی دن بدن بڑھتی امارت دیکھنے والوں کو رشک و حسد میں مبتلا کر دیتی۔۔
اور ان کی دولت میں اس قدر اضافہ کیوں نہ ہوتا؟؟
کیونکہ اللّٰه نے خود ہی تو کہا ہے:
“کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض ( ف۳۰ ) تو وہ اس کے لیے دونے کرے اور اللہ کو عزت کا ثواب دے ، ” (سورۃ الحدید، آیت 11)
زریاب نے بھی اپنے بھائی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے۔۔دو ہفتے پہلے ہی ایز اے ٹیچر۔۔ اپنی زمہ داریاں سنبھالی تھیں۔
×××××××
زرار فطرتاً سنجیدہ مزاج، اکھڑ، کم گو، غصے کا تیز، اسٹریٹ فارورڈ اور مغرور انسان تھا۔
پھر بھی اس کی ایک عادت تھی جو کہ سب کو پسند تھی۔۔ کہ وہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا اور اپنی ہر ذمہ داری کو پوری ایمانداری اور سنجیدگی سے نبھانا جانتا تھا۔
وہ صرف اور صرف اپنے سے بڑوں کا احترام اور ادب کرتا تھا۔۔
باقی اس کے بہن اور بھائی کے علاؤہ کوئی شخص ایسا نہیں تھا کہ جسے اس کا پیار ملا ہو۔
اس کی ان بلیوایبل بیوٹی اور چارمنگ پرسنیلٹی کی وجہ سے اسے دیکھنے والی ہر لڑکی،
اس طرف آسانی سے اٹریکٹ ہو جاتی تھی،
وہ لڑکیاں اس قدر مرعوب ہوتی تھیں کہ اپنی انا، وقار، عزت۔۔ ہر چیز بھاڑ میں بھیج کر۔۔ خود ہی زرار دوستی کی آفر کرتیں۔۔ جسے زرار اس طرح ریجکٹ کرتا کہ مارے شرمندگی کے وہ لڑکیاں پھر کبھی ایسی حرکتیں دوبارا کرنے کا سوچتی بھی نہیں تھیں۔
اسے لڑکیوں کا اپنے سامنے ایسے بچھتے چلے جانا بہت زہر لگتا تھا۔
اور اسے اپنے بے حد حسین ہونے کا اتنا غرور تھا کہ آج تک اسے کوئی لڑکی۔۔اپنی ہم پلہ نہیں لگی سوائے جنت کے۔۔۔ اور اس بات کا اعتراف کرنا۔۔زرار کی مغرور طبیعت کے خلاف تھا۔
اس لیے اس نے جنت کو ہمیشہ بہت اگنور کیا۔
وہ جنت کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیے رکھتا تھا کہ جیسے وہ اس کی کوئی مجرم ہو۔
جنت کی قسمت بھی ایسی گئی گزری تھی کہ اسے محبت ہوئی بھی تو ایسے شخص سے۔۔ جو نہ جانے اس سے کس قدر دشمنی رکھتا تھا۔
زرار کی شخصیت اور فطرت ایسی تھی کہ اگر وہ بالفرض کسی سے محبت کر بھی لیتا۔۔۔
تو اس کے محبوب کی خیر نہیں ہونی تھی۔۔
وہ بے حد پوزیسسو انسان تھا۔۔اور جس کسی سے جذباتی وابستگی رکھتا تو اس کی حد سے زیادہ کئیر بھی کرتا۔
وہ بھی شاید اپنے دل کے کسی نہاں خانے میں جنت کے لیے محبت کا جذبہ رکھتا تھا۔
لیکن اس کے اعتراف نہ کرنے والی عادت۔۔ بے وجہ کی انا اور غرور نے اس کی بہت نقصان پہنچایا تھا۔
وہ اپنے کھڑوس پن کی وجہ سے اپنی واحد محبت۔۔ اپنی پہلی محبت کھونے والا تھا۔
اور اگر وہ یہ محبت واقعی کھو دیتا تو اس کی ساری زندگی اس کے لیے عذاب بن جانی تھی۔
کیونکہ اکثر۔۔ چیزوں کو کھو دینے کے بعد ان کی قدر محسوس ہوتی ہے۔
اور یہ احساس پچھتاوے میں تبدیل ہو کر۔۔ دل کا سارا سکون برباد کر دیتا ہے۔
کچھ ایسا ہی زرار کے ساتھ بھی ہونے جا رہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 10

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: