Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 3

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 3

–**–**–

کچھ ایسا ہی زرار کے ساتھ بھی ہونے جا رہا تھا۔
×××××
زوبی کے جانے کے بعد، جنت تھوڑی دیر تو اپنی جگہ پر ساکت بیٹھی ، روتی رہی۔۔
پھر اپنے حلیے کی خرابی کا خیال آتے ہی ، اسے درست کرنے کے لیے اٹھی۔
اس نے اچھی طرح سے منہ ہاتھ دھو کر۔۔ تولیے سے نرمی سے خشک کیے اور سافٹ ملٹی کلرز والی پرنٹڈ قمیض، سفید ٹراؤزرز کے ساتھ پہن کر اپنے بھاری، کامدار سوٹ سے جان چھڑائی۔
اب وہ کافی فریش فیل کر رہی تھی۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑی، برش ہاتھ میں اٹھائے۔۔ آرام آرام سے اپنے، خوبصورت سے سلکی، ڈارک براؤن کلر کے لہروں جیسے بالوں میں پھیر رہی تھی۔
اس نے آئینے میں غور سے اپنا عکس دیکھا تو آنکھیں، کچھ دیر پہلے رونے کے باعث، ہلکی ہلکی سی سوجھ گئیں تھیں، اور نسبتاً چھوٹی لگ رہی تھیں،
اس کی ناک کی نوک ابھی تک سرخ تھی،
ایک خاص تبدیلی جو اس نے اپنے حسن سے معمور چہرے پر نوٹ کی ، وہ یہ تھی کہ اس کے چہرے پر اطمینان اور خوشی نہیں تھیں۔
ایک دھیمی سی مسکراہٹ جو ہر وقت اس کے نازک لبوں کو اپنے گھیرے میں رکھتی تھی، آج وہ غائب تھی۔
اس کا دل تھا کہ اپنے اندر ایک آگ لگائے بیٹھا تھا۔۔
اور وہ اپنے دل کی ، اس ہر لمحہ پہلے سے زیادہ بھڑکتی اور سلگتی آگ میں خود کو جلتا اور جھلستا محسوس کر رہی تھی۔
اس کے چہرے پر آنسو کی لڑی کی ماند بہنے لگے۔۔
اس نے جارحانہ انداز میں اپنے آنسو ہتھیلی کی پشت سے رگڑے اور ایک گہری سانس اندر کی طرف کھینچ کر خود کو نارمل کیا۔
اور اس نے ڈریسنگ ٹیبل کے پہلے دراز سے اپنا فیورٹ، سفید ، گول موتیوں والا ہیڈ بینڈ نکالا اور بالوں پر سیٹ کر کے،
اپنا دھیان بٹانے کے لیے لان کی طرف چلی گئی۔۔۔
جہاں اس کے مما پاپا، اب مہمانوں کے جانے کے بعد ،
ریلیکس ہو کر شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
وہ میز کے گرد لگی کرسیوں میں سے، اپنے پاپا کے ساتھ والی ایک کرسی کھینچ کر وہاں بیٹھ گئی۔۔
اور ٹرے میں پڑے کپوں سے ایک کپ میں چائے انڈیل کر ، گھونٹ گھونٹ کر کے پینے لگی۔۔
اور ساتھ میں اپنے مما پاپا کی گفتگو میں اپنا حصہ ملاتے ہوئے۔۔ اپنے اندر پلتی تکلیف دہ سوچوں کو جھٹکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
×××××××××
زوبی نے بھی گھر آ کر کپڑے چینج کیے،،
فریش ہوئی اور اپنے روم میں ہی بیٹھی رہی
اس کے ذہن کو کسی طرح بھی آرام نہیں مل رہا تھا،
کچھ دیر بعد وہ چھت پر چلی گئی،
وہاں اندھیرے میں گم ہوتا دن، اسے بالکل جنت جیسا لگ رہا تھا۔
جنت کی زندگی اسے بالکل۔۔ اسی ڈھلتے سورج کی ماند محسوس ہوئی۔۔ جو اپنی تمام تر روشنی ، اپنی ساری رمق کھو کر ، تاریکی میں، اندھیرے میں پناہ لینے والی تھی۔
وہ مسلسل وہیں چھت پر یہاں سے وہاں، وہاں سے یہاں ٹہلتے ہوئے،، اپنی پیاری دوست کے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں مشغول تھی۔
وہ مضطرب سی یہاں ، وہاں پھر رہی تھی، پر کوئی ترکیب، کوئی راستہ، کوئی آئیڈیا اس کے ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔
وہ آخر اپنی سہیلی کو عمر بھر خوش رہنے کی دعا دے کر آئی تھی۔
اور یہ کیسے ممکن تھا کہ اس کی دوست کی، اپنے من کے ماہی کے بغیر گزرنے والی زندگی، خوشیوں سے بھرپور ہوتی،
سو اسے کوئی ترکیب، کوئی نسخہ ڈھونڈنا تھا کہ جسے استمعال میں لا کر وہ اپنی پیاری “جنت” کے لیے،، اس کی زندگی کی تمام تر خوشیاں، سکون اور اطمینان، اس کے نام محفوظ کروا سکتی۔
اسے اپنے اکڑو بھائی پر بھی شدید غصہ آرہا تھا،
کیا جاتا کہ آگر وہ جنت کے لیے اپنے دل میں وہی جذبات پیدا کر لیتے، جو جنت کے دل میں ان کے لیے تھے۔
ایک تو اتنے سخت مزاج ہیں کہ بندہ ان سے کچھ کہ بھی نہیں سکتا۔۔ ورنہ میں ابھی جا کر انہیں جنت کے لیے منانا شروع کر دیتی۔
زوبی کی تان بھی اپنے بھائی کے کے کھڑوس پن پر آ کر ٹوٹی تھی۔
وہ بھی اپنے خیالات میں اپنے بھائی کی اچھی خاصی برائیوں میں مگن تھی۔
🤔🤔🤔💭💭💭💭
زرار اپنے روم میں بیٹھا سگریٹ نوشی سے لطف اندوز ہو رہا تھا،،
رات کا وقت تھا،
اسے ایک عجیب سی بے چینی تھی،
وہ آج جنت کی منگنی کے فنکشن میں بھی نہیں گیا،،
اسے اپنے آپ سے عجیب سی بیزاری اور الجھن محسوس ہو رہی تھی۔
وہ تقریباً دوپہر سے ہی یوں ہی اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا،
اب یوں بیٹھے بیٹھے اسے اکتاہٹ ہو رہی تھی،
وہ سگریٹ کی راکھ سے بھری ایش ٹرے، ڈسٹ بن میں خالی کرنے کے لیے اٹھا تھا کہ اس کے روم کا دروازہ ناک ہوا،
اسنے ایش ٹرے خالی کرتے ہوئے “یس۔۔ کم ان” کہا۔
زوبی اندر داخل ہوئی،، وہ بڑے غور سے زرار کا چہرہ دیکھ رہی تھی، نجانے وہ، وہاں کیا ڈھونڈنا چاہ رہی تھی۔
اس کے اس طرح خاموش رہنے اور گھورنے پر زرار نے اسے سخت نظروں سے دیکھا، اور اپنے ازلی ، سنجیدہ لہجے میں پوچھا، ” کوئی کام تھا، زوبی؟؟”
زوبی تھوڑا سا گڑبڑا گئی،
“نہیں نہیں۔۔۔ کام تو کوئی نہیں تھا۔۔۔ وہ میں کہنے آئی تھی کہ مما بلا رہی ہیں۔۔ کھانا لگا دیا ہے،، آکر ڈنر کر لیں،” زوبی نے توڑ ٹوڑ کر لفظ ادا کئے۔
اب بھلا زرار جیسے بندے کے سامنے ہمت بھی کس کی ہو سکتی تھی کہ وہ روانی سے اپنی پوری بات کہ سکے۔
“اچھا! میں آتا ہوں.” زرار نے اپنی بھاری آواز میں اب نسبتاً نرم لہجے میں جواب دیا۔
زرار کا جواب سن کر زوبی واپس جانے کے لیے اپنی جگہ سے نہیں ہلی تو زرار نے اس کے چہرے کے گڑبڑاتے تاثرات پڑھ کر سوال کیا کہ” کیا کوئی مسئلہ ہے؟؟” اس نے حتی المقدور ، اپنا لہجہ نرم رکھنے کی کوشش کی تھی۔
زوبی کو اس کے نرم رویے سے ذرا سہارا ملا تو اس نے اپنے ذہن میں آنے والا سوال پوچھنے میں بالکل بھی دیر نہیں کی۔
“وہ۔۔۔!! بھائی میں پوچھنا چاہ رہی تھی کہ آپ آج جنت کی منگنی میں کیوں نہیں شامل ہوئے؟؟
آئی مین۔۔ آپ کی طبیعت تو ٹھیک تھی نا؟؟
کیونکہ آپ نے اتنی کوشش کرکے تو احسن بھائی کے لیے پھوپھو اور انکل کو راضی کیا تھا ۔۔۔” زوبی تفصیلاً اپنا مسئلہ بتایا۔
“بس میرا موڈ نہیں تھا آنے کا،، مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو؟؟ بھلا تمہارا کیا لینا دینا، میرے آنے یا نہ آنے سے” زرار نے ہنوز لہجے میں نرمی برقرار رکھی۔
ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ وہ کسی سے ، اس طرح ہلکے پھلکے انداز بات کرے،
آج ، شاید وہ ذہنی طور پر الجھن اور تھکن کا شکار تھا سو اپنے لہجے میں سختی نہیں لا پا رہا تھا،
کیوں کہ اپنی ذات کے اردگرد سختی اور سنجیدگی کا خول چڑھانے اور اس کو قائم رکھنے کے لیے ذہن کی صحت بہت اہمیت رکھتی ہے،،
جو کہ چھوٹی چھوٹی الجھنوں ، بے قراریوں سے برباد ہو کر رہ جاتی ہے،
اور پھر انسان اپنی تمام تر بناوٹی شخصیت کو قائم نہیں رکھ پاتا، بالآخر اسے اپنی حقیقت میں، اپنے اصلی اور سچے روپ میں لوٹنا پڑتا ہے۔
“نہیں بھائی!! میرا تو کوئی لینا دینا نہیں،،
میں نے تو بس ایسے ہی پوچھ لیا،،
ویسے بھائی۔۔ منگنی میں مزہ بہت آیا تھا،
اور جنت کا تو نہ ہی پوچھیں۔۔ !!!
اتنی حسین لگ رہی تھی کہ بس، میں بیان نہیں کر سکتی،
یہ دیکھیں پکچر”۔ زوبی اپنے دونوں پاؤں چڑھا کر مزے سے زرار کر بیڈ پر بیٹھ گئی، اور جلدی سے اپنے فون کی گیلری کھول کر، جنت کی تصویر دکھانے لگی۔
زرار جیسے ہی تصویر دیکھنے کے لیے آگے بڑھا تو اس نے فوراً سے فون بند کردیا،،
“ارے یہ کیا!! میں تو آپ کو کھانے کا کہنے آئی تھی، اور فضول باتیں کرنے بیٹھ کرنے بیٹھ گئی،،
اف!! میں بھی نا!!
جنت صحیح، مجھے بدھو کہتی ہے،” زوبی ایک ہی سانس میں، اپنے ماتھے پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے۔۔ ساری بات کہ کر، تصویر دکھائے بغیر ہی بھاگنے لگی،
“رکو!!” زرار نے اسے سختی سے روکا۔
“جی بھائی..؟” زوبی نے سعادت مندی کے سارے ریکارڈ توڑے۔
“جی بھائی کی بچی،، تم مجھے کوئی تصویر دکھا رہی تھیں،،
تمہیں پتہ ہے نا، کہ مجھے زہر لگتے ہیں آدھی گفتگو بیچ میں ہی چھوڑ کر جانے والے لوگ،
دکھاؤ مجھے۔۔ کیا دکھا رہی تھی تم؟؟” زرار نے ماتھے پر بل لاتے ہوئے پوچھا،
جیسے کافی دیر سے اس کی الجھن کی وجہ وہ چہرہ ہی تھا،،
جسے دیکھنے کی طلب، اس کے شعور میں نہ ہونے کے باوجود بھی،
اسے بہت شدت سے محسوس ہو رہی تھی،
اور یہ بات ابھی بھی زرار پر عیاں نہیں ہوئی تھی،
زرار کا یہ راز کہ وہ جنت کے لیے کیا کچھ محسوس کرتا ہے، ابھی اس پر بھی نہیں عیاں ہوا تھا،
لیکن ایسے راز بھلا ، زیادہ دیر راز کیسے رہ سکتے ہیں،
“وہ بھائی۔۔ ابھی تو کھانے کا وقت ہے نا۔۔ پہلے کھانا کھا لیں ، میں آپ کو آج کی ساری پکچرز واٹس ایپ کر دوں گی، اور یہ دیکھیں۔۔ میرے فون کی بیٹری بھی ڈیڈ ہونے والی ہے۔۔ میں ذرا اسے چارجنگ پر بھی لگا دوں نا۔۔” یہ کہتی،، وہ جلدی سے زرار کے روم سے اڑن چھو ہوگئی،
مبادا وہ کہیں اسے پکڑ، ابھی ہی ساری فون گیلری نہ کھنگالنے لگ جائے،
زوبی کو اب بڑی خوشی محسوس ہو رہی تھی،،
آخر اس کا پلین کام کر گیا تھا،
اس نے تجسس کی جو تیلی لگائی تھی،
وہ اسے ، زرار کے چہرے پر بھڑکتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔
اسے یقین نہیں تھا کہ اس کا آئیڈیا کام کر جائے گا۔
ڈائنگ ٹیبل کے گرد بیٹھے، جہاں سب کھانے میں اور خوش گپیوں میں مشغول تھے۔۔
وہیں زرار کا الجھا الجھا سا انداز، زوبی کی نظروں سے نہ چھپ سکا۔
اس نے کچھ دیر کے لیے، مما، پاپا اور پٹر پٹر بولتے زریاب کی باتوں سے اپنا دھیان ہٹا کر،
جنت کے معاملے کے اور اس کی باتوں کے سیاق و سباق پر غور و فکر کیا تو،
اسے تمام کڑیاں ملتی گئیں، اور انہیں جوڑ کر، زوبی نے جو نتیجہ نکالا۔۔ وہ یہ تھا کہ،
زرار بھائی کو شاید جنت کی پسندیدگی کے متعلق کچھ نہ کچھ اندازہ تھا،
اس لیے اپنی پرانی عادت کے پیشِ نظر ،خود کو اس کی دسترس سے بہت دور لے جانے کے لیے،
موصوف نے اپنی خالہ کو پٹیاں پڑھا کر، ان کے بیٹے احسن کا پروپوزل زریاب کے ہاتھ جنت کے گھر بھیجا، جس کا رشتہ خالہ، پہلے سے ہی زرار کی کزن یعنی جنت سے کروانا چاہتی تھیں،
احسن ، زریاب کا کزن ہونے کے ساتھ ساتھ، اس کا بیسٹ فرینڈ بھی تھا، اس لیے خالہ جانی کے شدید اصرار پر اسے، احسن کے رشتے کے لیے اپنی خالہ کے ساتھ جانا پڑا، اسی بات پر تو جنت اسے رشتے کرانے والی ماسی کہ رہی تھی،
پھر جب جنت کے پیرنٹس نے اس رشتے میں کچھ خاص انٹرسٹ شو نہ کیا تو زرار کھڑوس نے بیچ میں کود کر انہیں اپنے بی ہاف پر انہیں کنونس کیا۔
اور خیر خیریت سے منگنی ہوگئی۔
لیکن منگنی کے بعد جو ہوا۔۔ اس میں تو زوبی کو جنت کے لیے نہ کوئی خیر نظر آ رہی تھی، اور نہ ہی کوئی خیریت۔
اسے تو اب جنت پر بھی غصہ آرہا تھا کہ اسے بھی دنیا جہاں کے سب سے زیادہ گھمنڈی انسان سے پیار ہونا تھا،
بندہ کسی سویٹ سے بندے سے محبت کرے تو کوئی بات بھی ہے۔۔
مگر عشق نے جب ہونا ہوتا ہے، تب ہو کر رہتا ہے اور ہوتے ہوئے رنگ، نسل، ذات، خوبیوں اور خامیوں سے بے نیاز ہوتا ہے،
عشق انسان کو اپنے بس میں کر کے ، اس کی ساری شخصیت بدل کر، اپنے رنگ میں، اپنے ڈھنگ سے رنگ دیتا ہے۔
پر زوبی کو اپنے بھائی کے بدلتے انداز دیکھ کر ذرا تسلی ہوئی تھی،
امید کا ایک مدھم سا سرا اس کے ہاتھ آیا تھا کہ جس کے تحت وہ اپنے مشن پر کام جاری رکھ سکتی تھی،
وہ جنت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھ سکتی تھی۔
×××××××
بالکل اسی وقت کے جب زرار وغیرہ کی فیملی اپنے گھر میں ڈنر میں مصروف تھی،
جنت اپنے کمرے میں بیٹھی، اپنا سر ہاتھوں میں گرائے،
نجانے کب سے اپنی سوچوں میں گم تھی،
اسے رہ رہ کر ہر وہ لمحہ یاد آرہا تھا کہ جب وہ اپنے جذبات کی تمام تر شدتوں اور سچائی کے زیر اثر زرار کو دیکھنے کی کوششیں کرتی تھی،
اور پھر شاید اپنے دل کا راز اپنی آنکھوں سے ظاہر ہو جانے کے خوف سے وہ براہ راست اسے دیکھ بھی نہیں پاتی تھی،
اسے شدت سے اپنی بے بس ہوتی حالت پر رونا آ رہا تھا،
اسکی، بالوں کی ہم رنگ، ڈارک براؤن لینز والی، بے مثال آنکھیں، آنسوؤں سے بھر چکی تھیں۔
اس کا دل تھا کہ ڈوبتا ہی جا رہا تھا،
اسے اپنے آس پاس کی دنیا تنگ ہوتی محسوس ہورہی تھی،
پر جو بھی تھا۔۔ اسے اپنے آپ کو سنبھالنا تھا،
اسے اپنے آپ کو آنے والے وقت کے لیے تیار کرنا تھا،
اب وہ سوچ چکی تھی کہ وہ کیسے اپنے اندر عشق کی اس سلگتی آگ سے پیچھا چھڑائے گی،
اسے ہر حال میں اس بے پرواہ شخص کی محبت، اس کے احساس، اس کے خیالات سے خود کو آزاد کرانا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Hijaz Ki Aandhi by Inayatullah Altamash – Episode 3

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: