Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 4

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 4

–**–**–

اسے ہر حال میں اس بے پرواہ شخص کی محبت، اس کے احساس، اس کے خیالات سے خود کو آزاد کرانا تھا۔
😨😌😣😲😳😳
یہ حقیقت ہے کہ کسی چیز سے جس قدر پیچھا چھڑانے کی کوشش کی جائے،
وہ اتنا ہی آپ کے ساتھ چمٹتی ہے،
اور یوں انسان کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے اپنی تکلیف بھلانا،
اپنا درد فراموش کرنا،
زیادہ تر تکلیف دہ خیالات ہی ہوتے ہیں، جن سے انسان دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں،
یہ تکلیف دہ خیالات اچھے، برے دونوں طرح کے ہو سکتے ہیں،
پر مسئلہ سارا یہ ہے کہ انسان ان سب سے خود کو کیسے آزاد کرے؟؟
جنت ، اس مسئلے کا حل جانتی تھی،
جب ہم کہتے ہیں کہ اس دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں تو پھر یقیناً، کسی بے مروت انسان کی یادوں کے حصار سے ، خود کو باہر نکالنا بھی ناممکن نہیں۔
ہم لوگ، عام طور پر، تصویر کے صرف ایک پہلو پر غور کرنے کے عادی ہیں،
ہمیں صرف یہ معلوم ہے کہ جس خیال سے جتنا پیچھا چھڑایا جائے وہ اتنا ہی ہمارے ذہنوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔
پر جنت ہماری طرح نہیں تھی،
وہ ہر مایوس کن صورتحال میں بھی کوئی نہ کوئی طریقہ، کوئی تدبیر ڈھونڈلیا کرتی تھی،
اگر یہ حقیقت ہے کہ کسی بات کو بھلانا چاہو تو وہ اپنے نقش، ہم پر مزید گہرے کر دیتی ہے۔۔
تو پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر کسی بات کو خود پر ، اگر زبردستی طاری کرنے کی کوشش کی جائے، یا کوئی بات زبردستی ذہن میں بٹھانے کی کوشش کی جائے تو وہ ہمارے وہم و گماں سے دور بھاگنے لگتی ہے۔
ہر معاملے میں نہیں پر بہت سے معاملات میں، اس trick کا سہارا لے کر ہم اپنی ذہنی الجھنوں کو خود سے دور پھینک سکتے ہیں۔
جنت بھی یہی کرنے والی تھی،
اسے زرار کو بھولنے کے لیے، اپنا عشق بھلانے کے لیے،
درحقیقت اس کے خیالات سے دور نہیں بھاگنا تھا،
اسے ایک آخری رات اپنے عشق کے نام کرنی تھی،
اسے اپنی تمام تر شدتوں سے ، آج کی رات اسے یاد کرنا تھا،
وہ جس قدر ، اس کے لیے تڑپ سکتی تھی، اسے بس آج ہی تڑپنا تھا،
وہ آنے والے کل تک، زرار کے لیے، اپنے دل خلیے خلیے سے، زرار کی محبت کو الوداع کہنے والی تھی،
اسے رہ رہ کر ہر وہ لمحے یاد آئے کہ جب اس نے زرار کی حسین، پر محدود سی مسکراہٹوں کو بہت عقیدت سے اپنے ذہن کے پردوں پر نقش کیے،
پر اب وہ، یہ پردے چاک کرنے لگی تھی،
وہ بار بار زیر لب یہ الفاظ دہرائی جا رہی تھی،
“زرار ایک وقت تھا کہ آپ میرا سب کچھ تھے،
پر میں غلط تھی، آپ میرا کچھ نہیں تھے، اور نہ ہی میرے کچھ لگتے تھے،
اور نہ ہی آپ میرے کچھ ہو سکتے تھے،
مجھے ایک وہم سا تھا،
شاید کوئی امید تھی کہ آپ میرے ہو جائیں گے،
پر وہ وہم اور امید، سب کچھ مٹ گیا ہے،
زرار آپ نے مجھے جتنا ستانا ہے آج ہی ستا لیں،
جتنا تڑپانا ہے، بس آج تڑپالیں،
آج کے بعد تو میں آپ کو اپنے جذبوں کے پاس تو کیا، بہت دور بھی پھٹکنے نہیں دوں گی،”
وہ پہلی دفع اس طرح، اپنے تصور میں زرار سے مخاطب تھی،
وہ جو جو کچھ آج تک اس کے لیے محسوس کرتی آئی تھی، وہ سب اپنے تخیل میں، اسے سنا رہی تھی، اسے جو شکایتیں تھیں وہ سب کہ رہی تھی،
وہ مسلسل بہتی آنکھوں، تڑپتے دل، مچلتے احساسات، لیے جتنا اس کی یاد میں خود کو ہلکان کر سکتی تھی،
اس نے کیا۔۔
××××××××××
زرار اپنے روم میں آیا تو،
اس کا ذہن بھی، جنت کی تصویر کی ہلکی سی جھلک پر اٹک گیا، جو اس کی ڈریکولا بہن نے اسے دکھائی ہی نہیں۔
وہ مضطرب سا یہاں وہاں ٹہل رہا تھا،
بار بار اس کا دھیان اپنے فون کی طرف جا رہا تھا،
جہاں وہ بالکل جان بوجھ کر، جنت کی تصویروں کا انتظار کر رہا تھا،
جو اس کی ، خرانٹ بہن نے ابھی تک سینڈ ہی نہیں کی تھیں،
اسے ایک تجسّس سا تھا کہ نجانے احسن کے پہلو میں بیٹھی، وہ کیسی لگ رہی ہو گی،
وہ تصویر میں capture ہوئے اس کے حسین چہرے پر رقم تاثرات پڑھ کر، اس کی ، اس رشتے کے لیے، دلی رضامندی اور خوشی کا اندازہ کرنا چاہتا تھا،
پتہ نہیں کیوں؟؟۔
لیکن وہ بس آج اسی کے متعلق سوچ رہا تھا،
جنت، اپنی پوری آب و تاب سے اس کے حواسوں پر حاوی تھی،
بہت انتظار کے بعد بھی جب جنت کی تصویریں اسے موصول نہیں ہوئیں تو وہ غصے میں کھولتا، اپنے کمرے سے باہر نکالا۔
××××××××××
زوبی مزے سے اپنے نرم بستر میں پڑی خراٹوں پر خراٹے لے رہی تھی کہ اچانک ایک دم اس کے خراٹے بند ہوئے۔
وہ ایک دم اپنی گہری نیند سے جاگی تھی،
اس نے بڑی محنت سے اپنی آنکھیں کھولیں،
ارے یہ کیا؟؟
وہ اپنے بلینکٹ اور بستر سمیت،، خود بھی پوری طرح سے بھیگی ہوئی تھی،
اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کے رہی سہی غنودگی بھی ختم ہو گئی،
اب معاملہ اس کی سمجھ میں آرہا تھا،
اس لیے وہ مکمل طور پر ایکٹیو ہو کر بیٹھی تھی۔
زرار غصے سے کھولتا ہوا ، ہاتھ میں خالی جگ لیے اسے ہی گھور رہا تھا،
جگ خالی اس لیے تھا کیونکہ اس کا سارا پانی تو وہ زوبی پر پھینک چکا تھا۔
زوبی بھی ، زرار کے کڑے تیوروں کے جواب میں، اپنی چھوٹی سی ناک پھلائے، غصے میں اسے گھور رہی تھی۔
“کیا آفت آ گئی تھی، بھائی؟؟
مجھے اتنے گندے طریقے سے کیوں جگایا،” زوبی بہت غصے میں، باقاعدہ بدتمیزی کرتے ہوئے کہا۔
زوبی زندگی میں پہلی مرتبہ، کسی سے اتنی روڈ ہو کر بات کر رہی تھی،
آخر، اس کی تازی تازی نیند سے، پہلی مرتبہ کسی نے اتنی گندے طریقے سے، جگایا تھا،
“یہ تم مجھ سے کس ٹون میں بات کر رہی ہو؟؟؟” زرار مزید بھڑک اٹھا۔
“اسی ٹون میں، جس میں آپ میری پیاری سہیلی سمیت اور بھی بہت سے لوگوں سے، ہر وقت بات کرتے ہیں،” زوبی ذرا بھی اس کی بھڑک کو خاطر میں نہیں لا رہی تھی۔
آخر اتنے وحشیانہ انداز میں، نیند سے بیدار ہوا بندہ ، بھلا بات کرتے ہوئے، تمیز کو کیسے ملحوظ خاطر رکھ سکتا ہے۔
“یہ تم کچھ زیادہ ہی اپنی سہیلی کی ہمدرد نہیں بن رہی؟؟؟ اور میرے سامنے بھی تمہاری زبان کچھ زیادہ ہی چل رہی ہے۔۔” زرار نے غصیلے لہجے میں کہا۔
“میں نہ کسی کی ہمدرد بن رہی ہوں اور نہ ہی زیادہ زبان چلا رہی ہوں!!
ایک تو انسان بڑوں کے سامنے کوئی سچی بات کردے،
تو بس پھر، زبان چلانے والا طعنہ تو تیار ہی کر کے رکھا ہوتا ہے، لوگوں نے۔۔ ہنہ” زوبیہ نے ڈھٹائی سے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔
“بکواس بند کرو اپنی۔۔ ورنہ ایک تھپڑ لگاؤں گا۔۔” زرار نے ہوا میں ہاتھ بلند کر کے، غصے میں تھپڑ کا ڈراوا دیا۔
زوبی اس کے ایسے ڈانٹنے پر تھوڑا خوفزدہ ہوئی،
پر پھر فوراً سے اپنی سابقہ ٹون میں واپس آگئی ،
کیونکہ اسے ابھی تک اپنے اوپر اتنا سارا پانی پھینکے جانے اور نیند خراب ہونے کا غصہ تھا۔
” نہیں کرتی میں اپنی بکواس بند ۔۔۔ کر لیں ، جو کرنا ہے،،
اور وہ بات کہیں۔۔۔!!! جس کی وجہ سے آپ نے، ایک سوئی ہوئی لڑکی کو جگا کر اس قدر بد تہذیبی کا ثبوت دیا ہے۔۔۔!!” زوبی، ابھی بالکل بھی تمیز سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھی،
سو اس لیے ، فل ڈھٹائی سے، دانت بھینچ بھینچ کر، اپنے بھائی کو دوبدو جواب دے رہی تھی۔
زرار کو احساس ہوا کہ زیادہ بحث کا کوئی فایدہ نہیں،
کیونکہ اسے، ابھی اس کی بہن کا دماغ ، شاید اپنی جگہ سے، ذرا سا کھسکا ہوا لگ رہا تھا،
سو زرار نے ساری فضول باتیں جھٹک کر اپنے موقف یعنی زوبی کو اس بے رحمی سے جگانے کی وجہ کی طرف توجہ دی۔
“تم نے، کوئی پکچرز مجھے ، واٹس ایپ کرنی تھیں۔۔” اس نے جگ ، بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر، زوبی کی طرف دیکھے بغیر اپنی بات کی۔
” ‘کوئی پکچرز’ نہیں بلکہ وہ جنت کی منگنی کی پکچرز تھیں۔۔!! اور بھائی صرف پکچرز کے لیے آپ نے مجھے ایسے برے طریقے سے جگایا؟؟” زوبی نے تڑک کر جواب دیا۔
زوبی آج اپنے بھائی کو کسی صورت بخشنے والی نہیں تھی۔
زوبیہ کی بات پر زرار تھوڑا پزل ہوا کہ جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو،
اور ویسے بھی اس کے دل کی چوریاں اور عجیب عجیب سی فرمائشیں۔۔ یہ سب ویسے بھی کہاں زوبی کی آنکھوں سے چپھا ہوا تھا۔
زوبی کو اپنے بھائی کی ثابت قدمی یا مزاج پر کوئی بھروسہ نہیں تھا،
کہیں ایسا نہ ہو کے وہ ضد میں آ کر پکچرز دیکھنے سے بھی انکار کر دیتا اور غصے میں آ کر زوبی کے سیل فون کی بھی تباہی پھیرتا،
اس خوف سے زوبی نے جلدی سے اٹھ کر،
ایک ہاتھ اپنے کپڑوں سے پانی جھاڑتے ہوئے،
جنت کی ساری ، بہترین تصویریں،
جو خصوصاً احسن کے ساتھ تھیں، وہ سب دھڑا دھڑ ، اپنے بھائی کے نمبر پر سینڈ کیں۔
اسے اپنی بھائی کی حالت دیکھ کر بڑا مزہ آ رہا تھا،
اور اسے اب جنت کے حوالے سے ذرا تسلی بھی ہوئی تھی،
بس اب اس نے، جنت کی لائف میں،کسی طرح جلدی سے، احسن کا پتہ کاٹ کر، زرار کی اینٹری کروانی تھی۔
جب زرار اس کے روم سے چلا گیا تو اس نے واشروم جا کر اپنے گیلے کپڑے بدلے، اور اپنے روم کے ساتھ والے ، خالی روم میں، جو فلی فرنیشڈ تھا، وہاں جا کر سوگئی۔
××××××××××××
جنت ابھی تک بیٹھی، گھٹی گھٹی آواز میں، سسکیاں لے رہی تھی،
آخر وہ آج ایسی رات کا حصہ تھی کہ جس میں اس نے اپنے عشق سے دستبردار ہونا تھا۔
وہ کچھ سوچتے ہوئے، اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنی الماری کی طرف گئی،
وہاں الماری کھول کر، اس نے ایک خانے میں، سلیقے اور حفاظت سے پڑے سامان کو اٹھایا اور اپنے بیڈ پر پھینک دیا۔
پھر کچھ دیر ڈھونڈنے کے بعد اسے، اس کے مطلوبہ سائز کا پیپر بیگ (شاپنگ بیگ) ملا تو اس نے، وہ سارا سامان بہت تکلیف اور نفرت سے اس بیگ میں بھرا،
اور وہ بیگ ، اس نے اپنے آپ سے دور،
اپنے کمرے کے دروازے کے ساتھ، نیچے زمین پر ہی رکھ دیا۔
وہ سارے دراصل پچھلے چھ سالوں کے جمع شدہ، مختلف گفٹس تھے، جو زرار کی طرف سے اپنی سالگرہ اور دوسرے موقعوں پر، اسے موصول ہوئے تھے۔
کتنا سنبھال کر رکھا تھا اس نے، ان تحفوں کو اب تک۔
لیکن اب اسے زرار کی دی کوئی چیز نہیں سنبھالنی تھی۔
××××××××
زرار جب اپنے روم میں واپس آیا تو جلدی سے ڈور لاک کر کے، اے سی ، ہائی سپیڈ میں آن کر کے، وہ اپنے بیڈ پر اچھل کر بیٹھا،
اور تیزی سے دھڑکتے دل پر اپنے سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی رکھ کر، اپنی تیز ہوتی سانسوں کو نارمل کرنے لگا۔
پھر اس نے فون کا ڈیٹا آن کر کے، گیلری کھولی، تو یکا یک وہ جنت کی تصویروں سے بھر گئی۔
وہ ایک ایک کرکے جنت کی ہر تصویر، ایک عجیب سے احساس کے اثر میں کھو کر دیکھ رہا تھا،
وہ اس کے چہرے کے ہر نقش کا بغور معائنہ کر رہا تھا،
پتہ نہیں کیوں۔۔ پر اسے جنت کے چہرے پر ہر رنگ نظر آ رہا تھا سوائے خوشی کے۔
“تو کیا وہ اس رشتے سے خوش نہیں تھی اس رشتے سے؟؟” زرار نے سوچا لیکن پھر اپنا وہم سمجھ کر جھٹک دیا ، کیونکہ پھوپھو اور انکل نے، زرار کی موجودگی میں ہی تو اس سے، اس کی رائے مانگی تھی،
اور جنت نے ادھر اُدھر دیکھے بغیر ہی دھڑلے سے “ہاں” کی اور جلدی سے وہاں سے غائب ہو گئی۔
بس زرار اتنا ہی سوچ سکا،
وہ اس وقت کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھا،
وہ بس سحر زدہ سا ہو کر ، جنت کو دیکھے جا رہا تھا،
اس کی ایک ایک تصویر کو ، وہ عجیب دیوانگی سے دیکھتے جا رہا تھا،
وہ اپنے دل کے ہاتھوں بے حد مجبور ہوگیا تھا۔
ایک عجیب سے، خوشنما سے احساس نے ، اس وقت اس کے حواس سلب کیے ہوئے تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: