Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 5

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 5

–**–**–

ایک عجیب سے، خوشنما سے احساس نے ، اس وقت اس کے حواس سلب کیے ہوئے تھے۔
ابھی تک جو اس نے پکچرز دیکھیں تھیں وہ صرف جنت کی تھیں یا پھر کہیں کہیں صرف زوبی ہی، اس کے ساتھ، سیلفیز میں دکھائی دے رہی تھی۔
اس لیے وہ بہت اطمینان اور چاہت سے،، اس کے خوشی سے عاری چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
لیکن ایک دم، جب ایک تصویر میں ، اسے احسن، جنت کے ساتھ بیٹھا نظر آیا تو وہ اچھا خاصہ بدمزہ ہوا۔
نجانے کیوں،مگر اسے اس وقت احسن پر بہت غصہ آرہا تھا، اسے وہ ، جنت کے بالکل قریب، بیٹھا، بہت زہر لگنے لگا۔
اور پھر ،اس تصویر نے تو زرار کا سارا قرار ہی چھین لیا، جس میں ، احسن اپنے ہاتھ میں، اس کا نازک ہاتھ لیے، اسے منگنی کی انگوٹھی پہنا رہا تھا۔
اس نے غور سے ان دونوں کے چہروں کے تاثرات دیکھے،
اور پھر ، اضطراب کی حالت میں اپنا فون، غصے سے پٹخا۔
وہ ایک غیر شناسا احساس کے تحت اپنے بال ، اپنی مٹھیوں میں بھینچ کر، لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔
کنپٹیوں کی طرف کی پھولی ہوئی رگیں ، بہت زور زور سے پھڑک رہی تھیں۔
ایک آگ تھی، جو اچانک اسے خود میں بھڑکتی اور دہکتی محسوس ہو رہی تھی۔
“تو کیا وہ لڑکی۔۔ جو شاید میرے قابل تھی۔۔ میری لائف پارٹنر بن سکتی تھی۔۔میری ہمسری کے لائق تھی یا جس لڑکی کی تلاش مجھے برسوں سے ہے۔۔ وہ۔۔وہ۔۔ جنت ہے؟؟” اس نے، حد درجہ حیران ہو کر خود سے سوال کیا۔
اس کا سر، اپنے سوال کے جواب میں مسلسل نفی میں ہل رہا تھا ،
پر دل تھا کہ دماغ کے اس انکار کو خاطر میں لائے بغیر،
اسے بہت واضح انداز میں یہ باور کروا چکا تھا کہ اگر دنیا میں کوئی لڑکی ، “زرار جنید” کی شریک حیات بننے کے لائق ہے، تو وہ جنت ہے۔۔!! صرف اور جنت!!
اور بالفرض اگر کسی اور لڑکی کو اس نے ، اس لائق سمجھا تو اس کا دل ہر گز ، اسے قبول نہیں کرے گا۔
کیسی قیامت ٹوٹی تھی اس پر،
اسے یہ احساس چین نہیں لینے دے رہا تھا کہ،
وہ اپنی پوری رضامندی سے وہ اپنی محبت کسی اور کو سونپ چکا تھا،
لیکن اس نے ایک کوشش کی، ایک آخری کوشش۔۔!!
اپنے آپ کو یہ احساس دلانے کی کہ وہ جنت کے لیے کوئی ایسے ویسے جذبات نہیں رکھتا۔۔
یہ کوشش، در حقیقت، خود کو دھوکا دینے کی کوشش تھی،
اور خود کو دیا گیا دھوکا۔۔ بھلا کتنی دیر قائم رہ سکتا ہے!!
×××××××
اُن تحفوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد جنت روتے ہوئے ہی اپنے بیڈ پر آ کر بیٹھی،،
وہیں ، قریب پڑا، اپنا فون اٹھایا، اور ایک تکلیف دہ ، آہ بھرتے ہوئے، اپنی فون گیلری کھولی۔
اور زرار کی تمام فوٹوز ، جو اس نے مختلف موقعوں پر، چھپ چھپ کر لیں تھیں، ایک ایک کر کے سب ڈیلیٹ کر دیں۔
جس وقت زرار ، اس کے حسین چہرے کے ایک ایک نقش کو ، ایک طلسماتی کیفیت کے زیر اثر، بہت چاہت سے، خود میں گہرا کر رہا تھا،
عین اسی لمحے،،
جنت۔۔ خود پر موجود اس کے عشق کے رنگوں کو دھندلانے میں مصروف تھی،
جس وقت، جنت، زرار کے لیے، اپنے دل میں موجود ہر ایک نازک جذبے کو، بے دردی سے کھرچ کھرچ کر مٹا رہی تھی،
اسی وقت زرار، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ، جنت کے لیے، اپنے کھٹور دل کو ، محبت کے نازک جذبات سے ، نرم کرنے میں مشغول تھا۔
جہاں جنت، اپنے دل پر آرے چلا چلا کر، اپنے عشق کا قتل کرنے کے در پر تھی،
وہیں زرار اس کے لیے اپنی ذات کی اکڑ، غرور اور انا کو قربان کرنے لگا تھا،
جتنی شدت سے زرار ، اپنی محبت کے ہر احساس کو بڑے اہتمام سے ، اپنے دل و دماغ میں محفوظ کر رہا تھا،
اتنی ہی شدت سے، جنت، اپنے سالوں پرانے عشق کے سایوں کو بھی اپنے وجود سے مٹانے میں سرگرداں تھی۔
×××××××××××
صبح ، جب زرار کالج جانے کے تیار ہو کر، اپنے کمرے سے باہر نکلا اور لاونج تک آیا تو وہاں ، نیچے صوفے کے پاس پڑے بیگ کو دیکھ کر ٹھٹکا،
دراصل، بیگ کا منہ کھلا ہونے کی وجہ سے ، اندر موجود چیزیں بالکل واضح نظر آ رہی تھیں،
اس نے بغیر کسی تمہید کے، ٹیبل کی ڈسٹنگ کرتی ہوئی ملازمہ کو پکار کر پوچھا ” یہ چیزیں کون لایا ہے یہاں؟؟” اس وقت ، اس ماتھے پر گہرے بل نمودار ہوئے۔
“وہ جی، جنت بی بی نے میری بیٹی کے لیے دی ہیں مجھے،” یہ زرار کے ازلی رعب کا نتیجہ تھا کہ بتیس سالہ سکینہ نے ذرا سا ڈرتے ہوئے کہا۔
سکینہ ان دونوں گھروں کی مشترکہ ملازمہ تھی جوپہلے جنت کے گھر کی صاف صفائی کرتی تھی اور بعد میں یہاں آتی تھی۔
زرار نے بیگ اٹھایا اور ساری چیزیں باری باری کر کے نکال کر غور سے دیکھیں، ایسا لگتا ہی نہیں تھا کہ ان چیزوں کو کبھی کسی نے ہاتھ بھی لگایا ہو۔
یعنی وہ چیزیں جنت نے اب تک بہت سنبھال کر رکھی تھیں۔۔
پر کیوں؟؟
یہ سوچ کر،
زرار کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ دوڑی،
“اچھا تم ایسا کرو، یہ پیسے رکھو، تم اپنی بیٹی کے لیے کچھ اور لے لینا، یہ چیزیں مجھے دے دو،” زرار نے اپنے والٹ سے پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھا، اور اپنی مسکراہٹ غائب کرتے ہوئے حکم صادر کیا۔
“اور سنو!! جنت بی بی کو نہ بتانا کہ یہ چیزیں میں نے لی ہیں تم سے۔۔” اس نے سخت لہجے میں تاکید کی۔
سکینہ نے بھلا کسی کو کیا بتانا تھا، اسے تو بس پیسے مل گئے ، اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا،
اس لیے اب وہ بہت خوش ہوتے ہوئے واپس اپنے کام میں مشغول ہوئی تھی۔
زرار نے جلدی سے واپس روم میں آکر وہ بیگ، اپنی واڈروب کے لاکر میں رکھا ، اور کالج کے لیے نکل گیا،
وہ بہت خوش تھا، عجیب سی سرشاری کی کیفیت میں تھا۔
اس لیے آج وہ بڑے مزے مزے سے کچھ گنگنا رہا تھا،
بس ایک ٹینشن تھی کہ وہ احسن کو اپنے اور جنت کے درمیان سے کیسے غائب کرے۔۔
پر اسے خود پر یقین تھا کہ وہ کوئی نہ کوئی حل نکال لے گا۔
ساتھ میں ہی اس کے ذہن میں ایک ہلکا سا تجسس، جاگا کہ کیا جنت بھی اس سے محبت کرتی ہوگی؟؟
پر اپنے اس تجسس کے جواب میں اس نے خود کو ہی “کم عقل” ہونے کا طعنہ دیا،
“بھلا یہ بھی کوئی سوچنے کی بات ہے کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہوگی یا نہیں!! وہ تو ہمیشہ سے مجھے چاہتی ہے، اس ہر ایک انداز آج تک اس کی محبت کی گواہی دیتا آیا ہے،”
” اور اس کی محبت ہی تو تھی، جسے توڑنے کے لیے ، میں نے خود ، آگے بڑھ کے، اسے “اس گدھے” کے حوالے کر دیا.”
ایسی اول فول باتیں سوچتے سوچتے وہ کالج پہنچ گیا۔
×××××××××
زوبی اور جنت بھی اسی کالج میں بی ایس انگلش کے تھرڈ ائیر میں تھیں،
جنت آج کالج پہنچی تو، اس کی ساری کلاس فیلوز نے بڑھ چڑھ کر ، اسے منگنی کی مبارکباد دی، ان سب نے شہد کی مکھیوں کی طرح اسے اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا ، جیسے وہ کوئی چھتہ ہو۔۔!!
ویسے تو وہ ساری لڑکیاں اس کے بے تحاشہ خوبصورت ہونے اور زرار کی کزن ہونے کے جرم میں کبھی گھاس بھی نہیں ڈالتی تھیں،
وہ سب کی سب، اس سے حد درجہ جیلس تھیں،
اور وہی لڑکیاں ہر وقت زوبی کی چاپلوسیوں میں بھی اپنا بہت سا وقت برباد کرتی تھیں،
لیکن ان سب کی ایک ٹینشن تو سر سے اتری تھی،
جنت کی منگنی سے ان سب کے کلیجوں میں جیسے ٹھنڈ ہی پڑ گئی تھی،
پر جنت۔۔۔ اس کا تو دل ہی مر گیا تھا،
وہ چاہتے ہوئے بھی کوئی مبارکباد وصول نہیں کر پائی،
وہ خوش ہونا چاہتی تھی پر نہیں ہو پائی،
پر وہ اپنی پوری کوشش کر رہی تھی کہ وہ اپنی حقیقت۔۔ اپنی تقدیر سے راضی رہے۔۔۔
××××××××××
آج زرار سے کوئی کام ڈھنگ سے نہیں ہو رہا تھا،
وہ بہت غائب دماغی کے مظاہرے کر رہا تھا،
اس کی بولائی بولائی سی حالت،
شب بیداری کی وجہ سے سوجی ہوئی آنکھیں، کوئی نئی کہانی ہی سنا رہی تھیں،
کچھ اسٹاف میمبرز نے اور اسٹوڈننٹس نے بھی ، اس کا عجیب طرح سے، بدلا ہوا، رنگ ڈھنگ محسوس کیا پر کوئی اس کے دبدبے کی وجہ سے ،
اس سے استفسار نہیں کر پایا،
زرار کو عجیب سی بے چینی لگی ہوئی تھی،
وہ بے صبری جنت سے کی کلاس میں اپنے لیکچر کا انتظار کر رہا تھا،
اللّٰه اللّٰه کر کے لیکچر کا ٹائم ہوا تو وہ بھاگا بھاگا کلاس میں پہنچا،
اس کا دل بہت بڑی طرح دھڑکنے لگا تھا،
وہ سینکڈ رو کی تھرڈ سیٹ پر بیٹھی جنت کو، دیکھتے ہی ، ایسا محسوس کر رہا تھا، جیسے اب وہ اگلی سانس نہیں لے پائے گا۔۔ لیکن سانسوں کا کام ہی آنا جانا ہے۔۔
سو وہ زرار کے محسوسات کی پرواہ کئے بغیر،
اپنی روانی بہے جا رہی تھیں ،
اس کا رویا رویا، تکلیف زدہ چہرہ ، زرار کو بھی بے چین کر گیا،
زرار سے آج ڈھنگ سے لیکچر بھی ڈیلیور نہیں کیا جا رہا تھا،
آج جنت بار بار لیکچر کے دوران ، بہت بےحس سی ہو کر بغیر گھبرائے، باقی لڑکیوں کی طرح، زرار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کی بات سن رہی تھی،
ورنہ تو جتنا مرضی کوئی زور لگالے لیکن وہ زرار سے کبھی آئی کانٹیکٹ نہیں کرتی تھی،
کیونکہ محبت انسان کو بہت خوفزدہ کر دیتی ہے، ہر کسی کو اپنی محبت کے حوالے سے کوئی نہ کوئی خوف لاحق ہوتا ہے، جنت کو بھی خوف تھا کہیں وہ اس کی نظروں سے اس کے دل کا حال نہ جان لے۔۔!!
پر اب وہ اس کی محبت، اس کے عشق کو بھلانے کے مراحل میں تھی، وہ اس کے نفرت کے علاوہ کسی جذبے کو اپنے دل میں جگہ نہیں دینا چاہتی تھی،
پر جن سے محبت ہو، ان سے نفرت کیسے کی جا سکتی ہے۔۔
لیکن جو بھی تھا، اسے خود کو مضبوط رکھنے کے لیے، اس مغرور انسان سے نفرت کرنی تھی۔
زرار ، جنت کے ایسے دیکھنے سے، جہاں بہت کنفیوز اور پزل ہو رہا تھا، وہیں جنت کے بے تاثر چہرے سے اس کے دل کو عجیب دھڑکا لگا،
عجیب سا خوف اس کے دل و دماغ میں سمایا تھا، وہ خوف۔۔!! کچھ کھو دینے کا خوف تھا، کسی کے دور جانے کا خوف تھا۔۔!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: