Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 6

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 6

–**–**–

عجیب سا خوف اس کے دل و دماغ میں سمایا تھا، وہ خوف۔۔!! کچھ کھو دینے کا خوف تھا، کسی کے دور جانے کا خوف تھا۔۔!!
زرار کے محسوسات عجیب سے عجیب تر ہو رہے تھے،
اسے وہاں، جنت کے سامنے، بولنا ۔۔ کھڑے ہونا۔۔۔ لیکچر دینا بہت مشکل لگ رہا تھا، اسے جنت کے بے تاثر انداز سے خوف آرہا تھا،
لیکن اس کی نظر جنت کے چہرے سے ہٹ کر گردن تک گئی تو اس کا سارا خوف، سارا ڈر۔۔ اڑن چھو ہوگیا،
اب وہ بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا،
جنت نے اس کے دیے سارے گفٹس واپس کر دیے تھے،
لیکن اس کا دیا، وہ باریک باریک سے، انتہائی چھوٹے موتیوں والا نفیس سا pendant ، ابھی بھی اس کے گلے میں تھا۔
وہ ، قیمتی، کالے پرلز سے بنا پینڈنٹ۔۔ جنت کو بہت عزیز تھا۔۔ جب سے زرار نے اسے وہ دیا تھی ، تب سے اس نے وہ اپنے گلے سے اتارا ہی نہیں۔۔
اور کل بھی شاید اسے یہ یاد ہی نہیں آیا کہ وہ ہار، وہ پینڈینٹ۔۔ جو ہر دم اپنے گلے سے چپکا کر رکھتی ہے۔۔ وہ بھی زرار کا دیا تحفہ ہے۔۔
اور اس کی اس بھول کی وجہ سے وہ قیمتی تحفہ اپنی ناقدری سے محفوظ رہ گیا۔
بہر حال، جو بھی تھا ، لیکن زرار کے لیے آج کا دن بہت بھاری تھا،
اس سے کوئی کام ڈھنگ سے نہیں ہو پا رہا تھا ، اور نہ ہی ہونا تھا،
رات تک وہ یوں ہی پاگل بنا پھرتا رہا،
اس کے مزاج میں عجیب سی سرشاری در آئی تھی،
وہ بیک وقت بہت خوش بھی تھا اور خدشات کا شکار بھی،
خوشی تو اسے اس بات پر تھی کہ آخر کار اس کی تلاش ختم ہوگئی تھی،
وہ ہمیشہ سے جسے ڈھونڈنا چاہتا تھا، اس کی ہم جوڑ، اس کی ہم پلّہ یا یوں کہہ لیں کہ اس کے معیار پر پورا اترنے والی دنیا کی واحد لڑکی ، اسے مل گئی تھی،
پر اسے خدشات تھے، کہ ابھی اس نے، اپنی چاہت کو حاصل نہیں کیا تھا، اس نے بس اسے تلاشہ تھا،
ابھی پانے کی منزل طے کرنا باقی تھا،
وہ ایک حقیقت پسند انسان تھا،
اسے حقیقت اور سچائی کے تناظر میں سب معاملات پرکھنے تھے،
اسے اپنے راستے میں کھڑی مشکلات بالکل واضح نظر آ رہی تھیں،
بھلا آسان تھوڑی تھا کہ وہ اس کی منگنی تڑوا کر مزے سے اس سے شادی کر لیتا،،
سب سے بڑی مصیبت تو یہ تھی کہ یہ رشتہ ، زرار کے بی ہاف پر ہوا تھا،
اب اسے توڑنا اتنا آسان نہیں تھا،
اور دوسرا، اسے جنت کے منہ سے بھی تو اپنے لیے پسندیدگی کا اظہار سننا تھا،
وہ محظ اپنے اندازوں کی بنیاد پر تو کوئی فیصلہ نہیں لے سکتا تھا نا،
جنت کی رضامندی بھی تو جاننا لازمی تھا،
××××××××
جنت کے لیے بھی موجودہ دن کسی قیامت سے کم نہیں تھا،
اس نے آج زرار کی آنکھوں میں اپنے لیے وہ کچھ دیکھا،
جو وہ ہمیشہ سے دیکھنے کی خواہاں تھی،
لیکن اس کی قسمت تھی کہ وہ اپنی اس دیرینہ خواہش کے پورا ہونے پر خوش بھی نہیں ہو سکی،
ابھی ، کل ہی تو اس نے، اپنی محبت کا گلہ گھونٹا تھا،
اس نے کل ہی تو ، زرار کے لیے اپنے دل میں موجود جذبوں کو بے دردی سے مارا تھا،
اب بھلا وہ کیسے خوش ہوسکتی تھی؟؟
اب تو ، اس کے عشق کے ساتھ ساتھ اس کی ساری خواہشیں بھی دم توڑتی جارہی تھیں،
اب تو اسے ، زرار کے لب و لہجے اور اس کی آنکھوں، میں اپنے لیے دیوانگی دیکھنے کی کوئی چاہ باقی نہیں رہی تھی،
قیامت ہی تو ٹوٹی تھی اس پر،
کالج میں تو جیسے تیسے زوبی نے اس کا دل بہلا لیا تھا،
پر گھر آ کر، تنہائی میں، اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھے ، وہ خود پر ضبط نہیں کر پارہی تھی،
اس لیے، بالآخر وہ ، اپنے آپ کو ہارتا محسوس کر رہی تھی،
وہ اپنے دل کے آگے ہار گئی تھی،
وہ خود اپنے دل کی بڑھتی تکلیف کے سامنے نہیں ہرانا نہیں چاہتی تھی، وہ رونا نہیں چاہتی تھی،
پر وہ بھی تو انسان تھی، ایک معصوم سی لڑکی تھی،
بھلا کتنی دیر تک وہ خود پر جبر کرتی۔۔!!
جو آنسو گھنٹوں سے۔۔ اس کی آنکھوں سے نکلنے کو بے تاب تھے، وہ آخر کار، اس کے چہرے پر بہہ نکلے۔
اور وہ اپنا تمام ضبط کھو کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
×××××××××
رات کا وقت تھا،
زرار ، عجیب بے چینی سے سارے گھر کے چکر لگا رہا تھا،
کبھی اپنے روم میں جاتا تو کبھی لان میں، کبھی لاونج میں آتا تو کھبی واپس اپنے روم میں،
ایک دو چکر تو اس نے کچن کے بھی لگالیے تھے،
اس کی مما نے ، بے چینی نوٹ کرتے ہوئے پوچھا بھی کہ کوئی مسئلہ تو نہیں؟؟
پر وہ بہت مہارت سے جواب گول کر گیا،
لیکن زینب بیگم بھی اس کی ماں تھیں،
بھلا وہ کیسے اپنے اچھے خاصے سنجیدہ بیٹے کو باؤلا بنا دیکھتے ہوئے بھی اس کے جواب پر مطمئن ہو سکتی تھیں؟؟
کچھ کچھ معاملہ تو ان کی بھی سمجھ میں آرہا تھا،
لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کو مزید نہیں کریدا،
وہ جانتی تھیں کہ موزوں وقت پر وہ سب سے پہلے انہی سے ڈسکس کرے گا۔
زوبی کو ، اپنے بھائی کا باؤلا پن دیکھ کر الگ ہنسی آ رہی تھی،
اسے جب بھی کہیں زرار نظر آتا تو اس کی شکل دیکھ کر ہی وہ بھاگی بھاگی اپنے روم میں جاتی اور پیٹ پکڑ کر ہنستی چلی جاتی۔
ابھی بھی وہ اپنا یہی ہنسنے والا شغل پورا کر رہی تھی کہ کھٹاک کی آواز سے اس کے روم کا دروازہ کھلا،
اور سامنے کھڑے اس مجنوں کو دیکھ کر پھر سے اسے ہنسی کا جھٹکا لگا،
اسے زرار کا وہ گردن ہلا ہلا کر ، بے چینوں کی طرح ٹہلنا یاد آگیا۔
زرار اپنے چہرے پر دنیا جہاں کی مسکینی سجا کر آیا تھا،
لیکن اپنی بہن کو یوں ہی فضول میں ہنستا دیکھ کر ساری مسکینی بھاپ کی طرح اڑ گئی،
کیونکہ اس کی چھٹی حس کہ رہی تھی کہ وہ اس پر ہی ہنس رہی ہے۔
“یہ تمہارے دانت کس خوشی میں باہر آ رہے ہیں؟”
زرار نے ماتھے پر بل گہرے کر کے ، بھنویں سکیڑ کر اپنی فیورٹ ، غصیلے لہجے میں کہا۔
زرار کو اپنی اصلی حالت میں واپس آتا دیکھر کر زوبی کے باہر نکلتے دانت ایک دم اندر گئے۔
“ن۔ن۔نہیں بھائی۔۔ ک ک کسی خوشی میں نہیں نکل رہے۔۔ وہ وہ ایک جوک یاد آگیا تھا ،بس!” زوبیہ کہلاتے ہوئے بولی،
زرار کو اس کے ایسے ہکلانے پر ہنسی آئی جسے اس نے بروقت روک کر مدھم سی مسکراہٹ میں convert کیا،
اور دھپ سے وہیں اس کے بستر پر بیٹھ گیا،
وہ زوبی کی طرف دیکھے بغیر، اپنے بالوں میں انگلیاں پھرتے ہوئے۔۔گویا ہوا، “آئس کریم کھانے چلو گی؟؟”
زوبیہ کو لگا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے۔۔!!
اس کا بھائی، زرار ، جس نے کبھی اسے آٹھ آنے کی ٹافی کی بھی پیشکش نہیں کی تھی وہ اسے زندگی میں پہلی بار، اسے آئس کریم کی آفر کر رہا تھا،
زوبی کو ایک سیکنڈ بھی نہیں لگا، معاملے کی تہ تک پہنچنے میں۔۔!
اس نے بڑے عزت و احترام سے، اپنے پلکیں اوپر نیچے کرتے اور اپنے گلا کھنکارتے ہوئے۔۔ سوال کیا، ” بھائی ! جنت کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے؟؟”
زرار کے بے سوچے سمجھے، فوراً “ہاں” کہنے پر زوبی کے منہ سے پھر ہنسی کا فوارہ چھوٹا،
زرار ایک دم سٹپٹا گیا،
پر اگلے ہی لمحے وہ بھی زوبی کے ساتھ ہی ہنسنے لگا،
اس نے سوچا کہ کیوں نہ اپنی اس ڈریکولا جیسی بہن کو پارٹنر بنا لیا جائے، تاکہ اسے اپنی دال گلانے میں زیادہ مشکل نہ ہو!!
پر اس نے ابھی صرف سوچا ہی تھا، کیونکہ اس نے منہ سے کچھ پھوٹ کر اپنی شامت نہیں لانی تھی،
زوبی آج کل ویسے بھی ، اس کے ہتھے نہیں چڑھتی تھی،
زوبی اب بھی وہیں کھڑی اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ہنسنے کا شغل پورا کر رہی تھی،
“اب کب تک اپنے دانتوں کی نمائش کرنے کا ارادہ ہے؟؟ جا کر جلدی سے تیار ہو!!” زرار کی ہنسی تھم چکی تھی، اب وہ پھر سے بے چین ہوتا، جلدی مچانے لگا،
دیدارِ یار کی طلب نے اسے بیتاب کیا ہوا تھا،
زوبیہ تیار ہونے کے لیے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی،
وہ بالوں کو سیٹ کرتے ہوئے اونچی آواز میں گنگنائے جا رہی تھی۔۔
ہوتا ہے کیا..!
عشق ہوتا ہے کیا۔۔!
دیوانوں سے پوچھ لے۔۔!
یہ مچلتے ہیں کیوں؟
ہنس کے جلتے ہیں کیوں؟
پروانوں سے پوچھ لے۔۔!
عشق کے دن چار پیارے۔۔
عشق ہو اک بار پیارے۔۔
عشق کی پرچھائیوں کو چو۔۔۔۔م!!
دھوم مچالے، دھوم مچالے، دھوم دھوم دھوم!
زرار کا صبر جواب دے رہا تھا۔۔
اور زوبیہ تھی کہ چپ ہو نے میں نہیں آرہی تھی،
زرار مجبوراً اٹھا اور زوبی کے پاس جاکر ، اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا گلہ دبوچ لیا، اس کی گرفت بالکل بھی سخت نہیں تھی،
“یہ دیکھ رہی ہو نا میرے ہاتھ؟؟
اب تم نے ایک بھی اور بکواس کی تو میں نے بالکل بھی دیر نہیں لگانی۔۔ سمجھیں؟؟” زرار نے کھاجانے والے تیوروں سے کہا، اور پھر اس کے گلے سے ہاتھ ہٹا لیے۔
” مجھ پر کسی بھی کا ظلم کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ میرے بغیر آپ جنت تک نہیں پہنچ سکتے،” زوبی نے بھرپور تڑی دی،
“اپنی بکواس بند کرو، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔
اور ریڈی ہوکر جلدی باہر آؤ، میں کار اسٹارٹ کرتا ہوں” وہ جلدی جلدی کہتا باہر نکلنے گیا،
زوبی کو رہ رہ کر اپنے “پھنے خاں” بنے رہنے والے بھائی پر ترس آیا،
کہ بچارا کیسے ایک آدھے دن میں بھیگی بلی بن گیا تھا،
صرف جنت کی ان تصویروں نے بچارے کو مجنوں بنا دیا تھا،
“اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں کسی طرح بھی، پہلے ہی جنت کی جھوٹی موٹی ہی کوئی منگنی کرا دیتی، کم سے کم میرا اکڑو بھائی آج تک کنوارا تو نہ ہوتا،” اس نے اپنے آپ سے ہی،جھوٹ موٹ کا افسوس کرتے ہوئے، شرارت سے کہا،
پھر آئینے کے ذریعے خود پر ایک فائینل نظر ڈال باہر نکلی،
اس کے گاڑی میں بیٹھتے ہی، زرار نے فوراً ہی جنت کے گھر کی طرف گاڑی دوڑائی،
زرار کی جلدبازی، زوبی کو پھر سے قہقہے لگانے پر اکسا رہی تھی پر اس نے خود پر کنٹرول کرتے ہوئے،
صرف مسکرانے پر اکتفا کیا،

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Husna Novel by Huma Waqas – Episode 3

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: