Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 7

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 7

–**–**–

زرار کی جلدبازی، زوبی کو پھر سے قہقہے لگانے پر اکسا رہی تھی پر اس نے خود پر کنٹرول کرتے ہوئے،
صرف مسکرانے پر اکتفا کیا،
زرار نےجنت کے گھر کا فاصلہ جو تقریباً ان کے گھر سے پندرہ منٹ کی واک اور چھ منٹ کی ڈرائیو پر تھا، وہ اس نے صرف تین منٹ میں طے کیا۔
“جاؤ ، جا کر جنت کو لے کر آؤ،” اس نے کار کے فرنٹ مرر میں دیکھتے، اپنے بالوں کو ہاتھ کی انگلیوں سے سیٹ کرتے ہوئے کہا۔
“اچھا بھائی،” کہتے ہوئے زوبی کار سے باہر نکلی، لیکن وہ واپس زرار کی طرف مڑی،
“اگر اس نے چلنے سے انکار کر دیا تو؟؟ میرا مطلب ہے بھائی، اسے جب پتہ چلے گا کہ آپ لے کر جا رہے ہیں تو وہ شاید نہ آئے،” زوبیہ نے اسے مسئلے سے آگاہ کیا،
“کیوں؟؟ میرے ہونے نہ ہونے سے اسے کیا مسئلہ؟” اس نے ایک شوق بھرے تجسس سے پوچھا،
“وہی, جو آپ کو اس کے آنے یا نہ آنے سے ہے۔۔” زوبیہ نے اپنی طرف سے واضح جواب دیا۔
“مطلب کیا ہے تمہارا،” اسے ماتھے پر بل لاتے ہوئے ، ناسمجھی سے پوچھا،
“وہ میرا مطلب تھا کہ جیسے آپ چاہ رہے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ لازمی جائے، اور آئی تھنک، آپ نے یہ پلین بھی اسی کے لیے سیٹ کیا ہے، اسی طرح وہ یہ بات لازمی چاہے گی کہ آپ ساتھ نہ ہوں،” زوبی نے بات گول مول کرنے کی بجائے، صاف لفظوں میں کہا،
کیوں کہ پہلے ہی وقت اتنا کم تھا، اور اوپر سے جنت اس کے بھائی سے الگ بدظن ہوگئی تھی،
اب یہ تو شکر تھا کہ زرار کو ذرا جلدی احساس ہوگیا تھا،
ورنہ پتہ نہیں، زوبی کو اور کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے!
“وہی تو میں پوچھ رہا ہوں کہ سے میری موجودگی سے کیا غرض۔۔” زرار نے الجھتے ہوئے سخت لہجے میں کہا،
اسے اپنے متعلق جنت کا ایسے متوقع رویے کا سن کر غصہ آیا تھا،
کہ آخر اسے زرار کی پریزینس ناگوار گزرے گی۔۔!!
کیونکہ ایک دنیا تھی،
جو اس کی ذرا سی توجہ، ایک جملے کی بات یا بس اسے ایک نظر اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ترستی تھی،،
اور جنت کو اس کی موجودگی سے مسئلہ تھا،
یعنی زرار ، جو جنت کی ایک جھلک کے لیے ، خود کو پاگل کر کے یہاں وہاں پھر رہا تھا،
اس جنت کو ، اس کا ہونا ہی کھٹک رہا تھا،
یعنی اس کی نظر میں، اس زرار کی اتنی سی بھی وقعت نہیں کہ جس کے لیے لڑکیاں اپنا سب کچھ گنوانے کے لیے تیار بیٹھی رہتی ہیں،
اسے اپنی ایسی ناقدری پر بہت غصہ آرہا تھا،
وہ وجہ جاننا چاہتا تھا،
“بھائی۔۔ وہ دراصل اسے آپ پر غصہ ہے۔۔” زوبی نے نظریں چراتے ہوئے اصل بات بتائی،
اب زرار کو ایک اور حیرت کا جھٹکا لگا،
“اب بھلا وہ مجھ پر کیوں غصہ ہے؟”
” جنت۔۔ دراصل، احسن بھائی سے شادی کے لیے دل سے رضامند نہیں تھی اور اوپر یہ رشتہ جوڑنے میں آپ کی جو محنت تھی، اس کا تو سبھی کو پتہ ہے۔۔
اس لیے آپ پر وہ غصہ ہے،” زوبی نے پھر سے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا،
“لیکن میں نے اسے فورس تو نہیں کیا تھا۔۔ اس نے تو خود ہی ایک سیکنڈ لگائے بغیر ہاں کردی تھی کہ جیسے وہ برسوں سے اسی کے انتظار میں بیٹھی ہو۔” زرار نے ناگواری سے تڑخ کر کہا،
“ایسی بات نہیں ہے بھائی،، اسے احسن بھائی میں رتی برابر بھی کوئی انرسٹ نہیں ہے، ” زوبی نے اپنی سہیلی کی بھرپور طرف داری کی۔
“اچھا تو پھر کس میں انٹرسٹ ہے اسے،” زرار کی دلچسپی ان سوالات و جوابات میں بڑھتی جارہی تھی،
اب زوبی بے وقوف تھوڑا تھی،
جو ساری باتیں ایک ہی بار میں بتا دیتی،
اس لیے اس نے بات ہی گھما دی،
“اوفوہ۔۔! بھائی۔۔! آپ نے بھی کن باتوں میں الجھا دیا،
میں آپ سے سولیوشن مانگ رہی تھی کہ اگر جنت آنے پر راضی نہ ہوئی تو میں کیا کروں۔۔؟؟ کیوں کہ مجھے پورا یقین ہے کہ آگر آپ نے اسے نہ دیکھا نہ تو صبح تک آپ نے مجنوں کی وہ مثال قائم کرنی ہے کہ دنیا کے سارے عاشق پیچھے رہ جائیں گے،” زوبی نے زرار کے چہرے پر آتے جلال کی پرواہ کئے بغیر اپنی بات پوری کی،
“یہ تم کیا عجیب و غریب باتیں کر رہی ہو؟؟ میں نے سوچا تھا کہ بس اس نے تو اپنی منگنی کی ٹریٹ دی ہی تو سوچا خود ہی ٹریٹ دے دوں،
اور تم پتہ نہیں کیا بکواس کرے جارہی ہو۔۔!!” زرار نے نظریں چراتے ہوئے بھرپور سخت لہجے میں زوبی کو لتاڑا،
“رہنے دیں بھائی، میں کوئی اندھی نہیں ہوں جو آپ کی بے قراری نہیں نوٹ کر سکتی، مجھے سب پتہ چل رہا ہے، آپ خود کو بھی جلد از یقین دلا لیں کہ جنت کے بغیر آپ کا گزارا مشکل ہے،
اور میرے ذہن میں آئیڈیا ہے کہ آپ ایسا کریں کہ فی الحال بیک سیٹ پر جا کر چھپ کر بیٹھ جائیں،
میں جنت کو بولوں گی کہ ہم دونوں ہی چل رہے ہیں ، پھر مین روڈ تک آنے کے بعد آپ نکل آئیے گا۔۔ اوکے؟؟ “
زوبی نے جلدی جلدی اپنا پلین بتایا اور وہاں سے چلی گئی،
زرار پیچھے حیران سا ہو کر اپنی بہن کی باتیں سوچ رہا تھا،
وہ جلدی سے اس کے پلین پر بھی عمل کر چکا تھا ،
لیکن وہ پریشان تھا کہ اپنے دل کی حالت جسے وہ خود سے بھی چھپانے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا،
وہ سب کتنی اچھی طرح سے اس کی بہن کو معلوم ہیں،
اور کیا واقعی اس کی حرکات و سکنات سے اس کے اندر چھڑی جنگ کا پتہ ہر کسی کو چل رہا ہے،
اور کیا جنت میرے لیے واقعی بہت ضروری ہے؟
اس کی سوچیں، اس کے اپنے آپ سے ہی کیے جانے والے سوالات ، اسے پریشان کر رہے تھے،
××××××××
زوبی اندر گئی تو پھوپھو اور پھوپھا اسے لاونج میں ہی مل گئے تھے،
وہ انہیں سلام کرتی اور جنت کو ساتھ لے جانے کی اجازت لے کر فوراً جنت کے روم کی طرف بھاگی۔
زوبی کی توقع کے عین مطابق ، جنت صاحبہ اپنے رونے کا شغل پورا فرما رہی تھیں،
“اوئے جنت کی بچی،، کیا ہوا ہے یار ، اب کیوں رو رہی ہو؟؟؟ یار جو ہو گیا، سو ہوگیا،
بی بریو۔۔!!”
زوبی نے کمرے میں گھستے ہی دادی اماں بن کر، روتی ہوئی جنت پر نصیحتوں کی بوچھاڑ ہی کردی،
جنت اسکے ایسے اچانک آنے پر بری طرح چونکی تھی،
لیکن اس نے زوبی کو دیکھ کر پھر سے بھاں بھاں والے راگ الاپنے شروع کر دیے،
“جنت پلیز۔۔ رونا بند کرو۔۔ میں یہاں تمہارے موڈ بہلانے کی کوششوں میں خوار ہوتی رہتی ہوں اور تم ہو کہ میری ہر کوشش پر پانی پھیر کر پھر سے بھاں بھاں کرنا شروع کر دیتی ہو۔۔!!” زوبی نے اسے خوب جھڑکا،
“شٹ اپ زوبی!! تمہیں کیا پتہ !! دل ٹوٹنے کا درد کیا ہوتا ہے۔۔ اپنا عشق مارنے کا درد کیا ہوتا ہے، تم بس چپ کرو، مجھے اپنے آپ سے خود ہی ڈیل کرنے دو،” جنت نے اپنی تکلیف اسے بتائی۔
“ہاں بہن ! مجھے نہیں پتہ یہ سب! اور انشاء اللّٰه تمہارا بھی ٹوٹا دل جلد ہی جڑ جائے گا،(زوبی نے اسے آنکھ ماری)لیکن تم پہلے یہاں سے اٹھو اور ہاتھ منہ دھو کر آؤ، ہم آئس کریم کھانے چل رہے ہیں۔”
زوبیہ اس کا بازو کھینچ کر اسے بیڈ سے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی،
“اف اللّٰه!! زوبی۔۔!! یہ تم جنگلیوں کی طرح مجھے کیوں کھینچ رہی ہو؟؟” جنت نے رونا بند کر کے کھا جانے والے تیوروں سے اسے دیکھا،
“یہ تم ۔۔ مجھے بعد میں کچا چبا لینا،
اتنی مشکل سے مجھے میری مما سے پرمیشن ملی ہے اس ٹائم آئسکریم کے لیے باہر جانے کی، بلکہ میرے خیال سے ہم لوگ ڈنر بھی باہر ہی کر لیں گے،”
زوبی اکیلے اکیلے ہی سارا خیالی پلاؤ بنا رہی تھی، جیسے جنت تو اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہی بیٹھی ہو!!
“اوہ میڈم مجھے کہیں نہیں جانا۔۔!!” جنت کا لہجہ رونے کی وجہ سے ابھی تک بھاری تھا،
“میں تم سے پوچھنے نہیں آئی، بتا رہی ہوں کہ اٹھو اور چلو میرے ساتھ،” زوبی نے اس پر اپنا حکم چلایا،
“زوبی تنگ نہیں کرو، میں نے کہا ناں کہ نہیں جانا کہیں مجھے،” جنت ابھی بھی ضد پر اڑی ہوئی تھی،
زوبی کو تو رہ رہ کر اپنے بھائی کا خیال آرہا تھا کہ وہ بچارا کب سے بیٹھا انتظار کر رہا تھا،
” جنت۔۔ اتنی بحث بھی اچھی نہیں ہوتی،
اب تم دیکھو جلدی سے شادی کر کے جانے والی ہو،
اور پیچھے پھر میں نے اکیلے ہی رہ جانا ہے،
میں زیادہ سے زیادہ تمہارے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا چاہتی ہوں،
اور دیکھو اب تم نے ساتھ چلنے سے انکار کیا ناں،
تو میرے دل نے ٹوٹ جانا ہے،
اب مجھ معصوم کا دل دکھاؤ گی تم؟؟؟” زوبیہ نے بہت مہارت سے بچاری جنت کو ایموشنل بلیک میل کیا،
وہ بچاری پہلے ہی اتنی حساس ہوئی وی تھی اور اوپر سے زوبی کی جاندار ایکٹنگ!!
جنت کو آخر اپنی جگہ سے اٹھنا ہی پڑا،
اس نے ہاتھ منہ دھوئے، اپنا حلیہ درست کیا اور زوبی کے ساتھ چل پڑی،
××××××××
زوبی نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اگنیشن میں چابی گھما کر کار اسٹارٹ کی، اور جنت وہیں اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی،
زرار کار کی بیک سیٹ پر جھک کر بیٹھا تھا اور رات ہونے کی وجہ سے اندھیرا بھی تھا،
اوپر سے جنت کا دھیان بھی نہیں تھا سو اس لیے وہ زرار کی موجودگی نوٹ نہیں کر پائی،
جنت تھوڑی حیران تھی اور اسی حیرت کے مارے اپنے منہ میں مچلتا طنز ، منہ سے باہر نکالا, “زوبی خیر ہے۔۔؟؟ آج تم اپنے اس اکڑو اور مغرور بھائی کی شاہی سواری لے کر آئی ہو؟؟ دے کیسے دی انہوں نے تمہیں؟؟” جنت کا اشارہ زرار کی کار کی طرف تھا،
“جنت بے بی ذرا سنھبل کے منہ سے لفظ نکالو ۔۔۔ یہ نہ ہو۔۔ تمہیں لینے کے دینے پڑ جائیں۔۔” زوبی نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی،
“وہ سب چھوڑو۔۔ تم بتاؤ ناں۔۔ تمہارے اس غصے کے پہاڑ جیسے بھائی نے اپنی پیاری کار تمہارے حوالے کیسے کردی؟؟ کہیں تم چوری چھپے تو نہیں لائیں؟؟
یہ نہ وہ تمہارے ساتھ ساتھ ایک آدھی کلاس میری بھی لگا دیں،، نہ بابا نہ، مجھے کوئی شوق نہیں ہے فضول میں اپنی بےعزتی کرانے کا، اور تمہارے اس چنگیز خان سے تو ویسے ہی میری جان جاتی ہے،” جنت ایک ہی سانس میں ، زرار کی تعریف میں ، زمین آسمان کے قلابے ملا رہی تھی کہ اسے اپنی پیچھے کسی مرد کے گلا کھنکارنے کی آواز آئی،
زوبی کا اب ہنس ہنس کر برا حال تھا،
جنت نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کے چودہ طبق روشن ہو کر رہ گئے،
اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا،
اور ڈر کے مارے اس کی تیز گام کی طرح دوڑتی زبان الگ ہی تالو سے چپک کر رہ گئی،

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: