Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 8

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 8

–**–**–

اور ڈر کے مارے اس کی تیز گام کی طرح دوڑتی زبان الگ ہی تالو سے چپک کر رہ گئی،
“زرار بھائی آپ۔۔ آپ یہاں کیا کر رہے؟؟” ڈر کے مارے بس اتنی سی ہی آواز وہ اپنے حلق سے باہر نکال پائی تھی۔
” یہ کیسا سوال ہے ؟؟ میری گاڑی ہے تو میں نے تو یہاں ہونا ہی تھا۔۔ تم کیا احسن کو ایکسپیکٹ کر رہی تھیں؟؟” زرار نے سلگانے والے انداز میں کہا،
” اب میں نے ایسا تو نہیں کہا…!” جنت نے گردن جھکا کر دھیمی سی آواز میں کہا کہ جیسے اسے احسن کا ذکر کچھ خاص پسند نہیں آیا،
وہ اچھی خاصی ڈری بھی ہوئی تھی کیونکہ اس کی زرار کے خلاف کی گئی تمام تر لفظی فائرنگ زرار نے اپنے کانوں سے سنی تھی،
“صحیح ہے۔۔ پر محترمہ بتا سکتی ہو کہ میں نے تمہارا ایسا کیا بگاڑا ہے جو تم نے مجھے اتنی عزت سے نوازا ہے؟؟”زرار کو اپنے متعلق اس کے نادر خیالات سن کر جہاں بے تحاشا ہنسی آرہی تھی وہیں اس نے اپنی ہنسی کو تھوڑا دبا کر ، اپنے جھوٹے غضب ناک لہجے کے ذریعے، جنت کی ڈری سہمی حالت کا مزہ لیا۔
جنت دانتوں تلے دبا کر شرمندہ پلس خوفزدہ سی ہو کر رہ گئی تھی،
زوبی کو اپنے بھائی کی حرکات اور جنت کی وہ کنفیوزڈ سی حالت دیکھ کر بری طرح ہنسی آرہی تھی،
“بھائی پلیز چپ کریں، مجھ سے ڈرائورنگ پر concentrate نہیں ہو پا رہا، یا تو پھر آپ آ کر خود ہی ڈرائیو کر لیں،” زوبی نے اپنے ابلتے قہقہے روکنے کی کوشش کی،
“ہاں تو تمہیں کہا بھی کس نے تھا؟؟ خود ہی چڑھ کر بیٹھ گئی تھیں، ڈھنگ سے چلاتی تو آتی ہی نہیں، روکو کار، میں ڈرائیو کرتا ہوں،” زرار نے بھی زوبی کا سارا احسان بھول کر، الٹا اسے ہی دو چار سنا دیں،
زوبی اب ہنسنا بند کر کے ، دانت پیس رہی تھی،
اور جنت کو تو زوبی پر بے تحاشا غصہ آرہا تھا،
کتنی گھنی نکلی تھی زوبی کی بچی،
“ہے تو یہ اپنے بھائی کی بہن، اللّٰه جانے اس نے کیا کچھ کہ دیا ہوگا اس اکڑو سے جو یہ اتنا عجیب بی ہیو کر رہا ہے، توبہ توبہ، کہیں اس نے اس چنگیز خان کو سب بتا تو نہیں دیا،” اب جنت اپنی سارا غم بھلا
کر ، ایک تو زوبی پر غصہ بھی تھی اور دوسرا اسے خوف بھی آرہا تھا،
جنت نے اس وقت کو کوسا کہ جب اس نے اپنے منہ سے اقرار کیا، اس اکڑو سے محبت کا اقرار کیا،
اسے اب صحیح معنوں میں پچھتاوا ہو رہا تھا،
وہ اپنی سوچوں میں ہی مگن تھی کہ زوبی نے کار روک کر زرار کے ساتھ سیٹ ایکسچینج بھی کر لی تھی اور اس کو پتہ بھی نہیں چلا،
جنت کو ہوش تب آیا جب زرار ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر ڈرائیونگ سٹارٹ کر چکا تھا،
“تمہارا موڈ نہیں ہے اپنی دوست کے ساتھ بیٹھنے کا، چلو کوئی نہیں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے تمہیں اپنے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بٹھانے میں،” زرار نے ذو معنی لہجے میں کہا،
لیکن جنت کو اس کی ذو معنی بات کا ایک معنی بھی سمجھ نہیں آیا،
“نہیں بھائی، وہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا آپ دونوں سے سیٹس ایکسچینج بھی کر لیں، آپ کار روکیں، مجھے پیچھے بیٹھنا ہے ، زوبی کے ساتھ، پلیز آپ۔۔۔آپ کار روک دیں،” جنت ایک دم ہڑبڑا گئی تھی، اور اب خجل بھی ہو رہی تھی، اس نے گھبراتے ہوئے بمشکل اپنی بات مکمل کی،
زرار کو تو اس کے بھائی کہنے پر ہی پتنگا لگ گیا تھا۔
“میں تمہارا غلام ہوں کہ تمہارا حکم مانوں گا۔۔ آرام سے یہیں بیٹھی رہو، میں نے تم سے تمہاری مرضی نہیں پوچھی، ” اس نے غصے کا پہاڑ بننے کا عملی نمونہ دیا،
اس کے ایسے لہجے پر، جنت تو دور کی بات ، زوبی بھی کانپ گئی تھی،
“میں نے کب کہا ہے کہ آپ میرے غلام ہیں۔۔اور مجھے پتہ ہے آپ کا غرور، آپ کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ آپ کسی کی مرضی کا لحاظ کریں،” جنت نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا تھا،
زرار نے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی، وہ اس وقت ماحول خراب نہیں کرنا چاہتا تھا،
اور اسے آج اس بات کی وجہ معلوم ہوئی تھی کہ وہ کیوں ہمیشہ، جنت سے اتنا چڑتا تھا؟؟
جنت ہمیشہ اسے بھائی کہتی تھی اور یہ بات وہ غیر ارادی طور پر ہضم نہیں کر پاتا تھا کیونکہ شاید وہ ہمیشہ سے ہی، جنت کے لیے اپنے دل میں کچھ مختلف جذبات رکھتا تھا،
“اچھا اب رو مت۔۔ ساری آؤٹنگ کا مزہ خراب ہو جائے گا۔۔موڈ صحیح کرو اپنا،” زرار نے نرمی سے، ایک نظر جنت کی طرف دیکھتے ہوئے، کہا۔
“ہاں جی،، موڈ تو صحیح کرنا پڑے گا، ورنہ بادشاہ سلامت کو لگے گا کہ انکی حکم عدولی کر کے، انکی شان میں گستاخی کی گئی ہے،” جنت نے اب زرار کے غصہ ہونے کی پرواہ کئے بغیر، اسے کھری کھری سنائی،
زرار اور زوبیہ کو ایک ساتھ، اس کے “بادشاہ سلامت” کہنے پر ہنسی آئی اور کار کے اندر کا ماحول پھر سے ہلکا پھلکا ہوگیا،
جبکہ جنت اندر سے اور جل بھن گئی،
اسے ان دونوں بھائیوں کا یہ فضول قہقہہ جو صرف جنت کو فضول لگا، بالکل پسند نہیں آیا تھا۔
“یار، تم مجھے بغیر ان الٹے سیدھے لفظوں کے اور میرے نام کے ساتھ کوئی سابقہ، لاحقہ لگائے بغیر، صرف زرار کہ کر نہیں پکار سکتیں” زرار نے مسکراتے ہوئے اپنی دلی خواہش اس کے سامنے رکھی،
زوبی کو بھی اب جا کر، اس کے ایک دم ہائپر ہونے کی وجہ سمجھ میں آئی تھی، اس لیے اس کے ہونٹ بھی، ایک بھرپور مسکراہٹ کے اثر سے ، اچھے خاصے پھیل گئے تھے،
“آپ کی حرکتیں ہیں اس لائق کہ آپ کو ، آپ کے سیدھے نام سے پکارا جائے، آپ نے تو ویسے بھی کسی حال میں کسی سے خوش نہیں ہونا، پتہ نہیں سمجھتے کیا ہیں خود کو،” جنت ابھی تک سسکیاں لے رہی تھی،
یہ اس کی پرانی عادت تھی کہ وہ روتے ہوئے سارے لحاظ بھول کر ، اپنے سارے گلے ، بغیر گھبرائے بول دیتی تھی،
“دیکھو جنت۔۔! میں تم نے آرام سے بات کر رہا ہوں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ تم مجھے کچھ بھی بول دو گی، اور دوسرا یہ کہ اب مجھے اپنے آپ کو کچھ سمجھنے کی ضرورت نہیں۔۔کیونکہ مجھے آج ہی پتہ چلا ہے کہ میں چنگیز خان ہوں۔۔ اور تیسرا یہ کہ تم مجھے بتاؤ ، وہ “کسی” ہے کون؟؟ جس سے مجھے خوش ہونا ہے؟؟” زرار نے اپنے سخت ہوتے لہجے میں شرارت گھول کر ، بات ہی گھما دی۔۔ کہ کہیں محترمہ جنت ، جنہوں نے ابھی تک سسکیوں پر گزارا کیا ہوا تھا وہ بھاں بھاں ہی نہ شروع کر دیں،
اسے پتہ تھا جنت کی عادت کا، وہ اکثر گلا پھاڑ کر ہی روتی تھی،
جنت۔۔ رونا بند کر کے اس کے سوالات پر غور کرنے لگی، پھر سمجھ میں آنے پر خوب پزل ہوئی،
“آج آپ بھی، پتہ نہیں کوے کھا کر آئیں ہیں۔۔ کب سے بولے جارہے ہیں، ورنہ تو ہر وقت، شاید منہ پر چیپی لگا کر رکھتے ہیں تبھی ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکلتا،” جنت نے اپنی خجالت چھپانے کے لیے الٹا اسی کے ہاتھوں ، اسی کی تعریفوں کی لسٹ تھما دی،
زرار کا پارہ اس کے ہر لفظ پر ہائی ہوتا جا رہا تھا،
اسے عادت نہیں تھی اپنے خلاف کوئی بھی فضول گفتگو سننے کی۔
“اچھا۔۔ اس کا مطلب ہے کہ احسن کی فیوچر مسز کو میرے کچھ بھی بولنے کا انتظار رہتا ہے۔۔ ہیں ناں؟؟”
اس نے ہر لفظ پر زور دیتے، جنت کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا،
جب سے اسے پتہ چلا تھا کہ جنت احسن کے ساتھ رشتے پر دل سے راضی نہیں ہے، تب سے وہ جنت کو اس حوالے سے ستانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا،
اس نے جھٹکے سے کار روکی،
جنت کا ماتھا، ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا تھا،
“اٹھو ۔۔ پیچھے جا کر بیٹھو !! اور اب ایک لفظ نہ نکلے تمہارے منہ سے،” زرار نے دانت چباتے ہوئے غصے سے کہا۔
زوبی کو اپنے بھائی کی اس حرکت پر بڑا افسوس ہوا،
جنت بھی ضد اور غصے میں زرار سے مقابلے پر اتر آئی تھی،
“نہیں جاؤں گی میں پیچھے اور نہ ہی چپ بیٹھوں گی، کر لیں جو کرنا ہے آپ کو!!!” جنت نے غصے سے زرار کو گھورتے ہوئے کہا،
اس سے اب اپنی مزید تحقیر برداشت نہیں ہو رہی تھی،

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: