Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 9

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – قسط نمبر 9

–**–**–

اس سے اب اپنی مزید تحقیر برداشت نہیں ہو رہی تھی،
🔥🔥🔥🔥💥🔥🔥🔥
اس کی اس دیدہ دلیری پر زرار حیران، زوبی پریشان!
“اوہو۔۔ چیونٹی کو تو دیکھو ۔۔ کیسے پر پرزے نکال رہی ہے۔۔!!” زرار نے جل کر کہا،
“اب دیکھ لیں اپنے کام،، مجھے چیونٹی کہ رہے ہیں۔۔!!
اور خود اپنے متعلق ایک لفظ برداشت نہیں ہوتا،،
لگتا ہے زوبی اور آپ کا میری انسلٹ کا مشترکہ پلین تھا،
تبھی یہ زوبی کی بچی ۔۔!! مجھے دھوکہ سے اپنے ساتھ لائی ہے۔۔
مجھے جانا ہی نہیں آپ لوگوں کے ساتھ،
بھاڑ میں جائیں آپ لوگ۔۔!!” جنت بہت ہرٹ ہوئی تھی، زرار کے رویے سے، بہت زیادہ ہرٹ ہوئی تھی،
تبھی وہ اپنی بات مکمل کر کے، جلدی سے کار سے باہر نکلی جو اب تک روڈ کی ایک سائیڈ پر رکی ہوئی تھی،
وہ اپنے ایک تسلسل سے بہتے آنسو ، بار بار اپنی ہتھیلی سے رگڑ رہی تھی،
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی فٹ پاتھ پر چل رہی تھی،
زرار اور زوبی بھی اسے دیکھ کر باہر نکلے تھے،
وہ دونوں اسے آوازیں دے رہے تھے،
پر وہ کسی کی بھی سنے بغیر، بس چلتی جا رہی تھیں،
اس کی آنکھیں بار بار آنسوؤں کی وجہ سے دھندلا رہی تھیں،
وہ صرف دو منٹ ہی چلی تھی کہ رونے اور تیز قدم چلانے کی وجہ سے اس کا سانس پھول گیا تھا،
وہ وہیں، سڑک سے تھوڑا اونچا بنے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی تھی،
وہ اپنا منہ، دونوں ہاتھوں میں چھپا کر، پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی،
آج کل وہ ایسے ہی اتنی بڑی تکلیف سے گزر رہی تھی اور اوپر سے زرار کی یہ بے وجہ کی rudeness ۔۔!! وہ تو تڑپ کر رہ گئی تھی،
“جنت!!”
اسے اپنے بائیں طرف ، اچانک سے آکر بیٹھنے والے شخص کی آواز آئی،
اس نے اپنے ہاتھ چہرے سے ہٹائے اور ویسے ہی روتے ہوئے ، پر شکوہ نظروں سے زرار کو دیکھا،
زرار نے زوبی کو کار میں واپس بھیج دیا تھا،
اب وہ وہاں جنت کے ساتھ اکیلا ہی، فٹ پاتھ پر، اسی کے انداز میں بیٹھا تھا،
جنت کا ایسے ایک دم ، اس کی پکار پر پلٹ کر دیکھنا۔۔!! اف۔۔ اس کی یک دم ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی،
زرار نے اپنے متعلق یہ کب سوچا تھا کہ وہ زرار، جس کے پیچھے پیچھے ساری دنیا بھاگتی ہے۔۔ وہ بھی کبھی کسی کو اپنے دل میں ایسی جگہ دے بیٹھے گا کہ اسے خود اس لڑکی کو منانے، راضی کرنے کے لیے پیچھے پیچھے بھاگنا پڑے گا،
پر اب تو وہ اپنے دل کی ساری ریاستوں کی حکمرانی ، اس چار فٹ نو انچ کی جنت کے نام کر چکا تھا،
پر برا ہو اس کی پرانی عادتوں کا، اس کے مزاج کا، اس کی انا کا ، اس کے غرور کا۔۔ جو اسے کھل کے عشق بھی نہیں کرنے دیتے،
جو اسے جنت کو زرار کے دل کی حکمرانی سونپنے نہیں دے رہے تھے،
بے شک وہ یہ سب جنت کے نام کر چکا تھا،
پر صرف نام کرنا تو کافی نہیں ہوتا۔۔!!
دل جس کے نام کیا جائے۔۔ اسے اپنے تمام اختیارات، اپنے احساسات اور اپنے جذبات سونپنا بھی تو لازمی ہے۔
وہ اپنی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے۔۔
اس حوروں جیسا رنگ روپ رکھنے والی جنت کو بہت شوق اور جذب سے دیکھ رہا تھا،
ایک طلسم تھا، جو اس کے ایسے یک دم مڑ کر دیکھنے سے، زرار کے حواسوں پر طاری ہوا تھا،
وہ چند لمحے یوں ہی، اس کے ناقابل یقین حد تک حسین چہرے کو سحر زدہ سا ہوکر دیکھتا رہا،
پر وہ سحر لمحوں پر محیط تھا، سو زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا تھا ،،
اسے ٹوٹنا تھا،
سو وہ ٹوٹ گیا،
“کیا مسئلہ ہے آپ کو؟؟ کیوں گھور رہے ہیں مجھے۔۔” جنت نے لفظ چلاتے ہوئے غصے سے کہا،
اسے اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کی وجہ سے ٹھہرے دھندلے پن کے باعث۔۔
زرار کی نظروں میں اپنے لیے دیوانگی اور وارفتگی دکھائی ہی نہیں دی،
” مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں۔۔ میں بس سوری بولنے آیا تھا،” زرار نے اپنے لہجے کو نرم اور میٹھا رکھا،
“سوری۔۔ اور آپ۔۔؟؟ ایسا تو میں اپنے خیال میں بھی نہیں سوچ سکتی،،،،،
ضرور۔۔!! میرے لیے کوئی تذلیلی جملہ یا پھر کوئی جلی کٹی بات ، آپ کے منہ سے نکلنے سے رہ گئی ہوگی۔۔ چلیں کر لیں اپنا دل ٹھنڈا، کر لیں۔۔جتنی انسلٹ کرنی ہے آپ کو۔۔ آپ کو ایسے خوشی ملتی ہے تو ایسا ہی صحیح۔۔!!” جنت نے زرار کو شرمندہ کرنے کی خوب کوشش کی،
اور وہ اچھی طرح شرمندہ ہو بھی رہا تھا،
جنت ابھی اور بھی بہت بولنے والی تھی کہ زرار نے اپنے سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھی،،
سو مجبوراً جنت کو خاموش ہونا پڑا،
زرار کی اس اچانک حرکت پر جنت گڑبڑا کر رہ گئی،
اس کا دل تھا۔۔کہ عجب لے میں دھڑکنے لگا تھا،
زرار کا لمس۔۔!!
اس کے اندر تک ایک سنسناہٹ دوڑی تھی،
“سنو۔۔ میں سچ میں اپنے کہے لفظوں کے لیے برا محسوس کررہا ہوں، پلیز معاف کر دو۔۔ دیکھو مجھے اچھے سے معافی مانگنی نہیں آتی، پر میں جانتا ہوں، تم بہت اچھی ہو اور تم مجھے معاف کرو گی نہ؟؟” زرار بچوں کی طرح، اپنے دونوں کان پکڑے۔۔۔ اپنی آنکھوں میں عجیب چمک لیے۔۔مسکراتے ہوئے بول رہا تھا،
وہاں آتی جاتی گاڑیاں رک رک کر انہیں دیکھتے ہوئے، گزر رہی تھیں۔
جنت کو یہ سب awkward لگ رہا تھا،
اور اوپر سے زرار کا ایسے معافی مانگنا۔۔
اسے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر،
آخر ماننا ہی پڑا،
پر وہ زوبی سے ابھی تک خفا تھی،
اور اس کی کسی بھی بات کا ڈھنگ سے جواب نہیں دے رہی تھی،
اگلے پانچ منٹ میں وہ لوگ آئس کریم پارلر میں موجود تھے،
زرار نے ڈنر کی آفر کی تھی پر جنت کا موڈ نہیں تھا سو اس لیے وہ سیدھا یہیں آئے تھے،
زرار زوبی اور جنت کے سامنے مینیو کارڈ رکھے فلیور کا پوچھ رہا تھا کہ “کونسا کھانا ہے؟”
زوبی نے تو یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ “کوئی بھی آرڈر کر لیں۔۔” کیوں کہ اس کے نزدیک۔۔آئس کریم تو آئس ہوتی ہے، چاہے کوئی بھی فلیور ہو اس کا،
جبکہ جنت نے پورے تین منٹ تک مینیو کارڈ کو گھورنے کے بعد، بڑے بڑے حروف میں لکھے “پائن ایپل آئسکریم” پر انگلی رکھی،
زرار نے ویٹر کو بلا کر تین پائن ایپل آئسکریمز آرڈر کیں۔
“پر بھائی آپ تو ہمیشہ چاکلیٹ فلیور ہی لیتے ہیں۔۔” زوبی نے ویٹر کے جانے کے بعد، تھوڑی حیرانی سے کہا۔
“میں نے سوچا کہ آج میں کیوں نا “کسی” کو خوش کرنے کے لیے اس کا فیورٹ فلیور ٹرائی کروں،” زرار نے شرارت سے “کسی” لفظ پر خاصا دباؤ ڈال کر شرارت سے کہا،
جنت سر جھکائے اس کی اس شرارت سے محظوظ ہورہی تھی،
لیکن وہ اب تک زوبی کو کوئی لفٹ نہیں کرا رہی تھی،
ابھی بھی زوبی نے اسے کوئی بات کہی تھی جس کا جنت نے کوئی رسپانس نہیں دیا،
زرار بہت شوق سے اس کے چہرے پر روٹھے روٹھے تاثرات دیکھ رہا تھا،
راضی تو وہ زرار سے بھی اچھی طرح نہیں ہوئی تھی لیکن زوبی کے ساتھ اس کا معاملہ زیادہ گڑبڑ تھا،
اب بھلا ۔۔ اتنی انسلٹ اور برسوں کی بے رخی کا درد وہ صرف ایک دفع اس کے کان پکڑنے پر تھوڑی بھلا سکتی تھی،
اور اوپر سے زرار نے۔۔ جو بار بار، کسی نہ کسی بات پر احسن کا نام لے کر جلایا تھا، وہ بھی جنت کو کہاں بھولا تھا،
اس نے تو سوچ لیا تھا کہ اب وہ بالکل بھی احسن کے نام پر نہیں گھبرائے گی، اسے مضبوط بن کر اپنے اور اس کے رشتے کو ساری دنیا کے سامنے پورے اعتماد سے قبول کرنا ہے،
زرار نے ابھی تک کوئی واضح اظہار بھی تو نہیں کیا تھا ناں کہ جس کی بنیاد پر جنت اس کو اپنے دل سے نکالنے والے فیصلے پر دوبارا سے غور کرتی۔
اسے ہر حال میں زرار سے نفرت کرنی تھی،
کیونکہ وہ کسی اور کی امانت تھی،
اور وہ اس امانت میں کسی بھی قسم کی خیانت کر کے اپنے والدین کا سر نیچا نہیں کر سکتی تھی،
وہ زرار جیسے اکڑو کے لیے، صرف ایک دفع کان پکڑنے پر، اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی،
وہ آئس کریم سے انصاف کرنے کے بعد اپنی کار تک واپس آئے،
تو زرار ان دونوں کو وہیں کھڑا کر کے ، کار کی چابی لینے کے بہانے واپس اندر گیا،
جو وہ جان بوجھ کر ٹیبل پر چھوڑ کر آیا تھا،
اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی ہے۔۔
اس نے ان دونوں کی ایک پکچر ثبوت کے طور پر اپنے موبائل میں capture کی اور باہر نکل آیا،
اب کی بار جنت۔۔ بیک سیٹ پر زوبی کے ساتھ ہی بیٹھی تھی،
آدھے راستے تک ، زوبی نے اسے اپنی باتوں میں لگا کر منا ہی لیا تھا،
___×××××___
اب زرار کی ساری بے چینی ختم ہو گئی تھی،
جنت کو دیکھنے کے بعد تو ویسے ہی اس کا دل پر سکون ہوگیا تھا،
اب وہ اپنے بیڈ پر لیٹے۔۔ کچھ دیر پہلے والے واقعات کو پھر سے یاد کرنے لگا،
وہ جنت کی ساری باتیں سوچ سوچ کر مسکرائے جا رہا تھا،
اور یوں ہی مسکراتے مسکراتے جلدی سے سو بھی گیا۔۔
_____×××____
وہاں جنت کچھ پریشان سی تھی،
زرار کا رویہ ۔۔ اس کے تاثرات، اسے آج، معمول سے ہٹ کر محسوس ہوئے،
وہ اپنے ساتھ اس کے عجیب طرزِ عمل کے متعلق کوئی واضح اندازہ نہیں لگا پائی،
اور اسے ، زرار کے behavior سے جو تھوڑے بہت، مبہم سے اشارے ملے تھے،
ان پر تو وہ چاہ کر بھی یقین نہیں کرنا چاہتی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Nakhreeli Mohabbatain by Seema Shahid – Episode 6

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: