Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Last Episode 19

0
ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس – آخری قسط نمبر 19

–**–**–

ایک تو وہ ناراض تھی اور اوپر سے اس کھڑوس کی ایسی اوچھی حرکتیں۔۔
زرار نے اس پر سے سارا بلینکٹ اپنی طرف کھینچ لیا تھا،
اس نے بلینکٹ کا بس اتنا سرا خالی چھوڑا تھا کہ اسے اوڑھنے کے لیے جنت کو بالکل اس کے پاس آنا پڑتا۔
جنت کو بری طرح غصہ آیا۔
پر وہ خفا تھی ، اس لیے اس نے زرار کا بائیکاٹ کیا ہوا تھا اور وہ کچھ بولی ہی نہیں،
بس غصے سے زرار کی مخالف سمت میں منہ کیے۔۔
اے سی کی ٹھنڈک برداشت کررہی تھی،
جب وہ کافی دیر ایسے ہی بغیر کچھ بولے سردی سے ٹھٹھرتی رہی تو زرار کو اس کا خیال آیا،
“بہت ڈھیٹ ہو تم…!” کہتے ہوئے اس نے جنت کے قریب آکر ، اسے بلینکٹ اوڑھایا، اور اپنا ایک بازو اس پر سے گزارتے ہوئے، اسے اپنے حصار میں لیا،
جنت کو اس کی یہ حرکت بھی پسند نہیں آئی۔۔ وہ ابھی بھی اس کی مخالف سمت میں چہرہ کیے، ناراض سی۔۔ آنسو بہا رہی تھی،
“زرار دور ہٹیں۔۔میرے پاس سے۔۔” اس نے اپنی رندھی ہوئی آواز میں کہا،
“اگر نہ ہٹوں تو۔۔؟؟” زرار کا لہجہ چیلنجنگ تھا۔۔
“تو کچھ نہیں۔۔ میں یہاں سے اٹھ کر کہیں اور چلی جاؤں گی۔۔” اس نے دھمکی دی،
“اچھا۔۔کدھر جاؤ گی۔۔؟؟” زرار کو اس کے ساتھ بحث کرنے میں مزہ آیا،
“باہر لاونج میں یا زوبی کے کمرے میں۔۔” جنت نے تفصیلاً بتایا۔۔
“اچھا۔۔ پھر جا کر دکھاؤ۔۔” اس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور ساتھ ہی اس نے اپنی گرفت مزید مضبوط کردی۔۔ جنت زور لگانے کے باوجود بھی اس کا بازو ہٹا کر اس سے علیحدہ نہ ہو سکی۔۔
“زرار آپ بہت بے مروت اور بدتمیز ہیں۔۔ آپ کو تھوڑی سی بھی پرواہ نہیں کہ میں آپ سے ناراض ہوں۔۔” جنت نے روٹھے لہجے میں تکلیف سے کہا،
“کیوں ناراض ہو۔۔؟؟ بھلا میں نے تمہیں کیا کہا ہے۔۔؟؟” زرار نے اسے جلایا،
“اچھا جی۔۔ بھول گئے اپنے الفاظ۔۔؟؟” وہ ابھی بھی بغیر اس کی طرف دیکھے ، اس کے ساتھ بحث میں مصروف تھی،
“اور تمہیں اپنے الفاظ یاد ہیں۔۔؟؟” زرار نے اس کو، اس کا سوال لوٹایا،
“کونسے الفاظ؟؟” جنت نے بھولپن کے ریکارڈ توڑ دیے۔۔
“Jannat is rejecting Zarar,
Jannat has rejected you,
And Jannat will never marry you…!!!”
زرار نے اس کے کہے الفاظ دہرائے۔۔
“جانتی ہو کتنا غصہ آیا تھا مجھے۔۔؟؟ کتنی تکلیف ہوئی تھی مجھے۔۔ اب میں نے تمہیں کچھ کہہ دیا تو تم ناراض ہو کر بیٹھ گئیں۔۔” زرار نے ایسے پریٹینڈ کیا کہ جیسے نجانے پر کیا ظلم ڈھایا گیا ہے۔۔!!
“پر زرار ۔۔۔ آپ اپنا کیا کرایا بھول گئے۔۔؟؟ اور اب تو میں نے شادی کرلی ہے ناں۔۔ اب بھلا کیا مسئلہ ہے آپ کو۔۔؟؟ اب کیوں اپنی ایگو بیچ میں لا رہے ہیں۔۔؟؟ آپ جانتے نہیں کیا؟؟۔۔ مجھے کتنی محبت ہے۔۔!! آپ کو نہیں پتا ناں۔۔کہ جب آپ احسن کے پروپوزل کے لیے مما پاپا کو کنونس کررہے تھے۔۔تو میرے دل پر کیا گزری۔۔!! زرار میں آپ کو لفظوں میں بتا ہی نہیں سکتی کہ آپ کتنے برے ہیں۔۔!! آپ کے نزدیک آپ کی ایگو سے بڑا کچھ نہیں۔۔” جنت بات گول مول کرنے کی بجائے، سیدھا سیدھا اپنے دل کیے بتائی۔۔وہ بھی بغیر سوچے سمجھے۔۔😁😁
زرار حیران تھا کہ اتنے آرام سے سب کہہ دیا ورنہ وہ تو سوچ رہا تھا کہ پتہ نہیں کتنی مشکل سے اسے یہ سب، جنت سے اگلوانا پڑے گا،
ایک مسکراہٹ تھی جو اس کے چہرے پر آ کر بکھری تھی۔۔
“ہاں۔۔تو تمہیں کس نے بولا تھا کہ اس برے آدمی سے محبت کرو۔۔” زرار بات کو طول دیے جا رہا تھا کیونکہ کے وہ جانتا تھا کہ ڈسکشن سے ہی مسئلے سلجھتے ہیں۔۔غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں۔۔
“اگر میرے بس میں ہوتا ناں۔۔تو میں نے کبھی آپ سے محبت نہیں کرنی تھی۔۔” جنت ابھی بھی دکھ سے کہ رہی تھی،
“مطلب اب تم پچھتا رہی ہو محبت کرکے؟؟” زرار کو پتہ نہیں کیا مزہ آ رہا تھا، اس سے فضول سوال و جواب کرکے۔
“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا، اور آپ کیا کوے کھا کر آئیں ہیں۔۔ کب سے چپ ہی نہیں ہورہے۔۔مجھے بہت سخت نیند آرہی ہے۔۔اب پلیز سونے دیں مجھے۔۔اور اب میں نے آپ کی کسی بات کا جواب نہیں دینا کیوں کہ میں آپ سے ناراض ہوں۔۔۔۔سنا آپ نے۔۔؟؟ اور اپنا یہ بازو مجھ پر سے ہٹائیں۔۔” جنت کو اب اچھی خاصی تھی تپ چڑھی تھی،
وہ اسے منانے کی بجائے، فصول باتیں کر کر کے اس کا دماغ چاٹ رہا تھا،
زرار کو اس کی بات پر ہنسی آئی۔۔
“اچھا۔۔ میری ناراض بیوی۔۔” کہتے ہوئے وہ اس سے دور ہوا اور دوسری طرف منہ کر کے سونے لگا،
کیا قسمت تھی بے چاری کی۔۔اسے خود ہی اپنے ناراض ہونے کا بتانا پڑ رہا تھا۔۔اور زرار بدتمیز اسے منانے کی بجائے، الٹا اسی کا دماغ کھائے جارہا تھا،
جنت کا تو ذہن کھول رہا تھا۔۔ زرار کی اس قدر بے مروت ہونے پر۔۔!!
×××××××
صبح اٹھنے کے بعد بھی جنت کا منہ پھولا ہوا تھا۔۔
زرار نے نوٹ تو کیا پر منانے کی کوئی کوشش نہیں کی،
جنت دل میں، اسے اچھی خاصی صلواتیں سنا چکی تھی،
وہ تو شکر تھا کہ اللّٰه اللّٰه کر کے وقت گزرا اور زرار نے اپنی شکل اس کی آنکھوں کے سامنے سے گم کی،
آج اس کا ولیمہ تھا۔۔تقریب رات کی ہی تھی، حسب توقع ، وہ آج بھی تقریب کی جان بنی ہوئی، اور مزے کی بات یہ کہ آج تو وہ زرار کے بھی چودہ طبق روشن کیے ہوئے تھی،
زرار سوچ چکا تھا کہ اس کا جنت کے ساتھ روڈ رویہ بالکل بے وجہ اور بے تکا ہے۔۔ ٹھیک ہے کہ یہ اکھڑپن اس عادت کا خاصہ ہے۔۔
پر جنت کا کیا قصور۔۔آخر وہ کیوں اس کے طنز سنے۔۔اسکا غصہ سہے۔۔ اسی خیال کے تحت اس نے سوچا کہ کیوں نہ جنت کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہموار کیا جائے۔۔
پر سامنے محترمہ نے نو لفٹ کا بورڈ دکھا کر۔۔ زرار کی سارے نیک منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔۔
آج زرار اس کے پیچھے پیچھے تھا۔۔تو وہ کوئی خاطر خواہ رسپانس نہیں دے رہی تھی۔
پر زرار کو اس پر کوئی غصہ نہیں آیا کیونکہ یہ ناراضگی اس کا حق تھی۔۔
×××××××
گھر واپس آنے کے بعد بھی۔۔ زرار بہانے بہانے سے اس سے کوئی بات کرتا۔۔تو آگے سے وہ بالکل ہی نظر انداز کر دیتی۔۔
“دیکھو جنت۔۔تم مجھے اس طرح اگنور کر کے اچھا نہیں کررہیں۔۔ ایسا نہ ہو کہ تمہیں پچھتانا پڑے۔۔”زرار نے عجیب پراسرار لہجے میں کہا،
“لسن۔۔میں آپ کو اگنور نہیں کررہی۔۔بلکہ میں آپ سے ناراض ہوں۔۔اور ناراض لوگوں کو منایا جاتا ہے۔۔انہیں دھمکایا نہیں جاتا۔۔” جنت نے تڑخ کر جواب دیا۔
“اب تم میری کوئی بات ہی سن رہیں۔۔ تو میں بھلا کیسے مناؤں؟؟؟” زرار نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں پر گرا کر۔۔آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے، معصومیت سے کہا۔
“ضرورت نہیں ہے آپ کو یہ ڈرامے کرنے کی۔۔آپ بھلا مجھے کیوں منائیں گے۔۔؟؟ میں کونسا آپ کے لیے کوئی اہمیت رکھتی ہوں۔۔ میری بھلا آپ کو کیا پرواہ۔۔” جنت تو اپنی بھڑاس نکالنے پر تلی ہوئی تھی،
وہ اچھی خاصی بدگمان ہوئی تھی زرار سے۔۔
وہ یہ ساری کی ساری لفظی فائرنگ۔۔ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھے۔۔اپنی جیولری اتارتے ہوئے کہ رہی تھی۔
وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہی ہوئی تھی، تاکہ وہ جا کر اپنا لباس تبدیل کرسکے۔۔
لیکن اتنے میں زرار چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا۔۔
اور اسے روکا۔۔
وہ اس کے مقابل کھڑی تھی۔۔
اور وہ ایک دیوانگی کے عالم میں اپنی نظروں سے اس کے چہرے کا طواف کررہا تھا۔۔
جنت اس کے ایسے گھورنے پر پزل ہوئی۔۔۔
“ایسے۔۔کیا دیکھ رہے ہیں” جنت نے گھبرا کر پوچھا۔۔
وہ سمجھی تھی کہ وہ اس کی زبان درازی پر اس کی کلاس لینے آیا ہے۔
زرار اس کے قریب آیا۔۔
جنت تو خوف کے مارے اپنی جگہ پر تھم ہی گئی تھی۔۔
زرار کے چہرے کے ایکسپریشنز بہت unusual اور strange تھے۔۔
وہ محویت سے اس کے تمام تر نقوش تک رہا تھا ۔۔۔
“کیوں اتنی بدگمان ہو مجھ سے۔۔؟؟ تمہیں اپنی اہمیت کا اندازہ اس بات سے نہیں ہوا کہ۔۔زرار جنید نے تمہارا ساتھ حاصل کرنے کے لیے چالیں چلیں۔۔ مجھے پرواہ ہے تمہاری۔۔ پر جانتی ہو میری کچھ بری سی عادتیں ہیں۔۔میری پرسنیلٹی کچھ ایسی ہے کہ میں اپنی فیلینگز show کرنے سے پرہیز کرتا آیا ہوں۔۔ پر آج نہیں کروں گا۔۔تم سن لو کہ۔۔زرار جنید کے دل پر راج کرتی ہو تم۔۔ اب تک کی دی گئی ہر تکلیف کے لیے میں تم سے apologize کرتا ہوں۔۔میں اپنا آم تمہارے حوالے کرتا ہوں۔۔تم مجھے بتاؤ کہ اب میں تمہیں قبول ہوں۔۔؟؟”زرار اپنے اور جنت کے درمیان کا سارا فاصلہ ختم کر کے۔۔ اس کے چہرے پر نظریں گاڑھے۔۔کسی طلسماتی کیفیت کا شکار ہوکر۔۔اپنے دل کا تمام حال اسے سنا گیا۔
جنت کو تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔
وہ ہونقوں کی طرح آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتی جارہی تھی۔۔
اس کے من کی مراد ایسے پوری ہوگی۔۔!! اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
وہ جس عشق کو مارنے کے در پر تھی۔۔
آج وہ مکمل اسی کا ہو گیا تھا۔۔
آج تو وہ جتنا شکر کرتی کم تھا۔۔!!
وہ بہت بے یقین تھی۔۔
زرار اسے ایسے بے یقین ہوتا دیکھ رہا تھا۔۔
“کیا ہوا۔۔؟؟ یقین نہیں آرہا۔۔؟”زرار نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
جنت نے نفی میں سر ہلایا۔
“کر لو یقین۔۔یقین کر لو کہ یہ اکڑو، کھڑوس اور برا آدمی تم نے محبت کرنے لگا ہے۔۔” زرار مسکراتے ہوئے ، اسے حیرت میں ڈال رہا تھا۔
جنت منہ پر ہاتھ رکھے آنکھیں پھاڑے۔۔ان لمحوں کے سحر سے ہی نکل پا رہی تھی۔۔
زرار نے اس کے ماتھے پر جھک کر بوسہ دیتے ہوئے اس کی اس بے یقینی کو اپنی محبت کا اعتبار بخشا۔۔
جنت کے تو خوشی کے مارے تشکر کے آنسو بہنے لگے۔۔۔
زرار نے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کیے۔۔
“اب تو کوئی ناراضگی نہیں۔۔” زرار نے بھنویں اچکاتے ہوئے پوچھا۔۔
جنت نفی میں سر ہلاتی۔۔اس کے سینے سے لگ گئی۔
زرار نے بھی اس کے گرد۔۔اپنے بازوؤں کا حصار باندھ کر اسے اپنی محبت کا مان دیا۔
اب بہت سی مسکراہٹوں بھری زندگی ان کی منتظر تھیں۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Billi by Salma Syed – Episode 4

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: