Ajab Bandhan Novel By Huma Waqas – Episode 1

0
عجب بندھن از ہما وقاص – قسط نمبر 1

–**–**–

یہ کیا کیا آپ نے ۔۔۔ دانت پیس کر خونخوار نظر اپنے سامنے کھڑی اس دھان پان سے وجود کی لڑکی کو دیکھا جس کے ہاتھ میں سالن کا باٶل تھا جس میں سے اب کچھ سالن چھلک کر اس کی سفید شرٹ کو داغ دار کر چکا تھا۔۔۔
اوہ۔۔۔ سوری۔۔۔ اس نے جلدی سے انگلی دانتوں میں دباٸ تھی۔۔۔ آنکھیں حیرانی سے تھوڑی سی پھیل گٸ تھیں۔۔۔ لیکن شرارت ہنوز قاٸم تھی۔۔۔
سوری۔۔۔دانیال نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔ غصہ تو اس کی لا پرواہی پر زیادہ تھا۔۔۔
میری ساری شرٹ خراب کر دی۔۔۔ اب وہ ایک نظر اپنی شرٹ پر ڈال رہا تھا جو اب عجیب ہی شکل اختیار کر چکی تھی۔۔۔۔اور پھر ایک کھا جانے والی نظر سامنے کھڑی اس لڑکی پر ڈالی جس نے دو دن میں ہی اس کے ناک میں دم کر دیا تھا۔۔۔۔
اول تو وہ ہمیشہ کی طرح اس شادی پر بلکل نہیں آنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن اس دفعہ اماں کی بے جہ ضد تھی جس کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہی بنی تھی اس کی۔۔۔ ان پر اس کی شادی کا عجب بھوت سوار ہو گیا تھا۔۔۔ انھوں نے کوٸ لڑکی پسند کر لی تھی اپنے عجیب سے خاندان میں سے جس کے لیے اس دفعہ اسے بھی اپنے ساتھ ہی گھسیٹ لاٸ تھیں۔۔۔ کہ شادی پر ایک نظر ڈال لینا۔۔۔ وہ لڑکی تو ابھی تک دیکھ نہیں پایا تھا ہاں البتہ اس چھٹانک بھر کی لڑکی نے تنگ کر چھوڑا۔۔۔
مجھے نہیں پتا چلا بھٸ۔۔ آپ تو ایسے غصہ کر رہے ۔۔۔ اتنا رش ہے شادی کا ۔۔۔ ماہم نے ناک سکیڑ کر کہا اور ہونٹوں کو بھینچ کر داٸیں باٸیں ایسے جنبش دی جیسے اس کا کوٸ قصور نہ ہو۔۔۔
آپ اگر آرام سے چل لیں گی اس طرح اچھل اچھل کر صبح سے جیسے پھر رہی ہیں نہیں پھریں گی تو میرا خیال ہے بہت سارے لوگ بچ جاٸیں گے نقصان سے۔۔۔ دانیال نے غرانے کے انداز میں کہا۔۔۔
وہ کل سے یہاں تھے۔۔۔ اور اس لڑکی کو اس نے ایک منٹ کے لیے بھی کہیں سکون سے بیٹھے نہیں دیکھا تھا۔۔۔ بچی اتنی بھی نہیں تھی جتنی اس کی حرکتیں بچگانا تھیں۔۔۔ اونچی اونچی آواز میں قہقے لگاتی بچوں کے پیچھے ان کے کھانے کی چیزیں چھیننے کے لیے بھاگے پھرتی۔۔۔ کبھی کسی سے ٹکراتی تو کبھی کسی سے۔۔۔
اتنا بھی کیا نقصان ہوا آپ کا ہاں۔۔۔ اپنے ساتھ کھڑی دوسری لڑکی کو باٶل تھما کر اب وہ کمر پر دونوں ہاتھ رکھے ماتھے پر بل ڈالے الٹا اسی پر چڑھ دوڑی تھی ۔۔۔
میرا خیال ہے آپ اندھی نہیں ہیں ۔۔ یہ میری شرٹ پر آپکو نشان نظر آ رہے ہوں گے۔۔ اور یہ ابھی اسی وقت میں بدل کر باہر نکلا ہوں۔۔۔دانیال نے شرٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔جب کہ آواز اب غصے سے بھاری ہو رہی تھی۔۔۔
ایک تو اتنے کم کپڑے رکھ کر لایا تھا شادی کے لیے۔۔۔ اماں کے بہت کہنے کے باوجود اسے کوفت ہو رہی تھی بیگ بھر بھر کر لے جانے میں۔۔۔ اب ان محترمہ نے اس شرٹ کا بھی ستیا ناس کر چھوڑا تھا۔۔۔ پاگل کہیں کی۔۔۔
اتار کہ دیں مجھے۔۔۔ بڑے انداز سے ہوا میں ہاتھ چلاتے ہوۓ کہا۔۔۔
کیا۔۔۔ دانیال نے نا سمجھنے کے انداز میں بھنویں اچکا کر کہا۔۔۔
جی اتار کے دیں نہ۔۔۔ ابھی دھلاوا دیتی ہوں۔۔۔ لاپرواہی کے انداز میں کہا۔۔۔
دانیال کو اسی لاپرواہی سے تو چڑ تھی۔۔۔ وہ نہ تو خود لا پرواہ تھا اور نہ کسی کی یوں لا پرواہی برداشت ہوتی تھی۔۔۔
کوٸ ضرورت نہیں۔۔۔ گھور کر اسے دیکھا۔۔۔
اب ہٹیں گی یہاں سی کہ۔۔۔ رستے کے روکے ہوۓ اس کے وجود پر ایک ناگوار سی نظر ڈال کر کہا۔۔۔
اوہ۔۔۔ جاٸیں۔۔۔ جاٸیں۔۔۔ماہم نے طنزیہ سے انداز میں ایسے کہا جیسے کہہ رہی ہو جان چھوڑیں بھٸ۔۔۔
یہ کون ہیں محترم ۔۔۔ پاس کھڑی ارسہ نے پوچھا۔۔۔
میری امی کی چچا زاد بہن ہیں ۔۔۔ ان کے بیٹے ہیں جناب۔۔۔ ماہم نے بڑے انداز سے گردن پر آۓ بالوں کو جھٹکا دیا۔۔۔۔
پہلے تو کسی شادی میں نہیں دیکھا ان کو۔۔۔ارسہ نے تھوڈی پر انگلی ٹکاتے ہوۓ اسی راستے کی طرف دیکھا جہاں سے ابھی وہ پھنکارتا ہوا نکلا تھا۔۔۔
ارے کہاں یاد نہیں۔۔۔ بچن میں بھی ایک طرف بیٹھے رہتے تھے یہ۔۔۔ سب ان کو چھیڑتے تھے۔۔۔ماہم نے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوۓ یاد دلایا۔۔۔
ارے ہاں۔۔۔ آیا یاد۔۔۔ یار تب تو عجیب مسکین سا تھا۔۔۔ اب توبڑا ہینڈسم ہو گیا ہے۔۔۔
ارے خاک ہینڈسم ویسے کے ویسے ہیں سڑیل سے۔۔۔ مجھے تو ایسے لڑکے زہر لگتے۔۔۔ناک پر چوبیس سو گھنٹے غصہ ہی جماۓ رکھتے ہوں۔۔۔
ماہم نے بھی گھور کر اسی جگہ پر دیکھا جہاں سے ابھی ابھی وہ گزر کر گیا تھا۔۔۔
******************
اماں کوٸ اور لڑکی نہیں ملی تھی آپکو کیا ۔۔۔ دانیال نے حیرانی سے کھلے منہ سے اس لڑکی کو دیکھا اور پھر دانت پیستے ہوۓ پاس بیٹھی نازش کو کہا۔۔
جو بڑے لاڈ سے اسے سامنے کسی پانچ سال کے بچے سے چپس کا پیکٹ چھینتی لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بتا رہی تھیں یہ ہے وہ لڑکی جو میں نے تمھارے لیے پسند کر چھوڑی ہے۔۔۔
دانیال کے بھنویں اپنی جگہ سے اوپر چلے گۓ تھے ۔۔ اور ماتھے پر چند ناگواری کے بل نمودار ہو گۓ تھے۔۔۔ اس چھلاوا نما لڑکی کی حرکتوں نے دو دن میں اس کی زندگی عزاب کر چھوڑی تھی اور اماں اسے پوری زندگی کے لیے مسلط کرنے پر تلی ہوٸ تھیں۔۔۔
کیوں کیا براٸ اس میں۔۔۔ دیکھ تو کیسی پیاری شکل اور ایسے چھوٹی سی چنچل سی گھر میں رونق ہو جاۓ گی۔۔۔ نازش نے دوپٹے کا کونا منہ میں دبا کر سرگوشی کی اور دور کھڑی ماہم کے سراپے کو محبت پاش نظروں سے دیکھا۔۔۔
ارے اماں بس کریں۔۔۔دانیال نے بے زار سے لہجے میں کہا۔۔۔ دیکھیں تو ذرا عجیب ہی مخلوق لگ رہی ۔۔ اب وہ پانچ سال کے بچے سے چپس کا پیکٹ چھین رہی ہے۔۔۔ دانیال نے ناگوار سی شکل بنا کر اماں کو اس کی عجیب حرکت کے بارے میں باور کروایا۔۔۔
وہ پہلے تو بچے کی منتیں کرتی رہی کہ وہ پیکٹ اسے دیے دے۔۔۔ لیکن جب وہ نہیں مانا تو اب اس سے چھین رہی تھی بچا بھی روتا ہوا پورا زور لگا رہا تھا۔۔۔
ارے تو کیا ہوا شوخ سی ہے ۔۔۔ ہنستی کھیلتی۔۔۔ قہقوں سے گھر گونج جاۓ گا۔۔۔ نازش نے اس کی کسی بات کو بھی سنجیدہ نہ لیتے ہوۓ اس لڑکی کی بلاٸیں اتاری۔۔۔
وہ گھر کی ازلی خاموشی سے تنگ آ چکی تھیں۔۔۔ جب سے فروا کی شادی ہوٸ تھی تب سے گھر کا سناٹا کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔۔۔ دانیال پر پڑھنے کا بھوت سوار تھا اب جا کر انجنیرنگ مکمل ہوٸ تھی۔۔۔
بس کریں اماں یہ ندیدہ پن ہے اس کا۔۔۔ اور اتنی زور سے ہنستی ہے کہ ارد گرد چار پانچ لوگ تو ویسے ہی دہل جاتے۔۔۔ دانیال نے اپنے ازلی سنجیدہ لہجے میں کہا۔۔۔
آپکو پتہ ہے اچھی طرح مجھے ایسی لڑکیاں بلکل نہیں پسند ۔۔۔ اس نے لبوں پر زبانی پھیری چور نظروں سے ارد گرد دیکھا کہ کوٸ ان کی باتیں نہ سن رہا ہو۔۔۔اور تھوڑے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔
میں ہر گز ہر گز اس عجیب سی مخلوق سے شادی نہیں کروں گا۔۔۔ آپ بلکل بات آگے نہیں چلاٸیں گی۔۔۔ انگلی دو ٹوک انداز میں نازش کی آنکھوں کے آگے کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
تم نے پہلے کب میری کوٸ بات مانی۔۔۔ نازش کی آنکھوں میں فورا سے پانی تیر نے لگا تھا۔۔۔ ایک بیٹا ویسے ہی جہان فانی سے کوچ کر چکا تھا۔۔۔اب یہ ایک تھا وہ اس کو ہر گز کھونا نہیں چاہتی تھیں۔۔۔ اس کی ہر خوشی اپنی زندگی میں ہی دیکھنا چاہتی تھیں۔۔۔
نہ نہ کرتے تیس کے ہو چلے ہو۔۔۔ اب بھی اپنی ہی من مانی کرتے رہو گے۔۔۔ انھوں نے دوپٹے سے آنسو پونچھے۔۔۔
اماں اب خیر تیس کا تو نہیں ہوا ابھی میں۔۔۔ دانیال نے خجل سا ہو کر کہا۔۔۔
جو بھی ہو تم نے کہا تھا شادی میری مرضی سے کرو گے۔۔۔ اب میں جو چاہوں پسند کروں۔۔۔ خفا سی شکل بنا کر نازش نے کہا۔۔۔
اماں یہ عجیب دھونس ہوٸ یار۔۔۔ پلیز اس کے علاوہ اور کوٸ بھی۔۔دانیال نے سامنے کرسی پر بیٹھی مزے سے بچے سے چھین کر لیا گیا پیکٹ کھاتی لڑکی کی طرف دیکھا۔۔ ہلکے سے گھنگرالے بال جو کندھوں سے نیچے آ رہے تھے۔۔۔ کندھوں پر ڈالے ساتھ بیٹھی لڑکی کے ساتھ گپے لگانے میں مصروف تھی۔۔۔
ارے مجھے تو اس جیسی اور کوٸ نہیں نظر آٸ اور تو دیکھ لے میں اس دفعہ یہاں سے بات پکی کر کے ہی جانے والی ہوں ۔۔ نازش نے ماتھے ہر بل ڈال کر کہا۔۔۔
نہیں تو تیرے ابا کروا دیں گے اس نازلین سے شادی ۔۔۔ وہ لے جاۓ گی میرے بیٹے کو اپنے ساتھ باہر میں کیا کروں گی اکیلے یہاں۔۔۔انھوں نے روہانسی آواز میں کہا۔۔۔
ان کو ڈر تھا کہ فراست اپنی بہن کی بیٹی سے ان کے بیٹے کی شادی کروا دیں گے اور وہ ہمیشہ باہر پلی بڑھی لڑکی ان کے بیٹے کو بھی ہمیشہ کے لیے باہر لے جاۓ گی۔
اماں اچھا چپ نہ۔۔۔ اچھا ۔۔ دانیال نے کوفت زدہ شکل بنا کر ارد گرد نظر دوڑاٸ۔۔۔
وہ شادی والے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوے تھے۔۔۔ مہندی کا فنگشن کچھ دیر میں ہی شروع ہونے والا تھا۔۔۔ وہ کل صبح یہاں لاہور آۓ تھے۔۔۔ بچپن میں خاندان کی ایک دو شادیوں میں شرکت کے بعد اس نے دور دراز کی شادی کے تقریبات میں جانا بلکل چھوڑ دیا تھا۔۔۔آج کوٸ دس بارہ سال بعد وہ آیا تھا۔۔۔ اپنی اماں کے رشتہ داروں کی کسی شادی پر۔۔۔ سنجیدہ طبیعت کا مالک کچھ تو وہ پہلے سے تھا اور کچھ نبیل کی موت کے بعد زیادہ ہی چپ سا رہنے لگا تھا۔
نبیل سب سے بڑا تھا اس سے چھوٹی فروا تھی اور تیسرے نمبر پر یہ تھا۔۔۔نبیل کی عجیب موت ان کی زندگی کے سارے رنگ لے اڑی تھی۔۔ وہ کچی عمر میں کسی لڑکی کی محبت میں ایسا گرفتار ہوا کہ اس کے نہ ملنے کے غم میں اپنی ہی جان لے بیٹھا تھا۔۔۔ اس کی موت نے دانیال کے ذہن پر ایسا گہرا اثر چھوڑا تھا کہ اسے محبت جیسی خرافات سے نفرت سی ہو گٸ تھی۔۔۔
نبیل کی موت کے بعد اس کی لڑکی ذات میں دلچسپی بلکل ختم ہو گٸ تھی۔۔۔ اسے لڑکیوں سے محبت کرنا ان کے پیچھے وقت برباد کرنا اور ان کے پیچھے جان تک دے دینا انتہاٸ کوٸ بیوقوفانہ عمل لگتا تھا۔
کیا ماٸیں اپنے بیٹوں کو اپنے سینوں سےلگا کر اس لیے سینچتی ہیں کہ وہ جوانی میں کسی انجان لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو کر اس ماں کی ممتا کو ہی چھلنی کر جاٸیں جس کی اس ایک رات کا قرض وہ ساری زندگی نہیں اتار سکتے جو اس نے ان کے لیے جاگ کر گزاری ہو۔۔ نبیل کی اس
1
ناگہانی موت کے وقت وہ سولہ سال کا تھا اور نبیل باٸیس سال کا ۔۔وہ دن اور آج کا دن اسے لڑکی سے خاص طور پر ایسی شوخ چنچل لڑکیوں سے عجیب سی چڑ تھی۔۔۔ بہت عرصے تک تو شادی کرنے سے ہی منا کرتا رہا اب وہ اٹھاٸیس کا ہو چلا تھا اماں کوفکر کھاۓ جاتی تھی۔۔۔ کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی خوشی دیکھ بھی پاٸیں گی کہ نہیں۔۔۔
بیٹا شادی سے پہلے ایسی ہی ہوتی سب لڑکیاں۔۔۔ بدل جاۓ گی تیرے رنگ میں ڈھل جاۓ گی۔۔۔ انھوں نے محبت سے دانیال کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔۔۔
اچھا۔۔۔ اگر میرا جینا اجیرن کر چھوڑا اس نے تو۔۔۔ دانیال نے اچٹتی سی نظر سامنے بیٹھی اس آفت پر ڈالی جو اماں اسکی زندگی میں لانا چاہتی تھیں۔۔۔
ارے رنگ بھر دے گی تیری پھیکی زندگی میں۔۔۔ اماں نے ماتھا چوما تھا۔۔۔
چلیں پھر بھروا لیں ان محترمہ سے میری زندگی میں رنگ۔۔۔ دانیال نے ہار مانتے ہوۓ ٹھنڈی آہ بھری تھی۔۔۔
آپ خوش رہیں بس۔۔ اس نے ماں کے چہرے پر برسوں بعد سکون دیکھ کر کہا۔۔۔
****************
امی۔۔۔ بات سنیں میری۔۔۔ ماہم نے شازیہ کا بازو زور سے پکڑ کرایک طرف لے جاتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ تیزی سے بڑے سے برآمدے سے ہوتی ہوٸ جا رہی تھی جو کھچاکھچ مہمانوں سے بھرا پڑا تھا جو بھاگ دوڑ میں رات کے فنگشن کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ وہ کوٸ سنسان گوشہ تلاش کر رہی تھی۔۔۔ پھر سٹور پر نظر پڑتے ہی وہ شازیہ کو وہاں لے جا چکی تھی۔۔
میں اس کھڑوس سے ہر گز نہیں کروں گی شادی۔۔۔ ماہم نےغصے سے آنکھیں پھاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ تو سانس بھی سوچ سوچ کر لیتا ہے۔۔۔ بے زار سی شکل بنا کر ہونٹوں کو عجیب سے زاویہ میں گھوماتے ہوۓ کہا۔۔۔
شازیہ اور باسط نے اسے بلا کر اس کے رشتے کی بابت سے اسے آگاہ کیا تھا۔۔۔ کیونکہ نازش کراچی جانے سے پہلے اسے دانیال کے ساتھ منسوب کر کے جانا چاہتی تھی۔۔ اسے کے تو چودہ طبق روشن ہو گۓ تھے یہ سن کر کہ وہ اکڑو سنگھ اس کی ساری زندگی کا ساتھی بنے گا۔۔۔
بات ایسے کرتا ہے جیسے ہر لفظ پر ٹیکس ادا کرتا ہو۔۔۔ ماہم نے ناک چڑھا کر دانیال کی اگلی خوبی گنواٸ تھی۔۔۔
چپ کر تیرے ابا نہ سن لیں کمبخت کہیں کی۔۔۔ شازیہ نے ڈر کر اس کی قینچی کی طرح چلتی زبان کو روکنے کے لیے اسے گھورکردیکھا تھا۔۔۔
اور کیا اس لوفر ارقم سے کروا دیں تمھاری شادی۔۔۔ نہ کسی کام کا نا کاج کا۔۔۔ شازیہ نے دانت پیستے ہوۓ محلے کے لڑکے کا کہا جو بہت دفعہ ان کے ہاں ماہم کے لیے رشتہ بھیج چکا تھا۔۔۔
امی نام نے لیں اس لنگور جیسی شکل والے ارقم کا میں کون سا اس کی خاطر انکار کر رہی اللہ توبہ امی۔۔ماہم نے افسوس سے شازیہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
اتنا اچھا سمجھدار بچا ہے خوش شکل ۔۔ اچھا کمانے والا۔۔۔ شازیہ اب پھر سے اسے ڈانٹنے کے انداز میں دانیال کی خوبیاں گنوانا شروع ہو گٸ تھیں۔۔۔
امی۔۔۔ کیا اچار ڈالوں گی ان ساری خوبیوں کا میں۔۔۔ مجھے ایسا باس قسم کا شوہر نہیں چاہیے ۔۔۔ ہوا میں ناگواری سے ہاتھ چلایا اور دھپ سے پاس پڑے پلنگ پر منہ پھلا کر بیٹھ گٸ۔۔
مجھے دوستوں کی طرح ہنسنے کھیلنے والا شوہر چاہیے۔۔۔ آپ نے دیکھا اس کو۔۔ کیسے اکڑو سا ہے۔۔۔ روہانسی سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
شروع سے اپنے ذہن میں ایسا ہی ہمسفر سوچا تھا جو اس کی شرارتوں میں اس کا ساتھ دے گا ۔۔۔ جیسے وہ زندگی جیتی اسی ڈھنگ سے جیے گا۔۔۔ لیکن یہاں تو معاملا ہی الٹ تھا۔۔۔موصوف کوٸ انتہاٸ ہی بڈھی روح اپنے جسم میں لیے اس دنیا میں تشریف لاۓ تھے۔۔۔ مسکراہٹ تو دیکھی تک نہ تھی ان دو دن میں اس کے چہرے پر ہاں البتہ اپنے لیے ناگواری بہت بار دیکھ چکی تھی۔۔۔۔
چپ کرجا۔۔۔ چپ کر جا بیوقوف کہیں کی۔۔۔ تیرے ابا سن لیں گے۔۔۔ شازیہ نے باسط سے ڈرتے ہوۓ کہا۔۔۔ وہ تو اس کو بتانا بھی نہیں چاہتے تھے ۔۔۔ شازیہ نے تھوڑی ضدکی تو وہ راضی ہوۓ تھے کہ چلو بتا دو اسے ذہنی طور پر سیٹ ہو جاۓ۔۔۔
امی مجھے نہیں پسند وہ کلف لگا شخص۔۔۔ بچوں کی طرح عجیب جھر جھری لیتے ہوۓ کہا۔۔
ارے یہ کلف دوسروں کے لیے ہوتی۔۔ بیوی کے تو سب ہی غلام ہوتے ۔۔۔ شازیہ نے پیار سے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لیا تھا۔۔۔
اور تجھ جیسی تو ویسے ہی دیوانہ بنا ڈالے گی اس کو ۔۔۔ شازیہ نے شرارت سے گال کھینچے تھے۔۔۔
امی مجھے کوٸ شوق نہیں چڑھا۔۔۔ پتا ہے کل سالن کیا گر گیا مجھ سے غلطی سے۔۔ موصوف نے تو ایسی ایسی سنا ڈالی خدا کی پناہ سمجھو بس۔۔۔ ماہم ابھی بھی منہ بسورے ہی بیٹھی تھی۔۔۔
لیکچر ہی دیتا رہے گا مجھے ہر وقت۔۔۔ ہاتھ اٹھا کر ماں کو آنے والے وقت سےڈرایا تھا۔۔۔
اچھا چل چپ اب بس۔۔۔ جلدی سے تیار ہو جا اب۔۔۔ اور تمیز سے رہیو۔۔۔ نازش کے سامنے ۔۔شازیہ نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالنے والا انداز اپنایا تھا۔۔۔۔اور تھوڑے غصے کے انداز میں تنبہیہ کیا۔۔۔
تیرے ابا بہت خوش ہیں اس رشتے سے۔۔۔ شازیہ نے اسے خبردار ہی تو کیا تھا۔۔۔
وہ کچھ بولنے کے لیے پر تول ہی رہی تھی کہ وہ باہر نکل گٸ تھیں۔۔۔
اور وہ یوں ہی کپڑوں کے ڈھیر لگے پلنگ پر ہاتھ دھرے بیٹھی تھی۔۔۔
*****************
اماں۔۔۔ اسے منع کریں ۔۔۔ یہ ڈانس نہیں کرے گی۔۔ دانیال نے نازش کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔ جبکہ نظریں سامنے کھڑی ماہم پر تھیں جو تین لڑکیوں کے ساتھ ابھی ابھی ڈانس فلور پرآٸ تھی۔۔۔ تینوں اپنی کمر کے گرد دوپٹے باندھ رہی تھیں۔۔۔ مطلب ڈانس شروع کرنے ہی والی تھیں۔۔۔
ماہم شہد رنگ کے چمکتے جوڑے میں دمک رہی تھی۔۔۔ ایک تو ویسے بہت خوش شکل تھی اوپر سے پورے لوازمات کے ساتھ تیار ہوٸ تھی۔۔۔
دانیال نے ایک بھر پور نظر اب کسی اور نظریے سے ڈالی تھی وہ واقعی مکمل دلکشی کو سمیٹ کر ایک ہی سراپے میں سینچی ہوٸ دوشیزہ تھی۔۔۔ ایک دم سے دل کو عجیب سی الجھن ہوٸ تھی کل وہ باقاعدہ اس کے نام سے منسوب ہونے جا رہی تھی اور پھر چند ماہ میں ہی شادی تھی۔۔۔ اور وہ یوں اس کے نا پسندیدہ کام کو سر انجام دینے کے لیے کھڑی تھی۔۔۔
بہت سے کزنز سیٹیاں بجا رہے تھے۔۔۔ یہ سب دیکھ کر وہ ظبط سے لب بھینچتا ہوا نازش کے پاس آیا تھا۔۔۔
ارے بیٹا ایسے کیسے ابھی تو بات ہی ہوٸ ہے صرف۔۔۔ نازش نے حیرانگی سے دانیال کو دیکھا تھا۔۔۔
تو اماں ہاں ہوگٸ ہے نہ ۔۔۔ آپ کہیں جا کر شازیہ خالہ کو منع کریں اسے ۔۔۔دانیال کو عجیب الجھن ہونے لگی تھی۔۔ دل کر رہا تھا جاۓ اوراسے خود کھینچتا ہوا فلور سے اتار دے۔۔۔
بیٹا تو کیا ہے ساری بچیاں مل کر ہی کر رہی ہیں۔۔ایسے اچھا نہیں لگے گا۔۔۔ نازش نے خجل ہوتے ہوۓ ارد گرد دیکھا۔۔۔
اماں تو ایسے مجھے اچھا نہیں لگے گا۔۔مجھے شادی نہیں کرنی پھر۔۔دانیال نے اپنے ازلی غصے میں دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
اچھا اچھا ایک منٹ۔۔۔ نازش نے ایک دم اس کے ارادے کو بھانپتے ہوۓ جلدی سے کہا وہ تو اتنی مشکل سے اسے راضی کر پاٸیں تھی۔۔۔
وہ تیزی سے چلتی ہوٸ کچھ دور کھڑی شازیہ کے پاس آٸ تھیں۔۔۔
شازیہ ۔۔۔ میری بات سننا ذرا۔۔۔ نازش نے ہاتھوں کو مسلتے ہوۓ دھیرے سے پر جوش کھڑی شازیہ کو کہا تھا۔۔
جی جی کہیں کسی چیز کی ضرورت ہے کیا۔۔۔ شازیہ جلدی سے متوجہ ہوٸ اور خوش دلی سے پوچھا۔۔
ارے نہیں۔۔۔ بس وہ ۔۔۔ نازش نے تھوڑے جز بز سے انداز میں لب کچلے اور ارد گرد دیکھا۔۔۔
کیا ہوا کوٸ پریشانی ہے۔۔۔ شازیہ نے پریشان سی ہو کر کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
ماہم کو کہیں ڈانس مت کرے ۔۔۔ دیکھیں دانیال۔۔۔۔ نازش نے تھوڑا رک رک کر شرمندہ سے لہجے میں کہا تھا۔۔۔
اوہ میں سمجھ گٸ ۔۔۔ آپ بلکل پریشان نہ ہوں بس وہ بچیوں نے مل کر کیا تھا تیار ڈانس۔۔۔ میں ابھی منع کیے دیتی ہوں۔۔۔ شازیہ نے فورا نازش کی شرمندگی دور کرنے والے انداز میں کہا۔۔
اور تیزی سے دوپٹہ سنبھالتی ماہم کی طرف بڑھی تھیں۔۔۔
ماہم ۔۔۔ ماہم۔۔۔شازیہ ماہم کا بازو پکڑ کر ایک طرف لے گٸیں
وہ جو ابھی ڈانس شروع ہی کرنے والی تھی تھوڑی عجیب نظروں سے شازیہ کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
تم لوگ کرو بیٹا۔۔۔ اس کو کچھ کام ہے۔۔۔ شازیہ نے معزرت کے انداز میں ارسہ اور عارفہ سے کہا۔۔۔ اور اس کا بازو پکڑ کر زبردستی ایک طرف لے آٸ تھیں۔۔۔
کیا ہے امی۔۔۔ بیچ میں سے ہی کھینچ لاٸیں مجھے ۔۔کیا آفت آ گٸ اب۔۔۔ ماہم نے بازو سہلاتے ہوۓ ۔۔۔ ماتھے پر بل ڈال کر ناگواری سے پوچھا۔۔۔
تو بس رہنے دے ڈانس کرنے کو۔۔۔ شازیہ نے پھولی سانس کو بحال کرتے ہوۓ تیزی سے کہا۔۔۔
امی۔۔۔ میں ایک ہفتے سے ارسہ والوں کے ساتھ اپنی ٹانگیں توڑوا رہی ہوں ۔۔۔اور آج آپ مجھے کھینچ کر لے آٸ ہیں وہاں سے۔۔۔ پہلے بھی تو کرتی تھی میں اب کیا مسٸلہ ہو گیا۔۔۔ ماہم کا پارہ چڑھ گیا تھا۔۔۔ عجیب نا سمجھی کے انداز میں شازیہ کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
بیٹا وہ دانیال ۔۔ شازیہ نے نظریں چراٸ۔۔۔
اس کو پسند نہیں بیٹا یہ سب۔۔۔ انھوں محبت سے کہا۔۔۔
چلیں۔۔۔۔ جی ۔۔۔ ہو گۓ نہ شروع۔۔۔ امی میں نہ کہتی تھی عجیب کوٸ سڑو قسم کا انسان ہے۔۔۔ ماہم نے ناک سکیڑ کر کہا۔۔۔ دل کیا جا کر زور سے کندھا ہلا کر پوچھے کیا خرید لیا ہے مجھے جناب نے۔۔۔
خدا کی پناہ ابھی تو کوٸ رشتہ نہ ناطہ۔۔۔ جناب دھونس جمانا بھی شروع۔۔ غصے سے ماہم نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔ اور ایک نظر اپنی ماں کے پہلو میں بیٹھے دانیال پر ڈالی جو اسی کی طرف چور نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسکو دیکھتے ہی فورا نظروں کا زاویہ بدل ڈالا تھا۔۔۔
ارے بات مانتی ہے میری جوتی۔۔۔ میں تو کروں گی ڈانس۔۔۔ ماہم نے زور اے پیر پٹخا تھا جب کے نظریں ابھی بھی دور کھڑے دانیال پر ٹکی تھیں۔۔۔ اس نے آنکھیں سکیڑ کر اس کو دیکھا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: