Ajab Bandhan Novel By Huma Waqas – Episode 3

0
عجب بندھن از ہما وقاص – قسط نمبر 3

–**–**–

ہیر برش کو آہستہ سے سنگہار میز ہر پر بجایا تھا۔۔۔ پر ماہم پر کوٸ اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔
لہنگا بیڈ پر پھیلا پڑا تھا۔۔۔ دانیال کمر پر دونوں ہاتھ رکھے پر سوچ انداز میں بیڈ کے پاس کھڑا تھا۔۔۔
پھر اس کے لہنگے کو دھیرے سے ایک طرف سمیٹتے ہوۓ بلاآخر وہ اپنی جگہ بنا ہی چکا تھا۔۔۔
آج پہلی دفعہ زندگی میں اس کے علاوہ ایک اور زی روح اس کمرے میں موجود تھی۔۔ اس کی شریک حیات جس کو اس کی ہی پسلی سے پیدا کیا گیا تھا۔۔۔ اس کے وجود سے اٹھنے والی بھینی بھینی سی خوشبو دل کو بے تاب کر رہی تھی۔۔۔
اب وہ بازو کو فولڈ کیے اپنی ہیتھیلی پر سر ٹکاۓ اس دلکش وجود کو دیکھ رہا تھا جو اس کا تھا پورے کا پورا پر اس کی بے تابی اور بے چینی سے بلکل بے خبر سو رہا تھا ۔۔۔
دھیرے سے اس کی ایک طرف ڈھلکی بندیا کو اپنے ہاتھوں سے درست کیا تھا۔۔۔
لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آٸ تھی۔۔۔ عجیب شادی کی پہلی رات ہے میری۔۔۔ میں اپنی سوٸ ہوٸ دلہن کے حسن سے آنکھیں سیک رہا ہوں۔۔۔ ایک دم سے سیدھا ہو کر لیٹ کر سینے پر ہاتھ رکھے۔۔۔
یعنی کے محترمہ کو کوٸ خوشی کوٸ انتظار نہیں تھا۔۔۔ مزے سے سوگیں۔۔۔ آنکھوں پر بازو الٹا کر کے رکھا اور پھر نیند اسے بھی اپنی آ غوش میں سمیٹ چکی تھی۔۔۔
گال پر کچھ تکلیف کے احساس سے آنکھ کھلی تھی ۔۔
افف دھیرے سے آنکھیں کھلی تھیں۔۔۔ اور پھر وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی۔۔۔
اور اپنے بلکل ساتھ لیٹے دانیال کو حیرانی سے دیکھا۔۔۔
زور سے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔ جلدی سے گردن گھوما کر گھڑی کی طرف دیکھا۔۔۔چار بج رہے تھے۔۔۔ اوہ۔۔۔ پتہ نہیں کب آۓ ہوں گے۔۔ لب دانتوں میں دبا کر سوچا۔۔۔ اور ایک نظر ساتھ لیٹے دانیال پر ڈالی ۔۔۔
محترم ناٸٹ ڈریس میں ملبوس آنکھوں پر بازو ٹکاۓ آرام سے سو رہے تھے۔۔۔
کھڑوس کہیں کا ۔۔۔ ایسی بھی کیا اکڑ اگر سو گٸ تھی تو جگا ہی لیتے۔۔۔
اب دوپٹہ ان کے بازو کے نیچے پھنسا تھا اور ادھر سے اس کے سر پر پنوں سے ٹکا تھا۔ ۔۔ ایک دم سے جو نیچے اترنے کی کوشش کی تو دانیال کے بازو کو جھٹکا لگا تھا اور اس کی آنکھ کھل گٸ تھی۔۔۔
وہ بار بار آنکھیں جھپکتا ہوا سامنے بیڈ کے پاس پریشان سی کھڑی ماہم کو دیکھ رہا تھا لیکن دونوں طرف خاموشی تھی۔۔۔
دانیال کے اچانک اٹھ جانے پہ جیسے جان پسلیوں کے درمیان میں آ کر لرزنے لگی تھی۔۔۔ اور وہ بس دیکھے ہی جا رہا تھا۔۔۔
ماہا نے دوپٹہ بیڈ سے اٹھا کر سمیٹا تھا۔۔۔ چوڑیوں کی کھنک نے کمرے کی خاموشی کو توڑا تھا۔۔۔
دانیال جیسے ایک دم سے ہوش میں آیا تھا۔۔۔ بیڈ پر اٹھ کر بیٹھتے ہوۓ گلے کو مخصوص انداز میں صاف کرتے ہو آواز نکالی ۔۔۔
بیٹھو۔۔ دھیرے سے بھاری آواز میں کہا سونے کی وجہ سے آواز اور بھاری ہو گٸ تھی۔۔
میں چینج کرنا چاہ رہی ہوں بہت تھک گٸ ہوں ۔۔۔ ماہم نے مدھر سی آواز میں کہا۔۔ وہ واقعی بہت تھک چکی تھی اور میک اپ اب الجھن کا شکار کر رہا تھا ۔۔۔
ڈریسنگ میز کے سامنے کھڑے ہو کر وہ الجھ کر رہ گٸ تھی کتنی کوٸ پنز تھیں دوپٹے میں کچھ کمر پر بھی لگاٸ ہوٸ تھیں ان کو کیسے اتاروں وہ روہانسی سی ہو رہی تھی۔۔ اور اتنی بے دردری اور بے ترتیبی سے وہ سب کچھ سنگہار میز پر رکھ رہی تھی۔۔۔
اس کو خود سے ہی گھلتے دیکھ کر دانیال کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ بکھر گٸ تھی۔۔۔
ایک ہی جست میں وہ بیڈ سے اتر کر نیچے بلکل اس کے پیچھے کھڑا تھا۔۔۔
مۓ ۔۔آٸ۔۔۔ مدھم سے سرگوشی نما آواز ماہم کا دل دھڑکا گٸ تھی۔۔۔ ایک دم وہ ساکت کھڑی رہ گٸ تھی۔۔۔
دانیال اب اس کے دوپٹے کی پنز کھوج کھوج کر اتار رہا تھا۔۔۔ دوپٹے کو پکڑ کر کمر پر لگاٸ گٸ پنز کو دھیرے سے پکڑ کر کھولا تھا۔۔ دوپٹے کے پلو لڑھکتے ہوے دانیال کے پاٶں پر گرے تھے۔۔۔
اب وہ کندھے پر لگی پنز کو کھول رہا تھا۔۔۔
ماہم کی ریڑھی کی ہڈی میں جیسے میٹھے رس کی سوٸیاں چبھنا شروع ہو گٸ تھیں۔۔۔ پلکیں گالوں پر لرزنے لگی تھیں۔۔۔
دانیال نے دھیرے سے اس کا رخ اپنی طرف موڑا تھا۔ ۔۔۔
ماہم نے زور سے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔
دانیال کو اس کے اس انداز پر ہنسی آ گٸ تھی۔۔۔
کیا ہوا کانپ کیوں رہی ہو ۔۔۔ دانیال کی سرگوشی بلکل کان کے پاس ہوٸ تھی۔۔۔
افف ۔۔۔ ماہم کو ایسا لگا ابھی ڈھے جاۓ گی۔۔ دل کی دنیا اتھل پتھل ہو کر رہ گٸ تھی۔۔۔
اور بھی مدد چاہیے ہے کیا پنز تو اتر گٸ ہیں ۔۔۔ دانیال کی شرارت بھری آواز پر جیسے ہتھیلیاں ہی بھیگ گٸ تھی۔۔۔
نہ۔۔نہیں۔۔۔ لڑکھڑاتی آواز میں بس اتنا ہی کہہ کر وہ تیزی سے الماری کی طرف بڑھی تھی۔۔۔ جبکہ دانیال اپنی ہنسی چھپاتا ہونٹوں پر انگلیاں رکھے وہیں کھڑا تھا۔۔
اوہ ۔۔۔ واش روم کی کنڈی اڑا کے وہ ایک دم سے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی تھی۔۔۔ یہ کیا ہے سب۔۔۔ اپنی غیر ہوتی حالت خود کو ہی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔ پھر دانیال کے آخری فقرے کو یاد کر کے پھر سے ہتھیلیوں میں منہ چھپا لیا تھا۔۔۔
اچانک نظر سامنے سنگہار میز پر گٸ تو جیسے دانیال کا سر گھوم گیا ہر چیز اتار اتار کر یوں پھینک کر گٸ تھی۔۔۔
اپنی صفاٸ اور سلیقہ پسندی کی پھڑکتی رگ کو بامشکل ضبط کرتا ہوا وہ بیڈ پر آ کر بیٹھا تھا۔۔۔
وہ سرخ ڈبی میں سے نکلے نکلیس نما باریک چین کو ہاتھوں میں ڈالے دیکھ رہا تھا جب وہ دھلے منہ اور سادہ سوٹ میں ملبوس باہر نکلی تھی۔۔۔
بیٹھو۔۔۔ دانیال نے پیچھے ہوتے ہوۓ اپنے ساتھ جگہ بناٸ تھی ۔۔۔
وہ جز بز سی ہوتی دونوں لبوں کو بھینچے بیٹھ گٸ تھی۔۔۔
یہ منہ دکھاٸ۔۔۔ دانیال نے چین آگے بڑھاتے ہوۓ مدھم لہجے میں کہا تھا۔۔۔
اتنا تو پتا نہیں کھڑوس کو ۔۔۔ خود پہناتے ہیں ۔ ماہم نے کڑھ کر سوچا اور چین پکڑ لی۔۔۔
اسے رکھنا ہے یا پہننا ہے۔۔۔ ماہم نے مدھر سی آواز میں کہہ کر خاموشی کو توڑا تھا۔۔۔
تمھاری مرضی۔۔۔ بھرپور نظر ماہم کے دھلے ہوۓ شفاف دلکش چہرے پر ڈالتے ہوۓ کہا۔۔۔
ماہم نے چین کو گلے میں ڈال کر آگے گھوما کر بند کیا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ایک بات پوچھوں۔۔۔ دانیال ایک دم سے قریب ہوا تھا۔۔۔
جی۔۔۔ وہ اس کے اتنا قریب آ جانے پر جھنیپ گٸ تھی۔
پھر انکار کیوں نہیں کیا تھا۔۔۔ دانیال نے آنکھیں سکیڑ کر مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا ۔۔۔
ہمت ہی نہیں ہوٸ۔۔۔ گھٹی سی مدھم سے آواز نکلی تھی ماہم کی۔۔۔
کیوں ۔۔۔ ماہم کے دوپٹے کے پلو کو ہاتھ میں لے کر جزبات میں بھیگتی ہوٸ آواز میں کہا۔۔۔
جیسے آپکی نہیں ہوٸ تھی۔۔۔ ماہم کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر کو کس طرف نظر اٹھا کر دیکھے ۔۔ اول توپلکیں اتنی بھاری ہو رہی تھیں۔۔۔۔ کہ اٹھنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔۔
مجھے تو کرنا ہی نہیں تھا انکار۔۔۔ دانیال نے محبت سے اس کے چہرے کا طواف کرتے ہوۓ شرارت سے کہا۔
کیوں۔۔۔ دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔۔۔ کوٸ لڑکی جتنی بھی پٹاخہ کیوں نہ ہو یہ لمحہ ہی ایسا ہوتا کہ سوری بہادری زمین بوس ہو جاتی ہے۔۔۔
سوچا برداشت کر ہی لیتا ہوں ۔۔۔ دانیال نے شرارت سے کہا۔۔۔
ایسی بھی کیا مجبوری تھی۔۔۔ ماہم کا شرمانہ ایک دم سے جیسے ختم ہوا تھا۔۔۔ دانت پیس کر پوچھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔م مجبوری تو بہت سنگین تھی۔۔۔ لیکن تمہیں سمجھ نہیں آۓ گی۔۔۔ دانیال نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ اس کا لال ہوتا چہرہ دیکھا تھا۔۔۔
میں اتنی بیوقوف نہیں ہوں۔۔۔ ناک پھلا کر دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
پھر کتنی ہو۔۔۔ دانیال نے ایک دم سے اس کے گود میں رکھے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔۔۔
ماہم نے ایک دم سے زور سے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔
کتنی بھی نہیں۔۔۔ لرزتی سی شرماٸ ہوٸ گھٹی سی آواز نکل پاٸ تھی جبکہ دانیال کے مضبوط ہاتھ میں اس کا نازک سا ہاتھ کانپ رہا تھا۔۔۔۔
چلو مان لیا۔۔۔ دانیال کو اس کی غیر ہوتی حالت پر پیار آ گیا تھا۔۔۔
یہ کیا ہوا ہے۔۔۔ اچانک ماہم کی گال پر پڑے نشان پر نظر گٸ تو بے ساختہ پریشان ہو کر دانیال نے اپنی ہتھیلی اس کے گال پر رکھی تھی۔۔۔
شاٸد وہ دوپٹہ گال کے نیچے آ گیا تھا۔۔۔ لرزتی سی آواز میں ماہم نے کہا تھا ۔۔ دانیال تو جیسے گال سے ہاتھ اٹھانا بھول چکا تھا۔۔۔
آذان کی آواز پر وہ ایک دم سے پیچھے ہوا تھا۔۔۔
ماہا نے اٹکی ہوٸ سانس بحال کی تھی جو اس کی جسارت پر لمحہ بھر کو تھم سی گٸ تھی۔۔۔
دانیال تیزی سے اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ ابھی بھی بے ترتیب دھڑکنوں سمیت اسی لمس کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔
*****************
ماہم۔۔ یہ تم چیزیں سمیٹ لو ۔۔۔ دانیال نے ناگواری سے سارے دن کے بکھری ہوٸ اس کی چیزوں کی طرف دیکھ کر کہا جو صبح سے اسی انداز میں ڈریسنگ میز پر بکھری ہوٸ تھیں۔۔۔
اوہ ۔۔۔ اچھا۔۔۔ وہ جو ابھی سو کر اٹھی تھی پریشان سی ہوی پاس آٸ تھی۔۔اور جلدی سے سارا کچھ اتنے برے طریقے سے میز کے دارز میں رکھنے لگی تھی۔۔۔
ایسے کیسے رکھ رہی ہو۔۔۔ دانیال نے ناگوار سی نظر اس کے اس طریقے پر ڈالی تھی۔۔۔
کہ کیا۔۔ مطلب ۔۔۔ وہ ایک دم سے جز بز سی ہو کر رکی تھی۔۔۔
مطب ان کو ذرا ترتیب سے رکھو۔۔۔ رعب دار آواز میں دانیال نے کہا تھا۔۔۔
بعد میں رکھ لوں گی۔۔۔ ماہم نے دھیرے سے لاپرواہی کے انداز میں دراز بند کر دیا تھا۔۔۔
ماہم جلدی کرو پارلر جانا ہے۔۔۔ فروا دروازہ بجا تی ہوٸ اندر آٸ تھی۔۔۔
رہنے دو ایسے ہی بہت پیاری لگ رہی یہ۔۔ دانیال نے شرارت سے کہا۔۔۔
اچھا۔۔۔ تمہی کو صرف نہیں دیکھنا اسے باقی بھی بہت سے لوگوں نے دیکھنا ہے۔۔۔ ولیمہ ہے آج۔۔۔ فروا نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
ماہم آ جاٶ جلدی سے۔۔ میں انتظار کر رہی ہوں۔۔۔ فروا تیزی سے کہتی ہوٸ باہر کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
سنو۔۔۔ دانیال نے بیگ اٹھاتی ماہم کے قریب آ کر شرارت سے کہا تھا۔۔۔
جی۔۔۔ وہ ایک دم جھینپ سی گٸ تھی ابھی تو صبح والی
جسارت پر دل صیح سے قابو میں نہیں آیا تھا۔۔
آج بھی پنز اتارنی پڑیں گی کیا۔۔۔ تھوڑا سا جھک کر شرارت سے کہا تھا۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ ماہم نے زور سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔
ہم۔م۔م۔ تو پھر زیادہ لگوانا پنز۔۔۔ دانیال نے بھیگی سی آوز میں کان کے قریب سرگوشی کی تھی۔۔۔
اوہ۔۔ ماہم تیزی سے دل کو سنبھالتی باہر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
جبکہ عقب سے آتا دانیال کا قہقہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر رہا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: