Ajab Bandhan Novel By Huma Waqas – Episode 4

0
عجب بندھن از ہما وقاص – قسط نمبر 4

–**–**–

دھوپ میں جلتے ہوۓ تن کو۔۔۔چھایا پیڑ کی مل گٸ۔۔
روٹھے بچے کی ہنسی جیسے۔۔۔۔پھسلانے سے پھر کھل گٸ
کچھ ایسا ہی اب محسوس دل کو ہو رہا ہے۔۔۔۔
برسوں کے پرانے زخم پر مرہم لگا سا ہے۔۔۔
کچھ ایسا اہم اس لمحے میں ہے۔۔۔ یہ لمحہ کہاں تھا۔۔۔ میرا۔۔۔۔۔۔
اب ہے سامنے اسے چھو لوں ذرا۔۔۔ مر جاٶں یا جی لوں ذرا۔۔۔
خوشیاں چوم لوں۔۔یا رو لوں ذرا۔۔۔
دانیال کی گٹار پر چلتی انگلیاں اور اس کی آواز پورے میرج ھال میں گونج رہی تھی۔۔۔
لیکن اس کی آنکھیں محبت سے لبریز بار بار ہلکے گرے رنگ کے دلکش جوڑے میں ملبوس ماہم کا طواف کر رہی تھی۔۔۔
ماہا اس کی آواز کے جادو میں خوشگوار حیرت لیے گنگ بیٹھی تھی۔۔ ولیمے کی تقریب پر بار بار دوستوں کے اسرار پر اس نے اپنے شوق کو سب پر ظاہر کیا تھا۔۔۔
اور گانا اس کے ماہا کے لیے جزبات کی عکاسی کر رہا تھا۔۔۔
ماہم سے پہلے اس نے کسی بھی لڑکی کے بارے میں نہ ایسا محسوس کیا تھا اور نہ اس نے کبھی کوشش ہی کی تھی۔۔
وہ تو کسی لڑکی سے عشق کرنے کا قاٸل ہی نہیں تھا ۔۔۔ اور آج اس لڑکی کے آگے گھٹنے ٹیک چکا تھا جو کل رات ہی اس کی زندگی میں شامل ہوٸ تھی۔۔۔
آپ کی آواز بہت اچھی ہے۔۔۔ بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھی وہ مدھر سی آواز میں گویا ہوٸ تھی۔۔۔
تمھاری بھی۔۔۔ دانیال نے دھیرے سے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔۔۔
ماہا دھیرے سے مسکرا دی تھی۔۔۔ ساری غلط فہمی ایک دن میں ہی دل سے دھل گٸ تھی۔۔۔ دانیال اتنا بھی کھڑوس نہیں تھا۔۔۔ اس نے آنکھیں اٹھا کر سامنے محبت سے دیکھتے دانیال کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
تم میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی ہو۔۔۔ اماں سے بہت محبت ہے مجھے ۔۔۔ اس کے بعد تم سے۔۔۔ وہ اپنی بھیگی سی آواز میں اسے بہت سی باتیں بتا رہا تھا۔۔۔ اور اس کے ہاتھوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔۔۔
اور وہ کھوٸ کھوٸ سی اپنے دل کے بادشاہ کی باتوں کو سن رہی تھی۔۔۔۔
| *************
یہ ناخن کب اتارنے ہیں۔۔۔ دانیال نے اپنے بالوں میں ماہا کے پھرتے ہاتھ کو پکڑ کر آگے کیا تھا۔۔۔
کیوں ۔۔۔ اتارنے کیوں میرے اپنے ہیں۔۔۔ ماہا نے مدھر سا قہقہ لگا کر کہا تھا۔۔۔
تمھارے ہیں۔۔۔۔۔ دانیال ایک دم اچھل کر بیٹھا تھا۔۔۔
جی۔۔۔۔ ماہا نے حیرت سے اس کے چہرے ہر پھیلتی ناگواری کو دیکھا۔۔۔
چڑیل ہو کیا ۔۔۔ خون پیتی ہو۔۔۔ دانیال نے خود پر ضبط کر کے شرارت کے انداز میں کہا۔۔۔
ابھی تک تو کسی کا نہیں پیا لیکن آپکا پی سکتی ہوں۔۔۔ ماہا نے بھی شرارت سے ہی جواب دیا۔۔۔
کاٹو ان کو۔۔۔ دانیال نے رعب سے کہا تھا۔۔۔۔
کیوں بھٸ مجھے پسند ہیں۔۔۔ ماہا نے بچوں کی طرح خفا سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
اسے اپنے ہاتھ پر ناخن بہت اچھے لگتے تھے وہ ان کا بہت خیال بھی رکھتی تھی۔۔۔صاف رکھتی تھی فاٸلنگ کرتی تھی باقاعدگی سے۔۔۔۔
ارے مجھے پسند نہیں ہیں۔۔۔ دانیال نے اس کے ہاتھ کو خفا سی شکل بنا کر ایک طرف کیا تھا۔۔۔
تو آپکے تھوڑی ہیں۔۔۔ ماہا ابھی بھی اس بات کو مزاق میں ہی لے رہی تھی۔۔۔ اس نے کبھی باسط کے ڈانٹنے پر نہیں کاٹے تھے ناخن تو اب کیا کاٹنے تھے۔۔۔
تم کس کی ہو ۔۔۔ میری ۔۔۔ دانیال نے پیار سے اس کے بالوں کی لٹ کو پیچھے کیا۔۔۔
ان کی شادی کو آج تین دن ہو چکے تھے ان تین دنوں میں وہ ایک دوسرے کے بہت قریب آ چکے تھے۔۔۔
تو یہ ہاتھ بھی میرے۔۔۔ چلو اب اٹھو کاٹو ان کو۔۔۔ دانیال نے پیار سے اس کے ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
اتنی محنت سے بڑھاۓ ہیں ایسے کیسے کاٹ لوں بھلا۔۔۔ ماہا اس کی سنجیدگی دیکھ کر روہانسی ہو گٸ تھی۔۔۔
کیا مطلب کیسے ۔۔۔ دانیال نے بھنویں اچکاٸ تھیں۔۔۔
دانیال مجھے بہت پسند ہیں ۔۔ بچوں کی طرح التجا کی تھی۔۔۔
مجھے نہیں پسند اٹھو کاٹو ان کو۔۔۔ دانیال نے اب کی بار تھوڑی سختی سے کہا تھا۔۔۔
وہ ہنوز خفا سی شکل لیے بیٹھی رہی ۔۔۔
ٹھیک ہے میں ہی کاٹ دیتا ہوں۔۔۔ دانیال اٹھ کر اب سنگہار میز کے دراز کو کھول رہا تھا۔۔ پھر اس میں سے نیل کٹر لے کر اس کی طرف بڑھا تھا۔۔
دانیال پلیز۔۔۔ ماہم نے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے چھپا لیے تھے۔۔۔
اچھا۔۔۔ مجھے اپنے طریقے آتے ہیں پھر روکو ذرا تم ۔۔۔ دانیال نے شرارت سے اس کی بچوں جیسی حرکت دیکھی۔۔۔
اور پھر اچھل کر بیڈ پر آیا تھا۔۔۔ ماہا زور زور سے مصنوعی چیخیں مار رہی تھی لیکن دانیال پر کوٸ اثر نہیں ہوا تھا اس نے زبردستی ناخن کاٹ کر ہی دم لیا تھا۔
******************
ماہا ۔۔ ماہا۔ ۔۔۔ دانیال نے غصے سے لان میں بچوں کے ساتھ کھیلتی ماہا کو آواز دی تھی۔۔
آج دانیال کی ان کے باس کے ہاں شادی کی دعوت تھی۔۔۔ دانیال کی اپنے باس کے ساتھ اچھی دوستی بھی تھی۔۔ تو اس نے آج ان کو شادی کی دعوت دی تھی۔۔۔ ماہا ہمیشہ کی طرح بچوں کے ساتھ بچہ بن گٸ تھی۔۔۔
جی۔۔۔ ماہا نے ہنستے ہوۓ گیند ہوا میں اچھالی تھی اور دانیال کے پاس آٸ تھی۔۔۔
یار کیا کر رہی ہو۔۔۔ تم یہاں بچوں کے ساتھ کھیلے جا رہی ہو مسز خاور اکیلی بیٹھی ہیں۔۔۔ دانیال ماتھے پر بل ڈالے اسے ڈانٹنے کے انداز میں کہہ رہا تھا
وہ ۔۔ میں سوری ۔۔۔ دانیال کو ایک دم آج اتنے غصے میں دیکھ کر وہ پریشان سی ہو گٸ تھی۔۔۔
ان کی شادی کو پندرہ دن گزر چکے تھے اور ان پندرہ دنوں میں دانیال نے اسے اتنی محبت سے نوازہ تھا کہ وہ ہواٶں میں اڑنے لگی تھی۔۔۔
کبھی کبھی تھوڑا سا ڈانٹ دیتا تھا لیکن وہ بھی نرم سے لہجے میں۔۔۔ وہ اتنی خوش تھی کہہ گھر میں بھی وہ لاڈلی رہی تھی اور اب دانیال بھی اس کے ہر وقت لاڈ اٹھاتا تھا۔۔ لیکن آج تو اس کا انداز ہی اور تھا۔۔۔
چلو اب اندر ۔۔۔ دانیال نے دانت پیستے ہوۓ گھور کر کہا تھا۔۔۔
یار کیا ہو تم۔۔۔ چھوڑو اب یہ بچپنا۔۔۔ وہ دانیال کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی جا رہی تھی جب دانیال نے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔
جی۔۔۔ اپنی اس تزلیل پر وہ بڑی مشکل سے آنسو روک پاٸ تھی۔۔۔ اور مدھم گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔
وہ زبردستی مسکراتی ہوٸ مسز خاور کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔
منہ کس بات پر بنا ہوا ہے۔۔۔ دانیال نے گاڑی چلاتے ہوۓ محبت سے دیکھا تھا۔۔۔
کسی بات پر نہیں۔۔۔ ماہا نے غصے سے رخ دوسری طرف موڑا تھا۔۔۔
ارے یار غلط بات تھی وہ۔۔۔ زبان میں مٹھاس بھر کر کہا۔۔۔
غصہ اب اتر چکا تھا ۔۔ لیکن ماہم کا پھولا ہوا منہ اب اسے تکلیف دے رہا تھا۔۔۔
دانی ۔۔ بچے مجھے ضد سے لے کر گۓ تھے۔۔۔ مجھے اچھا لگتا ان کے ساتھ کھیلنا۔۔۔ ماہا نے روہانسی آواز میں مگر غصے سے کہا۔۔۔
پر یار ۔۔۔ مجھے نہیں اچھا لگتا۔۔۔ وہ اتنے ڈیسنٹ لوگ ہیں کیا سوچتے ہوں گے۔۔۔ دانیال نے پھر سے ماتھے پر بل ڈالتے ہوۓ کہا۔۔۔
کوٸ کچھ نہیں صرف آپ ہی ایسا سوچتے ہیں۔۔۔ ماہا نے بھی دانت پیستے ہوۓ کہا جبکہ آواز ابھی بھی روہانسی تھی۔۔۔
چلو پھر تم اب لڑ لو بس میری بات نا ماننا۔۔۔۔ دانیال نے خود کو نارمل رکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
میں نہیں لڑ رہی آپ سے۔۔۔ ماہا نے باقاعدہ رونے والی آواز میں کہا۔۔۔
اچھا چلو موڈ ٹھیک کرو۔۔۔ دانیال ایک دم سے نرم پڑا تھا۔۔۔
آٸسکریم کھاٶ گی۔۔۔ محبت سے کہا۔۔۔
اچھا یار غصہ ختم کرو۔۔۔ ایک ہاتھ سے سٹرینگ پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے ماہا کے ہاتھ کو اپنے سینے پر رکھا تھا۔۔۔
*************
ماہا۔۔۔ کیوں کر رہی ہو بار بار کال۔۔۔ دانیال نے چڑنے جیسی آواز میں کہا۔۔۔
گھر آٸیں۔۔۔ ماہا نے رعب سے کہا تھا۔۔۔
ارے یاربتایا تو ہے۔۔۔ آذر کے گھر ہوں۔۔۔ دانیال نے پھر سے چڑ کر کہا تھا۔۔
نہیں آپ آٸیں بس ۔۔۔ آج تین دن ہو گۓ یہی کام ہے بس ۔۔۔ ماہا نے غصے سے اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔
ان کی شادی کو ایک ماہ دس دن ہو چکے تھے۔۔۔ اس وقت اماں سو جاتی تھیں۔۔۔ اور دانیال نے چار دن سے دوستوں کی طرف زیادہ دیر بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔۔۔ جس پر اب ماہا کی برداشت جواب دے گٸ تھی۔۔۔
ارے یار تم سو جاٶ نہ۔۔۔ محبت سے پچکارنے کے انداز میں کہا۔۔۔
نہیں آتی مجھے نیند۔۔۔ ماہا نے پاس پڑے تکیہ کو زور سے ایک طرف اچھالا تھا۔۔۔
دل چاہ رہا تھا جاۓ اور بازو پکڑ کر دانیال کو وہاں سے لے آۓ اور روز کی طرح اس کے سینے پر سر رکھ کر سو جاۓ۔۔۔ عجیب قسم کا غصہ آ رہا تھا اسے۔۔۔
ماہا اب تم بے جا ضد کر رہی۔۔۔ دانیال نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔۔۔
کوٸ بے جا نہیں ہے۔۔۔ ماہا نے غصے سے چیختے ہوۓ کہا۔۔ شام کو آفس سے واپس آتے کھانا کھاتے ٹی وی دیکھتے اور پھر باہر۔۔۔
ہماری نٸ نٸ شادی ہوٸ ہے آپکے دوستوں کو یہ بھی خیال نہیں کیا۔۔۔ ماہا نے روہانسی آواز میں کہا۔۔۔
پاگل مت بنو سارا دن تمھارے ساتھ تھا میں۔۔۔ دانیال نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
نہیں آپ گھر آٸیں۔۔۔ماہا نے ضدی انداز میں کہا۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی اور سو جاٶ۔۔۔ دانیال نے دھاڑنے کے انداز میں کہا۔۔۔
ماہا ایک دم دہل گٸ تھی ۔۔۔ جلدی سے ڈر کر فون ایک طرف رکھا۔۔۔
آنسو ٹپ ٹپ بہنا شروع ہو گۓ تھے۔۔۔
ھاتھ مت لگاٸیں۔۔۔ دانیال کے ہاتھ کو زور سے جھٹکا تھا۔۔۔ جو اس نے آنکھوں سے بازو ہٹا کر دیکھنے کے لیے رکھا تھا۔۔۔
اوہ تو جاگ رہی ہو ۔۔ میں سمجھا سو گٸ۔۔۔ دانیال نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا۔۔۔
وقت دیکھیں پہلے۔۔۔ ماہا نے ناک پھلا کر کہا اور رخ دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔
سارا وقت تمھارا۔۔۔ اس کے بازو پر تھوڈی اٹکا کر دانیال نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
کوٸ وقت نہیں ہے سارا وقت اماں کا اور دوستوں کا ہے۔۔۔ ما ہا نے غصے سے کہا اور زور سے بازو کو جھٹکا دیا۔۔۔
ماہا۔۔۔ اماں کو بیچ میں مت لاو۔۔۔ دانیال نے ضبط سے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔۔۔
دوسری طرف بھی خاموشی چھا گٸ تھی۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ اتنا غصہ۔۔۔ کیسے کم ہو گا یہ ۔۔ کچھ دیر بعد دانیال کی شرارت بھری آواز پھر سے ابھری تھی۔۔۔
رات کے بارہ بجے کیسے بھی کم نہیں ہو گا۔۔۔ ماہا نے بھاری آواز میں مگر غصے سے کہا۔۔۔
اچھا یہ بات ہے۔۔۔ دانیال اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے پھر آٸسکریم کھانے کا پروگرام کینسل کرتا ہوں۔۔۔ دانیال نے ایک شوخ نظر ماہا پر ڈال کر کہا۔۔۔
اب ایسی بھی کوٸ ناراض نہیں ہوں میں۔۔۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد وہ آنسو پونچھتی ہوٸ اٹھی تھی۔۔
گڈ پھر جلدی سے اٹھ جاٶ۔۔۔ دانیال نے قہقہ لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔
چلیں۔۔۔ وہ جلدی سے بچوں کی طرح خوش ہوتی ہوٸ چپل پہننا شروع ہو گٸ تھی۔۔۔
ان کپڑوں میں۔۔۔دانیال نے بھنویں اچکا کر اس کے سراپے کو دیکھا تھا۔۔۔
وہ دانیال کی ٹی شرٹ کے نیچے اپنا لوز ٹرایوزر پہنے ہوۓ تھی۔۔۔
تو کیا ہے۔۔۔ بچوں کی طرح ہونٹ باہر نکالتے ہوۓ کہا۔۔
یار یہ صرف میرے سامنے ۔۔۔۔۔ محبت سے ماہا کا گال تھپتھپایا تھا
مجھے پتا ہے تم نے بچوں کی طرح کار سے باہر آ جانا اور پھر میرے دماغ کی پھرکی گھوم جاتی ہے۔۔۔۔ دانیال نے کندھوں سے پکڑ کر واش روم کی طرف دھکیلا جب کے وہ بچوں جیسی شکل بناۓ جا رہی تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: