Ajab Bandhan Novel By Huma Waqas – Episode 6

0
عجب بندھن از ہما وقاص – قسط نمبر 6

–**–**–

ہے تو لڑکی نہ۔۔۔ بس مت کیا کریں بات۔ ۔۔۔ ماہا نے اپنے مخصوص انداز میں پھر سے پابندی لگا چھوڑی تھی۔۔۔
اور کوٸ حکم جی۔۔۔۔ دانیال نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوۓ کہا۔۔۔
کھانا کیسے کھایا آج ۔۔۔ دانیال کی بے زاری بھانپ کر فورا اگلا سوال دغا ۔۔۔ جو وہ ہر دفعہ کی کال پر پوچھ رہی تھی۔۔۔
باہر سے لے کر آیا تھا۔۔۔ اسی تھکی سی آواز میں کہا۔۔۔
دانیال ہر چار گھنٹے بعد گھنٹے گھنٹے کی بات کرتا تھا اس سے۔۔۔
ان کی شادی گیارہ ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا ۔۔ ماہم آج بھی اس سے پہلے دنوں جیسی ہی توجہ اور محبت کی طلبگار تھی جب کہ وہ اس کی عادتوں کے نہ بدلنے پر اب کچھ اکتانے سا لگا تھا۔۔۔
آپ کب آ رہے۔۔۔ اگلا سوال پھر چہکنے کے انداز میں کیا ۔۔۔
مہندی پر نہیں پہچ پاٶں گا شادی پر آٶں گا۔۔۔ اسی روکھے سے انداز میں جواب دیا۔۔۔
مجھے تو کال بھی نہیں کرتے آپ کیا بلکل یاد نہیں آتی۔۔۔ ماہم نے پھر سے خفگی کا اظہار کیا۔۔۔
اب کی بار دانیال باقاعدہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
*************
ارے میں نہیں کروں گی۔۔ ماہم نے ارسہ کے ہاتھ کو پیار سے اہنے بازو سے الگ کیا تھا۔۔
اچھا تھوڑا سا سب کے ساتھ ۔۔ ارسہ نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور التجاٸ شکل کے ساتھ منت کرنے والا لہجا اپناتے ہوۓ کہا۔
ارے بھٸ تمہیں پتہ ہے نہ ۔۔۔ وہ تیزی سے دانیال کا بتانے لگی تھی کہ انہیں بلکل پسند نہیں یہ ناچ گانا لیکن پھر کچھ سوچ کر چپ ہو گٸ تھی کیونکہ ان کے ہاں اس بات کو بلکل بھی معیوب گردانا ہی نہیں جاتا تھا ہر شادی بیاہ کی تقریب میں خوب ہلا گلا ہوتا اور لڑکے اور لڑکیاں مل کر خوب ناچتے۔۔۔ مجھے بھول گیا ہے۔۔ اس نے جان چھڑوانے کے لیے اگلا بہانہ بنایا۔۔۔
مجھے پتا ہے دانیال بھاٸ کو اچھا نہیں لگتا تو یار ان کو تھوڑی نہ پتا چلے گا وہ کہاں بیٹھے کراچی میں۔۔۔ آجاٶ نہ سب لگے ہوۓ۔۔۔ ارسہ نےفورا اس کا انداز بھانپ لیا تھا اور پھر سے التجاٸ انداز میں کہا تھا۔۔۔ ارسہ اسکے ڈانس کی فین تھی وہ چاہتی تھی اس کی شادی پر اس کی بہترین دوست اور کزن ضرور رونق لگاۓ۔۔۔
اچھا رکو ذرا ۔۔۔ پہلے اماں سے پوچھ کر آٶ وہ بیٹھی ہیں سامنے۔۔۔ ماہا نے کچھ پر سوچ انداز میں کہا۔۔۔ گانا اتنا اچھا چل رہا تھا کہ وجود تو اس کا بھی خود با خود تھرکنے لگا تھا ۔
پاگل اتنا ڈرتی ہو ۔۔۔ اچھا میں بات کرتی ہوں بیٹھو تم۔ ۔۔ ارسہ نے اسے ہلکی سی چپت لگاٸ اور تیزی سے چلتی ہوٸ ۔۔۔ نازش کی طرف گٸ جو شازیہ کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی اس کے کان میں جا کر کچھ کہا۔۔۔
انھوں نے دور کھڑی لب کچلتی ماہم کی طرف دیکھا اور مسکرا کر سر اثبات میں ہلا دیا۔۔۔
دیکھا اماں کہتی کر لے سب مل کر کررہے ہیں ۔۔۔ ارسہ نے آ کر جوش میں اس کا بازو کھینچا تھا۔۔۔
چلو چلو اٹھو اب ۔۔ وہ تیزی سے اسے اٹھاتی ہوٸ سب کے بیچ میں لے آٸ تھی۔۔۔
اور پھر وہ اتنا اچھا ڈانس کر رہی تھی کہ آہستہ آہستہ سب ایک طرف ہو گۓ تھے اور وہ اکیلی ڈانس کر رہی تھی ۔۔ سب لوگوں کی تالیوں کے جھرمٹ میں وہ ڈانس کرنے میں مگن تھی ۔۔۔
جب اسی جھرمٹ میں سے لال چہرہ لیے دانیال سامنے آیا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: