Ajab Bandhan Novel By Huma Waqas – Episode 7

0
عجب بندھن از ہما وقاص – قسط نمبر 7

–**–**–

ماہا گھومتی گھومتی ایک دم دانیال پر نظر پڑتے ہی رک گٸ تھی اس کے ہاتھ ہوا میں ہی ٹھہر گۓ تھے اور جان تو جیسے پیروں میں آ گٸ تھی۔۔۔ چہرہ زرد پڑ گیا تھا ۔۔۔
دانیال کی کھا جانے والی آنکھیں جیسے وجود میں گڑنے لگی تھیں۔۔۔
دانیال تیزی سے واپس پلٹا تھا دماغ گھوم گیا تھا۔۔ وہ جو ماہم کو سرپراٸزز دینے کی غرض سے ایک دن پہلے پہنچ گیا تھا خود شاک ہو گیا تھا۔۔۔ ماہم کو پتا تھا اس کو اس طرح کے کام بلکل نہیں پسند پھر بھی وہ وہی کرتی تھی جو اس کے جی میں آتا تھا ۔۔۔ وہ بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا برآمدے سے ہوتا ہوا کمرے کی طرف جا رہا تھا۔۔۔
ماہا بھاگتی ہوٸ اس کے پیچھے آ رہی تھی۔۔ زبان تو گنگ ہو گٸ تھی ۔۔ اب کیا کہے گی دانیال کو۔۔۔
دانی ۔۔۔دانی ۔۔ پلیز میری بات تو سنیں۔۔۔ وہ اپنی بڑی سی فراک کو سنبھالتی ہوٸ پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔
دانی۔۔۔ وہ بھاگتی ہوٸ اس کے پیچھے ایک کمرے میں پہنچی تھی۔۔۔
دانیال ایک کمرے میں جا کر رک گیا تھا۔۔
کیا بات سنو میں تمھاری ۔۔۔ ہاں کیا بات سنو۔۔۔ دانیال نے دانت پیستے ہوۓ آواز کو مدھم رکھنے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔۔
دانی وہ ارسہ بہت ضد کر رہی تھی سب لوگ۔۔۔ ماہم نے ہاتھوں کو آپس میں پیوست کرتے ہوۓ گھبراٸ سی شکل میں کہا۔۔۔
جسٹ شٹ اپ سب لوگ ۔۔ دانیال نے انگلی کھڑی کرتے ہوۓ بات کاٹی تھی جب کہ ماتھے پر بل تھے اور آنکھیں غصے سے بھری پڑی تھیں۔۔۔
تم اکیلی لگی ہوٸ تھی وہاں باقی سب تو تماشہ دیکھ رہے تھے تمھارا۔۔۔ دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
دانی نہیں سب لوگ تھے۔ ۔۔ ماہم نے لرزتی آواز میں کہا ۔۔ وہ گھبرا گٸ تھی اس کے یوں اچانک آ جانے پر ۔۔۔
پاگل سمجھ رکھا ہے مجھے ۔۔ تمھیں جب پتا ہے مجھے نہیں پسند ۔۔ تمہیں تو تب میں نے روکا تھا جب ابھی ہمارا رشتہ ہونے جا رہا تھا ۔۔ اب تو تم میری بیوی ہو۔۔۔ دانیال نے غرانے کےانداز میں آواز کو مدھم رکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
دانی سوری مہ۔۔مجھے۔۔۔ ماہا نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوۓ شرمندہ سے لہجے میں کہا۔
اوہ بس کرو تم اب ۔۔۔ دانیال نے غصے سے بازو جھٹکا تھا اور رخ موڑ لیا۔۔۔
آپ میری بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے میں نے اماں سے اجازت لی تھی۔۔ ماہم گھوم کر پھر سے سامنے آٸ تھی۔۔۔
اماں ۔۔ سے ۔۔۔ دانت پیس کر طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔
مجھ سے کیوں نہیں۔۔۔ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر گھورتے ہوۓ کہا۔۔۔
دانی آپ یہاں نہیں تھے۔۔ ماہا نے ہوا میں ہاتھ اٹھا کر کندھے اچکاتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہاں اسی بات کا تو تم نے فاٸدہ اٹھایا۔۔۔ دانیال نے ناک پھلا کر لب بھینچتے ہوۓ کہا۔۔۔
اب آپ بات کو بڑھا رہے ہیں ۔۔۔ ماہا کو ایک دم یہ بات ناگوار گزری تھی۔۔۔
تم موقع دیتی ہو تو بات بڑھتی ہے۔۔۔ غصے سے ناک پھلا کر پھنکارتے ہوۓ کہا۔۔
تو ایسا بھی کیا کردیا میں نے آپ تو ایسے کر رہے جیسے کوٸ گناہ کر دیا میں نے ۔۔۔ میری بہن کی شادی تھی ڈانس ہی کیا ہے۔۔۔ ماہا بھی اب غصے میں بول رہی تھی۔۔۔
ہاں تمھارے لیے ہر وہ بات غیر اہم ہے جو میرے لیے اہم ہوتی۔۔ دانیال نے انگلی سیدھی کرتے ہوۓ دانت پیس کر طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔
تو آپ کے لیے کونسا میں اہم ہوں ۔۔۔ آپ نے بھی تو ایسے رکھا ہوا مجھے جیسے کہ مجھے خریدا ہو۔۔۔ سانس بھی آپکی مرضی سے لوں۔۔۔۔ ماہا چیختے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
دانیال کی باتیں اسے تزلیل کا باعث لگنے لگی تھیں۔۔۔
تو تم تم کیا کرتی ہو میرے ساتھ ۔۔۔ خود اپنا پتا ہے ۔۔۔ دانیال نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ آنکھیں نکال کر پوچھا۔۔۔
تم نے تو میری زندگی ہی بدل کر رکھ دی ہے۔۔۔ گھر میں باندھ کر بیٹھا رکھا ہے مجھے۔۔ دانت پیس کر کہا ۔۔ ماہم کی اونچی آواز کی وجہ سے اب وہ بھی خود کو قابو میں نہ رکھ سکا تھا اس کی آواز بھی اونچی ہو چکی تھی۔۔۔
آپ نے کیا بدلہ ہاں۔۔ بدلی تو میں ہوں ۔۔۔ ماہا نے طنزیہ ہستے ہوۓ دانت پیس کر کہا۔۔۔
میرا سب کچھ ختم کر چھوڑا ۔۔۔ میرا اونچی ہنسنا آپکو نہیں پسند ۔۔۔ میرا بچوں کے ساتھ کھیلنا بولنا ۔۔ بال کھولنا۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔۔۔ وہ چیخ کر بولی تھی۔۔۔۔
ہاں نہیں پسند پر تم نے کچھ بھی نہیں بدلہ میرے لیے۔۔۔ دانیال نے غصے سے اس کی بات رد کی۔۔۔
کیوں بدلوں میں۔۔۔ میں غلام ہوں کیا ۔۔۔ ماہا نے سر ہوا میں مارتے ہوۓ کہا۔۔۔
تو کیا میِں غلام ہوں۔۔۔ دانیال کو اس کی بدتمیزی پر اور غصہ آ رہا تھا۔۔۔
کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو پاگل مت بنو گھر نہیں یہ تم دونوں کا۔۔نازش نے آکر غصے سے دانیال کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
ارے دانیال بیٹا جانے دو سب بچے مل کر کر رہے تھے ۔۔ شازیہ نے ماہم کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ کہا جس کے اب آنسو گالوں پر بہنے لگے تھے۔۔۔
آنٹی یہ اکیلی کر رہی تھی۔۔۔ دانیال نے لہجے کو تھوڑا دھیما کیا تھا پر ناگواری ابھی بھی قاٸم تھی۔۔۔
ہاں کر رہی تھی اکیلی میں ۔۔۔ آپ نے کوٸ بات ماننی بھی ہوتی میری ۔۔۔ ماہم پھر غصے سے دانیال کی طرف مڑی تھی اور روتے ہوۓ بھاری آواز میں کہا۔۔۔
دانیال تم زیاتی کر رہے ہو میری بچی کے ساتھ اتنا وہ مجھے بتاتی کہ تم کتنا ڈانٹتے رہتے اسے ذرا خیال نہیں رکھتے میری پھول سی بچی کا۔۔۔ شازیہ سے ماہم کے آنسو برداشت نہیں ہوۓ تو غصے سے دانیال کی طرف انگلی کر کے بولی تھیں۔۔۔
آنٹی پھر آپ اپنی پھول سی بچی اپنے پاس ہی رکھیں۔۔۔ دانیال نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔ اس کا اس بات پر پارہ ہی چڑھ گیا تھا کہ وہ اپنی امی سے اس کی شکاٸتیں کرتی تھی۔۔۔
اماں میں جا رہا ہوں آپ چلیں گی میرے ساتھ۔۔۔ دانیال کا رخ ایک دم نازش کی طرف ہوا تھا۔۔۔ اس نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔
دانیال بیٹا میری بات کو غلط رنگ مت دو۔۔۔ شازیہ نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا تھا۔۔۔۔
امی بس چپ کریں۔۔۔ جانے دیں انھیں۔۔۔ ماہا نے غصے سے ہاتھ کھڑا کر کے شازیہ سے کہا۔۔۔
انھیں ویسے ہی کبھی مجھ سے پیار تھا ہی نہیں ۔۔۔ ان کے سر تھوپی گٸ تھی میں۔۔۔ ماہا نے روہانسی آواز میں دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔
دانیال تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا
**************
دانیال دانیال یہ کیا پاگل پن ہے۔۔۔ نازش نے بیگ کی زپ بندکرتے دانیال کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔۔
اماں اب آپ دیکھ لیں اس لڑکی کے کام۔۔۔ دانیال نے دانت پیستے ہوۓ کہا اس کی آواز کانپ رہی تھی غصے سے۔۔
آپ تو جانتی ہیں کتنی محبت کرتا ہوں اس سے میں میں نے اپنے دوست اپنی ہر ایکٹیویٹی چھوڑی اس کے لیے۔۔۔ اور یہ اپنی ماں سے کہہ رہی میں ظلم کرتا ہوں اس پر۔۔۔ دانیال سر پکڑ کر ایک طرف بیٹھ گیا تھا۔۔
خود اس کے کام چیک کریں آپ کہتی تھیں یہ میرے رنگ میں رنگ جاۓ گی۔۔۔ دانیال نے ایک ہاتھ اٹھا کر روہانسی آواز میں کہا اور ہاتھ پھر سے سر پر رکھ لیا۔۔
میں آپکو پہلے ہی منع کرتا رہا مجھے ایسی لڑکی سے ہر گز شادی نہیں کرنی یہ میرے مزاج سے نہیں ملتی ہے۔۔۔ دانیال اب انگلی کو ہوا میں چلا چلا کر ہر بات چبا چبا کر کہی تھی
ماہا ابھی ابھی کمرے کی طرف آٸ تھی اور پھر دانیال کی بات پر اس کے قدم رک گۓ تھے۔۔
آپکوہی شوق چڑھا تھا شوخ چنچل لانے کا۔۔۔ غصے سے کہا۔۔۔
تو آپ اب چھوڑ دیں۔۔۔ اتنا پچھتاوا ہو رہا ہے ۔۔۔۔ ماہا نے زور سے دروازے ہر ہاتھ مارا اور چیخنے کے انداز میں دانیال سے کہا۔۔۔
ہاں ہے پچھتاوا۔۔۔ میں کیا ظلم کرتا ہوں تم پر۔۔۔ دانیال بھی اسی کے انداز میں چیخا تھا۔۔۔
کرتے ہی ہیں ۔۔۔ آپ کو کبھی محسوس ہو تب نہ نوکرانی بنا رکھا ہے ۔۔۔ چھوٹی سی غلطی پر برتن اٹھا اٹھا کر مارتے ہیں۔۔ ماہا نازش کے ہاتھ کو ایک طرف دھکیلتے ہوۓ بولی تھی۔۔
ماہا بیٹا اتنا تو کرتا ہے تمھارا۔۔۔ نازش نے پاس آ کر کہا۔۔۔
بس کریں اماں ۔۔۔ آپ نہیں جانتی آپ کے سارے حقوق پورے کرتے ہیں نہ آپکو کیا پتا لیکن بیوی کے بھی کچھ حقوق ہوتے یہ نہیں پتا آپکے بیٹے کو۔۔۔ ۔ماہم نے غصے سے چڑ کر کہا تھا۔۔
چپ کر جاٶ ۔۔۔ ماہا۔۔۔ دانیال کو اپنی اماں کے ساتھ کی گٸ بدتمیزی پر تپ چڑھ گٸ تھی۔۔۔
نہیں کرتی چپ آج شادی کے ایک سال ہونے پر بھی آپ اپنی ماں سے کھڑے یہ کہہ رہے کہ یہ فیصلہ ہی غلط تھا ۔۔ تو چھوڑ دیں نہ۔۔۔ ماہا نے غصے سے پھنکارتے ہوۓ کہا۔۔۔
چھوڑ دوں گا۔۔۔ دانیال بھی اسی انداز میں چیخا تھا۔۔
چھوڑیں پھر اسی وقت چھوڑیں ۔۔۔ دیں مجھے طلاق۔۔۔ دیتے کیوں نہیں۔۔۔ ماہا نے اور زور سے کہا۔۔اور دانیال کا گریبان پکڑ کر جھنجوڑا تھا۔۔۔
دانیال کی برداشت کی حد ختم ہو گٸ تھی اور پھر ایک زناٹے دار تھپڑ تھا جو اس کا گال سیک گیا تھا۔۔۔
دے دوں گا وہ بھی۔۔۔ دانیال نے ایک دم سے اسے الگ کیا تھا۔۔
اماں جلدی چلیں۔۔۔ وہ غصے سے باہر نکلا تھا۔۔۔
**************
6
ماہا بیٹا چلو ساتھ غصہ تھوک دو۔۔۔ نازش نے ماہا کو پیار سے کہا تھا۔۔
اماں میری کزن کی شادی ہے میں ان کے ساتھ لگ کر چل دوں ۔۔۔ میں نہیں جاٶں گی ۔۔۔ تھپڑکا غصہ ابھی بھی موجود تھا۔۔۔
ماہا وہ غصے میں ہے بیٹا مرد کا غصہ بہت برا ہوتا۔۔۔ چلو ۔۔۔ نازش نے اس کےغصے کو اگنور کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
نازش اب دیکھ لو کیا سلوک کر رہا ہے دانیال۔۔۔ شازیہ بیٹی سے بھی زیادہ رورہی تھی اکلوتی بیٹی کی تکلیف دیکھی نہیں جا رہی تھی۔۔
آپ بھی بجاۓ اس کو سمجھانے کے اسی کو جھکنے کے لیے کہہ رہی ہیں ۔۔۔ نہیں جاۓ گی میری بچی جس نے یہاں تھپڑ دے مارا پتا نہیں گھر جا کر کیا سلوک کرے گا۔۔۔ شازیہ غصے سے کہتے ہوۓ ماہا کو سینے سے لگا رہی تھی۔۔۔
شازیہ غلط بات مت کرو ماہا نے اسے غصہ ہی اتنا دلا دیا تھا۔۔ نازش نے تحمل سے کہا۔۔۔
ہاں آپکو تو میری ہی بیٹی غلط لگے گی ۔۔۔ وہ آپکی اولاد ہے جیسے ماہا میری ۔۔۔ آپ لوگوں نے چھوڑ کے جانا چلی جاٸیں ہم پر بوجھ نہیں ہماری بچی۔۔۔ شازیہ نے روتے ہوۓ کہا۔۔۔
بے شک آپ پر بوجھ نہیں لیکن یہ رشتے ایسے نہیں نبھتے میری بہن ۔۔۔ نازش نے ضبط کرتے ہوۓ شازیہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
جو بھی ہے میری بیٹی اس دفعہ نہیں جھکے گی ۔۔۔ اسے کہیں آ کر پہلے معافی مانگے شازیہ نے غصے سے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔۔
وہ بھی مانگ لے گا اس کا غصہ ایسا ہی ہے وقتی جب اترے گا اس کے آگے پیچھے پھیرے گا۔۔۔ نازش نے پھر سے ماہا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔۔۔
مجھے نہیں جانا اماں ۔۔۔ پلیز آپ جاٸیں۔۔ ماہم اب شازیہ کے گلے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔۔
اماں چلیں ۔۔۔ کیوں منت سماجت کر رہی ہیں۔۔۔ دانیال اسی وقت کمرے میں داخل ہوتے ہی ناگواری سے نازش سے گویا ہوا تھا۔۔۔
ماہا اٹھو چلو دانیال کے ساتھ۔۔ باسط نے آکر رعب دار آواز میں کہا تھا۔۔۔
مجھے نہیں جانا۔۔۔ ماہا نے بھاری ہوتی ہوٸ آواز میں آنسو صاف کرتے ہوۓکہا
باسط صاب آپ تو چپ ہی رہیں بچی اس وقت بھی پیٹتی رہی مجھے شادی نہیں کرنی اس سے آپ نے جھونک دیا میری بچی کو ۔۔۔ شازیہ تنک کر بولی تھی۔۔۔
تم چپ کرو ۔۔۔ بیو قوف عورت بچی کا گھر اجاڑ رہی ہو۔۔۔
دانیال بیٹا غصہ تھوک دو۔۔۔ رک جاٶ شادی تک ۔۔ پھر کل چلے گی یہ تمھارے ساتھ۔۔۔ باسط نے اب ماتھے پر بل ڈالے کھڑے دانیال کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔
انکل معزرت میں اب مزید نہیں رک سکتا۔۔۔ اسے آپ کچھ دن اور یہاں رکھیں۔۔۔ میں آ کر لے جاٶں گا۔۔۔ دانیال نے غصہ ضبط کرتے ہوۓ دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔
نہیں کوٸ ضرورت نہیں آنے کی مجھے نہیں رہنا آپکے ساتھ ۔۔۔ ماہا نے چیختے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
ماہا چپ کرو بلکل۔۔۔ باسط نے اونچی آواز میں ڈانٹا تھا۔۔
چلو دانیال بیٹا۔۔۔ پاگل ہے یہ۔۔۔ وہ دانیال کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر باہر کی طرف چل دۓ تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: