Ajab Bandhan Novel By Huma Waqas – Episode 8

0
عجب بندھن از ہما وقاص – قسط نمبر 8

–**–**–

اماں میرے کپڑے پریس نہیں ہیں۔۔۔ دانیال اپنے ہاتھ میں شرٹ پکڑے کچن تک آیا تھا۔۔۔
بیٹا مجھے اب کہاں یاد رہتا ہے ۔۔ مجھے کہہ دیا کرو۔۔۔ پراٹھے کو پلٹتے ہوۓ پریشان سی شکل میں نازش نے کہا۔۔۔
جب سے ماہم آٸ تھی انھوں نے کچن کاکام کم کر دیا تھا اورآج ان کومشکل ہو رہی تھی۔۔۔
فراست تو باہر مقیم تھے۔۔۔ وہ اور دانیال گھر میں ہوتے تھے یاپھر بعد میں ماہم آ گٸ تھی اور جب سے ماہم آٸ تھی وہ تو بس آرام طلب ہی ہو گٸ تھیں۔۔۔
لاہور سے واپس آۓ ان کو آج تیسرا دن تھا آج دانیال کو آفس جانا تھا۔۔۔تین راتیں بے چینی میں گزاری تھیں اس نے رات بھر جاگنے کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔۔ماہا کے رویے نے اسے اندر سے کاٹ کر رکھ دیا تھا۔۔ ماہا اس کی پہلی محبت تھی۔۔۔وہ جو خود کو بہت مضبوط سمجھتا تھا بری طرح اپنی بیوی کی محبت میں گرفتار تھا یہ اسے ان تین دنوں میں با خوبی اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔ ہر جگہ بس وہ ہی نظر آ رہی تھی۔۔اس کا ہنسنا بچوں جیسی شرارتیں ۔۔ اسے تنگ کرنا۔۔۔ اس کی قربت سب کچھ۔۔اور اس کی نفرت بھرے الفاظ اس کی آنکھوں کے کونے بھگونے کا باعث بن رہے تھے۔۔۔۔
اچھا رکیں میں خود کر لیتا ہوں ۔۔ وہ مریلے قدموں کے ساتھ چلتا ہوا استری سٹینڈ تک آیا تھا۔۔۔
ایک سال ہونے کو تھا اس ایک سال میں ایک دفعہ بھی تو وہ استری کے قریب نہیں گیا تھا۔۔۔ ماہا ٹھیک ہو یا بیمار اسے کپڑے استری ہی ملتے تھے۔۔۔
کپڑے استری کرنے کے بعد وہ بے دلی سے ناشتے کے میز ہر آیا تھا۔۔۔ ماہا بھاگتی دوڑتی نظر آ رہی تھی۔۔۔ کیسے بوکھلاٸ سی پھرا کرتی تھی وہ صبح کو کہ دانیال کہ کسی کام میں غلطی نہ کر بیٹھے۔۔۔
اماں ۔۔۔فراٸ نہیں لیتا اب میں انڈا۔۔۔ ماہا املیٹ بناتی تھی۔۔بے ساختہ اپنے سامنے فراٸ انڈا دیکھ کر وہ کہہ گیا تھا اور پھر چپ سا ہو گیا تھا۔۔۔
میں بنا دیتی ہوں رکو۔۔۔ نازش نے جلدی سے انڈے کی پلیٹ اٹھاٸ تھی۔۔۔۔
اماں ۔۔۔ رہنے دیں۔۔۔۔ دانیال بے دلی سے کرسی دھکیل کر اٹھا تھا۔۔۔
اور مریل قدموں سے چلتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔
**********
ماہا ادھر بیٹھی ہو اندھیرے میں ۔۔۔ ساٸرہ نے مدھر سی آواز میں کہا۔۔۔
ساٸرہ کی آواز پر ایک دم سے چونک کر وہ خیالوں سے باہر آٸ تھی۔۔۔ آج پانچ دن ہو گۓ تھے اور دانیال نے ایک دفعہ بھی مسیج یا کال نہیں کی تھی۔۔۔ وہ انھی خیالوں میں گم رات کے وقت صحن میں لگے جھولے ہر بیٹھی تھی۔۔ جب اس کی منجھلی بھابھی ساٸرہ اس کے پاس آٸ تھی۔۔۔
ویسے ہی بھابھی ہوا اچھی چل رہی۔۔۔ آپ اس وقت۔۔۔ جلدی سے آنکھوں کو صاف کیا تھا ۔۔
تمھارے بھاٸ آۓ ہیں باہر سے دروازہ کھولنے لے لیے آٸ تھی۔۔۔ ساٸرہ اس کے ساتھ جھولے پر بیٹھتے ہوۓ بولی تھی۔۔
بھاٸ ۔۔۔ وہ تو آ گۓ تھے نہ آفس سے۔۔۔ ماہا نے حیرانگی سے کہا۔۔۔
ہاں آ گۓ تھے اس وقت ذرا دیر کے لیے دوستوں کی بیٹھک ہوتی وہاں جاتے کچھ دیر آجکل وہ کو ٸ میچ چل رہے کرکٹ کے تو وہ دیکھتے اکٹھے بیٹھ کر ۔۔ ساٸرہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔
ساٸرہ کی شادی کو دو سال ہوۓ تھے ابھی ۔۔۔ ماہا نے حیرانگی سے اس کے چہرے کا جاٸزہ لیا تھا۔۔ وہاں کوٸ جلن کوٸ بے چینی نہیں تھی۔۔۔
بھابھی۔۔۔ ایک بات پوچھوں۔۔۔ گھٹی سی آواز میں ماہم نے کہا۔۔۔
ہاں۔۔۔۔پوچھو۔۔۔ ساٸرہ نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
ساٸرہ اور اس کا بھاٸ عدیل اکٹھے پڑھتے تھے بعد میں دونوں کی پسندیدگی کی وجہ سے ان کی شادی ہوٸ تھی۔۔۔
بھابھی آپکو غصہ نہیں آتا بھاٸ پر ۔۔۔ بھاٸ شروع سے ایسے لا پرواہ ہیں ۔۔۔ ماہا نے ناخن سے جھولے کو کھرچتے ہوۓ کہا۔۔۔
غصہ کس بات کا۔۔۔ ساٸرہ نے حیران سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
مطلب آپ یہ نہیں چاہتی بس ہر وقت آپ کے ساتھ ہی رہیں وہ۔۔ مدھم سی آواز میں رک رک کر کہا۔۔۔
نہیں تو ۔۔۔ شادی کا مطلب یہ تھوڑی نہ ہے کہ بس ایک آدمی اپنی ہر خوشی بس آپ سے ہی جوڑ لے۔۔۔ ساٸرہ نے میٹھے سے لہجے میں کہا۔۔۔
وہ ایسی ہی تھی۔۔ نرم دل سی ہر وقت مسکرانے والی سمجھدار سی۔۔۔
ماہا ۔۔۔میری امی کہا کرتی تھیں۔۔۔کہ اگر شوہر کو زیادہ باندھنے کی کوشش کرو تو وہ دور ہونے لگتا ہے۔۔۔ یہ رشتہ چار چیزوں سے خوشگوار بنتا ہے۔۔۔ وہ ماہا کی بے چینی کو بھانپ گٸ تھی اور اب اس کے جھکے چہرے کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
محبت۔ ۔۔۔ اعتماد۔۔۔ عزت۔۔۔ اور سپیس۔۔ مطلب آزادی۔۔۔ ساٸرہ نے مسکرا کر اس کے چہرے کو محبت سے اوپر کیا۔۔۔
یہ چار چیزیں دونوں اطراف سے ہونی چاہیے۔۔۔ ساٸرہ نے لب بھینچتے ہوۓ کہا۔۔۔
دیکھو پابندیاں تو ہم ماں باپ کی نہیں برداشت کر پاتے۔۔ تو بیوی اگر شوہر پر لگانا شروع کر دے۔۔۔ ساٸرہ نے دھیمے سے لہجے میں گہری بات کہہ دی۔۔۔
کہ آپ دوستوں کے پاس نہ جاٸیں ۔۔۔ آپ کسی لڑکی سے چاہیے آپکی کولیگ ہو بات تک نہ کریں۔۔۔ اس کی مرضی سے سوٸیں اس کی مرضی سے جاگیں ۔۔۔ تو وہ اکتانے لگے گا۔۔ ساٸرہ آہستہ آہستہ گردن ارد گرد گھوماتے ہوۓ اسے سمجھا رہی تھی
اسے اعتماد دیں۔۔۔ آپ کا جو مقام ہے وہ تھوڑی دیر بات کرنے والی لڑکی کا کبھی نہیں ہو سکتا ہے۔۔۔ آپکو اس کے دل کی ملکہ بننا ہے اس کے لیے گھٹن نہیں۔۔۔ وہ بڑے رک رک کر بول رہی تھیں۔۔۔
اور ماہا حیرانگی سے سن رہی تھی۔۔۔
یہ رشتہ بہت عجیب ہوتا ایک لمحہ تو ایسا غصہ آتا اپنے شوہر پر کہ دل کرتا اس کا خون ہی کر دیں ۔۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس پر اتنا پیار آتا کہ اپنا سب اس پر نچھاور کر دیں۔۔۔وہ مسکرا کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہہ رہی تھیں۔
اگر اس رشتے کی اہمیت کو نہ سمجھیں تو یہ اندر سے کھوکھلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔ دونوں نفوس ایک دوسرے سے بے زار ہونے لگتے ہیں۔۔۔جسم کی طلب بھی ختم ہونے لگتی ہے۔۔۔ اسے روح کا رشتہ بنانا چاہیے۔۔۔ ایک دوسرے کے احساسات اس کے شوق کو اس کے ساتھ ہی قبول کرنا چاہیے نہ کہ اسے بدلنے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔۔۔ وہ ایک ہی سانس میں اس کو بہت سی ایسی باتیں سمجھا گٸ تھیں جو بہت ضروری تھیں ۔۔۔ جو ہر لڑکی کو شادی سے پہلے ہی پتہ ہونی چاہیے۔۔۔ شوہر کو باندھ کر رکھنے سے وہ بے زار ہو ھو جاتا ہے۔۔۔
اچھا میں چلتی ہوں ۔۔۔ بہت دیر ہو گٸ۔۔۔ ساٸرہ اسے خیالوں میں گم چھوڑ کر جا چکی تھی۔۔۔
****************
تمھاری بھابھی کا میچ ہے آج۔۔۔ اسد عجلت میں اپنی چیزیں سمیٹتے ہوۓ دانیال سے کہہ رہا تھا۔۔
بھابھی ابھی بھی کھیلتی ہیں۔۔۔ دانیال نے حیران ہو کر اسد کی طرف دیکھا۔۔۔
اسد دانیال کے آفس میں کام کرتا تھا ۔۔۔ اس کی شادی بھی دو سال پہلے پسند سے ہی ہوٸ تھی وہ ایک ٹینس پلیر کے عشق میں گرفتار ہو گیا تھا اس کی محبت کے قصے آفس میں کافی مشہور ہوۓ تھے اس لیے سب کو پتا تھا ۔۔۔
ہاں ۔۔۔ کیوں۔۔۔ اسد نے تھوڑی حیران سی شکل بنا کردیکھا۔۔
میرا مطلب میں سمجھا تھا شاٸد شادی کے بعد تم نے روک دیا ہو گا۔۔۔ دانیال نے جز بز سا ہو کر کہا۔۔۔
کیوں بھٸ ۔۔۔ اس کا شوق ہے کھیلانا۔۔۔ میں کیوں رکوں گا۔۔۔ اسد نے کار کی چابی جیب میں رکھتے ہوۓ کہا
تمہیں اچھا لگتا ہے۔۔۔ دانیال نے پر سوچ انداز میں پوچھا۔۔۔
میرے اچھا لگنے یا نہ لگنے سے کیا ہوتا ہے ۔۔۔ یہ اس کی زندگی ہے جیسے وہ جینا چاہیے۔۔۔ اسد نے مسکرا کر کہا۔۔
لیکن وہ بیوی تو تمھاری ہے۔۔۔ دانیال نے گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔
بیوی ہے کوٸ غلام تو نہیں ۔۔ جسے رسیوں میں جکڑ لوں۔۔۔
کھیلنے میں اس کی خوشی ہے مجھے اس کی خوشی کے لیے دل بڑا کرنا چاہیے۔۔۔ اس نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر کہا۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔۔۔۔ دانیال ایک دم سے خاموش ہو گیا تھا۔۔۔
اپنی کیےہوۓ بہت سارے دھونس یاد آ گۓ جو وہ ماہم پر جماتا رہا تھا۔۔۔
یار یہ عورت نہ ہماری پسلی کی ٹیڑھی ہڈی سے بنی ہے۔۔۔ اس کو ایسا ہی رہنے دیں تو یہ ٹھیک رہتی ہے اگر اپنے مطابق سیدھا کرنے کی کوشش کریں تو ٹوٹ جاتی ہے۔۔۔ اور ٹوٹی ہوٸ بیوی آپکو سکون نہیں دے سکتی۔۔۔ اسد اس کے چہرے کی پریشانی دیکھ کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا
ہمارے ہاں مردوں کا یہ المیہ ہے کہ اپنی بیوی کو زندگی کی ہر سہولت دیتے ہیں لیکن وہ نہیں دے پاتے جس میں وہ خوش ہو۔۔۔ وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔ اس کے اندر کیا ٹیلنٹ ہے۔۔۔ اگر وہ کسی کام میں کمتر ہے تو کسی کام میں تو اچھی ہو گی نہ ۔۔ کیا ہم اس کی غلطی کو نظر انداز کر کے اس کی خوبی کو نہیں دیکھ سکتے۔۔۔ وہ بھی تو ہماری طرح انسان ہی ہے نہ۔۔۔
اپنا گھر بار چھوڑ کر آتی ۔۔۔ لیکن وہ ساری عمر جن طور طریقوں میں گزار کر آتی ہے کیا وہ ایک دم سے ان کو بدل سکتی ہے۔۔۔ اسد اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے کہہ رہا تھا وہ شاٸد اپنی صفاٸ دے رہا تھا کہ کیوں اس نے اہنی بیوی کو شادی کے بعد بھی کھیلنے سے نہیں روکا ۔۔۔ لیکن اس کی باتیں دانیال کا دل اور ذہن ضرور صاف کر رہی تھیں۔۔۔
ہم شوہر صرف یہی کیوں چاہتے بس بیوی ہی جھکے ہر دفعہ بس بیوی ہی خود کو بدلے ہمارے لیے۔۔۔ ہم کیوں نہیں پہل کرتے خود کو بدلنے کی جب وہ ہمیں دیکھیں گی تو وہ بھی کچھ قدم آگے بڑھیں گی۔۔۔ اسد مسکرا رہا تھا۔۔۔
میری بیوی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔۔۔ لیکن اسے اپنی کھیل سے بھی بہت محبت ہے۔۔۔ اور مجھے اس کی محبت سے محبت کرنی ہے۔۔۔ اس کے لیے گھٹن نہیں بننا۔۔۔ اسد نے لب بھینچ کر وہ بات کہی جو اسے شرمندہ کر گٸ ۔۔۔
اچھا میں چلتا ہوں وہ میرا انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔ وہ جا چکا تھا لیکن دانیال سر کو کرسی کی پشت پر ٹکاۓ پر سوچ انداز میں بیٹھا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: