Ajab Bandhan Novel By Huma Waqas – Last Episode 9

0
عجب بندھن از ہما وقاص – آخری قسط نمبر 9

–**–**–

ماہم۔۔۔ کھانا کھاٶ آ کر باہر۔۔۔ شازیہ نے اندھیرے کمرے کی لاٸٹ جلاتے ہوۓ کہا۔۔۔
امی دل نہیں چاہ رہا ۔۔۔ کچھ بھی کھاتی ہوں چکر سے آنے لگتے ہیں اور متلی سی محسوس ہوتی ہے۔۔۔ بازو کا سہارا لے کر وہ بستر سے اٹھی تھی اور گالوں پر لڑھکتے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔
میں عابد سے کہتی ہوں گاڑی نکالے چلو ڈاکٹر کے پاس۔۔ شازیہ نے پریشان ہو کر ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
امی رہنے دیں نہ۔۔۔ ماہا نے بے زار سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
وہ ایک ہفتے میں برسوں کی بیمار لگ رہی تھی۔۔۔
کیا رہنے دیں اپنی شکل تو دیکھ ایک ہفتے میں زرد ہو گٸ ہے ۔۔شازیہ نے سینے پر ہاتھ رکھ کر تڑپتی ممتا کو تھپکتے ہوۓ کہا۔۔
اور ایک وہ ہے جسے پرواہ تک نہیں تمھاری۔۔۔ شازیہ کے ماتھے پر بل پڑ گۓ تھے اور ناگوار لہجے میں کہا۔۔۔
امی ۔۔۔ ایسی بات نہیں ۔۔۔ بہت سی جگہوں پر میں نے بھی غلط کیا ہے ان کے ساتھ ۔۔۔ اچانک دانیال کی براٸ اپنی ماں کے منہ سے سن کر اسے اچھا نہیں لگا فورا سے وکالت کی۔۔۔
اور پھر ایک دم سے منہ پر ہاتھ رکھے وہ بیڈ سے اتری تھی اور واش روم کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
شازیہ بھی اس کے پیچھے بھاگی تھی۔۔۔
کیا ہوا۔۔ شازیہ نے اس کی پیٹھ ہر ہاتھ رکھا جو بہت بری طرح آوازیں نکالتے ہوۓ متلی کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
امی دل پھر سے اچھل رہا ہے۔۔۔ ماہا نے اکھڑتی سانسوں کے ساتھ گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔ زور لگانے سے آنکھوں میں پانی آ گیا تھا۔۔۔۔
وہ باہر آ کر بیڈ پر ڈھے سی گٸ تھی۔۔۔۔
چلو اٹھو جلدی سے۔۔۔ شازیہ پریشان سی ہو گٸ تھیں اس کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا تھا۔۔
میں عابد کو کہتی ہوں۔۔۔ پھر اسے چھوڑ کر وہ ماہا کے بڑے بھاٸ کو آوازیں لگاتی ہوٸ باہر نکلی تھیں۔۔۔
*************
ابھی مجھ میں کہیں باقی تھوڑی سی ہے زندگی۔۔۔
جگی دھڑکن نٸ ۔۔۔ جانا زندہ ہوں میں تو ابھی۔۔۔
اک ایسی چبھن اس لمحے میں ہے ۔۔۔ یہ لمحہ کب تھا میرا۔۔۔۔
گانے کے بول اور ماہا کی یاد دنوں تڑپا رہے تھے۔۔۔
فواد کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں اس نے آج سب دوستوں کو بلایا تھا ۔۔۔ پر پتہ نہیں کیوں کہیں بھی جانے کو دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔
جب سے اسد کی باتیں سنی تھیں دل عجیب بے چین ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
اسے اپنی کوتاہیوں کا احساس ہونے لگا تھا۔۔۔ ماہا کو ہر بات میں ٹوکتا تھا میں۔۔۔ کار کے سٹیرنگ مضبوطی سے پکڑے وہ سوچ رہا تھا۔۔۔ بال بکھرے ہوۓ تھے شیو بڑھی ہوٸ تھی۔۔۔ آنکھیں رت جگے کی گواہ تھیں۔۔۔
اس کی شرارتیں اس کا بچگانہ پن ۔۔۔ اس کے قہقے سب ہی تو ٹوک ٹوک کر بند کروا دیے تھے اس نے۔۔۔ اب وہ ہنستی بھی تھی تو سوچ کر۔۔۔
آج یہ سوچ کر اس کا خود دل دکھ رہا تھا۔۔ آج وہ خود کو ماہم کی جگہ رکھ کر سوچ رہا تھا تو اسے گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
آہستہ سے چلتا ہوا وہ روز کے معمول کے مطابق نازش کے کمرے میں آیا تھا۔۔۔
آگۓ ۔۔۔ آج بہت دیر کر دی بیٹا ۔۔۔ میں تو گھبرا جاتی ہوں اکیلے گھر میں اب ۔۔۔ وہ بیڈ پر لیٹی ہوٸ تھیں اسے دیکھتے ہی اٹھ بیٹھی تھیں۔۔۔
ماہم ہوتی تھی تو اتنا سکون کا احساس ہوتا تھا ۔۔۔ مجھ سے باتیں کرتی تھی اکٹھے سریل دیکھتے تھے ہم۔۔۔ وہ بری طرث ماہم کو یاد کر رہی تھیں۔۔۔
لینے جا رہا ہوں آپ کی بہو کو کل۔۔۔ دانیال نے سر نیچے جھکاتے ہوۓ مدھم سی آواز میں کہا تھے۔۔۔
میری بہو کو لینے جانا ہے تو مت جا ۔۔۔ نازش کی آواز خفگی بھری تھی۔۔۔
مطلب۔۔۔ دانیال نے چونک کر دیکھا۔۔۔
اپنی بیوی کو لینے جا رہا تو جا۔۔۔ منہ پھلا کر انھوں نے کہا تھا
اماں مجھے معاف کر دیں۔۔۔ اس دن سے ماہم کے حوالے سے آپ کو بھی باتیں سناتا رہا میں ۔۔۔ دانیال نے شرمندگی بھرے لہجے میں سر جھکا کر کہا تھا۔۔۔
بیٹا۔۔۔ یہ رشتہ تو ازل سے ہے ابد تک رہے گا۔۔۔ نازش نے مدھم سی آواز میں شفقت بھرا ہاتھ اس کے سر پر رکھا تھا۔۔۔
حضرت آدم کو جب خدا نے پیدا کیا تو وہ اکیلے تھے۔۔۔ پھر ان کے دل بہلانے اور تسکین اور محبت کے لیے خدا نے حضرت آدم کی پسلی سے ہی مٹی لے کر اماں حوا کو سینچا۔۔۔۔ شوہر اور بیوی یہ وہ پہلا رشتہ ہے جو دنیا میں آیا۔۔۔ اور مرنے کے بعد بھی صرف واحد یہی ایک رشتہ ہوگا جو قاٸم رہے گا۔۔۔ اماں اس کے سر ہر ہاتھ پھیرتے ہوۓ دھیرے سے اسے سمجھا رہی تھیں۔۔۔
اماں ۔۔۔ میں اپنی ماہا کو لینے جا رہا ہوں ۔۔۔ دانیال نے مسکراتے ہوۓ نازش کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیا تھا۔۔۔
آپ چلیں گی ساتھ ۔۔۔ بڑے جزب سے کہا۔۔۔
نہیں اس دفعہ تم ہی جاٶ گے۔۔۔ نازش نے محبت سے گال تھپتھپایا تھا دانیال کا۔۔۔
*************
کیا سچ کہہ رہی ہیں ڈاکٹر ۔۔ شازیہ نے پر جوش لہجے میں کہا اور چمکتی آنکھوں سے ایک دفعہ ماہا اور دوسری دفعہ ڈاکٹر کو دیکھا۔۔۔
جی جی۔۔۔ بلکل ماشاللہ۔۔ ماہا تھوڑی ویک ہے اس کو کہیں اپنا خیال رکھے بچے کی گروتھ کے لیے ضروری ہے۔۔ ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا۔۔۔
ماہا کا چہرہ جو زرد پڑا تھا ایک دم سے کھل گیا تھا۔۔۔ وہ اور دانیال اب کچھ پریشان سے رہنے لگے تھے شادی کو ایک سال ہونے جا رہا تھا۔۔۔ لیکن آج ان کی دعاٸیں رنگ لاٸ تھیں ۔۔ ماہم کا دل کیا وہ اڑ کر دانیال کے پاس چلی جاۓ اور سینے سے لگ کر یہ خوشی بتاۓ۔۔۔
جی جی کیوں نہیں۔۔۔ شازیہ نے پر جوش لہجے میں مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
اللہ کا شکر ہے۔۔۔ شازیہ نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا کر کہا تھا۔۔۔
میں کرتی ہوں نازش کو کال ذرا بتاتی ہوں ۔۔۔ دیکھنا تو آۓ گا دانیال ایڑیاں ریگڑتا ہوا۔۔۔ کار میں بیٹھتے ہی شازیہ نے ناک چڑھا کر کہا تھا۔۔۔
امی ۔۔۔ آپ کسی کو نہیں بتاٸیں گی۔۔۔ میں خود بتاٶں گی دانیال کو۔۔۔ وہ شرماتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔۔۔ اور پھر گاڑی کی کھڑکی سے باہر تھوڑا سا چہرہ نکال کر گہری سانس لی تھی۔۔۔
*****-**-*****
فون کی مسیج ٹون پر ٹی وی دیکھتے ہوۓ دانیال نے فون اٹھایا تھا ۔۔۔ جیسے ہی مسیج کھولا تو اس کی بچپن کی تصویر کے نیچے لکھا تھا کمنگ بیک۔۔۔
اور نیچے لکھا تھا۔۔۔ بابا مجھے لینے آ جاٸیں۔
اوہ۔۔۔ دانیال کا ہاتھ ایک دم سے ہونٹوں پر گیا تھا۔۔۔ اس کی آنکھیں چمک گٸ تھیں۔۔۔ دل عجیب طرز سے دھڑکا تھا۔۔۔وہ مسکراتے چہرے اور خوشی سے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ ماہم کا نمبر ملا رہا تھا۔۔۔
کیا یہ سچ ہے۔۔۔ ماہم کے فون اٹھاتے ہی دانیال نے چہکتے ہوۓ کہا۔۔۔
لاکھ بری صیح ۔۔پر جھوٹ کبھی نہیں بولا آپ سے۔۔۔ ماہم نے ہونٹ دانتوں میں دبا کر مدھر سی آواز میں کہا۔۔۔
نہیں تم بری نہیں ہو میری جان ۔۔ محبت بھرے لہجے میں دانیال نے دھیرے سے کہا۔۔
برا تو میں کرتا رہا۔۔۔ شرمندہ سا لہجہ تھا۔۔۔
دانی۔۔۔ مجھے لینے آ جاٸیں میں نہیں رہ سکتی آپ سے دور ۔۔۔ ماہم نے روتے ہوۓ بھاری آواز میں کہا۔۔۔
تو میں کہاں جی رہا تھا اتنے دن سے۔۔۔ محبت سے لبریز لہجے میں کہا۔۔۔
شکوہ نہیں کروں گی اب ۔۔۔ آنسو گالوں سے صاف کرتے ہوۓ شرمندہ سے لہجے میں کہا ماہم نے۔۔۔
اور میں کسی بھی بات سے نہیں روکوں گا۔۔۔ دانیال نے شرمنرہ مگر محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
میں بھی نہیں روکوں گی فواد اور آذر سے ملنے سے۔۔۔ بچوں کی طرح لاڈ سے کہا۔۔۔
مجھے بھی تمھارے اونچے قہقہے سننے ہیں۔۔۔ دانیال نے بھیگی سی آواز میں کہا۔۔۔
اب کبھی سالن سے بال نکلا تو۔۔۔ ماہم نے شرارت سے کہا ۔۔۔
تو مسکرا کر پھر سے سالن ڈال لاٶں گا۔۔ شرارت اور محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
فواد کی شادی آ رہی ۔۔ پر جوش انداز میں کہا۔۔ دل کا بوجھ ایک دم سے اترا تھا۔۔۔
اچھا سچ ۔۔۔ جاٸیں گے آپ۔۔۔ چہکتی ہوٸ آواز میں کہا۔۔
جان دانیال اجازت دے گی تو ہی۔۔۔ شرارت سے کہا۔۔۔
نہیں آپکا دوست ہے اس کی زندگی کا اتنا اہم موقع ہے آپکو جانا ہے اور میری اجازت کی ضرورت نہیں ہے بلکل ۔۔ بڑے جزب سے کہا۔۔۔
ارے واہ میری چھوٹی سی بیوی تو سمجھدار ہو گٸ ہے۔۔۔ دانیال نے قہقہ لگایا تھا۔۔
جی بلکل ۔۔۔۔ ماہا نے شرماتے ہوۓ مدھر سی آواز میں کہا۔۔۔
کیا کر رہے جو سانس چڑھا ہوا ۔۔۔ ماہم کو ایک دم محسوس ہوا دانیال ساتھ ساتھ کو کام کر رہا ہے بات کرتے ہوۓ۔۔
پہلے صبح آنا تھا۔۔۔ شرارت سے کہا۔۔
اب ابھی نکل رہا ہوں۔۔۔ محبت بھرے بھیگے لہجے میں کہا۔۔۔
ارے ارے ۔۔۔ نہیں صبح ہی آیے گا۔۔۔ ماہا نے ایک دم فکر مندی اور محبت سے چہکتے ہوۓ کہا۔۔۔
چپ۔۔۔ بلکل چپ ۔۔۔ ابھی۔۔۔ اب ایک دن بھی تمھارے بنا نہیں رہا جاۓ گا۔۔۔ دانیال نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
اور ماہم کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔۔۔
اور دانیال اندر تک سرشار ہو گیا تھا۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: