Ajab Hai Dastan e Hayat by Salman Bashir

0
عجب ہے داستان حیات از سلمان بشیر

–**–**–

” وہ بہت حسین،نرم گو اور دلفریب شخصیت کا حامل لڑکا تھا۔”
وہ پاپا کے دوست کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔۔ہمارے گھر کے سامنے والے گھر میں وہ شفٹ ہوئے تھے۔۔۔
پاپا کے دوست ملک سجاد کے علاوہ اس گھر میں انکی بیگم کشور سجاد اور وہ ترکش ہیرو کی طرح دکھنے  والا ملک آبان رہتے تھے۔۔۔
پاپا نے ہی انکو وہ گھر کرایے پر دلوایا تھا۔۔۔
سامان کی سیٹنگ کے بعد پاپا نے انکو ہمارے گھر شام کے کھانے پر مدعو کیا۔۔۔
شام کو وہ لوگ ہمارے گھر پہنچ گئے۔۔۔ہم نے انکا بھرپور طریقے سے استقبال کیا۔۔۔۔ممی،پاپا اور میں یعنی آیت بخاری نے انکو پلکوں پہ بٹھا رکھا تھا۔۔۔ہماری طرف سے ملنے والی عزت اور قدر انکو بہت پسند آئی تھی۔۔۔
میں نے کھانا لگا دیا تھا۔۔۔سب لوگ کھانا کھانے میں مصروف تھے۔۔ساتھ ہی ساتھ گپیں بھی ہانک رہے تھے۔۔۔۔
مگر وہ بس نظریں جھکائے ہی بیٹھا رہا۔۔۔۔پاپا جب اس سے کوئی بات کرتے یا سوال پوچھتے تو وہ ہلکے سے مسکرا کر مختصر سا جواب دے کر پھر سے نظریں جھکا لیتا۔۔۔۔۔میری نظریں بار بار بے اختیاری کے عالم میں اسکی جانب اٹھ جاتیں۔۔۔وہ ہر بار ہی نظریں نیچی کر کے بیٹھا ہوا نظر آتا۔۔
مجھے اس نے ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔شاید وہ شرمیلا تھا یا بہت زیادہ ڈرپوک۔۔۔۔
مگر وہ جیسا بھی تھا مجھے پہلی ہی نظر میں بھا گیا تھا۔۔۔۔۔
سیاہ بالوں کو خوبصورتی سے تراش کر اس نے کنگھی کی ہوئی تھی۔۔۔۔ہلکی ہلکی مگر لمبی نوکدار مونچھیں اسکی سیاہ داڑھی کے ساتھ بہت جچ رہی تھیں۔۔۔مسکرانے پر اسکے گالوں میں چھوٹے چھوٹے گڑھے بن جاتے تھے۔۔۔اسکی داہنی آنکھ کے بالکل نیچے ایک تل بھی تھا جو شاید خدا نے اسے نظر بد سے محفوظ رکھنے کے لیے تحفے میں دیا تھا۔۔۔۔۔اسکی آنکھیں ہلکی ہلکی سرخ تھیں۔۔۔جیسے شرابیوں کی ہوتی ہیں۔۔۔لیکن ان آنکھوں میں جو کشش تھی وہ کسی شرابی کی آنکھوں میں نہیں ہوتی۔۔۔۔
ایک ہی ملاقات میں میں نے اسکو مکمل طور پر دیکھ کر دل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا تھا۔۔۔۔
وہ ان لوگوں میں سے تھا جو پہلی ہی نظر میں دل میں اتر جاتے ہیں اور پھر کوشش کے باوجود بھی دل سے نہیں اترتے۔۔۔۔۔رات کی چائے کے بعد ہم سب چھت پہ آ گئے۔۔۔۔وہ سب سے آخر میں تھا۔۔۔اسکے آگے میں تھی۔۔۔۔میں نے اسکو مڑ کر دیکھا تو پہلی بار ہم دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں۔۔۔۔اس نے فورا سے پہلے مجھ سے نظریں ہٹا لیں۔۔۔۔
پھر وہ خدا حافظ کہہ کر اپنے گھر چلے گئے۔۔۔پاپا نے اسکو گلے لگا کر پیار دیا۔۔ممی نے بھی اسکے سر پر پیار دیا۔۔۔۔اسکے ممی پاپا نے بھی جاتے ہوئے مجھے گلے لگایا۔۔۔۔
وہ پاس ہی کھڑا تھا۔۔۔میری نظریں اس پر ہی تھیں۔۔۔جانے مجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آ گئی تھی کہ میں اپنے گھر والوں کی موجودگی میں بنا کسی  ڈر کے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اسکو احساس ہو گیا تھا کہ میں اسے ہی دیکھ رہی تھی اسی لیے اس نے میری طرف اپنی پیٹھ کر دی۔۔۔۔
شاید وہ اپنے اور میرے والدین کی نظروں میں گرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔وہ ان سب کے لیے کسی بھی دکھ یا بےعزتی کی وجہ نہیں بننا چاہتا تھا۔۔۔۔
میرا کمرہ چھت پر ہی تھا۔۔۔۔اسکے گھر کا صحن اور چھت وہاں سے صاف دکھائی دیتی تھی۔۔۔
میں کمرے کے باہر پڑے صوفے پر لیٹ گئی۔۔۔۔
آسمان پر گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔۔اس اندھیرے میں آسمان کی گود میں کھیلتے ستارے اٹکھیلیاں کر رہے تھے۔۔۔۔ٹھنڈی ہوائیں میرے نازک بدن سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی تھیں۔۔۔۔میں بھی صوفے سے اٹھ کر کمرے میں جانے لگی کہ میری نظر سامنے آبان کے گھر کی چھت پر پڑی۔۔۔ دیوار سے ٹیک لگائے اوپر آسمان کو دیکھے جا رہا تھا۔۔۔۔میں بھی تھوڑا قریب جا کر دیوار کا سہارا لے کر کھڑی ہو گئی اور اس کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
پھر بوندا باندی شروع ہو گئی اور وہ وہاں سے اپنے روم میں چلا گیا۔۔۔اسکا روم بھی چھت پر ہی تھا۔۔۔۔
اسکے جانے کے بعد بھی میں بہت دیر تک وہیں کھڑی بھیگتی رہی۔۔۔۔اس دن بارش کی بوندوں میں عجیب سا سواد عجیب سا اپنا پن تھا۔۔  شاید وہ سب آبان کے آنے کی وجہ سے تھا۔۔۔۔
اگلی صبح جب میں جاگی تو میں نے اسکو پھر سے چھت پر دیکھا۔۔۔ہمارے گھر کی چھت تھوڑی اونچی تھی اسی لیے آبان کے گھر کا صحن اور چھت صاف دکھائی دیتی تھی۔۔۔ویسے بھی ہم دونوں گھروں میں کوئی خاص دوری بھی نہیں تھی۔۔۔
وہ چھت پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔اسکی گود میں ایک چھوٹا سا سفید رنگ کا بلی کا بچہ تھا۔۔۔۔جسے وہ فیڈر سے دودھ پلا رہا تھا۔۔۔۔آسمان پر ابھی تک ہلکے اندھیرے نے قبضہ جما رکھا تھا حالانکہ ٹائم تو اس وقت نو بج رہے تھے۔۔۔موسم کی شرارت تھی سبھی۔۔۔۔وہ چھت پہ بیٹھا ہوا گود میں بلی کے بچے کو یوں لاڈ سے بٹھا کر بیٹھا تھا جیسے وہ اسکے خود کا بچہ ہو۔۔۔۔ہر سو ہلکا ہلکا اندھیرا تھا مگر جہاں وہ بیٹھا تھا وہاں ایک گول دائرے کی شکل میں چاندی سا سماں بنا ہوا تھا۔۔۔ایسے جیسے سینما ہال میں پر طرف اندھیرا جبکہ سکرین روشن نظر آتی ہے۔۔۔۔وہ بھی بالکل ویسا ہی سماں تھا۔۔۔
تبھی مجھے چھینک آ گئی۔۔۔۔شادی رات کو بھیگنے کی وجہ سے زکام ہو گیا تھا۔۔۔۔میری چھینک کی آواز سنتے ہی اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا۔۔۔۔میں بھی اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
تبھی ناجانے کیوں میں نے ہلکے سے اسکو دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔۔۔۔میں نے دیکھا کہ اس کے ماتھے پر حیرانی سے سلوٹیں پڑ گئی تھیں۔۔۔شاید اسے میری حرکت بہت عجیب لگی تھی۔۔۔۔مجھے خود کو بہت عجیب لگ رہا تھا۔۔۔اس نے کوئی رسپانس  نہیں دیا۔۔۔بس اٹھا اور بنا مجھے دیکھے،چھت سے نیچے اتر گیا۔۔۔۔
میرے رات و دن بس اسی کے بارے میں سوچتے ہوئے گزر رہے تھے۔۔۔اسکی ممی اور پاپا روز ہمارے گھر آتے تھے۔۔۔کبھی پاپا انہیں کھانے پہ مدعو کر لیتے تو کبھی چائے پر۔۔۔ہم بھی انکے گھر جاتے تھے۔۔
مگر وہ اس دن کے بعد پھر کبھی ہمارے گھر نہیں آیا تھا۔۔۔حالانکہ میری بہت خواہش تھی کہ وہ پھر سے ہمارے گھر آتا۔۔۔میرے سامنے بیٹھتا۔۔۔میں اسکو دیکھتی۔۔۔۔اسکو چائے بنا کر پلاتی پھر اسکو گیٹ تک چھوڑنے آتی۔۔۔مگر میری ہر خواہش تب بس خواہش ہی بن کر رہ گئی جب اس سے اگلی شام میں نے ایک لڑکی کے ساتھ اسکے گھر کی چھت پر اسکو باتیں کرتے دیکھا۔۔۔
وہ اسکے مقابل بیٹھا ہوا تھا۔۔۔وہ سفید بلی اسکی گود میں آرام سے لیٹی ہوئی ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔وہ لڑکی وہ حسن و خوبصورتی کی مثال تھی۔۔سفید فراک میں اسکے سامنے صوفے پر پاوں کے اوپر پاوں رکھے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ہلکی ہلکی ہوا میں اسکے ریشمی براون بال سرکس کر رہے تھے۔۔۔وہ بہت سنجیدہ بیٹھی تھی۔۔۔۔اسکے لب ہل رہے تھے یقینا وہ اس سے ہم کلام تھی۔۔۔۔مجھے اس لڑکی کی قربت میں آبان کا بیٹھنا ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا۔۔۔۔مجھے شدید جلن کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔شاید یہ محبت تھی جو میں اسکو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔
پھر وہ لڑکی رونے لگ گئی۔۔۔میں حیران تھی کہ وہ رو کیوں رہی ہے۔۔۔روتے روتے اسکی ہچکی بندھ گئی۔۔۔مگر آبان نے نا تو اسکو چپ کروایا اور نا ہی اسکے آنسو پونجھے۔۔۔۔
مجھے بہت عجیب لگا تھا کہ ایک لڑکی اسکے سامنے رو رہی تھی اور وہ سکون سے بیٹھا بلی کی پیٹھ سہلا رہا تھا۔۔۔۔
کیا وہ اسکو نا پسند تھی ؟
کیا وہ آبان سے محبت کرتی تھی؟(کرتی ہی ہو گی نہیں تو وہ یوں اسکے سامنے اپنے آنسوؤں کی خراج پیش نا کرتی)۔
کیا وہ بے حس انسان تھا ؟
اس لڑکی کو روتا دیکھ کر،گڑگڑا کر منتیں کرتا دیکھ کر مجھے آبان سے عجیب سی بےزاری اور افسوس ہونے لگا۔۔۔بھلے ہی میرے دل نے اسکو دیکھ کر دھڑکنا سیکھا تھا۔۔۔محبت کو آسمان کی بلندیوں سے مجھ پہ برستے دیکھا تھا۔۔۔ہواوں میں محبت کے ترانے بجتے سنے تھے مگر ایک لڑکی ہونے کے ناطے میں سمجھ سکتی تھی اس لڑکی کے دل کی حالت کو۔۔۔۔
پھر آبان نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما ہی تھا کہ اس لڑکی نے اپنے ہاتھ کو آبان کے ہاتھوں سے آزاد کرا لیا۔۔۔۔آبان زور سے بھڑکا۔۔۔اسکی باتیں مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھیں مگر وہ بہت جوش میں بول رہا تھا۔۔۔
میں کبھی کبھی یہ سوچ کر ڈر جاتی کہ اتنی تیزی اور شدت سے بولنے پر وہ اپنے ہی دانتوں سے اپنے ہونٹ نا کٹوا لے۔۔۔۔
پھر وہ رک گیا۔۔۔۔بلی کو گود سے ایسے بھگایا جیسے وہ زبردستی اسکی گود میں آ کر لیٹی ہو۔۔۔۔
وہ لڑکی اٹھی۔۔۔اپنے چہرے سے آنسوؤں کو صاف کیا اور کچھ بولتے ہوئے تیزی سے وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔
آبان جلدی سے اسکی طرف بڑھا لیکن پھر رک گیا۔۔۔۔آسمان کی طرف دیکھ کر اس نے ناجانے کیا سوچا ہو گا۔۔۔۔شاید خدا سے کوئی شکوہ یا شکایت کی ہو گی۔۔۔۔میں اپنی جگہ سے ہٹ گئی اور اپنے کمرے میں آ گئی۔۔۔۔
ناجانے رات کو کب میری آنکھ لگی۔۔۔۔
صبح جب ناشتہ کرنے بیٹھی تو مما نے بتایا کہ تمہارے انکل لوگوں کی کوئی قریبی رشتہ دار فوت ہو گئی ہے۔۔۔
میرے ذہن میں ایک دم سے اسی لڑکی کا خیال آیا۔۔۔۔
تو کیا وہ مر گئی؟  میں نے خود سے ہی سوال کیا تھا ۔۔۔۔
مما کیا وہ سب لوگ فوتگی پہ گئے ہیں؟
نہیں۔۔۔۔صرف تمہارے انکل اور آنٹی گئے ہیں۔آبان کی طبیعت خراب تھی اسی لیے انہوں نے اسے گھر ہی رہنے دیا۔۔۔میں ابھی اسے ناشتہ دے کر آئی ہوں۔۔۔۔تم دس منٹ بعد جا کر پوچھ آنا کہ کسی اور چیز کی ضرورت تو نہیں۔۔ اور اس کے لیے دودھ گرم کر کے ایک چمچ شہد کا ملا کر اسے دے آنا۔۔۔۔
دس منٹ بعد میں ہاتھ میں دودھ کا گرم گلاس پکڑے اسکے گھر میں تھی۔۔۔میں نے اسکے کمرے کے باہر رک کر اسے آواز دی تو کچھ لمحوں بعد اسکی مری ہوئی سی آواز میرے کانوں میں پڑی۔۔۔۔اس نے مجھے اندر آنے کا کہا تھا۔۔۔۔
میں ڈرتے ڈرتے اسکے کمرے کے دروازے کو اندر کی جانب دھکیل کر جوتا باہر اتار کر اس کے کمرے کے اندر داخل ہو گئی۔۔۔۔وہ بیڈ پر لیٹا ہوا سگار پی رہا تھا۔۔۔کمرے میں دھواں ہی دھواں پھیلا ہوا تھا۔۔۔مجھے دھویں سے الرجی تھی اسی لیے فورا سے پہلے مجھے کھانسی نے آ لیا۔۔۔۔
مجھے کھانستا دیکھ کر اس نے سگار کو ایش ٹرے میں مروڑ دیا۔۔۔
میں نے دیکھا کہ اسکی آنکھوں میں رتجگے کی لالی تھی۔۔۔بکھرے ہوئے بال اسکے اندر کی حالت کو بیان کر رہے تھے۔۔۔۔
میں نے آگے بڑھ کر دودھ کا گلاس اسکو پکڑایا اور کہا کہ کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیجیئے گا۔۔۔۔اس نے میری طرف خالی خالی نظروں سے دیکھا۔۔۔۔مجھے اس پہ ترس آنے لگا۔۔۔۔یقینا وہ اس لڑکی کی موت کو برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔اسکے گالوں پر آنسوؤں کی سوکھی لکیریں بنی ہوئی تھیں۔۔۔۔میں اس کے کمرے سے جانے لگی کہ اس نے مجھے آواز دے کر روک لیا۔۔۔۔
میں اس کے منہ سے اپنا نام سن کر رک گئی۔۔۔پیچھے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں نمی کا سیلاب ٹھاٹھیں مارتا نظر آ رہا تھا۔۔۔۔
وہ بیڈ سے اٹھا۔۔۔۔ایک بار لڑکھڑایا پھر بیڈ کو تھام کر سنبھل گیا ۔۔۔میں اسے بڑے غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔دو منٹ بعد وہ پھر سے میرے سامنے کھڑا تھا۔۔۔اسکی گود میں وہی سفید بلی آرام سے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔اس نے وہ بلی میرے ہاتھوں میں تھما دی اور پھیکی سی مسکان چہرے پر سجا کر بولا؛؛؛
    ”   میں کسی انسان سے تو کیا کسی جانور سے بھی وفا نہیں کر سکتا۔۔۔۔یہ بلی کا بچہ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔۔۔اسے آپ اپنے پاس رکھ لیں۔۔۔میں اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔۔۔۔کہیں میں غم و غصہ میں اسکو مار ہی نا دوں۔۔۔۔اور میں اسے مار نہیں سکتا۔۔۔ “”
اسکی آنکھوں سے آنسو چھم چھم برس رہے تھے۔۔۔خدا جانے وہ کونسا غم تھا جو اتنے خوبصورت انسان کو ریزہ ریزہ کر گیا تھا۔۔۔۔
میں خاموش کھڑی اسکو سنتی رہی۔۔۔پہلی بار وہ مجھ سے ہم کلام ہوا تھا اور ایک خوبصورت تحفہ دے کر مجھے خود سے باندھ گیا تھا۔۔۔۔میں گھر آ گئی ۔۔۔۔
وہ بلی کا بچہ بار بار باہر نکل کر آبان کے گھر کی طرف جانے کی سعی کرتا لیکن میں ہر بار ہی اسے پکڑ لیتی۔۔۔۔وہ سارا دن میاوں میاوں کر کے اپنی بے بسی اور اپنے مالک سے دوری کا رونا روتا رہا۔۔۔۔میں اسکا بہت زیادہ خیال رکھتی تھی۔۔۔اسکو دودھ پلاتی اسکے لیے نئے کپڑے خرید کر اسکو پہناتی۔۔۔اسکو رات کو اپنے ساتھ ہی کمرے میں سلاتی۔۔۔وہ مجھے آبان کا ایک حصہ لگتا تھا۔۔ آبان اس سے بہت محبت کرتا تھا مگر اب وہ اس سے دور تھا تو اس پہ کیا گزر رہی ہو گی۔۔۔۔
جانے کتنے ہی دن گزر گئے تھے۔۔۔۔
آبان کی فیملی گھر واپس آگئی تھی مگر ان کے دل بجھے بجھے سے دکھائی دیتے تھے۔۔۔انکی آنکھوں میں افسوس اور ندامت چھلکتی نظر آتی۔۔۔۔آبان اس دن کے بعد مجھے نظر نہیں آیا تھا۔۔۔مما اور پاپا آبان کے گھر جا کر انکے عزیز کی موت پہ افسوس کر آئے تھے۔۔۔میں نے ان سے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ انکا کون عزیز فوت ہوا ہے۔۔۔شاید میں جانتی تھی کہ وہ کون بدنصیب تھا۔۔۔۔
اتنے دنوں میں وہ بلی کا بچہ مجھ سے مانوس ہو گیا۔۔۔ہر پل میرے ساتھ ہی رہتا تھا ۔۔۔مجھے اس پہ بہت پیار آتا تھا مانو وہ میری روح کا حصہ بن گیا ہو۔۔۔میں اکثر رات کو اس سے آبان کی باتیں کرتی تھی۔۔۔اپنے مالک کا نام سن کر وہ بچہ بہت اتاولا ہو جاتا تھا۔۔۔بار بار بیڈ سے اتر کر باہر جاتا اور پھر واپس لوٹ آتا۔۔۔۔
آبان کہاں گیا تھا؟ اس بات کا مجھے علم نہیں تھا۔۔۔۔
مجھے وہ بہت یاد آتا تھا شاید محبت کی خاصیت ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ محبوب کو سوچوں میں مقید کر دیتی ہے۔۔۔۔محبت تو خود کو بھلا دینے کا نام ہے۔۔۔محبت تو بےخودی کی تمنائی ہوتی ہے۔۔۔محبت کہاں انسان کو پہلے جیسا رہنے دیتی ہے۔۔۔
سادہ الفاظ میں محبت کی مکمل تعریف تو یہ ہے کہ محبت بس محبت ہوتی ہے۔۔۔۔بہت گہری۔۔۔بہت سلجھی ہوئی۔۔۔اور بہت الجھی ہوئی۔۔۔۔
بہت وقت گزر گیا تھا۔۔۔۔آبان کو گئے ہوئے۔۔۔۔
کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں تھا۔۔۔۔کب آئے گا۔۔۔۔آئے گا بھی یا پھر نہیں۔۔۔؟
کتنے ہی سوال ایسے تھے جو میں آبان سے پوچھنا چاہتی تھی۔۔۔پھر سوچتی کہ جب وہ مجھ سے دوبارہ کبھی ملے گا تو کس ناطے سے میں اس سے سوال کرونگی۔۔۔۔۔؟نا تو وہ میرا سگا تھا نا ہی میں اسکی اپنی۔۔ ۔
شاید ہر سوال کا جواب میرے پاس موجود تھا۔۔۔
آبان کی وجہ سے اس لڑکی نے خودکشی کر لی ہو گی اور آبان اسکی موت کا غم بھلانے کی خاطر سب سے دور چلا گیا تھا۔۔۔۔شاید کبھی لوٹ کر بھی نہیں آنا تھا اس نے۔۔۔۔
مگر زندگی نے اپنی تاش کے کھیل میں آخری اکا پھینکا اور فاتح قرار پائی۔۔۔۔سبھی کو اس نے چاروں شانے چت کر دیا تھا۔۔۔۔میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ زندگی مجھے ایسا قیامت خیز منظر دکھائے گی۔۔۔۔وہ دن میری زندگی کا سب سے خوفناک،درد بھرا اور کبھی نا بھولنے والا دن تھا۔۔۔
” وہ چاند کی گیارویں رات تھی۔۔۔آسمان پہ چاند کی نامکمل سی مورت چمک رہی تھی۔۔۔ڈھیروں ستارے اسکے گرد مچھلیوں کے جھنڈ کی طرح حرکت میں نظر آ رہے تھے۔۔۔۔دسمبر کی آخری سرد راتوں میں سے وہ ایک رات تھی۔۔میں کافی پینے کے بعد اس بلی کے بچے کو (جو اب بڑا ہو گیا تھا) گود میں اٹھا کر کمرے سے باہر نکل کر چھت کی باہری دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔میں منہ آبان کے گھر کے صحن کی طرف تھا جہاں خاموشی ہی خاموشی کا راج چل رہا تھا۔۔۔۔میں نےچہرہ اٹھا کر آبان کے چھت پہ بنے کمرے کی جانب دیکھا ہی تھا کہ میری گود میں لیٹی بلی نے میاوں میاوں کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔میری آنکھیں حیرت سے پھیل چکی تھیں۔۔۔بلی میری گود سے کب کی چھلانگ لگا کر آبان کے گھر کی چھت پر جا پہنچی تھی۔۔۔۔
میں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
وہ آبان ہی تھا۔۔۔۔ایک سال تین مہینے اور اکیس دن بعد وہ بالآخر لوٹ ہی آیا تھا۔۔۔ایک تو مجھے محبت کرنے والوں کی یہ عادت بہت بری لگتی ہے کہ وہ محبوب سے جڑے ہر سیکنڈ ہر لمحے تک کا حساب رکھتے ہیں۔۔۔دنیا سے انہیں کوئی سروکار ہوتا ہی نہیں۔۔۔بس جہاں یار کی بدن کی خوشبو چلے وہیں گردآلود ہو جاو۔۔۔
وہ بہت الجھا الجھا نظر آ رہا تھا۔۔۔ چہرے کی رنگت میں وہ چمک نہیں رہی تھی۔۔۔وہ ،وہ نہیں لگ رہا تھا۔۔۔وہ کوئی اور ہی شخص تھا جس نے خود کو تباہ کر لیا تھا اور تباہ کرنے کے بعد زندہ لوگوں میں لوٹ آیا تھا۔۔۔شاید زندگی کا تماشہ دیکھنے۔۔۔زندگی کا تماشہ بہت رومانچک ہوتا ہے۔۔۔یہاں فلموں کی طرح ایک بار مرنے پر دوبارہ زندہ نہیں ہوا جاتا۔  نا ہی دوسرا جنم ہوتا ہے۔۔۔یہاں ہر تماشہ سچا اور ہر موت پکی ہوتی ہے۔۔۔
بلی اسکو دیکھتے ہی میری گود سے کود کر چھلانگیں لگاتی ہوتی اسکے پاس پہنچ کر اسکی گود میں بیٹھی حرارت حاصل کر رہی تھی۔۔ وہ اندر باہر سے جلا ہوا ہی تو تھا۔۔۔۔بلی اسکی گود میں بیٹھی میری طرف دیکھ کر اپنا سر اسکے سینے سے رگڑ رہی تھی۔۔۔شاید وہ میری شکایت کر رہی تھی کہ میں نے اسے اسکے مالک سے دور رکھا۔۔۔۔
آبان نے میری طرف نظر بھر کر دیکھا۔۔۔۔
ناجانے کیا کیا تھا ان آنکھوں میں۔۔۔۔
ندامت۔۔۔دکھ۔۔۔۔افسردگی۔۔۔شکست۔۔۔اور سپردگی۔۔۔
میں اسکی آنکھوں کا کرب اتنی رات میں بھی دیکھ کر محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔دل کو دل سے راہ جو ہوتی ہے۔۔۔۔
آبان نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا اور بلی کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسکے منہ میں دے دیا۔ بلی نے اسکو دیکھ کر جی حضوری میں سر تسلیم خم کر دیا۔۔۔بلی فورا اسکی گود سے اتری ۔۔آگے بڑھی۔۔۔لیکن پھر واپس اسکے پاس آکر رک گئی۔۔۔
میں ان دونوں کی محبت کا عالم دیکھ رہی تھی۔۔۔چاند کی روشنی شاید اس رات ان دونوں کے لیے ہی تھی۔۔۔
بلی نے اسکے پاوں چومے اور نظر اٹھا کر اپنے مالک کو دیکھا۔۔۔ناجانے وہ کیسی نظر تھی اور کیسا اظہار تھا۔۔۔دونوں ایک دوسرے کے واقف حال تھے۔۔۔دل کی باتیں بخوبی سمجھتے تھے۔۔۔۔آبان نے نیچے جھک کر بلی کو اٹھایا اور چوم کر پھر زمین پر کھڑا کر دیا۔۔۔بلی فورا بھاگ کر میرے پاس آ گئی۔۔۔۔میں نے اسکو اٹھایا۔۔۔سر پہ پیار دیا اور اسکے منہ سے وہ کاغذ لے کر آبان کی طرف دیکھا۔۔۔۔
وہ چھت کے کنارے پر کھڑا تھا۔۔۔اس نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔۔۔۔پھر اس نے آنکھیں کھولیں۔۔۔میری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔۔۔ناجانے اس ہاتھ ہلانے کا مطلب الوداع تھا یا کچھ اور۔۔۔۔
پھر اس نے قدم آگے بڑھایا۔۔۔۔میرے منہ سے زور سے چیخ نکلی اور گلی میں زور کا دھماکا ہوا۔۔۔۔گلی میں خون ہی خون پھیلا ہوا تھا۔۔۔۔اس نے چھت سے چھلانگ لگا دی تھی۔۔۔۔بلی میری گود میں پھڑپھڑائے جا رہی تھی۔۔۔اسکی آنکھوں سے نکلتا پانی میرے ہاتھوں پہ پھیل رہا تھا۔۔۔۔میری آنکھیں حیرت سے پھیل کر باہر نکلنے کو آ گئی تھیں۔۔۔۔ناجانے میں کب سے آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔میرے سامنے گلی میں آبان کا مردہ جسم خون میں لت پت پڑا ہوا نظر آ رہا تھا۔۔۔۔وہ منظر دیکھتے ہی میں وہیں بےہوش ہو گئی۔۔۔۔۔
“میں نے دیکھا کہ آبان نے سفید رنگ کا لباس زیب تن کیا تھا۔۔۔اسکے بال سلیقے نے جمے ہوئے تھے۔۔۔مگر یہ کیا۔۔۔۔؟؟ اسکے سر سے تو خون کی لکیر چل پڑی تھی۔۔۔اسکے چہرے پر کرب نے مکڑی کی طرح جالا بن لیا تھا۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے اسکا سارا جسم خون سے لت پت ہو گیا اور وہ نیچے گر گیا۔۔۔۔”
میں ایک ہولناک چیخ مار کر بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔میں ایک خواب کے زیر اثر تھی۔۔۔خواب ٹوٹا تو حقیقت جان کر بدن میں سنسناہٹ بڑھ گئی۔۔۔
مما میرے سرہانے بیٹھی تھیں۔۔پاپا وہاں نہیں تھے۔۔۔میری بلی میرے بستر پر میرے پاوں میں لیٹی ہوئی میرے پیر چاٹ رہی تھی۔۔۔۔
میں دو دن کے بعد ہوش میں آئی تھی۔۔۔۔
ان دو دنوں میں سب کچھ بدل گیا تھا۔۔۔۔میں جلدی سے بستر سے اٹھی اور بھاگ کر چھت پر چلی گئی۔۔۔۔آبان کے گھر کا صحن لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔۔ اسکی مما اور پاپا نڈھال بیٹھے تھے۔۔۔انکے آنسو ہر شخص کو غمگین کر رہے تھے۔۔۔میں وہیں گھٹنوں کے بل شکست خوردہ سی ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔
دکھ اور کرب نے اچانک سے اثر دکھانا شروع کر دیا۔۔۔میری آنکھیں گرم ہونے لگیں۔۔۔سر تپنے لگا۔۔۔ہاتھ پاوں کمزور پڑنے لگے اور دل میں دھڑکن کی شدید کمی اور اچانک زیادتی عجیب سی صورت پیدا کر رہی تھی۔۔۔۔میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔ میری چیخیں سن کر مما چھت پر آگئی ۔۔۔پاپا بھی انکے ساتھ تھے۔۔۔لیکن ان سے پہلے وہ بلی آگئی تھی۔۔۔میں نے اسکو سینے سے بھینچ لیا اور چیخ چیخ کر رونے لگی۔۔۔۔
میری محبت کا انجام بہت بھیانک ہوا تھا۔۔۔میرا محبوب میرے دل کی حالت جانے بنا ہی دنیا سے منہ موڑ گیا تھا۔۔۔میری حالت اس شخص کی طرح تھی جو تنکے کو تھامتے تھامتے لہروں کی لپیٹ میں آ کر ڈوب گیا تھا۔۔۔۔میری ساری کشتیاں جل گئی تھیں۔۔۔۔میرے سپنوں کو شکست ہو گئی تھی۔۔۔میری ساری باتیں دل میں ہی رہ گئی تھیں۔۔۔۔
وہ چلا گیا تھا۔۔۔یہ یقین کرنا بہت مشکل تھا۔۔۔۔گلی میں آبان کا خون جم کر اسکی یاد چھوڑ چکا تھا۔۔۔۔اس جگہ کھڑے ہو کر میرے آنسو خود بخود ہی آپے سے باہر ہو جاتے۔۔۔ساری رسیوں کو تڑوا کر بے لگام ہو جاتے۔۔۔سڑک پر گرے خوش پتوں کی طرح چیخنے لگ جاتے۔۔۔ وہ شخص جس سے میرا کوئی رشتہ نہیں تھا لیکن ناجانے کیوں ایسا لگتا تھا کہ سارے رشتے بس اسی سے ہی تھے۔۔۔سارے موسم اسی کے دم سے قائم تھے۔۔۔۔
میری حالت دیکھ کر میرے مما پاپا سمیت آبان کے والدین بھی بہت دکھی تھے۔۔۔میرے دل کی حالت تو کھلی کتاب کی مانند تھی۔۔۔۔۔
میں وہاں اور نہیں رہ سکتی تھی۔۔۔۔وہاں آبان کا خون مجھے ہر پل دکھائی دیتا تھا۔۔۔۔مجھے میرے پاپا نے میرے چاچو کے پاس انگلینڈ بھیج دیا۔۔۔کاش جگہ بدلنے سے دل بھی بدل سکتا۔۔۔۔
آبان کے الوداع کہنے کا منظر اور لمحہ میری زندگی میں ٹھہر گیا تھا۔۔۔۔
انگلینڈ آ کر خود کو بہت مصروف کر لیا تھا میں نے۔۔۔افسوس کہ میں اپنی بلی سے آخری بار مل کر نہیں آئی تھی۔۔۔وہ ابھی تک میرے مما پاپا کے ساتھ ہی تھی۔۔۔۔وہ خط وہ میں نے بلی کے منہ سے لیا تھا وہ بھی کہیں کھو گیا تھا ۔۔۔
ناجانے اس خط میں آبان نے کیا لکھا تھا۔۔۔کیا بات تھی جو وہ بتانا چاہتا تھا۔۔۔۔افسوس کہ وہ خط اب میرے پاس نہیں تھا۔۔۔۔
سات سال میں نے انگلینڈ میں گزار دیے تھے۔۔۔مجھے تب انگلینڈ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر واپس آنا پڑا جب مما پاپا کی ایک کار ایکسیڈینٹ میں موت واقع ہو گئی ۔۔۔مجھے انکی موت کی خبر آٹھ ماہ بعد دی گئی۔۔۔۔
اس دن میں بہت زیادہ روئی۔۔۔۔انکو آخری بار مل نہیں پائی تھی ۔۔۔انکا آخری دیدار بھی نہیں کر پائی تھی۔۔۔کتنی بدنصیب تھی میں۔۔۔ہر چاہنے والا مجھے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔
میں جب واپس پاکستان اپنے گھر لوٹی تو گلی میں کھڑے ہو کر میں نے پہلے آبان کے گھر کی طرف دیکھا ۔۔۔گیٹ پر تالہ لگا ہوا تھا۔۔۔۔گلی میں آبان کا خون ہر طرف بکھرا ہوا نظر آنے لگا۔۔۔چھت پر نظر دوڑائی تو آبان چھت سے نیچے گرتا نظر آنے لگا۔۔۔میری آنکھیں ٹپ ٹپ بہنے لگیں۔۔۔۔
میں نے اپنے پرس سے اپنے گھر کی ایک پرانی چابی نکالی اور تالہ کھول کر گھر کے اندر قدم رکھ دیا۔۔۔
مما اور پاپا کی خوشبو مجھے ہر جگہ محسوس ہو رہی تھی۔۔۔وہ وہاں نہیں تھے مگر پھر بھی تھے۔۔۔۔۔ہر ایک چیز میں انکا عکس۔۔۔انکی جھلک نظر آ رہی تھی۔۔۔۔آخری وقت میں انہوں نے مجھ سے ملنے کی ناجانے کتنی بار خواہش کی ہو گی۔۔۔۔کتنی بار انہوں نے مجھے پکارا ہو گا۔۔۔کیا ستم تھا کہ میں اس وقت انکے پاس نہیں تھی۔۔۔۔
دو آنسو میری آنکھوں سے گر کر میرے گالوں کو بھگو گئے ۔۔۔۔۔
میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری زندگی ایسے مقام پر مجھے لے آئے گی جہاں جینا ناممکنات میں سے ہو جائے گا۔۔۔کبھی کبھی جینا،مرنے سے زیادہ تکلیف دہ اور حشر سے زیادہ صبر آزما ہوتا ہے۔۔۔سخت دھرتی گو کہ پل صراط نہیں ہوتی مگر بکھرے ہوئے انسان کے پاوں تلوار سے زیادہ گھائل کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔۔۔
میری ہمسائی کے توسط سے میں قبرستان اپنے والدین کی قبروں پر گئی۔۔۔ڈھیر سارے آنسو بہائے۔۔۔۔فطرت کے عین مطابق خدا سے شکویے کرنے میں کوئی کسر اٹھا نا رکھی۔۔۔جب من تھوڑا ہلکا ہو گیا تو میں گھر لوٹ آئی۔۔۔۔
چھت پر جا کر میں وہیں پہلے والی جگہ پہ دیوار کے ساتھ لگ کر آبان کے گھر کی طرف منہ کر کے کھڑی ہو گئی۔۔۔۔گھر سنسان تھا۔۔۔کوئی نیا کرایہ دار شاید پھر نہیں آیا تھا۔۔۔۔چھت پر نظر دوڑاتے ہی دکھ پھر سے رگوں میں اتر آیا۔۔۔۔وہ آخری بار جس جگہ کھڑا تھا اس جگہ اسکا عکس آج بھی موجود تھا۔۔ بکھرا بکھرا سا۔۔۔کھویا کھویا سا۔۔۔الجھا الجھا سا۔۔۔شکست خوردہ سا۔۔۔۔وہ مجھے حد سے زیادہ یاد آنے لگا۔۔۔کتنی عجیب بات تھی کہ اس انسان سے کبھی میں نے بات تک نہیں کی تھی لیکن لگتا ہے کہ میری ہر بات ہر لفظ بس اسی کے لیے تھا جو کبھی زبان سے ادا ہو ہی نہیں پایا تھا۔۔۔میں یہ بھی جانتی تھی کہ وہ انسان مجھ سئ کبھی محبت کر ہی نہیں سکتا تھا پھر بھی دل میں اسکے لیے بے پناہ پیار تھا۔۔۔ایسا پیار جس میں اسکے حصول کی کوئی خواہش کوئی امید نہیں تھی۔۔۔
گھر کے آنگن میں مجھے ہلچل دکھائی دی۔۔۔رفتہ رفتہ ہلچل تیز ہو کر غائب ہو گئی۔۔۔کچھ سیکنڈ کے بعد مجھ سے زور سے کوئی چیز آ کر چپک گئی۔۔۔
میں ایک دم سے ڈر گئی۔۔ میں نے دیکھا وہ چیز کوئی اور نہیں تھی بلکہ وہی بلی تھی جو میرے آبان کی آخری نشانی تھی۔۔۔
ہاں مجھے آبان کو “میرا” کہنا بہت اچھا لگتا تھا۔۔۔کم سے کم یہ الفاظ مجھے سکون ضرور دیتے تھے۔۔۔۔
اتنے سالوں کے بعد میری گود میں اس بلی کا آنا بالکل ایسے تھا جیسے کسی  زندگی سے متنفر انسان کو اچانک جینے کی وجہ مل گئی ہو۔۔۔ایسے جیسے صحرا میں مرتے انسان پر بارش کی آمد ہو جائے۔۔۔میں دیوانہ وار اسکو گلے لگا کر چومنے لگی۔۔۔وہ بھی اپنی زبان سے میرے چہرے پر پیار کر رہی تھی۔۔۔
میری آنکھیں نم تھیں۔۔۔۔اور اسکی بھی۔۔۔
سب چھوڑ کر چلے گئے تھے لیکن وہ آج بھی میرا انتظار کر رہی تھی۔۔۔مجھے دیکھتے ہی پہچان گئی تھی۔۔۔میں ہی دھوکے باز تھی جو اس سے آخری بار مل کر نہیں گئی تھی۔۔۔۔وہ اب بڑی ہو گئی تھی۔۔۔میں نے گھر کو صفائی کی اور کمرے میں آکر لیٹ گئی۔وہ بھی میرے ساتھ ہی لیٹی ہوئی تھی۔۔۔
پھر اچانک سے وہ بیڈ سے اتر کر باہر چلی گئی۔۔۔میں اسکو آوازیں دیتی رہی لیکن وہ واپس نہیں آئی۔۔۔
کچھ دیر کے بعد وہ خود ہی لوٹ آئی تھی۔۔۔میرے پیروں کو مس کرنے کے بعد اس نے میری گود میں ایک کاغذ پھینک دیا۔۔۔۔
میں نے کاغذ کو اٹھا کر دیکھا۔۔۔کاغذ کی حالت مرمری سی تھی مگر وہ ابھی تک سلامت تھا۔۔۔۔شاید وہ بھی مجھ سے ملے بغیر اپنی آخری سانسیں لینے کے خلاف تھا۔۔۔۔
وہ وہی کاغذ تھا جو آبان نے آخری وقت میں مجھے دیا تھا۔۔۔اس کاغذ کے گم ہونے کا مجھے بہت دکھ ہوا تھا مگر آج وہ مل گیا تھا۔۔۔مجھے میری بلی پر بہت پیار آ رہا تھا۔۔۔
میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ وہ کاغذ کھول دیا۔۔۔۔اسکی تحریر میری نظروں کے سامنے تھی۔۔۔۔
“آداب آیت جی۔۔۔
نہیں جانتا کہ کیوں آپکو یہ خط لکھ رہا ہوں۔۔یہ بھی نہیں جانتا کہ اس خط کا آپکی زندگی پر کیا اثر ہو گا۔۔۔بس کسی نامعلوم سے جذبے کی وجہ سے آپمو یہ خط لکھ رہا ہوں۔۔۔آپ پلیز اس جذبے کو “محبت”کا نام مت دیجیئے گا۔۔کیونکہ محبت کا پیمانہ ہر کسی پہ نہیں چھلکتا۔۔
آپ جانتی ہیں  کہ ہمارے ایک عزیز کی وفات ہو گئی تھی۔۔۔مما پاپا دونوں گئے تھے مگر میں نہیں جا سکا۔۔۔کیونکہ میں اتنا ہمت والا نہیں تھا۔۔۔
دراصل میری خالہ زاد مجھ سے بچپن سے ہی منسوب تھی۔۔۔مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔۔۔جب بڑے ہوئے تو مجھے میری خالہ کی دوسری بیٹی سے محبت ہو گئی۔۔۔میں نہیں جانتا تھا کہ میری بچپن میں اسکی بہن کے ساتھ منگنی ہو چکی تھی۔۔۔میری منگیتر مجھے حد سے زیادہ چاہتی تھی مگر میں اسے کبھی محبت کے دو بول تک نہیں دے پایا۔۔۔اسکی بہن میرے پاس آئی۔۔۔ وہ اپنی بہن کی خوشیوں کی بھیک مانگنے لگی مگر مجھ جیسا کم ظرف انسان اسے کچھ نہیں دے سکا۔۔۔وہ روتے روتے وہاں سے چلی گئی۔۔۔اسی رات دونوں بہنوں نے خودکشی کر لی۔۔۔۔مجھے یقین ہی نہیں ہوا کہ ان دونوں نے خود کو ختم کر لیا تھا۔۔۔ساری رات میں بخار میں تپتا رہا اور روتا رہا۔۔۔میں اس کو محبت نہیں دے پایا اور اس نے خود کو مار لیا۔۔۔مجھے میری محبت نہیں ملی اسی لیے میں خود کو زندہ رکھنے کا جرم نہیں کر سکتا۔۔۔
اس محبت کی کہانی میں میں بےقصور تھا۔۔کیونکہ بچپن کی منگنی جوانی میں قائم رکھنی مشکل ہوتی ہے۔۔۔بس قسمت میں یہی لکھا تھا۔۔۔دو دو اموات کا بوجھ میں برداشت نہیں کر سکتا اسی کیے جا رہا ہوں۔۔۔
نہیں جانتا کہ میں آپ سے ہی یہ سب کیوں کہہ رہا ہوں۔۔۔
شاید اسی لیے کہ آپ مجھے سمجھیں گی۔۔۔۔۔
آپ سے کبھی بات چیت نہیں ہو سکی لیکن مجھے لگتا ہے کہ آپ بہت سلجھی ہوئی لڑکی ہیں۔میں اپنا موبائل نمبر لکھ رہا ہوں۔۔آپ سے نئی دنیا میں بات چیت ہو گی۔۔۔چلتا ہوں۔۔۔آپکا اپنا کرائے دار۔۔۔”
خط پڑھ کر محسوس ہوا کہ میری آنکھیں کب سے بہہ رہی تھیں۔۔۔اس نے اپنا نمبر بلاوجہ ہی لکھ دیا تھا جبکہ وہ یہ بھی جانتا تھاکہ اسکا یہ عمل اب بے معنی سا ہے۔۔۔
انسان بھی کتنا نادان ہوتا ہے زندہ لوگوں سے جینے کی وجہ تلاش کرتا رہتا ہے لیکن بعض اوقات مرتا ہوا انسان جینے کی کوئی وجہ دے جاتا ہے۔۔۔مجھے بھی آبان اپنا نمبر دے کر جینے کی وجہ دے گیا تھا۔۔۔
وہ شخص جو ایک بچپن کے رشتے سے اپنی مرضی کے بغیر بندھا ہوا تھا،جب اپنی مرضی سے اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے لگا تو نا چاہتے ہوئے بھی وہ دو لوگوں کی موت کی وجہ بن گیا۔۔۔میں ساری زندگی اسکو “مظلوم” کے سوا کچھ نہیں سمجھ پائی۔۔۔کیا برا کیا تھا اس نے؟کیا اس سے پوچھ کر اسکے ساتھ کسی کو منسوب کیا گیا تھا۔۔۔نہیں نا؟   تو پھر کیا اسکو اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار نہیں تھا۔۔۔۔بے شک تھا۔۔۔۔
مگر یہ سب ہر کوئی نہیں سمجھ پاتا۔۔۔۔
وہ چلا گیا تھا۔۔۔سب سے دور۔۔۔سب کو چھوڑ کر۔۔۔۔
میں ہر شام چھت پر کھڑے ہو کر اسکے گھر کو دیکھتی رہتی۔۔۔وہ مجھے وہیں پھرتا نظر آتا تھا۔۔۔۔
اسکے جانے کے بعد جب اسکی یاد شدت اختیار کر لیتی تو میں اسکے نمبر پر میسج کر دیتی۔۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کبھی ان پیغامات کو پڑھ نہیں پائے گا۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کبھی مجھے میرے پیغامات کا جواب نہیں دے پائے گا پھر بھی سارا دن نظریں موبائل پر جمی رہتی تھیں۔۔۔
میں ناجانے کس امید میں بیٹھی تھی۔۔۔۔
ہاں میں اعتراف کرتی ہوں کہ وہ شخص میری پہلی اور آخری محبت تھا۔۔۔
اس سے ایک ملاقات مجھے اسکا دیوانہ بنا گئی تھی۔۔۔۔اگر وہ پورے کا پورا میسر ہو جاتا تو کیا عالم ہوتا۔۔۔۔۔
وہ شخص پھولوں کی طرح خوبصورت تھا۔۔۔لیکن اسکی ساری زندگی کانٹوں سے بھری ہوئی تھی۔۔۔
آج اس کو گزرے بہت سال ہو گئے ہیں۔۔۔۔میں اب دو بچوں کی ماں بن چکی ہوں۔۔۔ہر تہوار کے موقع پر میں اپنے بچوں کو ساتھ لے کر اپنے آبائی گھر جاتی ہوں۔۔۔
وہاں جا کر میرا صبر جواب دے جاتا ہے۔۔۔۔اس شخص کا خون مجھے گلی میں بکھرا ہوا ویسے ہی نظر آتا ہے۔۔۔۔اس نے مجھے جو بلی دی تھی وہ بھی اگلے جہان کا سفر طے کر گئی تھی۔۔۔
میں جب بھی اپنے گھر جا کر چھت پہ کھڑی ہو کر آبان کے گھر کی چھت پہ نظر دوڑاتی ہوں تو وہ مجھے وہیں بیٹھا ہوا نظر آتا ہے۔۔۔
صاف شفاف پانی کی طرح کا چہرہ لیے۔۔۔۔بالوں کو سلیقے سے تراشے ہوئے۔۔۔گود میں بلی کا بچہ لیے۔۔۔۔اسکو پیار کرتے۔۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: