Alfanse by Ibn-e-Safi – Episode 1

0
الفانسے ​از ابن صفی – قسط نمبر 1

–**–**–

ایک دراز قد آدمی کچھ اس انداز میں زینے طے کر رہا تھا جیسے بہت زیادہ پی گیا ہو۔ وہ زینے پر لڑکھڑا کر دیوار کا سہارا ضرور لیتا تھا۔ اس کے جسم پر سیاہ رنگ کا اوور کوٹ تھا جس کے کالر سرے تک اٹھے ہوئے تھے اور پھر فلٹ ہیٹ کا گوشہ اس طرح پیشانی پر جھکا ہوا تھا کہ اس کی صورت نہیں دیکھی جا سکتی تھی۔
حالانکہ پیراماؤنٹ بلڈنگ میں لفٹ بھی موجود تھی لیکن نہ جانے کیوں اس نے زینوں کو لفٹ پر ترجیح دی تھی۔ کیا نشے کی وجہ سے اس کے قدم خودکشی کی طرف بڑھ رہے تھے؟ کیا شراب نے اس کا دماغ ماؤف کر دیا تھا؟
اگر یہ پیراماؤنٹ بلڈنگ کا واقعہ نہ ہوتا تو لوگ اسے حیرت سے دیکھتے۔۔۔ یہاں کسے اتنی فرصت تھی کہ اس کی اس عجیب و غریب حرکت پر غور کرتا یہ پیراماؤنٹ بلڈنگ تھی۔۔۔ شہر کا سب سے بڑا تجارتی مرکز!
اس ہفت منزلہ عمارت میں سینکڑوں تجارتی دفاتر تھے۔ یہاں دن بھر آدمیوں کی ریل پیل رہتی تھی۔ اس کے باوجود بھی یہاں عجیب باتوں پر نظر رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔
طویل قامت آدمی اس انداز میں زینے طے کر رہا تھا۔ رات کے آٹھ بجے تھے لیکن اس وقت بھی عمارت کی کھڑکیوں میں روشنی نظر آ رہی تھی یہاں بہتیرے دفاتر ایسے تھے جو دن رات کھلے رہتے تھے۔
طویل قامت آدمی تیسری منزل کی ایک راہداری میں مڑ گیا۔ لیکن اب وہ رک گیا تھا اس نے ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر چلنے لگا۔ لیکن اب اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ کی بجائے لنگڑاہٹ تھی۔ زینوں پر یہ لڑکھڑاہٹ معلوم ہوتی تھی۔ ایک فلیٹ کے دروازے پر وہ رکا۔ جس پر لگے ہوئے بورڈ پر تحریر تھا۔
“التھرے اینڈ کو فارورڈنگ اینڈ کلئیرنگ ایجنٹس!”
دراز قد آدمی نے گھنٹی کا بٹن دبایا۔ اور ہلکی سی کراہ کے ساتھ دیوار سے لگ گیا۔ اندر سے دروازہ کھلتے ہی وہ پھر سیدھا کھڑآ ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ دروازہ کھولنے والا ایک 18 سالہ لڑکا تھا جس کے جسم پر چپڑاسیوں کی وردی تھی۔
دراز قد آدمی نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر دروازے سے باہر کھینچ لیا۔ اور بھرائی ہوئی آؤاز میں بولا۔ “بھاگ جاؤ۔۔۔ چھٹی۔۔۔ یہ لو۔ سیکنڈ شو دیکھنا!” اس نے جیب سے ایک مڑا تڑا نوٹ نکال کر لڑکے کی مٹھی میں بند کر دیا۔
“سلام صاحب!” لڑکے نے فوجیوں کے سے انداز میں اسے سلام کیا۔
“سلام! بھاگ جاؤ۔” دراز قد آدمی بھرائی ہوئی آواز میں ہنسا۔
لڑکا تیزی سے چلتا ہوا زینوں پر مڑ گیا۔ دراز قد آدمی فلیٹ میں داخل ہوا۔ دروازہ بند کرکے اس نے اپنا اوور کوٹ اتارا۔ فلٹ ہیٹ اتار کر سٹینڈ پر پھینکی۔ اور دوسرے کمرے کی طرف بڑھا۔ یہ ایک سفید فام غیر ملکی تھا دوسرے کمرے میں داخل ہو کر اس نے ٹائپ رائٹر پر جھکی ہوئی لڑکی کو جھنجھوڑ ڈالا۔ وہ اونگھ رہی تھی۔
“کیا تم یہاں سونے کے لئے آئی ہو۔” لمبے آدمی نے غرا کر کہا۔
“نہیں! مسٹر التھرے۔۔۔ مجھے افسوس ہے۔” لڑکی خوفزدہ نظر آنے لگی تھی۔ دراز قد آدمی نے ایک بھدا سا قہقہہ لگایا اور جیب میں ہاتھ ڈال کر دس کا ایک نوٹ کھینچتا ہوا بولا۔ “جاؤ۔۔۔ چھٹی۔۔۔ سیکنڈ شو دیکھنا۔”
لڑکی متحیر رہ گئی۔ یہ ایک چھوٹے قد کی معصوم صورت یوریشین لڑکی تھی۔
“میں سمجھی نہیں جناب!” اس نے آہستہ سے کہا۔
“تم چھٹی نہیں سمجھتیں۔۔۔ جاؤ۔۔۔ آج اوور ٹائم نہیں ہوگا۔” اس نے نوٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
“شکریہ مسٹر التھرے۔۔۔ پلیز۔” لڑکی نوٹ لے کر اپنا وینٹی بیگ سنبھالنے لگی۔ دفعتاً اس کی نظر فرش پر پڑی جہاں التھرے کھڑا تھا۔ اور وہ ہونٹ سکوڑ کر کھڑی ہو گئی۔
“خون۔۔۔ مسٹر التھرے”۔۔۔ وہ کپکپاتی ہوئی آواز میں بولی۔ “آپ زخمی ہیں۔۔۔ مسٹر التھرے۔۔۔ آپ کا پیر۔”
پھر اس کی نظر التھرے کی ران پر جم گئی جہاں پتلون میں سوراخ تھا۔ اور اس کے گرد خون کا ایک بڑا سا دھبہ۔۔۔
“اوہ۔۔۔ یہ کچھ نہیں۔” التھرے مسکرایا۔ “میں زخمی ہو گیا ہوں۔” اس کی گھنی مونچھیں ہونٹوں کو ڈھکے ہوئی تھیں۔ گالوں کے پھیلاؤ سے لڑکی کو اس کی مسکراہٹ کا احساس ہوا تھا۔
“کیا میں کچھ خدمت کر سکتی ہوں۔” لڑکی نے کہا۔ وہ بہت زیادہ متائثر نظر آ رہی تھی۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ رو دے گی۔
گھنی مونچھوں سے التھرے کے سفید دانتوں کی قطار جھانکنے لگی وہ ہنس رہا تھا۔ “تم بہت کمزور دل کی معلوم ہوتی ہو۔ میری مدد نہیں کر سکو گی۔ میری ران میں ریوالور کی گولی موجود ہے اسے میں خود ہی نکال لوں گا۔۔۔ تم جاؤ!”
“میں ڈاکٹر کو فون کروں۔”
“نہیں۔۔۔ بےبی۔۔۔ تم جاؤ۔۔۔ میں خود بھی کسی ڈاکٹر سے مدد لے سکتا تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔”
“جھگڑا ہوا تھا۔”
“نہیں!” التھرے نے خشک لہجے میں کہا۔ غالباً وہ لڑکی کے سوالات سے اکتا گیا تھا اور چاہتا تھا کہ اب وہ چلی ہی جائے وہ اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولا۔ “یہ ایک اتفاقیہ حادثے کا نتیجہ ہے۔ ورنہ میں یہاں آنے کی بجائے پولیس اسٹیشن جاتا۔۔۔ ہم نشانہ بازی کی مشق کر رہے تھے۔ مگر تم اس کا تذکرہ کسی سے نہیں کرو گی۔”
“اوہ نہیں مسٹر التھرے۔۔۔ مگر آپ تنہا ہیں۔۔۔ اکیلے آپ کیا کر سکیں گے کس طرح گولی نکالیں گے۔”
“اچھا تم کیا کرسکو گی۔”
“میں ایک تربیت یافتہ نرس ہوں۔۔۔ مسٹر التھرے!”
“تعجب ہے۔” التھرے کی آنکھوں سے شبہ جھانکنے لگا۔ “تم نے پہلے کبھی نہیں بتایا۔ تم تو ایک اسٹینو گرافر ہو۔”
“جی ہاں! شارٹ ہینڈ میں نے اس پیشے کو ترک کرنے کے بعد سیکھا تھا۔”
“اچ۔۔۔ چھا۔۔۔ آؤ۔۔۔ میں دیکھوں گا کہ تم میری کیا مدد کر سکتی ہو”
تیسرے کمرے کی الماری کھول کر التھرے نے فرسٹ ایڈ کا سامان نکالا۔ اسی کے ساتھ جراحی کے کچھ آلات بھی برآمد ہوئے جنہیں لڑکی نے ایک برتن میں ڈال کر ہیٹر پر رکھ دیا۔
“مگر مسٹر التھرے!۔۔۔ گولی کون نکالے گا!”
“میں نکالوں گا۔” التھرے مسکرایا۔
“مجھے حیرت ہے۔۔۔ آپ ہم لوگوں کی طرح عام آدمی معلوم نہیں ہوتے!”
“اوہ۔۔۔ نہیں تو۔۔۔” التھرے ہنسنے لگا۔
وہ زخم کھول چکا تھا جس سے اب بھی خون بہہ رہا تھا۔ لڑکی نے اسے حیرت سے دیکھا اور التھرے کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی لیکن وہ پرسکون نظر آ رہا تھا۔ لڑکی کی حیرت اور بڑھ گئی۔
“سوزی! تم متحیر ہو؟” التھرے نے پھر قہقہہ لگایا۔ “میرا سارا جسم زخموں سے داغدار ہے۔ پچھلی جنگ میں میرے جسم کا قیمہ بن گیا تھا۔ پھر بھی میں نے ڈاکٹروں کو متحیر کرکے چھوڑا۔ ان کا خیال تھا کہ میرے جسم میں کوئی خبیث روح موجود ہے۔ اگر شریف روح ہوتی تو کبھی کی پرواز کر چکی ہوتی۔”
سوزی متحیرانہ انداز میں صرف سنتی رہی کچھ بولی نہیں۔ التھرے کے برتن سے ایک چمٹی نکالی اور سوزی اس کے چہرے کی طرف دیکھتی رہی وہ سوچ رہی تھی کہ یہ آدمی پتھر کا ہے یا فولاد کا۔۔۔ وہ اتنے ہی انہماک کے ساتھ زخم سے گولی نکالنے میں مشغول تھا جیسے ہتھیلی میں چبھی ہوئی کسی پھانس کو سوئی سے کرید رہا ہو۔ گولی کے نکلنے میں دیر نہیں لگی۔ التھرے آواز سے ہنس رہا تھا سوزی کو یہ ہنسی کچھ ہذیانی قسم کی معلوم ہوئی۔ بالکل ایسی ہی جیسے شدت درد سے کراہیں نہ نکلی ہوں قہقہے پھوٹ پڑے ہوں۔
“اب تم اپنا کام شروع کر دو!”
“مگر جناب! آپ کے فرسٹ ایڈ باکس میں مرکری کروم کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔”
“وہی چلنے دو۔ پروا مت کرو۔ میں اس وقت کہیں بھی نہیں جا سکتا اور نہ ڈاکٹر کو طلب کر سکتا ہوں۔” سوزی زخم کی ڈریسنگ کرنے لگی۔ مگر اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے نہ جانے کیوں اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ سچ مچ کسی خبیث روح کے چکر میں پڑ گئی ہو۔
ڈریسنگ ہو جانے کے بعد التھرے نے سوزی سے کہا۔۔۔ “لڑکی میں تم سے بہت خوش ہوں۔ اسے ابھی سے نوٹ کرو کہ میں یورپ کے دورے پر جاتے وقت تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ اس سے تمہارے تجربات میں اضافہ ہوگا۔”
“میں شکریہ ادا کرتی ہوں! مسٹر التھرے!” سوزی نے خادمانہ انداز میں کہا۔
“مگر دیکھو۔۔۔ تم میرے زخمی ہو جانے کا تذکرہ کسی سے نہیں کرو گی۔۔۔ اس سے خدشہ ہے کہ میرا وہ دوست مصیبت میں نہ پھنس جائے۔۔۔۔ جس کی گولی سے میں زخمی ہوا تھا۔”

“میں کسی سے بھی تذکرہ نہیں کروں گی جناب!”
“شکریہ!۔۔۔ اب تم جا سکتی ہو۔”
سوزی مزید کچھ کہے بغیر فلیٹ سے نکل آئی۔۔۔ نہ جانے کیوں اس کے ذہن پر ایک انجانہ سا خوف مسلط ہوتا جا رہا تھا۔

عمران کے فون کی گھنٹی بجی، جس کے نمبر ٹیلیفون ڈائرکٹری میں درج نہیں تھے۔ اس نے ریسیور اٹھایا دوسری طرف سے بولنے والی جولیانا فٹز واٹر تھی۔
“تنویر بہت زیادہ زخمی ہو گیا ہے جناب!”
“کیسے۔۔۔ کس طرح؟”
“سراج گنج کی ایک تاریک گلی میں اسے چند نامعلوم آدمیوں نے گھیر لیا۔ غالباً وہ اسے پکڑ لے جانا چاہتے تھے۔ لیکن تنویر نے فائرنگ شروع کر دی جواب میں ان لوگوں نے بھی گولیاں چلائیں تنویر کے دونوں بازو زخمی ہو گئے ہیں اور وہ اس وقت سول ہسپتال میں ہے۔ غالباً اب پولیس اس کا بیان لینے کے لئے پہنچ گئی ہوگی۔”
“کیا تنویر حملہ آوروں میں سے کسی کو پہچان سکا تھا؟”
“نہیں جناب! گلی تاریک تھی۔ یہ اس کا خیال ہے کہ اس نے ان میں سے ایک آدمی کو ضرور زخمی کیا ہے۔”
“اس خیال کی وجہ؟”
“وجہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتی کہ اس نے کراہنے اور سسکنے کی آوازیں سنی تھیں!”
“اس کے زخموں کی حالت مخدوش تو نہیں ہے۔”
“نہیں جناب! وہ ہوش میں ہے۔”
“تم کہاں سے بول رہی ہو؟”
“سول ہسپتال سے!”
“اچھا تو اسے سمجھا دو کہ اس کا بیان غیر واضح اور مبہم ہو جائے۔۔۔ بلکہ اگر وہ بڑی رقم لٹ جانے کی کہانی سنائے تو اور اچھا ہے۔”
“بہت بہتر جناب!۔۔۔ بیان ہو جانے کے بعد میں پھر فون کروں گی۔”
دوسری طرف سے سلسلہ منقطع ہو گیا۔ عمران نے ریسیور رکھ کر ایک طویل انگڑائی لی اور اس طرح منہ چلاتا ہوا دوسرے کمرے مٰں چلا گیا جیسے دھوکے سے کوئی کڑوی یا کسیلی چیز کھا گیا ہو۔ اس نے اپنے نوکر سلیمان کو آواز دی چونکہ وہ تقریباً دو گھنٹے تک خاموش بیٹھا رہا تھا اس لئے اب اس کی زبان میں کلبلاہٹ شروع ہو گئی تھی۔
سلیمان آ گیا۔
“ابے وہ تو نے اپنے دادا کا نام کیا بتایا تھا۔ میں بھول گیا۔” عمران اس طرح بولا جیسے یاداشت پر زور دے رہا ہو۔
“کیا کیجئے گا یاد کر کے۔۔۔!” سلیمان نے بیزاری سے کہا۔
“صبر کروں گا یاد کر کے۔۔۔ توب تاتا ہے کہ یا ہم سے بحث کرنے کا ارادہ رکھتا ہے نالائق!”
“گلزار نام تھا!”
“کیا داڑھی گلاب کے پھول کی شکل کی تھی؟”
“نہیں تو۔۔۔ ویسی ہی تھی۔۔۔ جیسی سب کی ہوتی ہے۔”
“ابے تو پھر گلزار کیوں نام تھا؟” عمران غصیلی آواز میں دھاڑا
“میں نہیں جانتا۔۔۔ آپ میرے دادا کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں!”
“اچھا۔۔۔ چل چھوڑ دیا۔۔۔ پردادا کا کیا نام ہے؟”
“مجھے نہیں معلوم۔”
“ابے تجھے اپنے پردادا کا نام نہیں معلوم۔”
“میرا پردادا تھا ہی نہیں۔” سلیمان نے برا سا منہ بنا کر کہا۔
“تب پھر تجھ سے زیادہ بدنصیب آدمی روئے زمین پر نہیں ملے گا۔”
“صاحب ہانڈی جل رہی ہے۔۔۔ مجھے جانے دیجئے!”
“اچھا بے ہمیں الو بناتا ہے کیا کاغذ کی ہانڈی ہے کہ جل جائے گی۔!”
“صاحب!” سلیمان اسے گھورتا ہوا بولا۔
“کیا کہتا ہے؟”
“میرا حساب کر دیجئے۔۔۔ میں اب یہاں نہیں رہوں گا۔”
“حساب۔۔۔” عمران کچھ سوچتا ہوا بولا۔ “حساب! اچھا کاغذ پنسل لے کر ادھر بیٹھ۔”
“مجھے لکھنا نہیں آتا!”
“اچھی بات ہے۔۔۔ جب لکھنا آ جائے تو مجھے بتانا۔۔۔ میں حساب کر دوں گا۔”
پرائیویٹ فون کی گھنٹی بجی اور یہ سلسلہ یہیں ختم ہو گیا۔
عمران نے کمرے میں جا کر کال ریسیو کی۔ فون جولیا ہی کا تھا۔
“اٹ از جولیا سر!”
“کیا خبر ہے؟”
“تنویر کا بیان ہو چکا ہے اس نے یہی لکھوایا ہے کہ اس کے پرس میں ڈیڑھ ہزار روپے تھے جو چھین لئے گئے۔”
“ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن سنو! تم سبھوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔”
“ہم ہر وقت محتاط رہتے ہیں جناب! اگر محتاط نہ ہوتے تو تنویر کی رپورٹ غالباً آسمان سے اترتی۔ احتیاط اور حاضر دماغی ہی کی وجہ سے وہ بچ گیا ہے۔”
“خیر۔۔۔ ہاں دیکھو۔۔۔ تمہیں یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ تھریسیا اور الفانسے اب شہر میں نہیں ہیں۔۔۔ یہ لوگ دھن کے پکے ہیں۔ یا تو کاغذات حاصل کریں یا اپنی جانیں دے دیں گے۔”
“تو کیا تنویر پر کیا جانے والا حملہ انہیں سے منسوب کیا جائے گا؟”
“ممکن ہے کہ یہ حملہ انہی کی طرف سے ہوا ہو۔”
“پھر ہمارے لئے کیا حکم ہے؟”
“فی الحال اس بے تکے سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔” عمران نے کہا اور ریسیور کریڈل پر رکھ دیا۔

سوزی حسب معمول دوسری صبح آفس پہنچی۔ لیکن التھرے اپنی میز پر موجود نہیں تھا۔ سوزی نے سوچا کہ اب اس کے پیر کی تکلیف بڑھ جائے گی لہٰذا وہ اپنی مسہری سے ہلنے کی بھی ہمت نہ کر سکے گا۔ مگر پھر آفس کس نے کھولا؟ یہاں ملازم صرف تین تھے۔ ایک سوزی خود۔۔۔ دوسرا ایک کلرک اور تیسرا چپڑاسی! التھرے کا رہائشی کمرہ بھی اسی فلیٹ میں تھا اور وہ وہاں تنہا رہتا تھا۔ لہٰذا آفس وہی کھولتا تھا۔ یہ تینوں ملازم باہر سے آتے تھے۔
فلیٹ میں چار کمرے تھے دو کمرے التھرے نجی طور پر استعمال کرتا دو آفس کے لئے تھے۔ سوزی اپنے کمرے میں بیٹھ گئی کلرک ابھی نہیں آیا تھا اس نے چپڑاسی سے پوچھا “صاحب کہاں ہیں؟”
“اپنے کمرے میں ہوں گے۔”
“آفس کس نے کھولا تھا؟”
“صاحب نے!”
چونکہ اسے پچھلی رات کھسکا دیا گیا اس لئے وہ سوزی کو شبے کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔ اور سوزی خوامخواہ دل ہی دل میں شرما رہی تھی وہ محسوس کر رہی تھی کہ اسے آج چپڑاسی اچھی نظروں سے نہیں دیکھ رہا۔
کچھ دیر بعد کلرک بھی آ گیا لیکن التھرے کی میز خالی ہی رہی۔ کلرک نے اسے ٹائپ کرنے کے لئے کچھ کاغذات دیئے اور سوزی کام میں مشغول ہو گئی!
کلرک ایک نوجوان دیسی عیسائی تھا۔ وہ اچھی صحت رکھتا تھا اور قبول صورت بھی تھا۔ اکثر وہ سوزی کے ساتھ ہی شامیں گذارتا تھا۔
لنچ کے وقفے میں شاید چپڑاسی نے کلرک کو پچھلی رات کا واقعہ بتایا تھا۔ سوزی نے یہی محسوس کیا۔ کیونکہ لنچ کے بعد سے اس کا موڈ خراب وہ گیا تھا۔
التھرے اندر ہی تھا اور اس نے چپڑاسی سے کہلوا دیا تھا کہ آج اس کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے اس لئے آفس کو ایک گھنٹہ پہلے ہی بند کر دیا جائے۔ ساتھ ہی چپڑاسی نے ببانگ دہل یہ بھی کہا کہ التھرے کی ہدایت کے بموجب سوزی کو وہیں رکنا ہوگا۔ کلرک نے پھر سوزی کی طرف غصیلی نظروں سے دیکھا۔
“کل بھی تم رکی تھیں؟” اس نے کہا۔
“ہاں کل بھی رکی تھی۔”
“کیوں؟”
جرح کا یہ انداز شاید سوزی کو پسند نہیں آیا تھا۔ اس لئے برا سا منہ بنا کر کہا “کیا میں تمہیں اس کا جواب دینے پر مجبور ہوں۔”
“اوہ! نہیں تو!” کلرک سپٹپٹا گیا اسے نہ جانے کیوں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے سوزی کی آنکھیں بلیوں سے مشابہ ہوں۔ حالانکہ اسے اس کی آنکھیں بہت اچھی لگتی تھیں اور ان کے تصور کے ساتھ ہی اس کے ذہن میں لاتعداد کنول کھل اٹھتے تھے۔ کنول جو حسن اور پاکیزگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
سوزی اب بھی اسے جواب طلب نظروں سے گھور رہی تھی کلرک اپنے کام میں مشغول ہو
چکا تھا مگر اس کے چہرے پر اب بھی ملال کا غبار دیکھا جا سکتا تھا۔
ٹھیک ساڑھے تین بجے وہ اپنی میز سے اٹھ گیا۔ باہر جاتے وقت اس نے سوزی کو عجیب نظروں سے دیکھا اور سوزی سوچنے لگی آخر یہ لوگ جان پہچان اور دوستی کے معنی غلط کیوں لیتے ہیں۔ وہ اس کے اس رویہ کا مطلب اچھی طرح سمجھتی تھی۔ لیکن اس کی دانست میں ان کا ملنا جلنا ان حدود میں ابھی تک داخل نہیں ہوا تھا جہاں طرفین ایک دوسرے پر اپنا حق جتاتے ہیں۔ سوزی اس وقت زیادہ جھلا گئی جب اس نے رخصت ہوتئے وقت چپڑاسی کی آنکھوں میں بھی وہی سوال پڑھا۔
“جہنم میں جاؤ۔” وہ زیر لب بڑبڑائی۔
یہ حقیقت ہے کہ وہ التھرے تک پہنچنے کے لئے بیچین تھی۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ پچھلی رات کا دلیر آدمی اب کس حال میں ہے وہ جانتی تھی کہ اب اس میں بستر سے ہلنے جلنے کی بھی سکت نہیں رہ گئی ہوگی۔
اس نے بیرونی دروازہ بند کیا اور التھرے کے کمرے کی طرف چل پڑی۔ صبح اس خیال سے وہاں نہیں گئی تھی کہ ممکن ہے التھرے اسے ناپسند کرے۔ ویسے اس نے یہ ضرور سوچا تھا کہ التھرے اس کی مدد کے بغیر پٹیاں بھی تبدیل نہیں کر سکے گا۔ پھچلی رات تو چوٹ تازہ تھی مگر اب اس کی ہمت بھی ساتھ دینے سے قاصر ہوگی۔
کمرے کے دروازے پر اس نے رک کر ہلکی سی دستک دی۔
“آجاؤ!” اندر سے الھترے کی آواز آئی۔
لیکن وہ اندر پہنچ کر ایک بار پھر متحیر رہ گئی۔ کیونکہ التھرے اس کے داخل ہونے سے پہلے شائد ٹہل رہا تھا۔
سوزی کو دیکھ کر وہ مسکرایا۔ اور سوزی کچھ بوکھلا سی گئی۔
“میں دراصل۔۔۔ پٹی تبدیل کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ اور زخم بھی اگر دھل جائے تو بہتر ہے۔”
“شکریہ!” التھرے ایک کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا۔ “بیٹھ جاؤ! میں زخم بھی دھو چکا ہواں اور پٹی بھی تبدیل ہو گئی ہے۔”
“آپ سچ مچ کمال کرتے ہیں۔” سوزی نے کہا۔
“میں نے تمہیں اس وقت ایک ضرورت سے روکا ہے۔”
“فرمائیے!”

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 30

“میرا ایک خط میری بیوی تک پہنچا دو۔”
“بیوی!” وہ حیرت سے دہرا کر رہ گئی۔
“ہاں کیوں؟” التھرے مسکرایا۔ “اس میں متحیر ہونے کی کیا بات ہے!”
“اوہ۔۔۔ جناب میں ابھی تک یہ سمجھتی تھی کہ آپ کنوارے ہوں گے۔”
“یہ غمناک کہانی ہے۔۔۔ بے بی!”
“اوہ۔۔۔” سوزی ہونٹ سکوڑ کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔
“وہ مجھ سے خفا ہو گئی ہے۔۔۔ مجھے پسند نہیں کرتی۔۔۔ اسے ایسے مرد پسند ہیں جو

شائستہ ہوں۔۔۔ شاعرانہ مزاج رکھتے ہوں۔۔۔ اسے ایسے مرد پسند ہیں جو میری طرح وحشی

نہ ہوں۔ اگر ان کی ٹانگ میں بھی ریوالور کی گولی لگے تو اسی جگہ ٹھنڈے ہو جائیں ہاں

بےبی۔۔۔٬” التھرے کی آواز غمناک ہو گئی۔
“مجھے حیرت ہے جناب کہ مسز التھرے کس قسم کی عورت ہیں۔” سوزی نے کہا۔ “نہ جانے وہ

عورتیں کیسی ہیں جنہیں زنانہ اوصاف کے مرد پسند ہیں۔”
“ایسی بھی ہوتی ہیں بے بی۔۔۔ میں انہیں عورتیں کہنے کو تیار ہی نہیں۔”
“آپ مجھے خط دیجئے۔۔۔ میں پہنچا دوں گی۔”
“شکریہ سوزی۔۔۔” التھرے بولا۔ “میں اب یہ جھگڑا ہی ختم کر دینا چاہتا ہوں میں اسے آخری

خط بھیج رہا ہوں۔ کیوں کیا خیال ہے تمہارا۔ اگر وہ مجھے پسند نہیں کرتی تو قانونی طور پر

Read More:  Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 11

علیحدگی ہی بہتر ہوگی۔”
“اوہ۔۔۔ نہیں! اگر سمجھوتہ ہو جائے تو بہتر ہے۔” سوزی نے کہا۔
“نہیں وہ آدمی جو ہمارے درمیان آ گیا ہے اسے راستے سے ہٹائے بغیر یہ ناممکن ہے۔۔۔ لیکن

میری نظروں میں قانون کا احترام بہت زیادہ ہے۔۔۔ میں اسے قتل نہیں کر سکتا۔”
دفعتاً سوزی مسکرائی اور بولی “حکمت عملی جناب۔۔۔ قتل کی کیا ضرورت ہے کیا کوئی ایسی صورت نہیں ہے کہ تشدد کے بغیر ہی آپ دونوں کے درمیان سے ہٹ جائے۔”
“نہیں!” التھرے مایوسانہ انداز میں سر ہلا کر بولا۔ “اور کیا صورت ہو سکتی ہے۔ مگر ٹھہرو۔ اگر کوئی عورت ان دونوں کے درمیان آجائے۔۔۔ تو۔۔۔ شائد دیکھو۔۔۔ بے بی۔۔۔ مجھے حیرت ہوتی ہے سلوانا پر۔۔۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ نامعقول آدمی اسے اتنا کیوں پسند ہے۔ ارے وہ بالکل احمق ہے اسے کسی بات کا بھی سلیقہ نہیں ہے۔ وہ سبز پتلون پر سرخ قمیض پہنتا ہے۔ زرد ٹائی لگاتا ہے اور نیلا فلٹ ہیٹ۔۔۔ کسی سرکس کا مسخرہ معلوم ہوتا ہے نہ اس کے جسم میں قوت ہے اور نہ کھوپڑی میں مغز!”
“سچ مچ!” سوزی پلکیں چھپکاتی ہوئی بولی۔
“ہاں بے بی۔ میں غلط نہیں کہہ رہا اور وہ ایک دیسی ہے یورپین بھی نہیں۔”
“تب تو شاید۔ معاف کیجئے گا۔ مجھے مسز التھرے صحیح الدماغ نہیں معلوم ہوتیں۔”
“مگر سوزی۔ وہ بہت خوبصورت ہے۔ میں اسے بہت چاہتا ہوں۔”
“کیا میں اس سلسلے میں کچھ کر سکتی ہوں؟”
“تم کیا کر سکو گی؟” التھرے تشویش کن لہجے میں بولا۔
“آپ مجھے اس آدمی کا پتہ بتائیے! شاید میں کچھ کر سکوں۔”
“ٹھہرو! مجھے سوچنے دو۔ میرا خیال ہے کہ تم بہت کچھ کر سکتی ہو۔” التھرے ہاتھ اٹھا کر بولا اور کچھ سوچنے لگا۔ پھر کچھ دیر بعد اس نے کہا۔ “ایک تدبیر سمجھ میں آئی ہے۔۔۔ مگر میں اسے برا سمجھتا ہوں کیونکہ تم ایک شریف لڑکی ہو۔”
“میں اپنی حفاظت بخوبی کر سکتی ہوں مسٹر التھرے۔۔۔ اور میری شرافت بھی برقرار رہ سکتی ہے لیکن یہ بہت بڑا کام ہوگا۔ اگر میری وجہ سے آپ دونوں کی ازدواجی زندگی پرمسرت گزرسکے۔”
“شکریہ! بےبی!”
“اب آپ مسز التھرے کو آخری خط لکھنے کا ارادہ ترک کر دیجئے۔”
“نہیں بے بی! اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔”
“آپ مجھ پر اعتماد کیجئے میں ایک ہی ماہ کے اندر ہی اندر اسے آپ کے راستے سے ہٹا دوں گی۔”
“کیسے ہٹا دو گی۔؟”
“اوہ۔۔۔ آپ اعتماد کیجئے نا مجھ پر۔۔۔ میں نرس بھی رہ چکی ہوں۔ شاید میں مختلف مردوں کے متعلق بہت کچھ جانتی ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں کہ انہیں کس طرح شکست دی جا سکتی ہے۔”
“لیکن اگر تم اپنا کوئی نقصان کر بیٹھیں تو مجھے گہرا صدمہ ہوگا۔”
“آپ فکر نہ کیجئے مجھے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔”
“اچھا بے بی!” التھرے نے ایک طویل سانس لی۔ ایک لحظہ خاموش رہا اور پھر بولا۔ “تم اس سے فی الحال دوستی کرلو پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔”
“ٹھیک ہے۔۔۔ آپ مجھے اس کا نام اور پتہ تو بتائیے۔”
“اس کمبخت کا نام ہی تو مجھے یاد نہیں رہتا۔” التھرے نے کہا۔ “مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ وہ ہر شام ٹپ ٹاپ نائٹ کلب میں ضرور ہوتا ہے۔ زیادہ تر اپنی میز پر تنہا بیٹھا نظر آتا ہے!۔۔۔ ارے وہ صورت ہی سے احمق معلوم ہوتا ہے۔ بےبی اور ہمیشہ بے ڈھنگے کپڑے پہنتا ہے۔”
“مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے کلب میں ایسے کسی آدمی کو کبھی نہ کبھی ضرور دیکھا ہے۔”
“دیکھا ہوگا۔۔۔ وہ ہزاروں میں بھی پہچانا جا سکتا ہے۔”
“اچھی بات ہے۔۔۔ جناب۔۔۔ آپ مطمئن رہئے۔”
“میں ہمیشہ تمہارا مشکور رہوں گا۔۔۔ مگر ہاں دیکھو۔۔۔ اب تم آفس نہ آنا۔۔۔ اس معاملے کو ختم کرنے کے بعد ہی تم یہاں آنا ورنہ ہو سکتا ہے کہ۔۔۔”
“ارے۔۔۔ اگر وہ احمق ہی ہے تو اتنی دوا دوش کہاں کر سکے گا کہ میری متعلق اسے کچھ معلوم ہو جائے؟”
“سلوانا بہت ذہین ہے بے بی۔۔۔ اگر اسے شبہ بھی ہو گیا کہ تمہارا کوئی تعلق مجھ سے ہے تو سارا کھیل بگڑ جائے گا۔”
“سلوانا۔۔۔ نام ہے مسز التھرے کا؟”
“ہاں۔۔۔ اس کا نام بھی کتنا پیارا ہے کیوں!” التھرے نے والہانہ انداز میں کہا۔۔۔ پھر اس طرح ہنسنے لگا جیسے اس سے کوئی حماقت سرزد ہوئی ہو۔
“اچھی بات ہے۔ میں یہاں نہیں آؤں گی۔ مگر میرا کام کون کرے گا!”
“کوئی دوسرا آجائے گا تم اس کی فکر نہ کرو۔ بس اس سے کسی نہ کسی طرح دوستی کر لو اور ٹھہرو!” وہ اٹھ کر میز کی طرف گیا۔ اس کی دراز کھولی اور اس میں سے بڑے نوٹوں کی ایک گڈی نکال کر سوزی کی طرف بڑھاتا ہوا بولا۔ “یہ رکھ لو بے بی۔ تمہارے کام آئیں گے۔”
سوزی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
اگر وہ سارے سو سو کے نوٹ تھے تو وہ گڈی کم از کم پانچ ہزار کی ہی ہو سکتی تھی!
“یہ تو بہت بڑی رقم معلوم ہوتی ہے جناب۔۔۔” سوزی نے حیرت سے کہا۔
“سلوانا کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے میں اپنی ساری دولت صرف کر سکتا ہوں۔۔۔ تم اسے رکھو۔۔۔ اس کا کوئی حساب تم سے نہیں طلب کیا جائے گا۔”
“یہ بہت ہے جناب! اسے آپ رکھئے۔۔۔ جب ضرورت ہوگی! طلب کر لوں گی۔”
“نہیں تم ہی رکھو۔۔۔ مجھے تم پر مکمل اعتماد ہے!”
“اعتماد کے لئے میں شکر گزار ہوں جناب!”
جولیانا فٹز واٹر نے ایکس ٹو کے پرائیوٹ نمبر ڈائل کئے اور دوسری طرف سے آواز آئی۔۔۔”یہلو!”
“جولیا اسپیکنگ سر!”
“ہاں کیا کیا بات ہے؟”
“تنویر کی حالت بہتر ہے؟”
“دیکھو! ہوشیار رہو! الفانسے اور تھریسیا یہاں سے گئے نہیں! یہیں ہیں میرا خیال ہے کہ ان کا گروہ ٹوٹ چکا ہے۔ لیکن وہ دونوں ابھی تک کٹے پتنگوں کی طرح یہیں ہچکولے لے رہے ہیں اور یہ تم جانتی ہو کہ جھنڈ سے بچھڑے بھیڑیئے کتنے خطرناک ہوتے ہیں۔”
“میں جانتی ہوں جناب! پھر مجھے کیا کرنا چاہئے؟”
“تھریسیا کو تلاش کرو۔”
“آپ نے بتایا تھا کہ وہ پچھلی بار میک اپ میں نہیں تھی۔”
“ہاں! میرا خیال ہے وہ کبھی میک اپ میں نہیں رہتی۔ جب عمران نے اسے پہچان لیا تھا تو تم بھی پہچان سکو گی۔۔۔ مگر یہ اتنا آسان کام بھی نہیں ہے!”
“کیوں؟”
“اس کے چہرے کی بناوٹ عجیب ہے اور اس سے وہ فائدہ اٹھا رہی ہے۔ اگر وہ یونہی اپنا نچلا ہونٹ تھوڑا سا بھینچ لے تو تم قیامت تک اسے نہیں پہچان سکتیں۔ اس تھوڑی سی تبدیلی کا اثر اس کے سارے چہرے پر پڑے گا۔”
“کیا یہی وجہ ہے کہ وہ بچی پھرتی ہے۔”
“قطعی۔۔۔ یہی وجہ ہے۔”
“پھر اسے تلاش کر لینا آسان کام نہیں ہے۔”
“کچھ مشکل نہیں ہے۔۔۔ تھوڑا صبر کرو۔۔۔ مجھے تھریسیا سے زیادہ الفانسے کی فکر ہے اور وہ دوسرا آدمی سسیرو۔۔۔”
“تو پھر ہم فی الحال خاموش بیٹھیں؟”
“بالکل۔۔۔ ضرورت سمجھی تو تمہیں مطلع کیا جائے گا۔ ورنہ ہو سکتا ہے کہ اس بار میں دوسرے ذرائع اختیار کروں۔”
“کیا عمران۔۔۔!”
“ہاں۔۔۔ ممکن ہے۔۔۔ اچھا بس۔۔۔” دوسری طرف سے سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔
سوزی دل کی بری نہیں تھی۔ اس نے اس کا ذمہ محض اس لئے لیا تھا کہ التھرے اور سلوانا کے تعلقات پھر بہتر ہو جائیں۔ اس کی دانست میں وہ آدمی گنہگار تھا جو ان دونوں کے درمیان میں آ گیا تھا لہٰذا وہ اسے ہر طرح سے زک دینا جائز سمجھتی تھی۔
وہ اسی کے متعلق سوچتی ہوئی ٹپ ٹاپ کلب میں پہنچی، اس کی وینٹی بیگ میں ایک ہزار روپے کے نوٹ تھے۔ اس سے پہلے وہ شائد دو یا تین بار یہاں آئی تھی کیونکہ یہاں ذی حیثیت آدمیوں کے علاوہ دوسروں کا گزر مشکل ہی تھا۔ لیکن وہ سوچ کر آئی تھی کہ آج ہی کلب کی مستقل ممبر بن جائے گی۔
وہ مینجر کے کمرے میں داخل ہوئی۔ لیکن وہ موجود نہیں تھا۔ سوزی کو کچھ دیر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنا پڑا۔ مینجر کی آمد پر وہ کچھ مایوس سی ہو گئی۔ کیونکہ ممبر بننے کی شرائط میں یہ بھی تھا کہ کم از کم دو پرانے ممبران سے شناسائی ضرور ہو۔
“مجھے یہاں کوئی نہیں جانتا۔” سوزی نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا “میں ابھی حال ہی میں ملایا سے یہاں آئی ہوں۔”
“دیکھئے۔۔۔ یہاں اجنبی بھی آتے ہیں۔ اکثر ایسے بھی آتے ہیں جو آج آئے پھر برسوں کے بعد ہی ان کی شکلیں دکھائی دیتی ہیں۔ مگر وہ لوگ ان سہولتوں سے محروم رہتے ہیں جو مستقل ممبران کو حاصل ہیں اور وہ سہولتیں کسی کی ضمانت کے بغیر دی ہی نہیں جاسکتیں۔ اسی لئے یہ ضروری ہے کہ ممبری کے فارم پر کم از کم دو پرانے ممبران کی سفارش ہو۔۔۔ یعنی وہ سفارش کرنے والے دراصل ضامن ہوتے ہیں!”
“اگر میں نقد ضمانت ادا کر دوں تو!”
“اوہ یقیناً۔۔۔ یقیناً۔۔۔ جب آپ کی ممبری ختم ہوگی ضمانت واپس کر دی جائے گی۔”
“رقم بتائیے!”
“صرف پانچ سو۔۔۔ دیکھئے۔۔۔ یہ دراصل ضابطے کی کاروائیاں ہیں۔ ورنہ یہاں سبھی معزز لوگ ہیں۔ غالباً آپ میرا مطلب سمجھ گئی ہوں گی۔”
سوزی اس کا جملہ پورا ہونے سے پہلے سو سو کے پانچ نوٹ نکال چکی تھی مینجر نے اس کا شکریہ ادا کرکے پانچ سو کی رسید دی اور ممبری کا فارم بڑھاتا ہوا بولا “آپ یہاں کی زندگی کو دلچسپ پائیں گی۔ ملایا سے تشریف لائی ہیں آپ!”
“جی ہاں۔۔۔ مگر دیکھئے۔۔۔ میں یہاں کسی سے واقف نہیں ہوں اور یہ میری عادت کے خلاف ہے کہ بغیر کسی تعارف کے خود سے جان پہچان پیدا کروں!”
“اوہ آپ اس کی فکر نہ کیجئے۔۔۔ میں یہاں کے بہترین ممبران سے آپ کا تعارف کراؤں گا۔”
“شکریہ!” سوزی نے کہا اور فارم کی خانہ پری کرنے لگی پھر اپنے دستخط کئے۔ مینجر نے فارم لے کر اس پر ایک نظر ڈالی اور اسے رجسٹر میں رکھتا ہوا بولا۔ “شکریہ”
“مگر دیکھئے میں اپنے گرد زیادہ بھیڑ نہیں پسند کرتی۔ کسی ایک آدمی سے تعارف کرا دیجئے جو بہت دلچسپ ہو۔ میں صرف تفریح چاہتی ہوں۔”
“اوہ!” مینجر ہونٹ سکوڑ کر کچھ سوچنے لگا۔ پھر پلکیں چھپکاتا ہوا مسکرایا۔
“کیا آپ کسی بیوقوف آدمی سے ملنا پسند کریں گی۔”
سوزی کا دل دھڑکنے لگا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کام تھا جس کا بیڑہ اس نے اٹھایا تھا۔ بیوقوف آدمی کا نام سنتے ہی اس کے جسم میں ہلکی سی تھرتھری پیدا ہو گئی۔ لیکن اس نے خود کو سنبھال کر کہا۔ “میں سمجھی نہیں۔”
“ایک ایسا آدمی جس کی باتوں پر آپ ہنستی رہیں گی۔”
“اوہ ضرور۔ ضرور۔۔۔ مگر کیا وہ بیوقوف ہے؟”
“یہ میں نہیں جانتا۔۔۔ ویسے بیوقوف ہی معلوم ہوتا ہے!”
“ضرور ملائیے! اس سے۔۔۔ پھر بعد کو تو دوسروں سے بھی جان پہچان ہو ہی جائے گی۔”
“چلئے! میرا خیال ہے کہ وہ آ ہی گیا ہوگا۔ آج کل نہ جانے کیوں روزانہ آ رہا ہے!”
سوزی نے کچھ پوچھنا چاہا لیکن خاموش ہی رہی۔ وہ دراصل یہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ اس کے ساتھ کوئی عورت بھی ہوتی ہے یا وہ تنہا ہوتا ہے۔
وہ ڈائیننگ ہال میں آئے۔ مینجر نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں “ابھی نہیں آیا مگر میرا خیال ہے کہ وہ ضرور آئے گا۔ آج کل ناغہ نہیں کرتا۔ آئیے! ادھر بیٹھئے!”
وہ دونوں بیٹھ گئے اور مینجر نے مسکرا کر کہا “میں پہلی بار ہر نئے ممبر کی دعوت ضرور کرتا ہوں۔۔۔ یہ رہا مینیو۔۔۔”
“اوہ! شکریہ! مگر میں کھانا تو کھا چکی ہوں۔”
“پھر کیا پئیں گی آپ!”
“میرا خیال ہے کہ کافی بہتر رہے گی۔ میں شراب بالکل نہیں استعمال کرتی۔”
“یہ بہت اچھی بات ہے۔۔۔ مجھے بہت خوشی ہوئی۔”
اس کے بعد وہ ملایا کے متعلق گفتگو کرتے رہے۔ ممکن ہے کبھی سوزی ملایا میں بھی رہی ہو۔ ورنہ وہ اتنی صفائی سے اپنے متعلق جھوٹ بولنے کی کوشش نہ کرتی۔
دفعتاً مینجر نے کہا “وہ آگیا۔”
سوزی کی نظر صدر دروازے کی طرف اٹھی۔ ایک خوشرو نوجوان اندر داخل ہوا تھا۔ لیکن التھرے کے بیان کے مطابق اس کے لباس میں کسی قسم کی بدوضعی نظر نہیں آئی۔ وہ نیلے سوٹ اور بے داغ سفید قمیض اور ایک سادہ ٹائی میں بڑا دلکش لگ رہا تھا۔
دروازے کے قریب کھڑے ہوئے ویٹر نے اسے ہاتھ اٹھا کر سلام کیا۔ اس نے بھی ہاتھ ہی اٹھا کر جواب دیا اور پھر اسی گرمجوشی سے مصافحہ کرنے لگا جیسے بہت دنوں بعد ملاقات ہوئی ہو۔ لیکن پھر بوکھلائے ہوئے انداز میں دوسری طرف مڑ گیا۔ بالکل اس طرح جیسے غلطی کا احساس ہو گیا ہو۔ ویٹر سر کھجاتا، اور کنکھیوں سے دوسروں کو دیکھتا ہوا کاؤنٹر کی طرف جا رہا تھا۔
“دیکھا آپ نے!” مینجر مسکرا کر بولا۔
“جی ہاں!” سوزی نے آہستہ سے کہا۔ اور مسکرائی۔ اس کی نگاہ برابر اس نوجوان کا تعاقب کر رہی تھی۔ پھر اس نے اسے ایک خالی میز کے قریب بیٹھتے دیکھا۔
“کیوں ہے نا دلچسپ!” مینجر نے کہا۔
“ہاں! معلوم تو ہوتا ہے۔۔۔ کچھ نروس قسم کا آدمی ہے۔”
مینجر نے اس خیال پر رائے زنی نہیں کی۔ وہ دونوں خاموشی سے کافی پیتے رہے۔ سوزی نے دیکھا کہ ہال کے دوسرے لوگ اس آدمی کو دیکھ کر ہنس رہے ہیں لیکن وہ اس انداز میں کچھ کھویا سا بیٹھا ہے جیسے اپنے گردوپیش کی خبر ہی نہ ہو۔
“پھر تعارف کرادیا جائے اس سے؟”
“ضرور۔ ضرور۔۔۔ یہ تو صورت ہی سے احمق معلوم ہوتا ہے۔”
مینجر پھر خاموش ہی رہا۔ وہ دونوں اٹھ کر اس کی میز کے قریب آئے وہ بوکھلا کر اٹھ کھڑا ہو گیا۔
“آپ سے ملئے!” مینجر نے عمران کی طرف ہاتھ پھیلا کر کہا۔ “آپ مسٹر علی عمران۔۔۔ اور آپ مس سوزی!.
عمران نے مینجر ہی سے مصافحہ کر ڈالا۔ پھر “سوری” کہہ کر سوزی کی طرف ہاتھ بڑھایا اور سوزی اس بوکھلاہٹ پر بے اختیار ہنس پڑی۔
“تشریف رکھئے۔۔۔ تشریف رکھئے!” عمران نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔ وہ بیٹھ گئے۔ مینجر نے اسے بتایا کہ سوزی حال ہی میں ملایا سے آئی ہے۔
“اوہو! ملایا۔۔۔ کیا کہنے ہیں۔” عمران سر ہلا کر بولا۔ “مجھے وہاں برف گرنے کا منظر بہت حسین معلوم ہوتا تھا۔”
“:برف!” سوزی نے حیرت سے کہا۔ “وہ تو خط استوا سے قریب ہے۔ وہاں برف کب پڑتی ہے۔”
“ارے۔۔۔ لاحول۔۔۔ مجھے ہمالیہ کا خیال تھا۔۔۔ ملایا میں نہیں گیا۔”
“ضرور جائیے۔۔۔ اگر کبھی موقع ملے۔۔۔ وہاں کے مناظر آپ بہت پسند کریں گے۔”
“ضرور۔۔۔ ضرور۔۔۔”
وہ دونوں ۃی خاموش ہو گئے۔ سوزی سوچ رہی تھی کہ اب کیا کہے اور عمران بار بار کنکھیوں سے مینجر کی طرف دیکھنے لگتا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آج یہ نئی بات کیوں؟ اس سے پہلے مینجر نے کسی لڑکی سے عمران کا تعارف نہیں کرایا تھا۔
مینجر شاید سمجھ گیا تھا اس نے جلدی سے کہا۔ “مس سوزی کلب کے کسی دلچسپ ترین ممبر سے تعارف چاہتی تھیں۔”
“اوہا۔۔۔” عمران بھدے پن سے ہنسنے لگا پھر بولا۔ “کیا میں واقعی دلچسپ ہوں۔”
“اتنی جلدی کیسے اندازہ ہو سکتا ہے۔” سوزی مسکرائی۔ “یہ اقدام تو انہوں نے اپنے تجربے
کی بناء پر کیا تھا۔”
“جی ہاں۔۔۔ ٹھیک ہے۔” عمران نے سر ہلا کر کہا۔
وہ پھر ہونٹ پر ہونٹ جما کر بیٹھ گیا۔ مینجر انہیں وہیں چھوڑ کر جا چکا تھا اور سوزی سچ مچ بور ہو رہی تھی۔ کیونکہ عمران کچھ ایسے انداز میں خاموش بیٹھا تھا جیسے اس نے اپنے کسی عزیز کی موت کی خبر سنی ہو۔
“آپ تو غیر دلچسپ ثابت ہو رہے ہیں جناب!” سوزی اٹھلائی۔
“ارے۔۔۔ ہاں وہ۔۔۔ میں دراصل بھول ہی گیا تھا۔”
“کیا بھول گئے تھے؟”
“یہی کہ ہم دونوں پہلی بار ملے ہیں بات دراصل یہ ہے مس سوجی۔”
“سوجی نہیں۔۔۔ سوزی!”
“اوہ معاف کیجئے گا۔۔۔ مجھے دراصل بھول جانے کا مرض ہے۔”
“کوئی بات نہیں اکثر ایسا ہو جاتا ہے۔۔۔ میں آپ کا شہر دیکھنا چاہتی ہوں”
“ضرور دیکھئے۔۔۔ یہ بہت اچھا شہر ہے۔۔۔ آپ کبھی اونٹ پر بھی بیٹھی ہیں؟”
“اونٹ پر؟” سوزی نے حیرت سے کہا اور اس مضحکہ خیز سوال پر ہنس پڑی۔
“جی ہاں۔۔۔ اونٹ پر۔۔۔ آپ اونٹ نہیں سمجھتیں۔۔۔ کیا ملایا میں نہیں ہوتے اونٹ۔۔۔ اونٹ ایک اونچا جانور ہے اور جھولا جھولتا ہوا چلتا ہے مجھے تو بہت پسند ہے یہ جانور۔۔۔ کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ اپنی کار میں ایک اونٹ جوت دوں!”
“مگر آپ نے یہ سوال کیوں کیا؟”
“بس یونہی۔۔۔ میں ہر آدمی سے یہ سوال کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ جو ایک بار بھی اونٹ پر نہیں بیٹھا۔ اس نے اپنی اتنی زندگی برباد کی ہے۔”
“کیوں؟”
“پتہ نہیں۔۔۔ میں یہی محسوس ہوں، بہتیری ایسی باتیں محسوس کرتا ہوں جنہیں سن کر لوگ مجھے احمق سمجھتے ہیں لیکن اب میں کیا کروں کہ مجھے محسوس ہوتا ہے لیکن وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ کیوں محسوس ہوتا ہے۔”
“آپ واقعی دلچسپ ہیں۔” سوزی مسکرائی۔
“شکریہ!” عمران نے احمقانہ انداز میں کہا۔
“آپ کا مشغلہ کیا ہے؟”
“آثار قدیمہ کی کھدائی کرنا۔”
“اوہ!”
“جی ہاں! اب تک کئی نادر روزگار چیزیں زمین سے برآمد کر چکا ہوں۔ پچھلے دنوں اپنے باغ کی کھدائی کر رہا تھا کہ ایک چالیس ہزار سال پرانا حقہ برآمد ہوا لیکن اب اس کے متعلق ایک لمبی بحث چھڑ گئی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ وہ حقہ ہے لیکن دوسرے ماہرین آثار قدیمہ کی رائے اس سے مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ حقہ نہیں بلکہ اسپرے مشین ہے۔”
“بھلا حقہ اور اسپرے مشین میں کیا علاقہ۔۔۔”
“کوئی نہیں! مگر مشکل یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہی ایک مرغیوں کا ڈربہ بھی نکل آیا ہے جو آدھا رنگین اور آدھا سادہ۔۔۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس ڈربے پر اسپرے مشین سے رنگ کیا جا رہا تھا کہ ٹھیک اسی وقت طوفان نوح آگیا اس لئے رنگائی پوری نہیں ہوسی۔”
“کمال ہے بھلا یہ کیسے معلوم ہوگیا کہ وہ طوفان نوح کے وقت کی چیزیں ہیں۔”
“ہرگز نہ معلوم ہوتا۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ ڈربے سے دو چار مچھلیوں کے کانٹے نکل آئے۔ میں کیا بتاؤں۔ پہلے مجھے دھیان نہیں آیا تھا ورنہ وہ کانٹے چپ چاپ کھسکا دیتا اور میری تھیوری بے چوں و چرا تسلیم کر لی جاتی۔ اب میں اسے حقہ کسی طرح ثابت نہیں کر سکتا۔ میری بہت بڑی شکست ہوئی ہے کاش میں جلدی ہی کوئی دوسری چیز برآمد کر کے اس شرمندگی کو مٹا سکتا۔” عمران یہ سب بڑی سنجیدگی سے کہہ رہا تھا اور سوزی اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔

Read More:  Paiyal Ki ChanChan Novel by Insia Awan – Last Episode 6

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: