Alfanse by Ibn-e-Safi – Episode 2

0
الفانسے ​از ابن صفی – قسط نمبر 2

–**–**–

“خیر مس چوزی دیکھا جائے گا۔” عمران نے انگڑائی لی۔
“سوزی پلیز! آپ بار بار میرا نام بھول جاتے ہیں۔”
“اوہ۔۔۔ معاف کیجئے گا”۔۔۔ عمران نے اپنا کان اینٹھ کر داہنے گال پر زور سے تھپڑ مارا۔ قرب و جوار کے لوگ چونک کر ہنسنے لگے اور عمران اس طرح چونکا جیسے وہ کسی اور بات پر ہنسے ہوں۔ وہ چاروں طرف دیکھنے لگا پھر جھک کر آہستہ سے بولا “کیا ہوا؟”
سوزی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا جواب دے۔ ویسے وہ بری طرح جھینپ رہی تھی کیونکہ اب لوگ اسے بھی گھورنے لگے تھے۔
“آپ نے اپنے گال پر تھپڑ۔۔۔ مم مارا تھا۔” سوزی ہکلائی۔
“ان گدھوں کے منہ پر تو نہیں مارا تھا۔” عمران نے غصیلے لہجے میں کہا “آخر یہ ہنستے کیوں ہیں”
اس پر سوزی کو ہنسی آگئی۔
“اچھا۔۔۔ آپ بھی ہنس رہی ہیں۔ خیر۔۔۔ خیر۔۔۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ جب لوگ تم پر ہنسنے لگیں تو تم سمجھ لو کہ تم ان سب کو نیچا دکھا سکتے ہو۔”
سوزی اس دوران میں یہ بھی بھول گئی تھی اس آدمی سے ملنے کا مقصد کیا تھا۔
“کنفیوشس کو پڑھا ہے آپ نے؟” وہ بولی۔
“کیا کنفیوشس کوئی کتاب ہے؟” عمران نے جھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔ “آپ مجھے بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہیں جس کی اجازت میں ہرگز نہیں دے سکتا۔”
“اوہ۔۔۔ آپ تو خفا ہوگئے۔۔۔ میرا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا!”
“کیا مطلب تھا۔۔۔ آپ کا؟”
“کچھ بھی نہیں آپ تو پیچھے پڑ گئے۔”
“اوہ۔۔۔ تو آپ مجھے۔۔۔ پاگل کتا بھی سمجھتی ہیں۔۔۔ کیوں؟”
“ارے۔۔۔ کمال کرتے ہیں آپ۔”
“کیا کمال کرتا ہوں۔۔۔ کمال کرتی ہیں آپ۔۔۔ مجھے پاگل۔۔۔ بددماغ۔۔۔ بیوقوف اور نہ جانے۔۔۔ کیا کیا سمجھ لیا ہے آپ نے۔۔۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ مینجر کا بچہ مجھے پریشان کرنا چاہتا ہے۔ میں اس سے سمجھ لوں گا۔”
عمران اپنی جگہ سے اٹھا اور سوزی کے احتجاج کی پروا کئے بغیر ڈائیننگ ہال سے چلا گیا۔
سوزی خاموش بیٹھی رہی۔ اور اب اسے یاد آیا کہ وہ یہاں کیوں آئی تھی۔
وہ سوچنے لگی۔ یہ تو سو فیصدی کریک معلوم ہوتا ہے۔ پھر شاید التھرے کی بیوی بھی پاگل ہی ہے جو التھرے جیسے۔۔۔ ذہین۔۔۔ طاقتور۔۔۔ اور۔۔۔ غیر معمولی قوت برداشت رکھنے والے آدمی کو چھوڑ کر اس کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ اٹھی۔ اور کلب کے باہر نکل کر ایک پبلک ٹیلیفون بوتھ میں آئی۔ التھرے کے نمبر ڈائیل کئے اور ماؤتھ پیس میں بولی
“مسٹر التھرے۔۔۔ پلیز۔۔۔ سوزی اسپیکنگ۔۔۔”
“ہیلو۔۔۔ بے بی۔۔۔ کیا بات ہے؟”
“اس کا نام عمران ہی ہے نا!”
“ہاں۔۔۔ آں۔۔۔ ٹھیک۔۔۔ یہی نام ہے۔۔۔ بے بی۔۔۔!”
“میں اس سے اس وقت ملی ہوں۔۔۔ وہ تو پاگل ہے۔۔۔ سو فیصدی پاگل۔۔۔”
“ہاں مجھے بھی یہی معلوم ہوا تھا۔”
“پھر معاف کیجئے گا۔۔۔ شاید مسز التھرے بھی اپنا ذہنی توازن کھو چکی ہیں۔”
“ہو سکتا ہے۔۔۔ مگر۔۔۔ میں اسے کھونا نہیں چاہتا۔۔۔ بے بی!”
“اوہ۔۔۔ آپ مطمئن رہیئے۔۔۔ میں اس سے سمجھ لوں گی۔”
“بس تمہیں۔۔۔ تمہیں اتنا ہی کرنا ہے۔۔۔ کہ اسے مگر نہیں۔۔۔ ابھی تم اس سے ملتی رہو۔”
“بہت بہتر۔۔۔” سوزی نے ریسیور رکھ دیا۔ اور بوتھ سے باہر نکل آئی!
تیسری شام بھی جب سوزی آ ٹکرائی تو عمران کو اس کے متعلق سنجیدگی سے غور کرنا پڑا۔اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو وہ شاید عمران پر تھوکنا بھی پسند نہ کرتی کیونکہ وہ پچھلے دو دنوں سے برابر حماقت کی بجائے چڑچڑاہٹ کا مظاہرہ کرتا رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ حماقت تو تفریح کا سامان پیدا کرتی ہے مگر چڑچڑاہٹ برداشت کرنا شاید کسی کے بس کا روگ نہ تھا۔
پھر وہ کس ٹائپ کی لڑکی تھی کہ عمران کی چڑچڑاہٹوں سے دوچار ہونے کے باوجود بھی اس کا پیچھا چھوڑتی نظر نہیں آتی تھی۔
عمران نے سب سے پہلے مینجر سے اس کے متعلق پوچھ گچھ کی لیکن وہ اس سے زیادہ نہیں بتا سکتا کہ وہ ایک نئی ممبر تھی اور اس نے کلب کے کسی دلچسپ ترین ممبر سے تعارف حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ مصلحتاً عمران نے اس کے متعلق زیادہ گفتگو نہیں کی۔ بہرحال وہ لڑکی اس وقت بھی اس کے سر پر مسلط تھی اور عمران سوچ رہا تھا کہ اس طرح مل بیٹھنے کی غرض و غائت کیا ہو سکتی ہے۔
“آپ آج بہت خاموش ہیں۔” لڑکی نے چھیڑا۔
“پتہ نہیں۔ مجھے تو نہیں محسوس ہوتا کہ میں خاموش ہوں۔” عمران کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ نظر آئی۔۔۔ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر بولا۔ “آپ ملایا کب واپس جائیں گی؟”
“کیوں؟”
“بس یونہی۔۔۔ میرا خیال ہے کہ اب آپ کو واپس چلا جانا چاہئے۔”
“اس خیال کی وجہ؟”
“میں بہت پہلے آپ کو بتا چکا ہوں کہ مجھ سے وجہ نہ پوچھا کیجئے۔۔۔ وجہ جب میری ہی سمجھ میں نہیں آتی تو آپ کو کیا بتاؤں!”
“خیر چھوڑیئے۔۔۔ آج میں آپ کو اپنے گھر لے چلنا چاہتی ہوں۔”
“گھر اپنا ہو یا دوسرے کا۔۔۔ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔”
“پھر کیا آپ کی راتیں آسمان کے نیچے گزرتی ہیں؟”
“نہیں۔۔۔ آسمان پر گزرتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ رات کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔۔۔ کنفیوشس نے کہا تھا۔۔۔”
“ضرور کہا ہوگا۔” لڑکی جلدی سے بولی۔ “اٹھیئے چلئے میرے ساتھ۔۔۔”
“آپ کے گھر پر اور کون ہے؟”
“کوئی بھی نہیں۔۔۔ میں تنہا رہتی ہوں۔”
“ارے باپ رے!” عمران نے اردو میں کہا۔
اور لڑکی بولی۔ “میں سمجھی نہیں۔”
“آج نہیں کل!” عمران نے کہا۔
“آج کیوں نہیں۔۔۔” سوزی نے کہا۔
“آج میری بکری بچہ دینے والی ہے۔”
“اوہ۔۔۔ کیا یہ گندہ شوق بھی رکھتے ہیں آپ؟”
“یہ گندہ شوق ہے؟” عمران نے جھلا کر بولا۔
“یقیناً!” لڑکی مسکرائی۔
“بس اب براہ کرم مجھے زیادہ غصہ نہ دلایئے!”
“آپ عجیب ہیں۔”
“آپ خود عجیب ہیں بلکہ عجیب ترین۔۔۔”
ٹھیک اسی وقت جولیانا فٹز واٹر ڈائیننگ ہال میں داخل ہوئی اور سیدھی عمران کی میز کی طرف چلی آئی لیکن میز کے قریب پہنچ کر وہ ٹھٹھکی۔ کیونکہ عمران کے ساتھ کسی تفریح گاہ میں کسی لڑکی کا ہونا اس کے لئے بالکل نئی بات تھی۔۔۔ اور پھر لڑکی بھی سفید فام۔۔۔
“اوہو۔۔۔ کیا میں مخل ہو رہی ہوں؟۔۔۔ مسٹر عمران۔۔۔” اس نے عمران کو مخاطب کیا۔
“نیہں تو۔۔۔ ویسے یہ” عمران نے سوزی کی طرف دیکھ کر کہا “میرے دماغ میں خلل ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔”
سوزی گڑبڑا گئی۔ اس نے احتجاج کے لئے ہونٹ کھولے ہی تھے کہ جولیا بول پڑی۔ “وہ تو ظاہر ہی ہے اسے ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ بہرحال میں تمہاری اجازت کے بغیر یہاں بیٹھ رہی ہوں۔”
سوزی جولیا کو دیکھنے لگی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیا مسز التھرے یہی ہے۔۔۔ جولیانا فٹز واٹر بہت دلکش عورت تھی۔ سوزی اس کا نام یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ لیکن نام یاد نہ آیا۔ ویسے اسے یقین ہوتا جا رہا تھا کہ مسز التھرے ہی ہے۔ عمران خاموش ہو گیا تھا۔
“آپ کی تعریف؟” جولیا نے سوزی کی طرف دیکھ کر کہا۔
“اوہ! مجھے سوزی کہتے ہیں۔” وہ جلدی سے بول پڑی۔ “ابھی حال ہی میں ملایا سے آئی ہوں او رتین دن ہوئے آپ کے کلب کی ممبر بنی تھی۔ مسٹر عمران کلب کے دلچسپ ترین آدمی ہیں۔”
جولیا نے ایک طویل سانس لی اور کنکھیوں سے عمران کی طرف دیکھتی ہوئی بولی “میں جولیانا فٹز واٹر ہوں۔۔۔ مسٹر عمران واقعی بہت دلچسپ آدمی ہیں۔”
“کنفیوشس نے کہا تھا کہ جب دو عورتیں بیک وقت تمہیں دلچسپ سمجھنے لگیں تو کسی بوڑھی عورت کو تلاش کرو، جو ان کے بیان کی تصدیق کر سکے۔”
“سوزی ہنسنے لگی پھر جولیا سے بولی “یہ کنفیوشس کے اسپیشلسٹ ہیں۔”
“یہ کس چیز کے اسپیشلسٹ نہیں ہیں؟” جولیا نے سوال کیا۔
سوزی پھر ہنسنے لگی۔ لیکن عمران قطعی بے تعلقانہ انداز میں بیٹھا رہا۔ جولیانا اسے چھیڑ چھیڑ کر بولنے پر اکساتی رہی۔ اس سے سوزی نے اسے مسز التھرے سمجھتے ہوئے اندازہ لگایا کہ عمران کو اس کی پروا بھی نہیں ہے۔ خود وہی اس کے پیچھے لگی ہے۔ ان تین دنوں میں سوزی نے یہ بھی محسوس کیا کہ کریک ہونے کے باوجود وہ جنس مخالف کے لئے خود میں کافی کشش رکھتا ہے۔
سوزی اب اٹھ جانا چاہتی تھی۔ نہ جانے کیوں وہ التھرے کو یہ بتانا چاہتی تھی کہ عمران شاید مسز التھرے کو منہ لگانا بھی پسند نہیں کرتا۔ وہ خود ہی اس کے پیچھے دم ہلاتی پھرتی ہے۔”
“اچھا۔۔۔ اب اجازت دیجئے!” وہ اٹھتی ہوئی بولی۔
“بیٹھئے نا!” جولیا نے کہا۔ “اگر آپ میری وجہ سے اٹھ رہی ہیں۔۔۔ تو۔۔۔”
“ارے نہیں۔۔۔ قطعی نہیں۔” سوزی مسکرائی۔ “مجھے دراصل آٹھ بجے ایک جگہ پہنچنا ہے۔”
“ضرور، ضرور!” عمران نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھا دیا۔
نہ جانے کیوں سوزی کو عمران کی اس حرکت پر بڑا غصہ آیا۔۔۔ لیکن وہ زبردستی مسکراتی رہی۔
کچھ دیر بعد اس نے ایک پبلک ٹیلیفون بوتھ سے التھرے کو فون کیا۔
“یس۔۔۔ بےبی۔۔۔” دوسری طرف سے آواز آئی۔
“میں اس وقت ان دونوں کے پاس سے اٹھ کر آ رہی ہوں۔”
“اوہ۔۔۔ کیا۔۔۔؟”
“جی ہاں! آج مسز التھرے سے بھی ملاقات ہو گئی۔ وہ واقعی بے حد حسین ہیں۔ ان کا نام جولیانا ہی ہے نا؟”
“کیا۔۔۔ اوہو۔۔۔ ہاں۔۔۔ جولیانا”۔۔۔ دوسری طرف سے تھوڑے وقفے کے ساتھ کہا گیا۔۔۔ “ہاں! تو تم نے اسے دیکھ لیا بے بی!”
“ہاں! دیکھ لیا مگر مسٹر التھرے وہ عمران اس سلسلے میں بالکل بے قصور معلوم ہوتا ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ ان سے بھاگنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ شاید خود ہی اس پر بری طرح مرمٹی ہیں۔”
“ہو سکتا ہے۔ بہرحال اس واقعے کو التھرے کی بدنصیبی ہی کہیں گے۔”
“اور سنیئے۔۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ آپ کا نام نہیں لگاتیں!”
“ہائیں۔۔۔ یہ میرے لئے بالکل نئی اطلاع ہے۔” دوسری طرف سے تحیر زدہ سی آواز آئی۔
“جی ہاں۔۔۔ انہوں نے خود ہی کہا تھا کہ وہ جولیانا فٹز واٹر ہیں۔”
“بے بی! یہ بڑی زیادتی ہے۔ اب تم خود ہی انصاف کرو!۔۔۔ کیا کوئی شادی شدہ عورت شوہر کی بجائے باپ کا نام استعمال کر سکتی ہے؟”
“تو فٹز واٹر ان کے باپ کا نام ہے۔”
“ہاں۔۔۔ مگر اب یہ عورت مجھے خوامخواہ مجھے غصہ دلا رہی ہے۔” التھرے کی غصیلی آواز آئی۔
“آپ کا غصہ فضول ہے مسٹر التھرے۔۔۔ عمران نے ان پر ڈورے نہ ڈالے ہوں گے۔ وہ اس قسم کا آدمی معلوم نہیں ہوتا بلکہ میں تو یہاں تک کہنے کے لئے تیار ہوں کہ اسے عورتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔”
“خیر یہ غلطی ہے تمہاری۔۔۔ وہ دوسرے قسم کے مردوں میں سے ہے۔ یہ لوگ خوامخواہ عورتوں سے لاپرواہی ظاہر کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ ان کے کتے ہوتے ہیں۔ ان کی بے رخی تو دراصل عورتوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ایک طریقہ ہے۔”
“ممکن ہے آپ درست کہہ رہے ہوں! ہاں ایسے مرد بھی ہوتے ہیں۔”
“بس یہ سمجھ لو کہ سارا قصور اسی کا ہے۔ یہ بتاؤ کہ کیا وہ تمہارے ساتھ آنے پر آمادہ ہے۔”
“میں اسے آمادہ کر لوں گی۔۔۔ شاید کل شام کو وہ میرے ساتھ باہر نکل سکے۔”
“اچھی بات ہے کل دس بجے تک تمہیں مقام کے متعلق اطلاع دے دی جائے گی۔”
“مگر اپ کریں گے کیا؟”
“بس تم دیکھنا! میری حکمت عملی۔۔۔ ویسے تم مطمئن رہو کوئی غیر قانونی حرکت ہرگز نہ ہونے پائے گی۔”
“مجھے اطمینان ہے مسٹر التھرے۔۔۔ آپ بہت اونچے آدمی ہیں!”
“شکریہ! بے بی مگر افسوس! کاش میری بیوی نے کبھی مجھے اس نقطہ نگاہ سے دیکھا ہوتا۔”
“آپ کے کہنے کا مطلب۔۔۔ یہ کہ۔۔۔ میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں!”
“اسی لئے میں بھی تمہاری بہت عزت کرتا ہوں۔ اچھا بے بی۔۔۔ اور کچھ نہیں؟”
“جی نہیں!” دوسری طرف سے سلسلہ مقطعی ہونے کی آواز آئی!
آج سردی کم تھی اور پچھلی رات کا شفاف چاند سفید بادلوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے بار بار الجھ رہا تھا۔ کلاک نے بارہ بجائے اور وزارت داخلہ کا اسسٹنٹ سیکرٹری کرنل نادر ٹہلتے ٹہلتے رک گیا۔ مغربی سمت کی کھڑکی کا ایک پٹ کھلا ہوا تھا جس سے دور تک پھیلا ہوا میدان دکھائی دیتا تھا وہ کھڑکی کی طرف بڑھا اور دوسرا پٹ بھی کھولتا ہوا سلاخوں پر جھک گیا۔ حد نظر تک چاندنی کھیت کر رہی تھی۔ پھر اس نے بڑی بے چینی سے کلاک کی طرف دیکھا۔ بارہ بج کر دو منٹ ہوئے تھے۔ اب اس نے اس طرح کلائی کی گھڑی پر نظر ڈالی جیسے دیوار سے لگے ہوئے کلاک نے اسے دھوکا دیا ہو۔ باہر ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی اور وہ چونک پڑا۔ پھر دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ اس کے انداز میں بڑی بے چینی تھی۔ جھاڑیوں کے قریب پہنچ کر اس نے آہستہ سے کہا “سلوانا”
اسے اپنی سرگوشی دور تک پھیلتی محسوس ہوئی۔ وہ چاروں طرف دیکھنے لگا۔ کیونکہ اسے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔ تھوڑی دور تک جھاڑیاں متحرک نظر آ رہی تھیں۔ وہ دوڑتا ہوا وہاں پہنچا “سلوانا”! اس نے پھر آہستہ سے پکارا اور چاروں طرف دیکھنے لگا۔ اس بار اسے جھاڑیوں میں گھستا چلا گیا۔
لیکن اچانک اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی گردن میں پھندا سا پڑ گیا ہو۔ ایک جھٹکے کے ساتھ رک کر اس نے اپنی گردن ٹٹولنی چاہی لیکن دوسرے ہی لمحے ایک مضبوط ہاتھ اس کے منہ پر پڑا۔۔۔ ساتھ ہی اس کے ہاتھ بھی کسی کی گرفت میں آ گئے۔ اس نے تڑپ کر اس جال سے نکلنا چاہا مگر یہ ممکن نہ ہوا۔ منہ پر ہاتھ کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ اس کا دم گھٹنے لگا تھا۔ ایسی صورت میں حلق سے آواز کیا نکلتی۔
وہ زمین پر گرا دیا گیا۔۔۔ لیکن بے حس و حرکت۔۔۔ شاید بیک وقت کئی آدمیوں نے اسے دبا رکھا تھا پھر آہستہ آہستہ اس کے کانوں میں گونجنے والی جھائیں جھائیں گہری ہوتی گئیں۔۔۔ ایک بار آنکھوں کے سامنے کوندا سا لپکا اور پھر گہری تاریکی چھا گئی۔ کانوں کی جھائیں جھائیں ذہن کے اندھیروں میں مدغم ہو گئی۔
کرنل نادر اچھے ہاتھ پیر اور بہتر صحت کا مالک تھا لیکن پھر بھی جب وہ دوبارہ ہوش میں آیا تو نقاہت کی وجہ سے آنکھیں کھولنے میں بھی دشواری محسوس کر رہا تھا۔ لیکن پھر بھی اس طرح اچھل پڑا۔ جیسے اچانک کوئی چیز چبھ گئی ہو۔ وہ برہنہ تھا۔ جسم پر ایک تار بھی نہیں تھا اس نے چاروں طرف وحشت زدہ نظروں سے دیکھا اور دیوانوں کے سے انداز میں پورے کمرے کا چکر لگانے لگا۔ وہ کمرے میں تنہا تھا لیکن یہاں اسے کوئی چیز نہیں ملی جس سے وہ اپنا جسم ڈھانک سکتا۔
اس کا سر بڑی شدت سے چکرا رہا تھا۔ دفعتاً دروازہ کھولنے کی آواز آئی اور تین آدمی اندر داخل ہوئے۔ وہ بے تحاشہ بیٹھ کر ایک گوشے میں سمٹ گیا۔ آنے والے تینوں سفید فام آدمی پادریوں کی وضع قطع رکھتے تھے۔
“ارے۔۔۔ دیکھو! اس ننگے بے شرم کو!۔۔۔” ایک نے داڑھی پر ہاتھ پھیر کر کہا۔
“چھی چھی!” دوسرے نے برا سا منہ بنایا۔
“کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟۔۔۔” تیسرے نے ڈپٹی سیکرٹری کو مخاطب کیا۔ ڈپٹی سیکرٹری فوجی آدمی تھا۔ لیکن اس قسم کے حالات سے دوچار ہونا اس کے لئے بالکل نئی بات تھی اور وہ بری طرح نروس ہو گیا تھا۔
“ارے کچھ اثر ہی نہیں ہوتا۔۔۔ اس پر۔۔۔” ایک نے کہا “بہرا ہے شاید!” دوسرا بولا۔
“کیوں کیا تم بہرے ہو۔۔۔؟” تیسرے نے ڈپٹی سیکرٹری کو مخاطب کیا۔ “میرے کپڑے لاؤ۔۔۔ سور کے بچو!” ڈپٹی سیکرٹری نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا۔ “ورنہ چن چن کر قتل کر ڈالوں گا۔۔۔ میرے کپڑے لاؤ۔۔۔ لاؤ۔۔۔ جلدی۔۔۔ نکلو یہاں سے۔۔۔ سور کے بچو!”
“پاگل معلوم ہوتا ہے۔” تیسرے نے دوسروں کی طرف دیکھ کر خوفزدہ آواز میں کہا۔ “بھاگو یہاں سے۔”
اور وہ سچ مچ بھاگتے ہوئے کمرے سے نکل گئے۔ انہوں نے دروازہ بھی نہیں بند کیا۔
ڈپٹی سیکرٹری اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا کہ اسے بند کر کے اندر سے چٹخنی چڑھا دے۔ لیکن پھر وہ جھجھک کر پیچھے ہٹ آیا۔ ایک لمبا آدمی دروازے میں کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ڈپٹی سیکرٹری کے کپڑے تھے۔ اس نے انہیں اس کی طرف اچھالتے ہوئے کہا۔ “کپڑے پہن لو!”
اور پھر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔ ڈپٹی سیکرٹری نے بوکھلائے ہوئے انداز میں کپڑے پہنے اور پھر دروازے کی طرف بڑھا۔ اب اس کی آنکھیں غصہ سے سرخ ہو رہی تھیں۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ اس وقت پہاڑ سے بھی ٹکرا جائے گا۔
اس نے پوری قوت سے لمبے آدمی پر حملہ کر دیا۔ لیکن اپنے ہی زور میں منہ کے بل فرش پر ڈھیر ہو گیا۔ کیونکہ لمبے آدمی نے بڑی پھرتی سے وار خالی کر دیا تھا اور پھر اسے اٹھنے کی مہلت نہ مل سکی۔ لمبا آدمی اس پر سوار ہو گیا۔
“تم اپنا وقت ضائع کر رہے ہو دوست!” اس نے ڈپٹی سیکرٹری کی گردن دباتے ہوئے سفاکانہ انداز میں کہا۔۔۔ اور پھر اچھل کر ہٹ گیا۔
ڈپٹی سیکرٹری زمین سے اٹھا تو لیکن چپ چاپ کھڑا رہا۔
“تم اب بوڑھے ہو چلے ہو”۔۔۔ لمبے آدمی نے کہا۔ “اس وقت اس قسم کی ورزشیں تمہارے اعصاب کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔”
“مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے۔” ڈپٹی سیکرٹری غرایا۔
“ایک بہت ہی معمولی بات کے لئے۔۔۔ جو ذاتی طور پر تمہارے لئے ذرہ برابر بھی نقصان دہ نہیں ہو سکتی! تم صرف اتنا بتا دو کہ ریڈ اسکوائر کاغذات کہاں رکھے گئے ہیں؟”
“اوہ!” ڈپٹی سیکرٹری اسے گھورنے لگا۔
“میں یہ سننا پسند نہیں کروں گا کہ تم اس سے لاعلم ہو!” لمبے آدمی نے کہا۔
“یہ حقیقت ہے کہ میں ان کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔”
“تم اچھی طرح جانتے ہو۔”
ڈپٹی سیکرٹری کچھ نہ بولا۔ لمبے آدمی نے مسکرا کر کہا۔ “اگر تم نہیں بتاؤ گے۔۔۔ تو کپڑے پھر اتار لئے جائیں گے اور ایک مجمع ہوگا تمہارے گرد۔”
“میں ایک آدھ کو جان سے مار دوں گا۔” ڈپٹی سیکرٹری غرایا۔ “میں بوڑھا ضرور ہو چلا ہوں لیکن قوت ہے میرے جسم میں!”
“تم احمقوں کی سی گفتگو کر رہے ہو۔ تمہیں پچھتانا پڑے گا۔”
ڈپٹی سیکرٹری خاموشی سے اسے گھورتا رہا۔
“تم کسی پاگل کتے کی طرح بھونکنے لگے ہو۔” لمبا آدمی بولا۔ “تم۔۔۔ ہم سے ہمارے طریق کار سے ناواقف ہو۔ ہم تم پر تشدد نہیں کریں گے۔۔۔ اس کے باوجود بھی تم اگل دو گے۔”
“جب مجھے کچھ معلوم ہی نہیں ہے تو میں کیا بتاؤں گا۔”
“دیکھو دوست! پھر سوچ لو۔۔۔ تمہارے کپڑے اتار لئے جائیں گے”
“تمہاری مرضی!” ڈپٹی سیکرٹری نے لاپرواہی سے شانوں کو جنبش دی۔
“میں تمہارے پورے خاندان کو اسی طرح یہاں اکٹھا کر سکتا ہوں۔ ذرا سوچو تو۔۔۔ اگر وہ سب تمہاری ہی طرح برہنہ کرکے اسی کمرے میں تمہارے ساتھ بند کر دیئے گئے تو۔۔۔؟”
ڈپٹی سیکرٹری سر سے پیر تک لرز گیا۔ اس کی کھال اڑا دی جاتی۔۔۔ تب بھی کاغذآت کے متعلق کچھ نہ بتاتا لیکن یہ حرکت خدا کی پناہ۔۔۔ اس کے تصور ہی سے اس کا دل بیٹھنے لگا۔
“نہیں!” اس نے مضطربانہ انداز میں کہا۔۔۔ “تم ایسا نہیں کر سکتے۔”
“نمونہ تو تم دیکھ ہی چکے ہو!” لمبا آدمی بیدردی سے ہنسا۔ “میرے لئے یہ ناممکن نہ ہوگا۔”
“وہ کاغذات اسٹیٹ بینک کی سیف کسٹڈی میں ہیں۔”
“تم سمجھدار آدمی ہو!” لمبے آدمی نے سنجیدگی سے کہا۔ “لیکن تمہیں اس وقت تک یہاں رہنا پڑے گاج ب تک کہ کاغذات ہمارے قبضے میں نہ آ جائیں۔”
“تم کون ہو؟” ڈپٹی سیکرٹری نے خوفزدہ آواز میں پوچھا۔
“الفانسے!” لمبے آدمی نے آہستہ سے کہا اور اس کے پتلے پتلے ہونٹ پھیل گئے۔۔ طوطے کی طرح جھکی ہوئی ناک۔۔۔ کچھ اور زیادہ خم دار معلوم ہونے لگی۔

Read More:  Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 1

فون کی گھنٹی بج رہی تھی۔۔۔ چونکہ یہ عمران کا وہ فون تھا جس کے نمبر ٹیلیفون ڈائرکٹری میں بھی پائے جا سکتے تھے۔ اس لئے اس نے کوئی پروا نہ کی اور گھنٹی بجتی رہی۔
عمران کا خیال تھا کہ یہ وہی لڑکی ہوگی جو اسے اکثر فون پر بور کرتی رہتی تھی اس لئے اس نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔ لیکن جب گھنٹی کسی طرح بند ہونے کو نہیں آئی تو اس نے جھلا کر ریسیور اٹھالیا اور چنگھاڑتی ہوئی سی آواز میں بولا۔
“ہیلو!”
“کیا عبدالجبار صاحب موجود ہیں؟” دوسری طرف سے آواز آئی۔
عمران کا منہ اور زیادہ بگڑ گیا۔ غالباً کسی نے غلط نمبر ڈائیل کئے ھتے۔
“ہیلو!” دوسری طرف سے پھر آواز آئی۔ “میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ عبدالجبار صاحب گھر پر موجود ہیں؟”
“موجود ہیں!” عمران نے جواب دیا۔
“ذرا فون پر بلا دیجئے۔”
“میں عبدالجبار ہی بول رہا ہوں۔”
“آخاہ! جبار بھائی۔۔۔ سلام علیکم۔۔۔ پہچانا آپ نے۔۔۔!” دوسری طرف سے بولنے والے نے لہک کر کہا۔
“پہچان لیا۔۔۔!”
“اچھا۔۔۔ ہی ہی ہی۔۔۔ کہیے بھائی صاحب! میرا کام ہوا یا نہیں؟”
“ہو گیا!”
“نہیں۔ آپ مذاق کر رہے ہیں۔۔۔ ہی ہی ہی ہی۔۔۔”
“ہی ہی ہی ہی۔” عمران نے بھی اس کی نقل کی۔ اور چند سیکنڈ تک دونوں میں ہی ہی کا تبادلہ ہوتا رہا۔
“جبار بھائی مطلب یہ ہے کہ آپ کو یقین ہے نا کہ کام ہو گیا ہے!” دوسری طرف سے کہا گیا۔
“ہاں مجھے یقین ہے کہ کام ہو گیا ہے۔۔۔ اور تم گدھے ہو!”
“جی!”
“تم گدھے ہو!”
“یعنی کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟”
“یو آر اے ڈنکی۔۔ ۔یہ تو ہوا انگریزی میں۔۔۔ یعنی۔۔۔ اب اور جس زبان میں کہو یعنی کر دوں۔”
“آپ نے شاید مجھےنہیں پہچانا۔۔۔ میں نواب کرامت علی بول رہا ہوں۔”
“تم ملکہ وکٹوریہ کے بھتیجے سہی۔ لیکن ہو گدھے!”
“ارے جبار! تم ہوش میں ہو یا نہیں؟”
“میں بالکل ہوش میں ہوں نواب کرامت علی۔۔۔ تم ایک بار پھر گدے ہو۔”
“شٹ اپ یو ڈرٹی سوائین۔”
“میں ڈرٹی سوائین ہی سہی۔۔۔ کواب نرامت ۔۔۔ اوہ۔۔۔ نواب کرامت علی۔۔۔ مگر تم گدھے ہو۔”
“میں تمہیں دیکھ لوں گا سور کے بچے۔” دوسری طرف سے دہاڑنے کی آواز آئی۔
“میں سور کا بچہ ہی سہی لیکن تم سو فیصدی گدھے ہو۔”
“اچھا، اچھا!”
دوسری طرف سے سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔ عمران ریسیور رکھ کر میز کے پاس سے ہٹنے بھی نہ پایا تھا کہ پھر گھنٹی بجی۔
“اب کون ہے بھئی۔” عمران ریسیور اٹھا کر دہاڑا۔
“میں جولیانا فٹز واٹر بول رہی ہوں اور شاید تم عمران ہو۔۔۔ لیکن اس طرح حلق کیوں پھاڑتے ہو۔ اگر لائن خراب ہو گئی تو۔۔۔”
“تم کیوں کان کھا رہی ہو میرے۔”
“میرے پاس تمہارے لئے ایک سنسنی خیز خبر ہے۔”
“کیا میرے ڈیڈی نے مسکرانا سیکھ لیا؟”
“شش! وزارت خارجہ کے ڈپٹی سیکرٹری کرنل نادر پراسرار طور پر غائب ہو گئے۔”
“بڑا اچھا ہوا۔ ان کا پیچھا ٹیلیفون سے چھوٹ گیا۔ اب وہ دنیا میں کوئی ڈھنگ کا کام کر سکیں گے۔ میری طرف سے ان کے گھر والوں کو مبارکباد دو۔”
“ریڈ اسکوائر کاغذات انہی کی تحویل میں تھے۔” جولیا نے اس کی بکواس کی پروا کئے بغیر کہا۔
“اوہو! تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ وہ لاپتہ ہو گئے ہیں؟”
“گھر والوں کا بیان ہے کہ وہ اطلاع دیئے بغیر کہیں نہیں جاتے تھے۔”
“ممکن ہے اس بار بغیر اطلاع ہی کے چلے گئے ہوں۔”
“یہ ناممکن ہے۔۔۔ آج صبح ان کی خواب گاہ کا دروازہ کھلا ہو املا جو کھیتوں کی طرف کھلتا ہے اور وہ ابھی تک غائب ہیں۔ ان کے سلیپر اور سونے کا لباس خواب گاہ میں نہیں ہے۔”
“ریڈ اسکوائر کاغذات کہاں ہیں؟”
“اس کا علم سر سلطان اور کرنل نادر کے علاوہ اور کسی کو نہیں۔”
“ہمپ۔۔۔ تو تم مجھے کیوں بور کر رہی ہو۔”
“کاغذات کی مصیبت تو تمہاری ہی لائی ہوئی ہے۔”
“وہ مصیبت تو میں نے اپنے لئے مول لی تھی۔۔۔ تم سے کس نے کہا تھا کہ تم تھریسیا کا بیگ لے بھاگو!”
“اس قصے کو ختم کرو۔ میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔”
“میرے پاس برباد کرنے کے لئے وقت نہیں ہے۔۔۔ میں اب اس چکر میں نہیں پڑوں گا۔”
“تمہیں وقت نکالنا پڑے گا۔۔۔ ورنہ تمہاری زندگی تلخ کر دی جائے گی۔”
“دیکھا جائے گا۔” عمران نے کہا اور سلسلہ منقطع کر دیا۔ اب وہ بڑی تیزی سے سر سلطان کے نمبر ڈائیل کر رہا تھا۔ گھر پر وہ نہ مل سکے۔۔۔ لہٰذا اس نے آفس کے نمبر ڈائیل کئے۔ لیکن وہاں بھی ان سے رابطہ قائم نہ ہو سکا۔ یہ چیز عمران کے لئے تشویش کن تھی۔ آفس میں معلوم ہوا کہ وہ ابھی تک آفس پہنچے ہی نہیں اور گھر سے معلوم ہوا کہ وہ دو گھنٹے قبل آفس جا چکے ہیں۔ درمیان میں کہیں رکنا کم از کم آفس اوقات میں سرسلطان کے لئے ناممکن ہی تھا۔ کیوں کہ وہ ایک بااصول آدمی تھے۔
عمران نے سوچا کہ کاغذات کے متعلق سرسلطان یا کرنل نادر کے علاوہ اور کسی کو علم نہیں تھا۔ لہٰذا اگر ڈپٹی سیکرٹری اسی سلسلے میں غائب ہوا ہے تو سرسلطان بھی محفوظ نہیں ہو سکتے۔
اس نے دس منٹ کے اندر ہی اندر فلیٹ چھوڑ دیا۔ سب سے پہلے وہ سرسلطان کے گھر پہنچا۔ وہاں معلوم ہوا کہ سرسلطان کو ان کا ڈرائیور لے گیا تھا وہ خود کار ڈرائیو نہیں کرتے تھے۔ ڈرائیور بھی کوئی نیا آدمی نہیں تھا بلکہ سر سلطان کے ہاں اس کی ملازمت کو تقریباً بیس سال گزر چکے تھے۔
مگر ایک نئی بات بھی معلوم ہوئی۔۔۔ سرسلطان آفس جانے سے قبل کسی سے دیر تک فون پر گفتگو کرتے رہے تھے۔ گفتگو سنی نہیں گئی تھی لیکن ان کے بھتیجے نے بتایا کہ وہ اس لمبی گفتگو کے بعد کچھ متفکر سے نظر آنے لگے تھے۔
“کیا انہوں نےاس کے بعد گھر والوں سے کوئی گفتگو کی تھی؟” عمران نے پوچھا۔
“نہیں!” جواب ملا۔
“پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ آفس ہی گئے تھے۔”
“کیونکہ ان کے معمولات میں کبھی فرق نہیں آیا۔ وہ روزانہ اسی وقت آفس کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔”
“انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ کہ وہ آفس جانے سے پہلے کہاں جائیں گے؟”
“نہیں!”
“کچھ اندازہ ہے آپ کو۔۔۔ کہ وہ فون کس کا رہا ہوگا۔”
“یہ بتانا بہت مشکل ہے۔”
پھر عمران نے وہیں سے جولیانا فٹز واٹر کو فون کیا۔ اب وہ دراصل ڈپٹی سیکرٹری کرنل نادر کے گھر جانا چاہتا تھا۔ جولیانا نے شاید پہلے اسے اسی لئے فون کیا تھا لہٰذا وہ تیار ہو گئی۔ اس نے بتایا کہ وہ ڈپٹی سیکرٹری کے بنگلے کے قریب ہی ملے گی۔ کچھ دیر بعد عمران کی ٹو سیٹر سر سلطان کے بنگلے کی کمپاؤنڈ سے نکل رہی تھی۔ اور اس کا ذہن شاید اسی رفتار سے سوچ رہا تھا جس رفتار سے اس کی ٹو سیٹر سڑکیں ناپ رہی تھی۔
الفانسے اور تھریسیا لازمی طور پر یہیں ہیں۔ لہٰذا کاغذات ہر وقت ان کے ہاتھوں میں پہنچ سکتے ہیں۔ اتنے دنوں کی خاموشی یقیناً کسی طوفان ہی کا پیش خیمہ تھی۔ ممکن ہےاب انہوں نے پھر کاغذات کے حصول کے لئے جدوجہد شروع کر دی ہو۔ اور پھر ابھی حال ہی میں تنویر پر حملہ بھی ہو چکا تھا۔۔۔ اور فی الحال سیکرٹ سروس کے ممبران جن مجرموں کی نظر میں تھے وہ تھریسیا کے ساتھی ہی ہو سکتے تھے۔
ڈپٹی سیکرٹری کے بنگلے کے قریب اسے جولیانا فٹز واٹر کی کارنظر آئی اس نے بھی اپنی ٹو سیٹر روک دی لیکن نیچے نہیں اترا۔
جولیانا نے اپنی کار سٹارٹ کی او رعمران کو بھی گاڑی کمپاؤنڈ میں لے چلنے کا اشارہ کیا۔
بحیثیت عمران وہ یہاں تنہا نہیں آ سکتا تھا۔ ورنہ اسے علم تھا کہ کاغذات ڈپٹی سیکرٹری ہی کی تحویل میں تھے۔ اور اسی لئے اس نے بحیثیت ایکس ٹو جولیا کو ہدایت کی تھی کہ وہ ڈپٹی سیکرٹری پر نظر رکھے۔
جولیا آج ہی ایک بار پہلے بھی ڈپٹی سیکرٹری کے اس کمرے کا جائزہ لے چکی تھی۔ جہاں سے وہ غائب ہوئے تھے۔ وہ عمران کو بھی اپنے ساتھ وہاں لے گئی۔ عمران کافی دیر تک کمرے کا جائزہ لیتا رہا۔ پھر اس نے وہ دروازہ کھولا جو میدان کی طرف تھا۔
“ادھر تو اندر کے اکھاڑے کی پریاں بھی آ سکتی ہیں۔” عمران نے جولیا کو آنکھ مار کر کہا۔ پھر یک بیک چونک کر بولا۔
“ہائیں۔۔۔ تو کیا کاغذات کرنل نے گھر پر ہی رکھے ہوں گے؟”
“میں انہیں اتنا احمق نہیں سمجھتی۔”
“پھر وہ کہاں رکھے ہوں گے؟”
“سر سلطان کے علاوہ شاید کسی کو بھی علم نہ ہو۔”
“ہا ہمپ۔۔۔ کیا تمہارے چوہے ایکس ٹو کو بھی علم نہ ہوگا۔”
“پتہ نہیں!”
“اس سے پوچھو! ورنہ کاغذات ہاتھ سے گئے۔”
“آج کل ہمارا چیف آفیسر لاپتہ ہے۔ اسے کئی بار فون کر چکی ہوں لیکن جواب نہیں ملتا۔”
عمران سوچنے لگا۔ وہ اُلو کا پٹھا کیا بتائے گا جب خود اسے ہی علم نہیں ہے کہ کاغذات کہاں ہوں گے۔ یہ حقیقت تھی کہ اسے علم نہیں تھا۔ سر سلطان کی زبانی اسے صرف اتناہی معلوم ہوا تھا کہ کاغذات کرنل نادر کی تحویل میں ہیں لیکن شاید انہوں نے یہ بتانے کی ضرورت نہیں محسوس کی تھی کہ کرنل نادر نے انہیں کہاں رکھا ہے۔
“ان کے گھر والوں کا کیا خیال ہے؟”
“وہ بیچارے اتنے بدحواس ہیں کہ انہیں کوئی خیال ظاہر کرنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔”
“کرنل نادر کے لئے یہ پہلا واقعہ ہے؟۔۔۔ یا پہلے بھی کبھی ایسا ہو چکا ہے؟”
“میں نے بھی گھر والوں سے یہی سوال کیا تھا۔ لیکن کوئی تشفی بخش جواب نہیں ملا۔ سارے گھر والے پریشان ہیں لیکن کرنل نادر کی بیوی بڑے غصے میں معلوم ہوتی ہے اس نے مجھ سے بات تک نہیں کی۔”
“تمہیں۔۔۔ وہ کس حیثیت سے جانتی ہے؟”۔۔۔ عمران نے سوال کیا۔
“اوہ۔۔۔ میں نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ میرا تعلق محکمہ سراغرسانی سے ہے۔”
“اور اس کی بیوی نے یقین نہیں کیا۔”
“میں نہیں کہہ سکتی کہ اسے یقین آیا تھا یا نہیں۔۔۔ لیکن تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو۔؟”
“میں اس کی بیوی سے ملنا چاہتا ہوں۔”
جولیانے پھر کوئی سوال نہیں کیا۔
کچھ دیر بعد عمران کرنل نادر کی بیوی سے گفتگو کر رہا تھا۔ وہ ایک بھاری بھرکم اور چڑچڑے مزاج کی عورت تھی۔
“میں نہیں سمجھ سکتی!” وہ نتھنے پھلا کر بولی! “آخر اس معاملے میں محکمہ سراغرسانی کیوں کود پڑا ہے۔۔۔ کہیں گئے ہوں گے۔۔۔ واپس آ جائیں گے۔”
“آپ کو ان کے اس طرح غائب ہو جانے پر تشویش نہیں ہے۔” عمران نے پوچھا۔
“میں کسی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتی۔”
“جواب نہ دے کر آپ نقصان میں رہیں گی۔” عمران نے آہستہ سے کہا۔ “ہو سکتا ہے کہ کرنل کی زندگی خطرے میں ہو۔”
“کیا مطلب؟” عورت بیک بیک چونک پڑی۔
“زندگی خطرے میں ہونا بذات خود ایک بہت بڑا مطلب ہے۔ میں آپ سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کل وہ کس وقت خواب گاہ میں گئے تھے۔”
عورت چند لمحے تشویش کن نظروں سے عمران کی طرف دیکھتی رہی پھر بولی “پتہ نہیں کس وقت گئے تھے۔۔۔ یہ بتانا مشکل ہے۔”
“آپ نے انہیں آخری بار کس وقت دیکھا تھا؟”
“شاید نو بجے۔۔۔ وہ ڈائننگ روم سے اٹھے تھے۔ پھر خواب گاہ کی طرف گئے ہوں گے۔”
“لیکن میرا خیال ہے کہ وہ رات بھر بستر پر نہیں لیٹے!”
“نہ لیٹے ہوں گے!” عورت نے کچھ اس انداز میں کہا جیسے کہہ رہی ہو جہنم میں جائیں۔”
“آپ کرنل صاحب سے ناراض معلوم ہوتی ہیں۔” عمران مسکرایا۔
“میں اب کسی بات کا جواب نہیں دوں گی۔” عورت نے کہا اور اٹھ کر اسٹڈی سے چلی گئی۔
عمران لان پر نکل آیا۔ جولیا کا اندازہ صحیح تھا۔
گھر کے دوسرے افراد یقیناً بدحواس تھے۔ لیکن کرنل کی بیوی اس واقعے سے ذرہ برابر بھی متائثر نہیں معلوم ہوتی تھی۔ عمران نے فرداً فرداً ہر ایک سے سوالات کئے تھے لیکن حاصل کی ہوئی معلومات تسلی بخش نہیں تھیں۔ آخر میں وہ ایک نوجوان ملازمہ سے جا ٹکرایا۔
“تم تو جانتی ہی ہوگی کہ کرنل صاحب کہاں گئے ہیں۔” عمران اپنی بائیں آنکھ دبا کر آہستہ سے بولا۔
“میں کیا جانوں!” وہ چٹخی۔
“بیگم صاحب کا خیال تو یہی ہے کہ کرنل صاحب تمہیں سب کچھ بتا دیتے ہیں۔”
“ارے واہ! میرے منہ پت کہیں تو۔۔۔ میں جوتی پر مارتی ہوں ایسی نوکری کو۔۔۔”
اس موٹی پر مجھے بھی بڑا غصہ آیا تھا۔” عمران نے ہمدردانہ لہجے میں کہا “خوامخواہ تم جیسی شریف لڑکی کو عیب لگاتی ہے۔”
“ہاں۔ وہ کاہے کو بتائیں گی کہ صاحب رات بارہ بجے تک اس پرکٹی سے جاپانی زبان سیکھا کرتے تھے۔”
“اچھا!” عمران رازدارانہ انداز میں سر ہلا کر بولا۔
“ہاں صاحب! وہیں سونے کے کمرے میں۔”
“کون ہے وہ پرکٹی؟”
“میم ہے اب بیگم صاحب کا خیال ہے کہ اسی کے ساتھ کہیں چل دیئے ہوں گے۔”
“ضرور یہی بات ہوگی۔” عمران سر ہلا کر بولا۔ “کیا وہ میدان کی طرف کے دروازے سے آیا کرتی تھی۔”
“اور کیا۔۔۔ ادھر ہی سے تو اتی ہوگی۔۔۔ ایک رات بیگم صاحب نے دیکھ لیا تھا۔۔۔ خوب گرجیں برسیں۔۔۔ صاحب نے کہا کہ وہ تو روز آتی ہے کیوں کہ وہ اس سے جاپانی زبان سیکھتے ہیں۔ یہ زبان سیکھنے کے بعد ان کی ترقی ہو جائے گی۔ عہدہ بڑھا کر انہیں جاپان بھیج دیا جائے گا۔”
“واہ بھئی۔۔۔ بڈھا بھی چالاک معلوم ہوتا ہے” عمران پھر اسے آنکھ مار کر مسکرایا اور وہ اٹھلا کر بولی۔”اب جانے دیجئے مجھے۔۔۔ مگر بیگم صاحب کو نہ بتائیے گا۔”
“کبھی نہیں۔ میں اب اس موٹی خوانخوار عورت سے بات نہیں کروں گا۔ مگر سنو تو۔۔۔ کیا وہ دن میں بھی آتی رہتی ہے۔”؟
“نہیں میں نے بھی اسے دیکھا نہیں ہے۔۔۔ گھر میں ہلڑ ہوا تھا تو میں نے بھی سن لیا۔”
“ہلڑ کب ہو اتھا؟”
“تین چار دن ہوئے۔”
“اس پر کٹی کا نام تو سنا ہی ہوگا تم نے!”
“نہیں۔۔۔ میں نام وام نہیں جانتی۔”
“اچھا جاؤ۔۔۔ خدا تمہیں کوئی سعادت مند دلہا نصیب کرے۔”
“ارے واہ ہم سے مذاخ نہ کرنا۔ بڑے آئے کہیں گے۔” وہ عمران کو منہ چڑا کر بھاگ گئی۔
عمران نے ایک بار پھر کرنل نادر کی بیوی سے رجوع کرنا چاہا لیکن اس نے ملنے سے انکار کر دیا۔ آخر عمران نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر لکھا
مجھے بھی جاپانی زبان سے بہت دلچسپی ہے لیکن
کرنل صاحب جاپان نہیں بھیجے جا سکتے۔۔۔ البتہ
وہ عورت انہیں جہنم میں ضرور پہنچا سکتی ہے۔
یہ تحریر بیگم نادر کو بھیج دی گئی۔ اور پھر وہ تھوڑی دیر بعد اسٹڈی میں موجود تھی!
لیکن اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور پلکیں کچھ متورم سی نظر آ رہی تھیں۔ شاید وہ روئی تھی۔
“مجھے افسوس ہے محترم۔” عمران نے مغموم آواز میں کہا۔ “دنیا کی کوئی طاقت اسے برداشت نہیں کر سکتی۔”
“کام کی بات۔۔۔”عورت ہاتھ اٹھا کر بولی۔ “مجھے کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے۔”
“اوہ۔۔۔ ہاں۔۔۔ میں اس عورت کا نام معلوم کرنا چاہتا ہوں۔”
“نام مجھے نہیں معلوم۔”
“حلیہ بتا سکیں گی آپ۔”
“میں نے صرف ایک بار ایک جھلک دیکھی تھی۔۔۔ اس لئے حلیہ بھی نہ بتا سکوں گی۔”
“کیا وہ پچھلی رات بھی ان کے کمرے میں موجود تھی؟”
“مجھے علم نہیں!”
“کیا آپ مجھے ان کی خواب گاہ کی تلاشی لینے کی اجازت دیں گی؟”
“آخر محکمہ سراغرسانی کو ان کے غائب ہو جانے سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔”
“یہ ایک بہت ہی خاص قسم کا معاملہ ہے۔ ۔۔ ورنہ ہمیں ان کے غائب ہو جانے سے کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی۔”
دفعتاً جولیا ہانپتی ہوئی اسٹڈی میں داخل ہوئی۔
“کیا بات ہے؟” عمران نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔
“چلو جلدی۔۔۔ؔ
“کیوں کوئی خاص بات؟”
“سرسلطان مل گئے ہیں ان کی کار ایک ویران مقام پر ملی ہے۔ وہ خود بیہوش ہیں اور ڈرائیور لا پتہ ہے۔”

Read More:  Ar-Raheeq Al-Makhtum by Safiur Rahman Mubarakpuri – Episode 8

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: